ساقی فاروقی

ساقی فاروقی

پاؤں مارا تھا پہاڑوں پہ تو پانی نکلا

    پاؤں مارا تھا پہاڑوں پہ تو پانی نکلا یہ وہی جسم کا آہن ہے کہ مٹی نکلا میرے ہمراہ وہی تہمتِ آزادی ہے میرا ہر عہد وہی عہدِ اسیری نکلا ایک چہرہ تھا کہ اب یاد نہیں آتا ہے ایک لمحہ تھا وہی جان کا بیری نکلا ایک مات ایسی ہے جو ساتھ چلی آتی ہے ورنہ ہر چال سے جیتے ہوئے بازی نکلا میں عجب دیکھنے والا ہوں کہ اندھا کہلاؤں وہ عجب خاک کا پتلا تھا کہ نوری نکلا جان پیاری تھی مگر جان سے بیزاری تھی جان کا کام فقط جان فروشی نکلا خاک میں اس کی جدائی میں پریشان پھروں جب کہ یہ ملنا بچھرنا مری مرضی نکلا اک نئے نام سے پھر اپنے ستارے الجھے یہ نیا کھیل نئے خواب کا بانی نکلا وہ مری روح کی الجھن جانتا ہے جسم کی پیاس بجھانے پہ بھی راضی نکلا میری بجھتی ہوئی آنکھوں سے کرن چنتا ہے میری آنکھوں کا کھنڈر شہرِ معانی نکلا میری عیار نگاہوں سے وفا مانگتا ہے وہ بھی محتاج ملا و ہ بھی سوالی نکلا میں نے چاہا تھا کہ اشکوں کا تماشا دیکھوں اور آنکھوں کا خزانہ تھا کہ خالی نکلا صرف حشمت کی طلب ، جاہ کی خواہش پائی دل کو بے داغ سمجھتا تھا ، جزامی نکلا