دشت میں ایک بوند پانی کی
دشت میں ایک بوند پانی کی یہ کہانی ہے رائیگانی کی اس نے دیکھا جو مسکرا کے مجھے میں نے حد کر دی خوش گمانی کی آپ پر اعتبار تھا مجھ کو آپ نے بھی غلط بیانی کی سامنے لاؤ تیسرا کردار دوسری قسط ہے کہانی کی ایک اجڑی ہوئی عمارت کی کیوں محافظ نے پاسبانی کی بوند میں دیکھتی ہے بے چینی آنکھ ٹھہری ہوئی روانی کی بات کہنی اسے نہیں آئی میں نے دشمن کی ترجمانی کی بے گناہوں کو پہلے قتل کیا پھر جنازوں پہ گل فشانی کی ہم نے آپس میں اختلاف کیا ہم پہ دشمن نے حکمرانی کی ابرِ تیرہ سے نور اخذ کیا ان کی آنکھوں نے برق بانی کی ذوق الہام بن گیا عاصمؔ جب کبھی ہم نے نعت خوانی کی