مری طرح کی محبت تمہیں اگر ہو جائے
مری طرح کی محبت تمہیں اگر ہو جائے شدید شوق تمہارا شیدید تر ہو جائے یہ سوچ سوچ کے بیدار بار بار ہوا ہوئی نہیں ہے تو ممکن ہے اب سحر ہو جائے چلا ہے دل سے نکل کر دماغ کی جانب یہ آدمی مرے اندر نہ در بہ در ہو جائے محاذِ جنگ پہ لایا ہوں ساتھ چند گلاب دعا کرو کہ یہ ہتھیار کارگر ہو جائے ڈرا رہا ہے ترا عجلتی چلن مجھ کو تری طویل مسافت نہ مختصر ہو جائے سنا رہا ہوں تجھے داستانِ عرضِ نیاز خدا کرے کہ ترے دل پہ کچھ اثر ہو جائے یہ شعر آپ نے عاصمؔ کہا ہے خوب مگر کچھ اور سوچئے ممکن ہے خوب تر ہو جائے