محبت کی ایک نظم
-
مری زندگی میں بس اک کتاب ہے اک چراغ ہے ایک خواب ہے اور تم ہو یہ کتاب و خواب کے درمیان جو منزلیں ہیں میں چاہتا تھا تمہارے ساتھ بسر کروں یہی کل اثاثۂ زندگی ہے اسی کو زاد سفر کروں کسی اور سمت نظر کروں تو مری دعا میں اثر نہ ہو مرے دل کے جادۂ خوش خبر پہ بجز تمہارے کبھی کسی کا گزر نہ ہو مگر اس طرح کہ تمہیں بھی اس کی خبر نہ ہو