قاضی افضال حسین

قاضی افضال حسین

راجہ گدھ کا مسئلہ

    ناول دوسری مروّجہ اصناف کے مقابلے میں پختہ تر تشکیلی شعور اور وسیع تر ذہنی اُفق کا تقاضا کرتا ہے۔ واقعات کی تشکیل، ان کی ترتیب، ان کے درمیان ربط کی نوعیت، ناول نگار کے بہت سوچے سمجھے ہوئے تخلیقی مقاصد کے منصوبہ بند تعمیر کی پابند ہوتی ہے۔ یعنی ناول میں کچھ بھی خواب میں دیکھا ہوا، آسمان سے اترا ہوا یا قافیہ کی مجبوری نہیں ہوتا۔ اس لیے ناول میں واقعات کی تعمیر اور ان کی ترتیب اتفاقی یا غیر شعوری ہونے کی بجائے لازماً شعوری اور مصنف کے تخلیقی منصوبے کی پابند ہوتی ہے۔ بعض مرتبہ یہ منصوبہ بندی اتنی شدید اور متن میں اتنی نمایاں ہوتی ہے کہ خود ایک لائقِ ذکر اسی واقعہ کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔ اس کی سب سے مشہور مثال جیمس جوائس کی Ulysses ہے۔ Carto-Linati کے نام اپنے خط میں جوائس نے ناول کے مقصد اور اس کی تنظیم کا ذکر کیا ہے:

    ”یہ دو نسلوں (اسرائیلی اور آئرش) کا رزمیہ ہے اور اس کے ساتھ ہی انسانی جسم کی دائروی حرکت ہے نیز یہ ایک دن کی کہانی ہے۔۔۔ یہ ایک نوع کی قاموس بھی ہے۔ میری نیت مِتھ کو اپنے زمانے/وقت کے لباس میں منظم کرنے کی ہے۔ میں نے پہلے پندرہ سال اسے Dubliners کے لیے ایک کہانی کے طور پر لکھنا شروع کیا تھا۔ پچھلے سات سال تک میں اس کتاب پر کام کرتا رہا ہوں۔ ”نیز“ ہر قصہ (جس میں ہر گھنٹہ، ہر عضو، ہر فنی ترکیب پورے ناول کی ساختیاتی تنظیم سے باہم منسلک اور مربوط ہے) نہ صرف ایک خاص فنی تکنیک کا تقاضا کرے گا بلکہ خود اپنا سلوبِ اظہار تخلیق کرے گا۔“

      ناول کے ہر قصہ (Episode) میں جوائس نے یہ اہتمام کیا ہے کہ اس میں بیک وقت جسم کا کوئی عضو غالب موتیف ہوگا۔ دن کے وقت کی مناسبت سے قصہ کی کیفیت ہوگی۔ واقعات کے لحاظ سے علامتیں ہوں گی اور پھر ایک باب کی اجتماعی کیفیت کی مناسبت سے اس کا اسلوب ہوگا۔ ظاہر ہے بقول جوائس ”اٹھارہ مختلف نقطہ ہائے نظر اور ان کی مناسبت سے اٹھارہ اسالیب میں (جو میرے معاصرین نے ابھی دریافت بھی نہیں کیے) اور وہ بھی میرے منتخب کردہ Legend کی کیفیت کے حوالے سے لکھی گئی کتاب کسی کا بھی دماغی توازن بگاڑ دے گی۔“

    یہ شعوری تنظیم ناول کی بنیادی صفت ہے۔ ظاہر ہے یہ ضروری نہیں کہ ہر ناول کی تنظیم اتنی ہی پیچیدہ ہو۔ ممکن ہے وہ بہت سادہ ہو، یا ناول نگار سبب اور نتیجہ والی تعقلی ترتیب سے انکار کرکے اپنے بیانیہ کو بظاہر غیر عقلی بنیادوں پر قائم کرے اور اسے زمانی و مروجہ لسانی ضابطوں سے آزاد کرا لے۔ لیکن یہ سب کچھ وہ بہت سوچ سمجھ کر ایک مخصوص تخلیقی مقصد کے پیشِ نظر کر رہا ہوگا۔ اپنی اس صفت کے سبب ناول کے امتیازات پر گفتگو بڑی حد تک ناول کے طریقہئ تعمیر اور اس کے اجزاء کے باہم ربط کے تجزیہ کی پابند ہوتی ہے۔ بانو قدسیہ کا ناول راجہ گدھ بھی اس کلیہ سے مستثنیٰ نہیں۔ اس ناول میں بھی متن کے تعمیری اجزاء کی شناخت اور ان کے باہم ربط میں نمو کرنے والی صورت حال ناول کی قرأت کے جہات متعین کرتی ہے۔ بلکہ اس ناول کی قرأت میں تعمیر کے تخلیقی مقاصد پر غور و خوض اس لیے بھی ضروری ہے کہ اردو کے مشہور ناولوں میں مقابلے میں، تہذیب کے ارتقاء، بدلتی ہوئی اقدار، ایک مخصوص ملک اور اجتماع کی تاریخ یعنی وقت یا زمانی تسلسل یا تہذیبی ارتقاء اس ناول کا موضوع نہیں۔ اس کے علی الرغم ناول نگار نے فرد کے طرزِ وجود اور اس کے معاشرے سے تعلق کی نوعیت کو ناول کا موضوع قرار دیا ہے۔ جس کی مختلف شکلیں معاشرے کی مختلف سطحوں پر بہ یک وقت موجود ہیں، یعنی وہ تمام واقعات جو یکے بعد دیگرے ناول کے شاہ کردار قیوم کو پیش آئے وہ ایک ہی وقت میں مختلف افراد کو پیش آتے تب بھی ناول کی ساخت اور اس کے مرکزی موضوع پرکوئی قابلِ ذکر فرق نہ پڑتا۔ گویا یہ ناول اپنی ہیئت کے اعتبار سے یک زمانی ہے۔ اس لیے اس میں زمانے کی تبدیلی، اس تبدیلی کے فرد پر اثرات یا کردار کے ارتقاء وغیرہ کی تلاش غیر ضروری ہے۔

    ناول کے پہلے باب کے بالکل ابتدائی صفحات میں ناول کا موضوع طے ہوگیا ہے:

    یہ تیسری دنیا کی کسی درسگاہ میں عمرانیات کی کلاس ہے اور اس میں پہلے ہی دن پروفیسر سہیل اپنے طلبہ سے فرد اور معاشرے کے درمیان تعلق کی نوعیت پر گفتگو کرتے ہیں۔ جس میں فرد پر معاشرے کی بڑھتی ہوئی گرفت اور اس کے نتیجہ میں فرد کی خودکشی موضوع بحث ہے۔ اس گفتگو میں سب اس پر متفق ہیں کہ خودکشی کی وجہ دیوانگی ہے۔ پروفیسر اس دیوانگی کے اسباب پر اپنے طلبہ سے گفتگو کرتے اور طلبہ کی پُرزور بحث سن لینے کے بعد کہتے ہیں:

    ”ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ پاگل پن دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک مثبت ایک منفی…… ویری گڈ! اب اس مہینے سب کی یہ assignment ہوگی کہ آپ مجھے ایک نہ ایک وجہ ایسی بتائیں جس میں فرد میں پاگل پن پیدا ہوتا ہے۔ یہ وجہ جبلی نہیں ہونی چاہیے یا environmental نہیں ہونی چاہیے۔ کوئی بالکل انوکھی وجہ۔۔۔چاہے وہ بالکل احمقانہ کیوں نہ ہو۔ کوئی صوفی نظریہ کوئی آفاقی نظریہ، لیکن بالکل نئی وجہ ہونی چاہیے۔۔۔“

    کلاس کے تمام طلبہ اپنے اپنے طور پر دیوانگی کے اسباب بیان کرتے ہیں اور اپنے موقف کی تائید میں بحث کرتے ہیں۔ صرف ایک طالب علم قیوم خاموش رہتا ہے۔ اب یہی طالب علم ناول کا ہیرو ہے جو کلاس میں دیوانگی کی کوئی انوکھی وجہ اختراع کرنے کی بجائے متنوع زندگی کے براہِ راست تجربات میں دیوانگی کا مشاہدہ کرتا اور دوسروں میں اس مشاہدے کے دوران رفتہ رفتہ خود دیوانہ ہو جاتا ہے۔ گویا پروفیسر سہیل نے اپنے طلبہ سے دیوانگی کے اسباب پوچھے تھے، جو کلاس کے تمام طلبہ نے اپنے اپنے طور پر بیان کیے اور جس طالب علم نے کوئی سبب بیان نہ کیا وہی ناول کا ہیرو ہے کہ ناول کا موضوع دیوانگی کے اسباب کے متعلق اختراعی، درسی یا کتابی بحثوں کے بجائے خود دیوانگی کا وہ المیہ تجربہ جن سے ناول کا شاہ کردار گزرتا ہے۔ دیوانگی کے اسباب کی جستجو اور خود دیوانگی کا المیہ تجربہ ایک ہی چیز نہیں، ان کے درمیان جو فرق ہے اور اس فرق سے ناول کی تنظیم جس درجہ متاثر ہوئی ہے اس کے تجزیے کی ضرورت ہے لیکن اس سے قبل ناول کا وضعاتی/ساختیاتی توازن لائقِ توجہ ہے۔

    ناول میں چار نسوانی کردار ہیں۔۔۔ دو کنواری لڑکیاں، جن میں سے ایک سیمی شاہ، ناول کے ابتدائی باب ”شام سمئے“ میں آئی ہے اور دوسری روشن، جو ناول کے بالکل آخری باب میں لائی گئی ہے۔ ان دو ابواب کے درمیان دو باب ”دن ڈھلے“ اور ”دن چڑھے“ میں بالترتیب عابدہ اور امتل دو عورتیں لائی گئی ہیں۔ عابدہ ایک شادی شدہ گھریلو عورت ہے اور بچے کی آرزو میں بے چین ہے جبکہ امتل طوئف ہے اور اس کا ایک بیٹا ہے۔

    سیمی شاہ اور روشن اس جوڑے میں قدر مشترک صرف یہ ہے کہ دونوں نوعمر ہیں اور عشق میں مبتلا ہیں۔ اس کے علاوہ ان دونوں میں کچھ بھی مشترک نہیں۔ سیمی شاہ انتہائی بااثر طبقے کی فرد، گلبرگہ تہذیب کی پروردہ، ذہین، پڑھی لکھی اور پراعتماد لڑکی ہے۔ اس کی سماجی حیثیت اور تربیت کے سبب، معاشرے میں انتہائی خوشگوار اور پرمسرت زندگی کے تمام دروازے اس پر کھلے ہوئے ہیں۔ یہ لڑکی ایک خوبصورت، باصلاحیت اور تقریباً مساوی معاشی پس منظر کے نوجوان آفتاب کے عشق میں گرفتار ہوتی اور ناکام ہوکر رفتہ رفتہ بکھرنا شروع ہو جاتی ہے اور شدید نفسیاتی دباؤ کے تحت بالآخر خودکشی کر لیتی ہے۔

    اس کے مقابلے میں بے پڑھی لکھی، پردہ دار، اور معصوم روشن ہے، جو موچی دروازے کی تنگ و تاریک گلی میں غریب اور سخت گیر والدین کے یہاں اندھیرے گھر کی شدید نگرانی میں زندگی گزارتی ہے اور پتنگ بنانے والے افتخار سے چپکے چپکے عشق کرتی ہے، لیکن تمام ممکن پابندیوں اور جاں سوز آزمائشوں کے باوجود افتخار کے بچے کو اپنے جسم میں پالتی اور بالآخر اسے پانے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔

    وہ Passion جو ایک دوسرے سے متضاد ان دونوں لڑکیوں کے وجود کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے، اپنے معروض (عاشق) کی غیر موجودگی میں سیمی شاہ کی روح کو منور کرتا مگر اس کے جسم سے دست بردار ہو جاتا ہے۔ جسم اور روح کے درمیان یہ عدم توازن اس درجہ شدید ہے کہ سیمی شاہ خود سے سینکڑوں میل دور آفتاب کی حرکات کو اپنی روح پر روشن دیکھتی ہے: وہ بتا سکتی ہے کہ صبح سویرے شیو کرتے وقت آفتاب کے بائیں گال پر کٹ لگ گیا تھا یا اس کی ہونے والی بیوی زیبا کے ہونٹ پر تل ہے یا لندن میں آفتاب کے شب و روز کیسے گزر رہے ہیں، لیکن جناح باغ کے ایک ویران علاقے میں خود اس کھلے جسم کے ساتھ کیا ہورہا ہے، اسے اس کی خبر نہیں۔ اس کے مقابلے میں یہ passion روشن کے جسم اور روح دونوں کو بالیدہ کرتا ہے۔ یہ passion ہی دیوانگی کا وہ مادہ ہے جو جسم اور روح کے توازن اور نتیجتاً اس کے نمو کے لیے انتہائی حد تک سازگار ماحول کے باوجود سیمی کو کھینچ کر خود کشی تک لے جاتا ہے۔ لیکن روشن کی ذات میں کہاں غربت، روایت اور جہالت کے اندھیرے میں جذبے کی اس شدت کے لیے کوئی جگہ نہ ہونی چاہیے تھی، یہ خوب پھلتا پھولتا اور اس لڑکی کی ذات اور زندگی دونوں کو منور کر دیتا ہے۔

    دراصل وہ جذبہ یا قوت یاکیمیائی نظام، جسے ہم کسی مناسب لفظ کی غیر موجودگی میں passion کہہ رہے ہیں، جسم سے منسوب خواہش یا جذبے کی وہ شدید تحریک ہے، جو بالآخر ذہن کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے اور پھر فرد کی پوری ذات کی نئے سرے سے تنظیم کرتی ہے۔ تنظیم کی یہ نئی قوت جب جسم و روح دونوں کو منور کرتی ہے تو وجود مثبت تخلیقی نمو سے سرشار ہوتا اور رونق پاتا ہے، مگر جب ان میں سے کوئی ایک اس سے محروم ہوتا ہے تو جسم کی محرومی کی صورت میں سیمی شاہ اور روح کی محرومی کی شکل میں امتل کی دیوانگی جنم لیتی ہے۔

    سیمی شاہ کی روح passion یا عشق کی قوت سے معمور اور فعال ہے اس لیے دیوانگی کی انتہائی صورت میں خودکشی کے ذریعہ اپنی قوت کے ارتکاز کی ایک شکل پیدا کر لیتی ہے، لیکن امتل جس کی روح Passion کی اس قوت سے محروم ہے، اپنے جسم کی تذلیل سے بے خبر بے معنویت کے ہر مظہر کی خوشامد کرتی پھرتی ہے۔ اس محرومی کی صورت میں وہ خود کوئی مثبت یا منفی فیصلہ کرنے سے معذور ہے۔ اس لیے خودکشی نہیں کرتی، قتل کی جاتی ہے۔ یہ مسئلہ ان تین نسوانی کرداروں کے درمیان Passion (شدید جذبے) کی زائیدہ دیوانگی کی تین مختلف جہتوں کا ہے۔ پہلی جہت اس جذبے کی ایک مظہر جنس کے ذریعہ جسم و روح کی شادابی کی ہے۔ جس کی مثال روشن ہے۔ دوسری جہت جنس یا محبت کے معروض کی محرومی کی شکل میں تنویر مگر حسِ جنس کے زوال کی ہے۔ یہ المیہ سیمی شاہ کا ہے اور تیسری جہت اس قوت کی غیر موجودگی میں جسم اور روح دونوں کی تذلیل ہے، یہ المیہ امتل کا ہے۔

    امتل کی روح بنجر مگر جسم فعال ہے، عابدہ کا جسم بانجھ ہے مگر روح شاداب ہے۔ امتل کے قریب آنے والے تمام مرد اس کے گاہک ہیں، وہ ان سے جذبے یا احساس کی سطح پر کوئی ربط قائم نہیں کر پاتی۔ اس کے مکالموں میں لجاجت اور خوشامد اس کی مادی و معاشی ضرورت مگر اس کے باطن کے بنجر پن کا اظہار ہے۔ اس کے مقابلے میں عابدہ کا اپنے مرد سے تعلق اصلی اور حقیقی ہے، وہ اسے برا بھلا کہتی ہے، اس کی اکثر عادتوں کو ناپسند کرتی مگر اس کے واپس بلانے پر بہ خوشی آنے کے لیے تیار ہو جاتی ہے، اس کی روح کی صحت اور شادابی کا اظہار اس کی گفتگو میں شگفتگی اور زندگی کی حدت سے ہوتا ہے۔ اس کے مکالمے ترحم یا رقت یا کسی منفی جذبے کی معمولی رمق سے بھی پاک ہیں۔ مگر اس کا جسم زرخیز نہیں، وہ بچے کی آرزو کرتی ہے مگر پا نہیں سکتی، امتل کو یہ بچہ حاصل ہے مگر وہی اس کا قاتل ہے۔ محروم دونوں ہیں۔ عابدہ جسم کی سطح پر امتل روح کی سطح پر۔ یہ محرومی ان کی ذات کی تنظیم میں جو عدم توازن پیدا کرتی ہے، وہی ان دونوں کی دیوانگی کا سبب ہے۔

    ناول کے مرکزی کردار میں خود قیوم اور پروفیسر سہیل ناول کے بڑے حصے پر حاوی ہیں۔ اس کے علاوہ آفتاب ہے جو پہلے باب کے چند صفحات کے بعد لندن چلا جاتا ہے اور پھر ناول کے آخر میں دوبارہ ظاہر ہوتا ہے۔ قیوم کا معاملہ تو پیچیدہ نہیں، وہ کمزور اعصاب ٹائپ کا ایک کردار ہے، جو نفسیاتی بیماریوں کی کسی بھی درسی کتاب میں دی جانے والی مثال بن سکتا ہے۔ لیکن قیوم مرض کی تاریخ (Case-History) نہیں ایک وجودی صورت حال کا دال (Signifier) ہے۔ مصنفہ اس کے ذریعے زنا کے- جو ان کے نزدیک رزقِ حرام کی ایک شکل ہے- ذہن پر منفی اثرات کا بیان کرنا چاہتی ہیں۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ قیوم خود اپنے انتخاب کا اسیر ہے وہ اس اسیری سے نکلنا چاہتا ہے اور اس سے نکلنے کے چار راستے ہیں۔ سیمی شاہ، عابدہ، امتل اور روشن۔ مگر نجات کے یہ چاروں دروازے اس پر بند ہیں اس لیے کہ وہ دوسروں پر کھلے ہوئے ہیں۔ اس کا جسم اور روح دونوں خود اپنے انتخاب کے نتائج کا شکار ہوئے کہ لاحاصل کی طرف سفر بالآخر دیوانگی پر ہی ختم ہونا تھا۔ پروفیسر سہیل کا معاملہ پیچیدہ ہے۔ وہ فردکے معاشرے سے تعلق سے لے کر یوگا، تانترک اور پھر رزق حرام کے مضر اثرات تک ہر موضوع پر ماہرانہ گفتگو کرتا ہے۔ اسے اپنے تعقل پر اس درجہ اعتماد ہے کہ وہ رزقِ حرام سے Genes کے کردار میں تبدیلی کے سبب دیوانگی تک کے مرحلہ کو انتہائی معروضی، منطقی اور استدلالی انداز میں بیان کرسکتا ہے اس کی گفتگو میں سائنسی تجربوں کے بیان جیسی معروضیت ہے۔ مگر وہی پروفیسر سہیل سائیں شاہ کی مافوق الفطرت قوتوں کا بھی قائل ہے۔ قیوم کو اس کا مشورہ ہے کہ وہ سائیں جی سے جا کر ملے ”وہ چاہیں تو وہ موت کا پردہ اٹھا کر ادھر کی دنیا دکھا سکتے ہیں۔“ Tissot نے علوم کی مختلف شکلوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ علوم جن کا حواس کے ذریعے براہ راست ادراک ممکن ہے، ذہن اور جسم کی ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں۔ مگر وہ علوم جو اس سے ماورا یا پیچیدہ ہوں وہ روح پر ایسا بوجھ ڈالتے ہیں جو ہمارے حواس باطن کو تھکا دیتا ہے۔ اس نوع کے علوم ہمارے احساسات کے گرد مجرد رابط کا وہ تانا بانا بنتے ہیں جہاں فرد اس دنیا کے ربط سے جسمانی یا مادی مسرت حاصل کرنے سے محروم ہو جاتا ہے۔ تخیلاتی علوم کا یہ اثر کہ وہ شخصیت میں عدم توازن پیدا کرتے ہیں۔ پروفیسر سہیل کے یہاں گریڈ کی فکر اور مادی آسائشوں کی جستجو کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ رزق حرام سے Genes کے کردار میں تبدیلی سائنسی معروضیت کے ساتھ گفتگو کرنے والا پروفیسر تصور شیخ اور احضار ارواح کا قائل ہوجاتا ہے۔

    مرد کرداروں میں دیوانگی کی دو اور شکلیں بھی ہیں ایک قیوم کا باپ جو اپنی بیوی کی موت کے بعد ٹوٹتے بکھرتے گھر اور کلر زدہ زمین چھوڑ کر اپنے بیٹوں کے پاس شہر آنے کی بجائے گاؤں کے گھر میں تنہا، زمین کے ایک ایک چپے پر اپنی بیوی کی موجودگی کو محسوس کرتا، رات کو بستر پر لیٹ کر اس سے باتیں کرتا اور اس سے ملنے کی آرزو میں زندگی کے باقی دن گزارتا ہے۔ باپ کو شہر لے جانے کے لیے قیوم کے اصرار پر وہ کہتا ہے:

    ”اور اس کی قبر کو کس کے حوالے کردوں؟ یہاں روز قبر دیکھنے نہ جاؤ تو چوتھے دن قبر کا منہ پھٹ جاتا ہے۔“

    سائیں جی اس سے مختلف کردار ہیں، وہ بھی ایک قبر میں بیٹھے اپنے شیخ کو تصور میں دیکھتے اور ان سے باتیں کرتے رہتے ہیں۔ گویا قیوم کے باپ کے معاملے میں مشہود قبر کے باہر اور شاہد قبر کے اندر ہے۔ جب کہ سائیں جی کے معاملہ میں مشہود قبر کے باہر اور شاہد قبر کے اندر ہے۔ بالآخر عرفان کا یہی مکان سائیں جی پر خارجی دنیا کے تمام دروازے بند کردیتا ہے۔ ناول کے ان تمام کرداروں کی دیوانگی میں ایک معروض سے مادی/جسمانی تعلق اور اس سے نمو کرنے والی وہ شدید جذباتی کیفیت، جو ان سب کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے، قدر مشترک کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ سب کے سب دیوانے اس لیے ہوئے کہ ان کے مادی وجود میں عشق یا محرومی کی تحریک دی ہوئی شدید جذباتی صورتِ حال ان کے ذہن و جسم پر غالب آگئی۔

    افراہیم اس ناول کا تنہا کردار ہے، جس کی مخصوص صورتِ حال Passion کی زائیدہ نہیں۔ اس کی کیفیت کا سرچشمہ اس کا ذہن ہے جو خوابوں کی کارگاہ، متخیلہ کا متحرک اور اشیاء اور فرد کے باطن کے درمیان ربط کی نوعیت کے تعین کا ذمہ دار ہے۔ خواب کی حقیقت پر تحقیق کرنے والوں کا خیال ہے کہ خواب ایک بے حرکت (Passive) ذہن پر جسم کے بخارات کا تحریک دادہ پیکر ہے جو ہماری اردگرد کی فوری زندگی سے لے کرلا شعور میں موجود ماضی و مستقبل تک کے پیکروں کو ذہن کے خلا میں قائم کرتا ہے جبکہ تخیل وہ فاعل (Active) قوت ہے جو مخصوص خارجی/ دخلی تحریکات کے تحت پیکر خلق کرتی ہے۔ ذہن خواب یا تخیل کے قائم کیے ہوئے پیکروں کو مثبت یا منفی کوئی قدر عطا نہیں کرتا۔ یہ سادہ بے عیار پیکر ہیں ذہن ان کے سچ یا غیر سچ ہونے پر کوئی حکم نہیں لگاتا۔ ایسا صرف Delerium میں ہوتا ہے کہ ذہن ایک مخصوص پیکر یا چند پیکروں کو صداقت کی قدر سے منسلک کرتا اور خود ان پیکروں کی شدت یا روشنی سے خیرہ ہوتا ہے۔ اس کیفیت میں ذہن کے فرض کیے ہوئے مشاہدات فرد کو حقیقی لگنے لگتے ہیں۔ خیالی پیکر کا صداقت/ یقین یا عقیدے سے یہ اتصال Delerium کی پہچان ہے۔ اس کیفیت کا تجزیہ کرتے ہوئے فوکو لکھتا ہے:

    ”روایتاً Delerium کی دیوانگی کا تقابل خواب کے پیکروں کی وضاحت جوش و شدت سے کیا جاتا ہے جبکہ کلاسیکی عہد میں اس کی شناخت پیکروں کے پیچیدہ مجموعے اور ذہن کے رات، کے حوالے سے کی جاتی تھی، جس کے پس منظر میں یہ پیکر ایک آزاد وجود اختیار کر لیتے ہیں جب یہ پورا مجموعہ (Complex) بیداری کی واضح روشنی میں منتقل ہو جاتا ہے تو اسے دیوانگی کہتے ہیں۔“

    ”ذہن کی رات“ کا جو استعارہ اس اقتباس میں آیا ہے وہ اصلاً conviction کی وہ شدعت ہے جو تعقل یا آفاقیت کے بجائے صداقت کی ذاتی تعریف سے جاری ہوتی ہے۔ افراہیم کو کچھ سن رہا ہے جو چیزیں اپنی متخیّلہ کی آنکھ سے دیکھ رہا ہے وہ محض فریب و خیال و وہم (Hallucination)  نہیں کہ اس کیفیت میں ذہن خطا کرتا اور خیالی چیزوں کو حقیقی یا حقیقی چیزوں کو خیالی تصور کرنے لگتا ہے۔ Delerium یقین کی وہ چکا چوند ہے جس میں خیالی پیکر ہی تنہا صداقت رہ جاتے ہیں۔ ان پیکروں کو فرد کے داخل/ باطن سے مربوط کرنے والی زبان جو اصلاً تعقلی اور معاشرتی ہوتی ہے، دفعتاً بکھر جاتی ہے اس لیے متخیلہ سے مربوط ہونے کے باوجود Delerium خود کو بیان کرنے سے عاجز ہے۔ یہی دیوانگی ہے جو اگرچہ passionکی نوزائیدہ کیفیت سے محرکات اور اوصاف میں مختلف ہوتی ہے مگر فرد کے وجود پر اپنے اثر کے اعتبار سے ان دونوں کیفیتوں میں بہت سارے اوصاف مشترک ہیں۔ اس لیے قیوم کی دیوانگی اور افراہیم کے درمیان فرق نوع کا ہے درجہ کا نہیں۔ یعنی ان میں ایک جسم و جذبے کی نوزائیدہ ہے اور دوسری ذہن و ایقان کی۔ یہ ان کی مخصوص صورت حال ہے، ان کا درجہ خود ان کی نوع سے متعین نہیں ہوتا بلکہ معاشرہ کی مخصوص فکر ان میں سے ایک کو اعلیٰ یا افضل اور دوسرے کو حقیر و رذیل تصور کرتی ہے۔

    ٭

    دیوانگی (اگر وہ Pathologicalنہیں ہے) فرد کی اپنی ذات میں واقعی یا فرضی تقاضوں کے زیرِ اثر نمو کرنے والی انوکھی تنظیم کے ادراک کا نام ہے بقول فوکو:

    "There is no madness but which is in every man, since it is man who constitute madness in the attachment he bears for him-self and by illusions he entertains..."

    مزید یہ کہ ”دیوانگی اس قدر دنیا یا صداقت سے بحث نہیں کرتی جس قدر بشر اور اپنی ذات کے متعلق اس کے ادراک سے تعلق رکھتی ہے۔“

    چونکہ دیوانگی فرد کی اپنی ذات میں نفسی قوت یا کیمیائی نظام کی منفرد تنظیم سے عبارت ہے اس لیے اس کے مظاہر دیوانوں کے مامن (Asylum) سے لے کر، صوفی و فلسفی ہر ایک کے یہاں بالکل واضح طور پر نظر آتے ہیں بقول Richard Harwood:

    ”یہ اتنی بشری ہے کہ اس کا انکشاف و اظہار جس قدر معذور خانوں (Asylum) میں ہوتا ہے اتنا ہی شیکسپیئر یا Cerventes کی تحریروں میں یا نطشے کی گہری نفسیاتی بصیرت اور اس کے اعلانِ بغاوت میں۔“

    اپنی اسی بشریت اور نتیجتاً شدید انفرادیت کے سبب معاشرے اور فرد کے درمیان ربط کے حوالے سے دیوانگی کا بیان خود دیوانگی کی ماہیت اور شناخت پر کوئی روشنی نہیں ڈالتا کہ دیوانگی ایک خلا ایک نفی کا ادراک ہے جو فرد کی انوکھی تنظیم اور معاشرے کے تقاضوں کے درمیان نمو کرتا ہے۔ اس کی ممکنہ شکلیں راجہ گدھ کے مختلف کرداروں کی صورت حال میں ہمارے سامنے ہیں۔ اس کے باوجود بانو قدسیہ فرد اور معاشرے کے تعلق کے حوالے سے دیوانگی کے اسباب دریافت/ ایجاد کرتی اور ناکام ہوتی ہیں، کردار کی کیفیت سے نہ ہوتی ہو۔ اس سماجیاتی تجزیہ کی نارسائی کے اسباب بالکل واضح ہیں:

    جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، فرد کی اپنی ذات کی تنظیم ایک بشری اور اس لیے انفرادی صورتحال ہے۔ معاشرہ اپنے استحکام اور بقا کے لیے نظم و ضبط کے جو اصول و اطوار مقرر کرتا ہے فرد کی نفسی و تنظیمی قوت، فکر و اظہار کے اس مرکزی طور سے ہم آہنگ نہیں ہوتی، اس کا سبب یہ ہے کہ بشری اوصاف کی تنظیم، اجتماعی نظم و ضبط کے اصولوں سے مختلف طور پر ہوتی ہے۔ معاشرہ اپنے بہبود کے جو اطوار مقرر کرتا ہے اس کی بنیادی فکر کی عمارت تعقلی اور نتیجتاً آفاقی اصولوں پر قائم ہوتی ہے جبکہ فرد کی تعمیر جس صداقت کی بنیاد پر ہوتی ہے اس کی منطق انفرادی ہوتی ہے۔ اس لیے معاشرہ جو اجتماعی تعقل کا خالق اور اس کا محافظ ہے، اس شخصی اور بشری تنظیم کو اپنا غیر تصور کرتا ہے۔ اب اس غیر سے اس کے رشتے کی نوعیت معاشرے میں انفرادی "Non Reason" کے لیے جاری تصورات کی پابند ہوتی ہے۔ غیر ہم آہنگی یا انحراف کی اس شخصی اور بشری تنظیم کو اپنا غیر تصور کرتا ہے۔ اب اس غیر سے اس رشتے کی نوعیت معاشرے میں "No Reason" کے لیے جاری تصورات کی پابند ہوتی ہے۔ غیر ہم آہنگی یا انحراف کی ان شکلوں کو معاشرہ بیشتر Abnormal یا دیوانگی کہہ کر اسے قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔ Abnormal  یا تعقل کا غیر اضافی یا اعتباری اصلاحات ہیں اس کی بنیاد پر کوئی اقداری فیصلہ نہیں کیا جاسکتا لیکن اس تسمیہ (Nomenclature)سے معاشرے کی اس خواہش کا ضرور اظہار ہوتا ہے کہ وہ Aberration یا مرکز سے منحرف یا مختلف کو اپنے قابو میں رکھے یا یہ ممکن نہ ہوتو کم از کم اسے معاشرے کے محیط پر رکھے۔

    تیرہویں صدی کے ”احمقوں کے جہاز“ سے لے کر ہمارے زمانے کے ذہنی مریضوں کے مامن (Mental-Asylum) تک معاشرے کی اسی خواہش کا اظہار ہیں۔ معاشرے کی اس خواہش کا اظہار بھی ہوتا ہے کہ وہ ان Aberration یا اطراف کو بشری سمجھنے کے بجائے اسے غیر انسانی تصور کرتا ہے اس لیے ان تمام صفات کو جو دیوانگی کی مختلف شکلوں سے منسوب ہیں جانور کی صفت قرار دیتا ہے اور انہی حیوانوں سے متعلق استعاروں یا Signifiers کے ذریعہ بیان کرتا ہے۔ لیکن اس کی لطیف تر اور غالباً موثر تر صورت یہ ہے کہ وہ اس بشری صورت کے اسباب و علل کا تجزیہ کرنے یعنی اسے زندہ تجربے کی طرح قبول کرنے کے بجائے اسے علمی یا اصطلاحی یا اکاڈمک گفتگو میں تبدیل کردے۔ راجہ گدھ میں ٹھیک یہی ہوا۔ اس ناول کا بنیادی مسئلہ بھی یہی ہے کہ مصنفہ دیوانگی کے سماجی اسباب دریافت کرنے کا منصوبہ باندھتی ہیں لیکن ناول میں دیوانگی کے المیہ تجربے کا احضار (Presentation) میں بڑی حد تک کامیاب ہونے کے باوجود اسے متعینہ خطوط کا پابند رکھنے میں ناکام ہوجاتی ہیں۔ یہ ناول ان کے منصوبے سے مختلف طور پر نمو کرتا معلوم ہوتا ہے۔ سیمی شاہ، عابدہ، امتل، قیوم اور سہیل کی ذات میں دیوانگی کی جو شکلیں ہیں، بانو قدسیہ اس کے اسباب و علل کا تجزیہ کرتی ہیں۔ کبھی کسی کردار کی زبانی اس کے ماحول میں خرابی کے آثار کا ذکر کرکے (سیمی شاہ کے قصہ میں) اور کبھی خود کردار کے قول و فعل میں تضاد کی نشاندہی کے ذریعہ (پروفیسر سہیل کی تقریروں میں)۔ لیکن ناول کی بافت سے نمو کرنے والی جہات مصنفہ کی ان تعقلی یا اکاڈمک حدبندیوں سے انکار کرتی معلوم ہوتی ہے، ناول کے جتنے کردار بانو قدسیہ کی فراہم کردہ نفسیاتی یا معاشرتی case-history کی تائید کرتے معلوم ہوتے ہیں تقریباً اتنے ہی کردار اس کی تردید کر رہے ہیں۔۔۔ امتل طوائف اور رزق حرام پر پل رہی ہے اس لیے دیوانگی کی ایک Morbid جہت کی نمائندگی کرتی ہے۔ مگر اس گھریلو عورت عابدہ کا کیا ہوا ہے؟ وہ کیا ہے جو اس کے بانجھ جسم کو دیوانہ بنا رہا ہے؟ اور روشن؟ جو افتخار کے ناجائز بچے کی ہونے والی ماں ہے، کس قوت کے سہارے اپنی وجودی تکمیل کو پہنچتی ہے؟ سیمی شاہ کی روح پر آفتاب کا عکس، سائیں شاہ کے تصور شیخ سے کس طرح مختلف ہے؟ اور افراہیم؟ جو آٹھ سال کی عمر میں ہماری مذہبی روایت کے بعض مقدس نشانات کا مشاہدہ کرتا، خود کو دنیا کا نجات دہندہ تصور کرتا یا مکہ سے آ رہی اذان کی آواز پر سر بہ سجود ہو جاتا ہے۔ کیا افراہیم دیوانگی کی کسی نوع کا مظہر نہیں ہے؟ اگر ہے تو اس دیوانگی کے اسباب کیا ہیں؟ اکل حلال؟ یا آفتاب کے دل میں عشق کی دبی ہوئی وہ قوت جو سیمی شاہ کو گھر ختم ہو جانے کے بجائے اس بچے کی  صورت میں ظاہر ہوئی؟ یا Delerium جو خود انسانی وجود کی وضع میں شامل ہے؟ بانو قدسیہ قیوم کی زبانی ان سب سے انکار کرتی ہیں اور اسے ”دیوانگی“ کی نفسیاتی یا Abnormal کی عمرانی اصطلاح کے بجائے ”عرفان“ کی مذہبی اصطلاح بیان کرتی ہیں۔ یہ وہ منزل ہے جہاں دیوانگی کی مختلف شکلوں کا معاشرتی یا نفسیاتی تجزیہ اپنا جواز کھو دیتا ہے۔ آخر افراہیم کو اتنی کم عمری میں متخیلہ کی اس توسیع کی صداقت پر اتنا اعتماد کیوں ہے؟ کیا اس کا کوئی تعقلی یا معاشرتی جواز پیش کیا جاسکتا ہے؟ کم از کم اس ناول کی حد تک اس کا جواب نفی میں ہے۔ افراہیم وہ خطِ تنسیخ ہے جو بانو قدسیہ کے فراہم کردہ ہر معاشرتی سبب پر کھینچا ہوا ہے۔ وہ اس ناول میں دیوانگی کے متعلق مصنفہ کے معاشرتی تحفظات کو بالکل روشن کر دیتا ہے، جو معاشرہ اپنے اطوار کی مرکزی تنظیم سے منحرف ہر مشکل ”دیوانگی“ کہہ کر اپنے مرکز سے دور تر محیط پر رکھتا ہے، افراہیم انسانی ارتقاء کی آخری منزل تصور کرتا ہے، یہ ایک مشکل مقام ہے، ناول اس منزل پر پہنچ کر مصنفہ کے منصوبے سے مختلف جہات میں نمو کرنے لگتا ہے۔ افراہیم کے المیہ تجربے میں متخیلہ کی توسیع کی صداقت پر ایمان، سبب اور نتیجہ کی منطق سے آزاد ہو جاتا ہے۔ بانو قدسیہ ناول کے منصوبے اور مقصود کی ٹوٹتی ہوئی حدود (ساخت) کو بچانے کے لیے جانوروں کی تمثیلی عدالت مرتب کرتی ہیں۔ اور اس میں وہ تمام دلائل پیش کیے جاتے ہیں، جو دیوانگی کے متعلق مصنفہ کے معاشرتی/تعقلی نقطہئ نظر کا جواز فراہم کر سکیں۔ یہ تمثیلی ابواب دیوانگی کا تجربہ نہیں اس کا اخلاقی/معاشرتی/تعقلی تجزیہ ہیں۔ جبکہ واقعہ یہ ہے کہ ہم دیوانگی کے ”المیہ تجربہ“ کو اس کے عقلی یا اخلاقی تجزیہ کے ذریعہ سمجھ ہی نہیں سکتے۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ دیوانگی جو عقل کی غیر ہے اسے سائنسی تعقل یا علت و معلول کی منطق کے ذریعہ قابو میں لانے کی خواہش ایک صورتِ حال کو اس کی ضد سے سمجھنے کی کوشش ہے۔ یہ ممکن نہیں۔ اسی بنیاد پر فوکو کو نفسیات کی زبان کو ”تعقل“ (Reason) کی خود کلامی کہتا ہے۔ یعنی تعقل جس صفت یا صورتِ حال کے مطالعہ کا دعویٰ کرتا ہے اس کی ماہیئت خود تعقل کی غیر ہے۔ اس لیے نفسیات کی زبان خود اپنے قائم کئے ہوئے مقدمات سے مکالمے میں مصروف ہے۔ نتیجتاً دیوانگی کے مظاہر اور ان کی معاشرتی وجوہ ایک دوسرے کے لیے اجنبی بنیادوں پر نمو کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیمی شاہ، امتل، قیوم اور عرفان کے مقابلے میں جانوروں کی عدالت ناول میں اجنبی، غیر ضروری اور خود اتلافی (Self defeating) لگتی ہے۔ ان تمثیلی حصوں کا پورے ناول سے کوئی تخلیقی ربط قائم ہی نہیں ہوتا۔ ہو بھی نہیں سکتا اس لیے کہ ناول کا ایک حصہ تو دیوانگی کے مختلف مظاہر کا تجربہ کرنے اور اسے اس کی نشانیوں کے حوالے سمجھنے کی کوشش ہے اور دوسرا حصہ اس دیوانگی پر معاشرتی علوم کے تجزیاتی طریقہئ کار کے ذریعہ قابو پانے کی خواہش ہے۔ اس دوسری صورت میں دیوانگی کے مختلف مظاہر میں تفریق و امتیاز خود معاشرے کی تعقلی، آفاقی اور بڑی حد تک اقداری تنظیم کی نفی کرتی ہے۔ یہ بالکل ممکن ہے کہ فرد اپنی ذات کی بنیادی صداقت کے عرفان کے بعد اپنے اطوار کے دروبست سے محروم ہو جائے جو دیوانگی کی بیشتر صورتوں میں ہوتا ہے۔ لیکن معاشرے کے مرکزی نظام میں ہم آہنگی کے سبب اس کی باطنی ترتیب لازماً درہم برہم ہو جائے گی، یہ ضروری نہیں، اس لیے بعض مرتبہ فرد کا داخلی وفور اور اس کی قوت ان مظاہر و اعمال کے حوالے سے اپنا اظہار کرتی ہے۔ جس کی منطق انفرادی اور وجود کی مخصوص ماہیئت سے نمو کرتی ہے۔ شاعری اور وجدانی علوم اسی نوع کی انفرادی لاتعقل (Non-Reason) اور تخلیقی وفور کی مثالیں ہیں۔ جو وجود اپنے تعمیری ’لاتعقل‘ کو کوئی شکل نہیں دے پاتا وہ اس مخصوص انفرادی قوت سے عاری نہیں ہوتا۔ بس یہ ہے کہ وہ اپنی ذات میں اس وفور کو روک رکھنے کی قوت سے عاری ہونے کے سبب بکھرنے لگتا ہے۔ اس ناول کے تمام کردار اس کی مثالیں ہیں۔ معاشرے کی ترجیحات کے حوالے سے اس کی درجہ بندی لازماً ناکام ہوگی۔ راجہ گدھ میں یہی ہوا۔ بانو قدسیہ دیوانگی کی مختلف شکلوں کے signifier مرتب کرتی ہیں اور اس کی مدد سے دیوانگی کی ماہیئت اور المیہ تجربے کی پیشکش میں بڑی حد تک کامیاب بھی ہیں۔ لیکن جب انہیں ناول یہ متعین خطوط سے انحراف کرتا یا خود ان کے معاشرتی تحفظات کی نفی کرتا معلوم ہوتا ہے تو معاشرتی/تعقلی تجزیہ کے ذریعہ اس کے گرد اسباب و علل کا حصار کھینچ دیتی ہیں۔ اس طرح وہ دیوانگی کی طرزِ وجود کو شعوری طور پر نظر انداز کرتی معلوم ہوتی ہیں، جس کی بڑی حد تک کامیاب عکاسی وہ خود ناول کے مرکزی حصے میں کر چکی ہیں۔ یہی اس ناول کا مسئلہ اور اس کی کامیابی اور ناکامی پر بحث کرنے والوں کے درمیان اختلاف رائے کا سبب ہے۔

    (۸۹۹۱ء)