میرے تمام فیصلے اے چارہ گر نہ کر
میرے تمام فیصلے اے چارہ گر نہ کر یہ میری زندگی ہے اسے تو بسر نہ کر دیکھا! بسا لیں بستیاں میں نے جگہ جگہ تجھ سے کہا نہیں تھا مجھے در بہ در نہ کر تو ہے، مری دعا ہے، مرا اعتبار ہے مجھ کو مرے ہی سامنے نا معتبر نہ کر تمہیدِ کُن ہے ممکن و امکان سے بعید فطرت کو دیکھ غور سے حیرت مگر نہ کر اے منزلِ گماں کے مسافر ٹھہر ذرا میرے خیال و خواب سے باہر سفر نہ کر ایسا نہ ہو کہ تیری طرح بولنے لگوں اے چپ مرے مزاج پر اتنا اثر نہ کر بس التجا ہے یہ کہ نہ بے دخل کر مجھے میں نے یہ کب کہا ہے مرے دل میں گھر نہ کر اچھا ہے اختصار مگر داستاں نویس تو داستانِ شوق مری مختصر نہ کر میرے جنوں کی آخری حد کا پتا لگا تحقیق میرے عشق کے معیار پر نہ کر جو شخص ایک سانس ٹھہرتا نہیں کہیں کیوں مجھ سے کہہ رہا ہے مسلسل سفر نہ کر اپنے تحفظات سے آگاہ رکھ مجھے اپنے تصرفات کی بے شک خبر نہ کر عاصمؔ دماغ کو نہ محبت میں کر نڈھال دل کا ہے کام جان مری سوچ کر نہ کر