منصبِ ایثار پہ مامور ہو جاتا ہوں میں
منصبِ ایثار پہ مامور ہو جاتا ہوں میں دیکھ کر معذور کو معذور ہو جاتا ہوں میں مدتوں جاتا نہیں ہوں اس سے ملنے کے لیے پھر اچانک ایک دن مجبور ہو جاتا ہوں میں دیکھنے والوں کی جانب دیکھتا ہوں سرسری ساتھ جب تو ہو بہت مغرور ہو جاتا ہوں میں دیکھتا ہوں میں اسے منظر میں گم ہوتے ہوئے اور پھر اپنی نظر سے دور ہو جاتا ہوں میں وجد میں حد سے گزر جانا نہیں مشکل مجھے عالمِ مسرت میں بھرپور ہو جاتا ہوں میں میں تو اک گوشہ نشیں شاعر ہوں لیکن دوستو ضد تمہاری ہے چلو مشہور ہو جاتا ہوں میں سنگ پر تحریر جب لکھتا ہوں عاصمؔ آگ سے قائلِ میثاقِ کوہِ طور ہو جاتا ہوں میں