مجھے خبر تھی مرا انتظار گھر میں رہا
-
مجھے خبر تھی مرا انتظار گھر میں رہا یہ حادثہ تھا کہ میں عمر بھر سفر میں رہا میں رقص کرتا رہا ساری عمر وحشت میں ہزار حلقہء زنجیر بام و در میں رہا ترے فراق کی قیمت ہمارے پاس نہ تھی ترے وصال کا سودہ ہمارے سر میں رہا یہ آگ ساتھ نہ ہوتی تو راکھ ہو جاتے عجب رنگ ترے نام سے ہنر میں رہا اب ایک وادئی نسیاں میں چھپتا جاتا ہے وہ ایک سایہ کہ یادوں کی رہگزر میں رہا