جھکے سجدے میں ہم افلاک پر اٹھ کر نکل آئے
جھکے سجدے میں ہم افلاک پر اٹھ کر نکل آئے بڑی گہرائی میں جا کر بہت اوپر نکل آئے ارادہ تھا ذرا سی دیر آنکھیں بند کرنے کا مگر منظر کے اندر سے نئے منظر نکل آئے بڑی مدت رہے دیوار پر ساکت کئی پیکر اچانک ایک دن تصویر سے باہر نکل آئے ستم گارانِ شہرِ شر یہاں ایسا نہ ہو اک دن شکستہ جسم کے کاندھوں پہ باغی سر نکل آئے بتائیں کس طرح تنقید میں انصاف برتیں گے اگر ہم آپ کے معیار سے بہتر نکل آئے تم اڑنے لگ گئے ہو پھر گئی گزری فضاؤں میں تمہارے جسم پر شائد پرانے پر نکل آئے وہاں کیا گفتگو کیا بحث کا معیار ہونا ہے ذرا سی بات پر عاصمؔ جہاں خنجر نکل آئے