مہنگی جنگ اور مفت کی عورت
تمہارا دل بھر گیا تو میری چادر کے سوراخوں پر اپنے جوتے رکھ دینا میں تمہارے پیر کے نیچے ایک میخ کی طرح زندہ ہوں تمہارا درد بدنامیوں سے ڈرتا ہے میں اپنے لباس کی دھجیوں سے آزادی کے پرندے بناتی ہوں تمہاری مٹھیوں میں میرے بالوں کی کنجیاں ہیں تمہاری ازار بند جیسی زبانیں کھل گئیں تو سرحد ایک نیوڈ پینٹنگ میں بدل جائے گی ناچو میری قمیض کے اسٹیج پر بھونکو میرے جسم کی ہڈیوں پر تالیوں سے اپنے رخسار پیٹ لو بندوقوں کے ساتھ ہم بستری کرنے والو تمہاری ہنسی کے پاٹ میں میری آنکھیں پس گئیں اگر ایک بھی بھنبھوڑا ہوا کرتا کسی دریا میں گیا تو پانی اپنا گریبان پھاڑ لے گا کنویں اُلٹ جائیں گے مجھ پر عصر کا وقت آنے سے پہلے اپنے بدن کے جغرافیے درست کر لو وگرنہ۔۔۔ عورت تمہاری نامردی کی آگ سے نئے دوزخ کی بنیاد رکھے گی