وحشت میں رہے سلسلہ داروں سے الگ ہم
وحشت میں رہے سلسلہ داروں سے الگ ہم ہیں سب کی طرح اور ہیں ساروں سے الگ ہم کیا ذکر کی مجلس کا تمہیں حال سنائیں بیٹھے تھے ہزاروں میں ہزاروں سے الگ ہم اطراف ہمیں کھینچتے جاتے تھے مسلسل قبلے کے لئے ہو گئے چاروں سے الگ ہم ظاہر میں بظاہر پہ توجہ نہیں دیتے رکھتے ہیں نظر عام نظاروں سے الگ ہم رعنائی میں کیوں حسنِ تخاطب بھی مخل ہو اس آنکھ کو رکھتے ہیں اشاروں سے الگ ہم ہم جانتے ہیں لازم و ملزم کی حجت پانی نہیں کرتے ہیں کناروں سے الگ ہم ہوتا ہے نظر میں کوئی مخصوس دریچہ ہوتے ہیں قطاروں میں قطاروں سے الگ ہم ترتیب یا تدبیر کی حاجت نہیں کُن کو لکھتے ہیں مقدر کو ستاروں سے الگ ہم اس بزمِ سخن ساز و سخن کار میں عاصمؔ بیٹھے ہوئے یاروں میں ہیں یاروں سے الگ ہم