ناصر کاظمی

ناصر کاظمی

ناصر کیا کہتا پھرتا ہے کچھ نہ سنو تو بہتر ہے

    ناصر کیا کہتا پھرتا ہے کچھ نہ سنو تو بہتر ہے دیوانہ ہے دیوانہ کے منہ نہ لگو تو بہتر ہے کل جو تھا وہ آج نہیں جو آج ہے کل مٹ جائے گا رُوکھی سُوکھی جو مل جائے شُکر کرو تو بہتر ہے کل یہ تاب و تواں نہ رہے گی ٹھنڈا ہو جائے گا لہو نامِ خدا ہو جوان ابھی کچھ کر گزرو تو بہتر ہے کیا جانے کیا رُت بدلے حالات کا کوئی ٹھیک نہیں اب کے سفر میں تم بھی ہمارے ساتھ چلو تو بہتر ہے کپڑے بدل کر بال بنا کر کہاں چلے ہو کس کے لیے رات بہت کالی ہے ناصر گھر میں رہو تو بہتر ہے