سارہ شگفتہ

سارہ شگفتہ

زندگی کی کتاب کا آخری صفحہ (اقتباس)

    دیکھتے ہی دیکھتے کشتی زمین سے جا ملی ابھی تو اور سمندر ڈھونڈنا تھا رات بہت تڑپی زمین پہ میں ماں خاموشی سے بیٹھی بجھ رہی تھی زندگی کے ہاتھ پیلے کر ہی دُوں ، کیا بھروسہ اِس کُڑی کا میں بھی تو رنگ رنگ اُڑتی پھروں خلاؤں میں آنکھ گھُٹ کے رہ گئی ہے موت قہقہہ لگانا چاہتی ہے لیکن میرے پاس وقت اور ہنسی کم ہے بدن سے دل اُکھڑ گیا ہے بے خبری ٹھنڈے قدم چلنے لگی ہے اور وہ بال کھولے مجھے بُلا رہی ہے