ڈاکٹر صباحت واسطی

ڈاکٹر صباحت واسطی

ڈوب کر نغمگی میں ابھرتے رہو، رقص کرتے رہو

    ڈوب کر نغمگی میں ابھرتے رہو، رقص کرتے رہو روح تک اپنے اندر اترتے رہو، رقص کرتے رہو دائروں میں گھماتے رہو اپنے ذرات کو دم بہ دم اپنے اندر سمٹتے بکھرتے رہو، رقص کرتے رہو ماورائی خلاؤں میں تم داخلہ چاہتے ہو اگر وقت کی سرحدیں پار کرتے رہو، رقص کرتے رہو اپنے قدموں کے چھینٹوں سے ابیض قبا کو منقش کرو اپنی تجرید میں رنگ بھرتے رہو، رقص کرتے رہو وقت کی تھاپ پر عمر کی دھن بناتے رہو دم بہ دم آئنے میں دما دم سنورتے رہو، رقص کرتے رہو زندگی کے لئے لازمی ہے بدن میں حرارت رہے انجمادی دباؤ سے ڈرتے رہو، رقص کرتے رہو عشق عاصمؔ ہے یہ، عشق میں بے بسی کی روایت نہیں ضبط کرتے رہو، صبر کرتے رہو، رقص کرتے رہو