دیوندر اسر

دیوندر اسر

سائنس فکشن اور پاپولر لٹریچر

    جسے آج  سائنس فکشن کے نام سے موسوم کیا جا رہا ہے وہ مستقبل قریب میں حقیقت بننے جا رہی ہے اور جسے پاپولر لٹریچر کہا جا رہا ہے اسے ادب میں ممتاز مقام حاصل ہوگا۔ ویسے بھی مابعد جدیدیت نے اعلیٰ اور پاپولر آرٹ میں موجود خطِ امتیاز کو مصنوعی اور سماجی قرار دے دیا ہے۔

    30/اکتوبر 1938ء کو یعنی قریب 68 سال قبل ایک عجیب ’حادثہ‘ ہوا۔ امریکہ میں تمام ہیلوون ریڈیو (HALLOWON RADIO) سے اور سن ویلس (OSRON WELLES) کا ویڈیو ڈرامہ THE INVASION FROM MARS نشر ہوا۔ یہ سائنس فکشن تھا لیکن اس نشریہ کا اتنا حیرت ناک  اثر ہوا کہ بہت سے لوگ دہشت زدہ ہو کر اپنے گھروں سے نکل کر محفوظ مقامات کی جانب بھاگنے لگے۔ اس ’حادثے‘ کو لے کر کئی ماہرین سماجیات اور نفسیات نے ریسرچ شروع کردی۔ کچھ نتائج اخذ کیے۔ کچھ لوگ اسے حقیقت سمجھ رہے تھے اور کچھ اسے سائنس فکشن سمجھ کر اس سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ لیکن دل کے کسی گوشے میں یہ خیال بھی موجزن تھا کہ ممکن ہے کہ یہ حملہ کسی دن حقیقت بن جائے۔

    سائنس فکشن کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ جو آج فکشن نظر آتا ہے وہ مستقبل میں حقیقت بن جاتا ہے۔ آج بھی بہت سے لوگ   UFO پر اعتماد رکھتے ہیں، دوسرے اسے محض واہمہ قرار دیتے ہیں۔ ایچ جی ویلز (1898) نے THE WAR OF THE WORLDS میں کرۂ ارض اور دوسری دنیاؤں میں جنگ کی جو فکشنل شکل پیش کی ہے وہ شاید اسی تصویر پر مبنی ہے۔

    اور داستان سنئے ISAAC ASIMOV کی کہانی    THE FUN THEY HAD (1957) میں شائع ہوئی۔ جس میں بیان کیا گیا ہے:

    ”2157 کے دو سکولی بچے زمانہ قدیم پر بات چیت کر رہے تھے، جب تمام کہانیاں کاغذ  پر پرنٹ  ہوتی تھیں، جب پڑھنے والے اوراق پلٹتے تھے… اور الفاظ متحرک ہونے کی بجائے جامد ہوتے تھے… جو وہی تھے جن کو اس نے پہلی بار پڑھا تھا… گھر پر کمپیوٹر ٹیوٹر سے پڑھنے والے بچوں میں سے ایک کہتا ہے۔ اڑوس پڑوس کے تمام بچے سکول میں کھیلتے اور شور مچاتے تھے۔ کلاس روم میں اٹھتے بیٹھتے اور اکٹھے گھر واپس جاتے تھے… اور استاد انسان ہوتے تھے۔“

    میں سائنس فکشن کے بارے میں تین باتیں کہہ چکا ہوں:

                               i.             سائنس فکشن میں مستقبل کی حقیقت بننے کے امکانات موجود ہیں۔

                           ii.             انسان زیادہ سے زیادہ مشین پر منحصر ہوتا چلا جائے گا۔

                      iii.             ALIEN یعنی غیر باہری یا دوسرے دیگر کا تصور محض سائنس فکشن تک ہی محدود نہیں بلکہ پاپولر لٹریچر اور ادب، سماجیات اور نفسیات کا بھی بنیادی تصور ہے۔ اس آخری نکتے کی وضاحت ضروری ہے۔

    ALIEN یعنی غیر اور ہم میں تصادم ناگزیر ہے۔ دنیا کے تمام معاشرے تشخص کی تشکیل اور تقسیم پر مبنی ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا سائنس فکشن پیش گوئی ثابت ہوتی ہے۔ مشہور مفکر ڈیوڈ وڈمین نے جارج آرویل کے آخری ناول  1984 کے بارے میں تحریر کیا ہے کہ آرویل نے اپنے ناول میں جو 131 پیش گوئیاں کی ہیں ان میں سے اب تک 100 صحیح ثابت ہو چکی ہیں۔ FRANCIS GOWIN کی سائنس فکشن  THE MAN IN THE MOONE ، 1638 میں شائع ہوئی تھی اور اسی سال  JOHN WILKINS کی DISCOVERY OF A NEW WORLD IN THE MOONE اور 1901 میں H.G.WILLS کا THE FIRST MAN ON THE MOONE منظر عام پر آئی۔ کسے معلوم تھا کہ چاند کے جس رومانی اور اسطوری تصور کو ہم سائنس فکشن میں صدیوں سے سینے سے لگائے جی رہے تھے ایک دن بیسویں صدی  کے انسان کے قدم اس پر پڑیں گے۔

    آخری آدمی کا تصور

          جو سائنس فکشن انسان کی ظفریابی کا مژدہ سنا رہی ہے وہی انسانی فنا کا منظر نامہ بھی پیش کر رہا ہے۔ طوفانِ نوح ہو یا جل پر لیہ اساطیر سے لے کر سائنس فکشن تک یہاں تک کہ فکر و ادب میں عدمیت اور فنائیت کا تصور ہمارے ذہن میں ہمیشہ سے آسیب کی مانند منڈلاتا رہا ہے اور اسی کے ساتھ منسلک ہے۔ ’آخری انسان‘ کی داستان۔ فرانس فوکیاما نے 1992 میں THE END OF HISTORY AND LAST MEN شائع کی تو جارج آرویل نے اپنے ناول 1984 کو پہلے یورپ کا آخری آدمی کا نام ہی دیا تھا۔ لیکن 1826 میں ہی میری شیلی کا سائنس فکشن  THE LAST MAN شائع ہوچکا تھا اور OLAF STAPLEDON کی کتاب LAST AND FIRST MAN 1950 میں منظرِ عام پر آ چکی تھی۔

          فریڈرک براؤن کا ایک مشہور قول ہے۔ دنیا کا آخری آدمی کمرے میں اکیلا بیٹھا تھا… (اور) درازے پر دستک ہوئی، فنا کی فکر اور آخری آدمی کے تصور اور سائنس کی ایجادات اور سائنس فکشن نے انسان کی تکلیف دہ صورتحال اور اخلاقی ڈائلیماز کو ایک بار پھر مرکز میں لا کھڑا کر دیا ہے۔ کیا انسان ایک خوش آئند مستقبل کی جانب گامزن ہے یا وہ مشین اور حیوان کے مابین معلق ہو کر رہ جائے گا۔ لہٰذا سائنس فکشن دو طرح کی تصویریں پیش کر رہا ہے: یوٹوپیا اور ڈسٹوپیا یعنی اینٹی یوٹوپیا۔

          یوٹوپیا ایک ایسی خیالی دنیا کی تشکیل ہے جس میں خوش آئند مستقبل کی جھلک ملتی ہےجب اس کے برعکس ڈس ٹوپیا میں مستقبل کی بھیانک تصویر پیش کی جاتی ہے۔ 1516 میں طامس مور نے یوٹوپیا کی تصویر پیش کی تھی۔ یہ ایک ایسا سماج یا مقام ہے جو زمانہ حال میں کہیں بھی نہیں لیکن مستقبل میں موجود ہو سکتا ہے۔ فرانسس بیکن نے دی نیو اٹلانٹس (1909) میں ایک سائنسی سماج کا تصور پیش کیا ہے جس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ سائنس ہی انسان کو خوشی عطا کر سکتی ہے۔ ادبی تخلیق میں یوٹوپیا کا استعمال ایک آدرش جزیرے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ سیموئل بٹلر نے EREWON (1972) اور EROWHEN REVISITED اور نیو ورلڈ فار اولڈ NEW WORLD FOR OLD (1908) میں مستقبل کے سماج کی تخلیقی تصویر کو پیش کیا۔ جب کہ والڈن (WALDEN) نام سے ہنری ڈیوڈ تھوریو (HENRY DAVID THOREAU) کی کتاب 1954 میں شائع ہو چکی تھی لیکن B.F.SKINNER نے WALDEN TWO (1948) میں یہ خیال پیش کیا کہ سماجی ٹیکنالوجی کے ذریعے انسان کو سماج کے مطابق ڈھالا جاسکتاہے اور اس سماج کو ماہرین سماجیات چلائیں گے۔ اس کا ہیرو فیزی ایک سائنس داں ہے۔ ڈس ٹوپیا نے اس تصویر اور تصور کو یکسر بدل ڈالا جس کی بہترین مثال جارج آرویل کا ناول 1949 میں شائع ہوا تھا۔ اس ناول میں مستقبل کی بھیانک تصویر پیش کی گئی ہے۔ جب انسان کی تمام تر حسیت ختم ہو چکی ہوگی۔ وہ مطلق العنان نظام کا ایک مشینی پرزہ بن کر رہ جائے گا۔ مکمل طور پر غلام اور ضمیر سے  عاری۔ جب جگہ جگہ پر یہ بورڈ لگے ہوں گے: ”بگ بردر تمہیں دیکھ رہا ہے۔“ آرویل نے کہا ”اگر تم مستقبل کی تصویر دیکھنا چاہتے ہو تو تصور کرو اس چہرے کی جس پر جیک بوٹ کی گہری چھاپ ہو گی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔ آج ہر نظام میں یہ سوال لوگوں کو پریشان کیے ہوئے ہے کہ اب ان کی زندگی کی ہر تفصیل سرکار کے علاوہ مختلف کارپوریٹ اور جاسوسی اداروں کے پاس موجود ہے۔

          اور یہی تصویر آلڈس ہکسلے بریونیو (1932) میں اس سے قبل پیش کر چکا تھا، جس میں انسان کو اس کے کام کے مطابق پیدا کیا جائے گا۔ جس میں آمری نظام اور نوکر شاہی مل کر سائنس اور ٹیکنالوجی کا استعمال انسان کو مکمل طور پر غلام بنانے کے لیے کرتے ہیں۔ اس ناول میں عالمی کنٹرولر JOHN MUSTAFA BOND SAVAGE کو سائنسی تجربات کے لیے استعمال کرتا ہے اور اسے کہا جاتا ہے کہ سب کچھ اس کی خوشی کے لیے کیا جارہا ہے تو جان جواب دیتا ہے۔ ”لیکن میں خوشی نہیں چاہتا۔ میں خدا چاہتا ہوں۔ میں شاعری چاہتا ہوں۔ میں اصلی فطرت چاہتا ہوں۔ میں آزادی چاہتا ہوں۔ میں ثواب چاہتا ہوں۔ میں گناہ چاہتا ہوں۔“

          اس قسم کی ڈس ٹو پین سائنس فکشن کی ایک مستحکم روایت ہے۔ 1818 میں MARY SHELLY نے FRANKESTEIN کی تخلیق کی۔ جس نے ایک مکروہ صورت کے ایسے جسم کی تشکیل کی جو انجام کار اپنے خالق کو ہی فنا کر دیتا ہے۔ کلوننگ، بائیوٹیکنالوجی اور جینینی انجینئرنگ اب سائنس فکشن کے دائرے سے باہر نکل کر روزمرہ کی حقیقت میں بدل چکی ہے۔ H.G.WILLS نے 1896 میں THE ISLAND OF DR. MOREAU شائع کی تھی، اس پر فلم بھی بن چکی ہے۔ فلم میں مارلن برانڈو ایک سرگرمِ عمل حیاتیاتی سائنس دان ہے جو ایک ویران جزیرے میں مہذب دنیا سے دور حیوانوں پر ایسے تجربے کرتا ہے جن سے برتر انسان کی نسل تیار کی جاسکے، لیکن انجام کار وہ ایسے بہروپ، بے ہنگم، مسخ، مکروہ اور بھیانک ، عجیب الخلقت جانوروں کی تشکیل کرتا ہے جو مختلف حیوانوں کی مسخ شدہ صورتیں ہیں اور جو جنگلوں کے قانون کے مطابق عمل کرتے ہیں ، اس خوف سے کہ کہیں وہ اپنے خالق پر حملہ نہ کردیں وہ ان کے جسم میں شدید درد پیدا کرنے والا ایک آلہ فٹ کر دیتا ہے جسے وہ ریموٹ سے چلاتا ہے۔ ایک دن وہ ریموٹ فیل ہو جاتا ہے اور وہ عجیب و غریب مخلوق اپنے خالق پر حملہ کر دیتی ہے اور   اسے ختم کر دیتی ہے ۔ KAPAL CHAPEK کے ڈرامے RUR یعنی روزم یونیورسل روبوٹ (ROSSUM UNIVERSAL ROBOTS) میں روبوٹ اپنے خالق انسان کے خلاف بغاوت کر دیتے ہیں اور انجام کار اسے ختم کر دیتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ اسی نے روبوٹ کی اصطلاح کا پہلی بار استعمال کیا تھا ۔ YEVGENY ZAMYATIN نے بھی 'وی' (WE) (1920-21) میں مستقبل کی ایسی ہی دہشت ناک تصویر پیش کی ہے ۔

          یہ سب تخلیقات دراصل سائنس فکشن ہونے کے باوجود گہرے فلسفیانہ سوالات اٹھا تی ہے کہ کیا ہم انسانی سماج میں داخل ہو رہے ہیں ، جس میں انسان مشین بن کر رہ جائے گا یا اس کا غلام بن جائے گا یا پھر مشین وہ سب کچھ کرنا شروع کر دے گی جو ابھی تک انسان کے دائرہ عمل میں سمجھا جاتا رہا ہے۔ اور ساتھ ہی ان ڈائیلیماز کی جانب بھی اشارہ کرتے ہیں جو انسان کی اصلی اور ثانوی فطرت اور اقدار سے متعلق ہیں۔ جب بیسویں صدی کے اواخر میں 1999میں  RAY KURZWELL  کی کتاب THE AGE OF SPRITUAL MACHINES شائع ہوئی تو لوگ چونک گئے۔ یعنی کسی مخصوص فرد کے دماغ کو SCAN کر کے اس کے دماغ کی بعینہ تشکیل کی جاسکے گی جس میں اس کی یادیں ، خواب ،ذات اور شناخت تک شامل ہوں گے جنہیں کمپیوٹر کے ذریعے فراہم کیا جاسکے گا لیکن بعد میں کروزیل نے ایک انٹرویو میں کہا : ”ایک اچھی خبر یہ ہے کہ جو لوگ میری کتاب پڑھ  کر بہت پریشان ہیں کیونکہ انہوں نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ انسان ختم ہو رہا ہے ، تہذیب ختم ہو رہی ہے ، دراصل انسان نہ صرف زندہ رہے گا بلکہ پہلے سے بہتر اور گہرےطور پر زندہ رہے گا ۔۔۔۔ جوں جوں ہم آگے بڑھیں گے ، انسان اور مشین کا تعامل اور رشتہ اور گہرا اور زیادہ قریبی ہوتا جائے گا “۔

    سائبرپنک ۔ نیا سائنس فکشن

          سائنس فکشن میں ایک اہم تبدیلی رونما ہوئی ہے جس کا تعلق CYBERNATICS خود حرکی ترسیل ، میکانکی الیکٹرانکس اور زندہ اجسام کے باہمی اشتراکِ عمل سے ہے۔جس کے باعث ہم سائبراسپیس میں داخل ہوچکے ہیں۔ اسے CYBER PANK کا نام دیا گیا ہے ۔

    اب یہ دائرہ اتنا وسیع ہوچکا ہے کہ ہم بے ساختہ پکار اٹھتے ہیں: محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی۔

          مصنوعی ذہانت/دماغ سازی اور دماغی لہر: روبوٹس NEURO MANCER اور CYBORGS ، COMPUTER ، VIRTUAL REALLITY اور INTERNET ، NEW TECHNOLOGY ، CLONING ، BIO-TECHNOLOGY اور GENE ENGINEERING سب اب نئے سائنس فکشن کے دائرے میں سمٹ آئے ہیں۔

          سائبرپنک کا تعلق زمانہ حال اور مستقبل قریب سے ہے۔ اس کی اساس میں نہ صرف نئی ٹیکنالوجیاں بلکہ ثقافتی سیاق و سباق بھی شامل ہیں، جس کے باعث انسانی نفسیات، سماجی عناصر، سائنس ٹیکنالوجی، جادو، معجزات اور میڈیا کے اتصالی انسلاک سےنہ صرف سائنس فکشن کو حقیقت کے بہت قریب لا دیا ہے بلکہ سائبرپنک کو بھی نئی جہات سے روشناس کرایا ہے۔ اس کی اہم ترین مثال ولیم گبسن (WILLIAM GIBSON) کی کتاب NEURO MANCER ہے۔ اس کی کتاب نے نہ صرف انسان کے تصور اور حقیقت کے ادراک کو ہی بدل ڈالا ہے بلکہ حیات و موت اور کائنات کے اسرار و رموز کو سمجھنے میں بھی مدد کی ہے۔ ولیم گبسن کی یہ کتاب 1984 میں منظر عام پر آئی تھی۔ سائبر اسپیس کی اصطلاح بھی اسی کی ایجاد ہے۔ یہ تھا تو ایک سائنس فکشن لیکن اس نے نہ صرف سائنس کی دنیا میں بلکہ سماجیات، فلسفہ، ادب، نفسیات اور دوسرے علوم انسانی میں ہنگامہ برپا کردیا۔ اس کےاگلے سال ہی 1985 میں ایک کتاب اور آئی جس میں سائی بورگس یعنی KEVIN WARWICK ORGINISMS  کو موضوع بنایا گیا۔ دنیا کا اولین سائی بورگ KEVIN WARWICK ہندوستان آ چکا ہے بقول KEVIN WARWICK ہم مشین کے اتصال سے اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کر کے یعنی سائی بورگ بن کر ہی دنیا میں اپنے مقام کو قائم رکھ سکتے ہیں۔ آرتھر سی کلارک (ARTHUR C. CLARKKE) کے شہرۂ آفاق ناول 2501:A SPACE ODYSEY(1968) نے انسان کو اس حقیقت سے روشناس کرایا کہ ذہین کمپیوٹر کا ظہور ہو چکا ہے اور 1982 میں 2010:ODYSSEY TWO منظر عام پر آئی۔

    VIRTUAL MATRIX REALITY نے انسان کو وہ قوت عطا کر دی کہ وہ اپنی حقیقت خودتخلیق کر سکتا ہے ۔ یعنی اب تخیل ، فنتاسی اور حقیقت میں کوئی فرق نہیں رہ گیا۔ سائنس فکشن سائبر پنک بن گئی اور سائبر پنک روحانیت سے جا ملی ۔ جس کی مثال MATRIX فلم ہے۔ اپنی اگلی کڑیوں، MATRIX RELOADED اور MATRIX REVOLUTIONS میں تو وہ مایا، ماورائے حقیقت اور مابعد الطبیعاتی فکر سے ہم کنار ہو جاتی ہے۔ ہیری پوٹر جو پاپولرلٹریچر کی ایک اہم مثال ہے آخر اس کی مقبولیت کا کیا راز ہے، جادو۔   ARTHUR C CLARKE نے یہ تک کہہ دیا ہے کہ کسی بھی ترقی یافتہ کالونی کو جادو سے ممیز کرنا دشوار ہے۔ میٹرکس دراصل اس جانب اشاره کرتی ہے کہ نجات کے لیے انسان کا روحانیت میں پناہ لینا ناگزیر ہو جائے گا اور وہ مایا موہ جال سے مکت ہوجائے گا۔ FREEWILL MATRIX RELOADED اور جبریت کی کشمکش کو پیش کرتی ہے اور MATRIX REVOLUTIONS میں کرم کے فلسفے پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

    آخری بات:

    حقیقت ہمیشہ سے انسانی تخیل کے لیے بہت چھوٹی ثابت ہوئی ہے۔ لہٰذا VIRTUAL REALITY نے ہمیں اس قابل بنادیا ہے کہ ہم اپنی حقیقت کی تشکیل خود ہی کر سکتے ہیں اور ہم زمان و مکان سے پرے ہر حقیقت، موجود اور غیر موجود سے ہمکنار ہوسکتے ہیں جیسا کہ THE LAWN MOWERS MAN میں دکھایا گیا ہے اور اب نیو ٹیکنالوجی نے متحیرکن انقلاب لا دیا ہے کہ کمپیوٹر بھی عہد گم گشتہ کی چیز بن کے رہ جائے گا۔

    مستقبل کے بارے میں کوئی پیش گوئی کرنامشکل ہے۔ انسان مشین بن جائے گا یا انسان اور مشین کے انسلاک سے ایک نئی نوع کا طلوع ہوگا ، زمین  دوسرے سیاروں کی سیرکرے گی یا تسخیر یا خودزمین کا نوحہ بن جائے گی! امرت منتھن ہوگایا رقص شرر لیکن انسان ہمیشہ دعا گو ہوگا کہ فرد اور فطرت کے تعامل ( INTERACTION ) میں اور کا ئناتی تصور کے تحت فکر اور سائنس کے ایسے رشتے استوار ہوں جو بالآخر فرد کے ارتقا اور فطرت کی بقا کے ضامن ہوں ۔ سائنس اور ٹیکنالوجی ، فر داور فطرت کو فنا کرنے کے بجائے انسان کی ذات، زبان اور ضمیر کوز وال سے بچانے اور کائنات کے اسرار و رموز سے پردہ اٹھانے اور مذہب اور

    معاشرے میں تقدس اور ادب  وفن میں حسن و صداقت کو بحال کرنے میں ممد ثابت ہوں اور اس رزمِ خیر و شر میں شر کی شکست ہو اور انسان بآواز بلند کہہ سکے NO MORE APOCALYPSE اب اور فنا نہیں ۔ آمین۔

    اب ہم نئی  صدی میں نئے سائنس فکشن کا انتظار کر رہے ہیں ۔