اہلِ دل آنکھ جدھر کھولیں گے
-
اہلِ دل آنکھ جدھر کھولیں گے اِک دبستانِ ہنر کھولیں گے وہیں رُک جائیں گے تاروں کے قدم ہم جہاں رختِ سفر کھولیں گے بحرِ ایجاد خطرناک سہی ہم ہی اب اس کا بھنور کھولیں گے کُنج میں بیٹھے ہیں چپ چاپ طیور برف پگھلے گی تو پر کھولیں گے آج کی رات نہ سونا یارو آج ہم ساتواں در کھولیں گے