عالم سے دور عالمِ بے انتہا میں ہوں
عالم سے دور عالمِ بے انتہا میں ہوں اس وقت میں وجود سے باہر خلا میں ہوں غائب سے ہو رہی ہے مری غائبانہ بات الجھا ہوا مکالمہئ ماورا میں ہوں تخلیق ہو گیا تھا مکمل نہیں ہوا اب بھی میں ایک سلسلہئ ارتقا میں ہوں لگتا ہے راستہ مرے ساتھ گامزن مدت سے چل رہا ہوں مگر ابتدا میں ہوں قائم ہے ہر طرف سے مری لاتعلقی میں شہرِ بے وجود کی غائب فضا میں ہوں میری غلط روی مجھے لے آئی ہے یہاں بیٹھا ہوا میں گوشہئ دارلھدیٰ میں ہوں اب مل گئی ہے مجھے سکونت سکوں فروغ میں آجکل مقیم دلِ دلربا میں ہوں شائستہ و خلیق ہے عاصمؔ فضا یہاں صد شکر میں بھی محفلِ خیرالوریٰ میں ہوں