ڈاکٹر صباحت واسطی

ڈاکٹر صباحت واسطی

ایک منظر پسِ دیوار نظر آتا ہے

    ایک منظر پسِ دیوار نظر آتا ہے روح کو آنکھ کے اس پار نظر آتا ہے آ دکھاؤں میں تجھے غربت و افلاسِ ہنر تو حقیقت کا خریدار نظر آتا ہے اپنے آئینے یہ خود سنگ اٹھائے ہوئے وہ عکس سے برسرِ پیکار نظر آتا ہے اتنا خوش ربط ہے منظر میں تسلسل اس کا اک نظر میں وہ کئی بار نظر آتا ہے عشق کا معجزہ یہ ہے کہ درونِ سینہ دل نہیں اب مجھے دلدار نظر آتا ہے ہر طرف ایک ہی جلوہ ہے کہ میں دیکھتا ہوں ہر طرف مجھ کو مرا یار نظر آتا ہے یہ عجب کوچۂ خوشحال ہے اس میں ہر شخص اپنے حالات سے بیزار نظر آتا ہے آ دکھاؤں میں تجھے شہر کے اجڑے ہوئے گھر تجھ میں کچھ جذبہئ ایثار نظر آتا ہے اپنے آئینے سے محتاط رہو تم عاصمؔ عکس تھامے ہوئے تلوار نظر آتا ہے