ناصر کاظمی

ناصر کاظمی

آرائشِ خیال بھی ہو دل کُشا بھی ہو

    آرائشِ خیال بھی ہو دل کُشا بھی ہو وہ درد اب کہاں جسے جی چاہتا بھی ہو یہ کیا کہ روز ایک سا غم ایک سی امید اس رنجِ بے خُمار کی اب انتہا بھی ہو یہ کیا کہ ایک طور سے گزرے تمام عمر جی چاہتا ہے اب کوئی تیرے سوا بھی ہو ٹوٹے کبھی تو خوابِ شب و روز کا طلسم اتنے ہجوم میں کوئی چہرہ نیا بھی ہو دیوانگی شوق کو یہ دھن ہے اِن دنوں گھر بھی ہو اور بے درو دیوار سا بھی ہو جُز دل کوئی مکان نہیں دہر میں جہاں رہزن کا خوف بھی نہ رہے در کھلا بھی ہو ہر ذرّہ ایک محمل عبرت ہے دشت کا لیکن کسے دکھاؤں کوئی دیکھتا بھی ہو ہر شے پکارتی ہے پس پردہئ سکُوت لیکن کسے سُناؤں کوئی ہم نوا بھی ہو فرصت میں سُن شگفتگی غنچہ کی صدا یہ وہ سخن نہیں جو کسی نے کہا بھی ہو بیٹھا ہے ایک شخص مرے پاس دیر سے کوئی بھلا سا ہو تو ہمیں دیکھتا بھی ہو بزمِ سخن بھی ہو سخنِ کَرم کے لیے طاؤس بولتا ہو تو جنگل ہرا بھی ہو