سدرہ سحر عمران

سدرہ سحر عمران

ایک سفاک قہقہہ (میں عورت ہوں)

    سیاہ ہاتھوں والا مزدور دیہاڑی کی میز پر زہر پھونک رہا تھا ایک عورت کے بھونکنے کی آواز آئی مرد دُم ہلانے لگے ننگی دیواروں کے بیچ ماسٹر ایک بچی کو اپنے جسم کی تختی پر لفظ ”عزت“لکھنا سکھا رہا تھا بچی ہنستے ہنستے کلہاڑی بن گئی پان کی پیکوں سے بھری جھگیوں میں بدن کے سکے کھنک رہے ہیں لیکن روٹی ابھی بھی مہنگی ہے بازارکو موت نہیں آتی سارا سارا دن ان عورتوں کے گریبان سے جھولتا رہتا ہے جو مردوں کو چیونگم کی طرح چبا کر پھینک دیتی ہیں