بے قرار
’’ڈاکٹر ......ڈاکٹر‘‘
’’کون ہے؟ اس آدھی رات میں پریشان کر ڈالا۔‘‘
یہ کہہ کر میں نے جلدی سے دروازہ کھولا اور دیکھا ۔ ہماری گلی کے شاماں چرن میونسپل کمشنر تھے۔ میں انہیں با عزت اندر لے گیا۔ ایک آرام کرسی پر بٹھا کر کلاک پر نگاہ ڈالی ٹھیک اڑھائی بجے تھے۔
بابو شاماں چرن کا چہرہ اترا ہوا تھا۔آنکھوں میں ایک خاص قسم کا خوف پوشیدہ معلوم ہوتا تھا۔ چند سیکنڈ ٹھیر کر انہوں نے کہنا شروع کیا۔
’’ڈاکٹر صاحب! آپ کی دوا بالکل بے کار ثابت ہوئی۔ آج شب کو بیماری پھر شروع ہو نے لگی ہے اور اس کا زور پکڑ جانا کوئی بڑی بات نہیں۔‘‘
’’شاید آپ نے پھر شراب پی لی ہو؟‘‘ میں نے ان کے چہرے پر ایک نگاہ ڈالتے ہوئے دریافت کیا۔
میرے اس سوال پر وہ کچھ دیر چپ رہے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کچھ سوچ رہے ہیں آخر کار ان کا چہرہ کچھ سرخ ہو گیا۔ انہوں نے کہا۔
’’ڈاکٹر ! بلاشبہ تم سمجھدار ہو۔ مگر دیکھ رہا ہوں کہ اس معاملے میں تمہاری عقل بالکل کام نہیں کرتی۔ میری یہ حالت بوجہ شراب نہیں اس کا دوسرا ہی سبب ہے۔ اس سے پیشر کہ تم اپنی کوئی رائے قائم کرو پہلے میری داستان سن لو۔ پھر شاید تم کچھ سوچنے کےقابل ہو سکو۔‘‘
سامنے طاق پر مٹی کے تیل کا چراغ روشن تھا۔ میں نے اٹھ کر اسے تیز کر دیا۔ روشنی زیادہ ہو گئی۔ مگر ساتھ ہی دھواں بھی خوب نکلنے لگا۔ اس کے بعد میں شاماں چرن بابو کی طرف متوجہ ہوا۔ انہوں نے اپنی داستان اس طرح بیان کی۔
’’کوئی چار سال کا عرصہ ہوا جب مجھے ایک خوفناک بیماری ہوئی اور میری حالت دگرگوں ہو گئی ۔ یہاں تک کہ میں موت کے قریب پہنچ گیا۔ سب ڈاکٹر جواب دے چکے ۔ میری خوش قسمتی سمجھیے یا بدقسمتی انہیں دنوں ایک سنیاسی یہاں آگئے۔ انہوں نے دوائی دی۔ میرےمرض نے پلٹا کھایا۔ صحت میں کچھ تبدیلی نظر آنے لگی۔ مگر مکمل آرام میں ایک ماہ لگ گیا۔ لیکن کمزوری آج تک دور نہیں ہو سکی۔
دوران علالت میں میری بیوی کو نہ دن کو چین تھا نہ شب کو آرام۔ وہ ہر وقت میری تیمارداری میں لگی رہی تھی۔ نربداگو کمزور تھی اور ملک المو ت سے مقابلہ کرنا اس کی طاقت سے باہرتھا مگر پھر بھی اس نے اسے شکست دی ۔ فرشتۂ اجل جو ہمارے گھر میں داخل ہو کر میرے پلنگ پر آ بیٹھا تھا اسے مار بھگایا کیونکہ اسے ایک منٹ کے لیے بھی اطمینان میسر نہ تھا۔ اس لیے اس کے کھانے پینے میں بھی دیر ہونے لگی۔ کبھی کبھی تمام دن بغیر کھائے ہی بیت جاتا۔ ہر وقت میری صحت کا خیال اس کے دماغ میں شعلہ زن تھا۔ وہ دنیا کی تمام لذتوں سے دور ہو چکی تھی۔جب دیکھتا کرسی پر میرے سرہانے بیٹھی ہوتی۔ اپنے ہٹیل حریف سے شکست کھا کر موت کے قاصد کو بھاگنا ہی پڑا۔ مگر جاتے وقت اس نے ایک ایسی چپت جمائی کہ میری بیوی اس کی تاب نہ لا سکی۔ میری جگہ وہ پلنگ پر لیٹ گئی۔
چند سیکنڈ کے لیے میونسپل کمشنر صاحب ٹھیر گئے۔
ان دنوں وہ حاملہ تھی۔ چار ماہ کے بعد مردہ لڑکا پیدا ہوا، اب تیمارداری کی میری باری تھی۔ باوجودیکہ وہ خود بیمار تھی اسے میری کمزوری کا خیال دامن گیرتھا۔ ایک دن اسی کرسی پر میں بیٹھا ہوا تھا کہ اس نے کہا۔
’’آپ میرے کمرے میں نہ آیا کریں۔ ابھی تک آپ کی کمزوری دور نہیں ہوئی۔ ابھی بہت آرام کی ضر ورت ہے۔‘‘
’’نہیں اب مجھے کوئی تکلیف نہیں۔‘‘
اسی طرح ایک بار بخار کے وقت میں اسے پنکھا کر رہا تھا تو اس نے کچھ خفا ہو کر کہا۔
’’آپ کی ایسی باتیں مجھے اس کی خدمت میں لگا ہی رہنا پڑا۔ آپ نے باغیچہ والا وسیع مکان ضرور دیکھا ہو گا جو لب دریا واقع ہے۔ اس باغ میں ایک چھوٹی سی پھلواڑی میری بیوی نے بنوائی تھی۔ اس کے عین درمیان میں ایک سنگ مر مر کا چبوترا بنوایا تھا۔ کام کاج سے فارغ ہو کر وہ روزانہ وہاں بیٹھتی اور دل بہلاتی، وہاں سے قلعے کا مینار دریا میں سیر کرنے والی بادبانی کشتیاں اور سڑک سے گزرنے والے مسافر صاف نظر آتے ہیں مگر وہاں بیٹھا ہوا شخص سب کی نگاہوں سے پوشیدہ رہ سکتا ہے۔
گرمیوں کے دن تھے اور رات کا وقت ۔ تمام باغ میں چاندنی رقصاں تھی۔ طویل علالت کے بعد آج نربدا کی طبیعت کچھ اچھی تھی۔ وہ میرا سہارا لیے ہوئے اپنے کمرے سے باہر آئی۔ اور اسی چبوترے پر بیٹھنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ میں نے اسے نہایت آہستگی سے وہاں لا بٹھایا جس کا سفید سنگ مرمر چاندنی میں بہت خوبصورت معلوم ہو رہا تھا۔
ہوا چل رہی تھی۔ اس کے ہلکے ہلکے جھونکوں سے پھولوں کی پتیاں ہر طرف پھیل گئی تھیں۔ چاندنی نربدا کے مرجھائے ہوئے چہرے پر پڑ کر اسے اوربھی زیادہ زرد کر رہی تھی۔ ہر طرف سناٹا تھا۔ میں اس وقت اپنی بیوی کے پاس بیٹھا تھا۔ اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ نسیم پھولوں کی خوشبو سے معطر ہو رہی تھی۔
’’میں تمہیں تا زیست نہیں بھول سکتا۔‘‘
وہ مسکرائی، ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے وہ طنزاً ہنس رہی ہے۔ اس نے جواب نہ دیا۔ شاید اپنی مسکراہٹ سے مجھے سب کچھ سمجھانا چاہتی تھی۔ میں نے جو کچھ کہا وہ اسے ضرور غلط سمجھ رہی تھی۔ جب وہ میرے پاس نہیں تھی تو سینکڑوں خیال دل میں اٹھ رہے تھے۔ اور اسے اپنی بے جا محبت دکھانے کے لیے میں نے ایک ادبی مضمون اپنے دماغ میں مرتب کیا تھا۔ مگر مقابل آتے ہی جیسے قوت گویائی سلب ہو گئی ہو، اگر وہ میری اس با ت پر اعتراض کا کوئی لفظ زبان پر لاتی تو میں ضرور بحث کرکے فتح حاصل کر سکتا تھا۔ مگر جب مسکرا کر اس نے میرا مذاق اڑانا چاہا تو پھر زبان کھولنے کی جرأت نہ ہوئی۔شاید ناظرین بھی کئی بار اس حالت سے گزرے ہوں۔ آہستہ آہستہ شہر کے تمام بڑے ڈاکٹروں نے جواب دے دیا۔ مسلسل کئی ماہ علاج کے باوجود بھی اس کی صحت میں تبدیلی نہ ہوئی، بیماری ہر قدم پر بڑھ رہی تھی۔ کمزوری ہر روز زیادہ ہو رہی تھی۔ آخر بڑے ڈاکٹر نے تبدیلی آب و ہوا کا مشورہ دیا۔ یہ بات مجھے بہت پسند آئی۔ میں اسے الہ آباد لے گیا۔
شاما چرن یکایک ٹھیر گئے۔ اور معنی خیز نگاہوں سے میری طرف دیکھنے لگے۔ پھر کسی مریض کی طرح اپنے سر کوتھام لیا۔ جیسے تھک گئے ہوں۔ سامنے رکھا ہوا چراغ پھر مدھم ہو گیا۔ مگر مچھروں کی تنگ کرنے والی بھنبھناہٹ تیز ہو گئی۔
اس وقت وہ ڈاکٹر نارائن کے زیر علاج تھی۔ مگر چند دن بعد ہی اس نے بھی جواب دے دیا۔ دوسرے دن وہ پھر اسے دیکھنے کے لیے آئے اور ایک علیحدہ کمرے میں مجھے لے جا کر کہنے لگے۔
مریض کی حالت اچھی نہیں۔ بیماری خطرناک صورت اختیار کر گئی ہے، مجھے تو صحت کی بالکل امید نہیں، شاید زندگی کے خاتمہ پر ہی بیماری کی تکالیف ختم ہوں، اگر آپ کہیں تو میں کل نہ آؤں؟‘‘
’’ایسی بات نہیں مجھے صرف آپ پر امید ہے۔‘‘
’’مگر اب میرے اختیار کی بات نہیں رہی۔‘‘
یہ کہہ کر وہ چلے گئے۔ اس بات کو ابھی ایک ہفتہ بھی نہ گزرا تھا کہ میری بیوی نے ایک دن شام کو مجھے اشارےسے اپنے پاس بلایا اور کہا۔
’’مجھے اب آرام کی کوئی امید نہیں اور ساتھ ہی موت بھی قریب نہیں آنا چاہتی، آپ ایک لاش کے ساتھ اپنی زندگی کو کیوں وابستہ کرتے ہیں۔ میرا خیال ہے آپ اپنے آفس کے کام کی طرف متوجہ ہوں ۔‘‘
میں نے تمام خیالات اور خدمات اپنے دماغ میں جمع کر لیے۔ پھر ایک خاص انداز سے کہا۔
’’یہ کبھی نہیں ہو سکتا جب تک اس کا جسم ......‘‘
’’بس میں سب کچھ سمجھ گئی ہوں اور کہنے کی ضرورت نہیں۔‘‘
’’مگر یہ کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘
میں نے کہنے کو تو یہ کہہ دیا۔ مگر آج محسوس کر رہا ہوں کہ واقعی میں اس کی نہ ختم ہونے والی تیمارداری سے تنگ آگیا تھا کیونکہ اس کے اچھے ہونے کی کوئی امید نہ تھی۔
آج میں ان باتوں کو سوچتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس نے میرے ان دلی خیالات کو بھانپ لیا تھا۔ اس وقت شاید میں اس کی یہ با ت نہ سمجھ سکا۔
نارائن میرے مخلص دوست تھے ۔دوران آمدورفت میں انہوں نے اپنی لڑکی سے میری ملاقات کرا دی تھی۔ اس کی عمر سولہ سترہ سال کے درمیان تھی۔وہ بلا کی ذہین اور سمجھدار تھی ۔ اور تھی بھی ابھی کنواری۔ ڈاکٹر کہتا تھا کہ کوئی لائق لڑکا نہیں ملا۔ اس لیے شادی نہیں ہو سکی۔ مگر یہ افواہ عام تھی کہ اس کی جنم پری میں کچھ کمی واقعہ ہے۔ اس لیے شادی نہ ہو سکی باوجود اس افواہ کے اس میں ظاہری نقص نظر نہیں آتا تھا۔ وہ بلا کی حسین تھی۔ اور روزمرہ کی ملاقات نے اس کے حسن نے مجھے اپنی طرف راغب بھی کر لیا تھا۔ اس کی تعلیم ایف اے تک تھی۔ اکثر بحث مباحثہ میں میں نے اس کی دانشمندی کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اب مجھے ڈاکٹر کے گھر زیادہ دیر بیٹھنا پڑتا۔ اور وہ دیر کبھی کبھی اتنی طویل ہوتی کہ مریضہ کو دوائی پلانے کا وقت بھی گزر جاتا۔ میری بیوی یہ بات اچھی طرح جانتی تھی کہ میں کہاں جاتا ہوں مگر اس نے کبھی مجھے جتایا نہیں اور نہ اس دیر کی وجہ ہی دریافت کی۔ میں آتا تو وہ میرے چہرے کو دیکھ کر مسکرادیتی۔
اب مجھے آہستہ آہسہ بیمار کے کمرے سے نفرت ہونے لگی، پہلے جو کمرہ میرے لیے باعث مسرت تھا اب غم کا گھر بن گیا۔ بارہا دوائی پلانے کا خیال بھول جاتا، ایک روز ڈاکٹر نے مجھے کہا۔
عموماً خطرناک بیماریوں سے نجات موت کے بعد ہی ملا کرتی ہے۔ کیونکہ زندگی میں تو انہیں خوشی حاصل ہو ہی نہیں سکتی، بلکہ ان کی زندگی تیمارداروں کے لیے ایک ناقابل برداشت بوجھ ہو جاتی ہے۔‘‘
مجھے غصہ تو بہت آیا کیونکہ یہی الفاظ اگر کسی دوسرے کے لیے ہوتے تو شاید قابل معافی ہو سکتے۔ اگر میرے ہی سامنے میری بیمار بیوی کی مثال رکھ کر یہ کہاں تک مناسب تھا۔ دوسرے ہی دن ڈاکٹر مریضہ سے یہ کہہ رہا تھا۔
’’نہیں جلد اچھی ہو جاؤ گی۔‘‘
اس سے پیشتر ان میں کیا کیاباتیں ہوئیں یہ میں نہیں جانتا۔ مگر اس کے جواب میں میری بیوی نے کہا۔
’’ڈاکٹر صاحب یہ بات آپ کے دل سے نہیں نکل رہی بلکہ بناوٹی ہے۔ اور فضول مجھے کڑوی میٹھی دوائیں پلا پلا کر تنگ کر رہے ہیں۔ یہ تو آپ جانتے ہیں اور میں بھی کہ اب اس بیماری سے چھٹکارا موت سے پیشتر نہیں مل سکتا، اگر آپ مناسب خیال کریں تو خود اپنے ہاتھ سے میری زندگی کا خاتمہ کر دیں۔‘‘
’’اس فیاض قدرت کے دروازے سے اس قدر نا امید لوٹنا ایک عقلمند انسان کا کام نہیں، گھبرانے کی ضرورت نہیں، عنقریب صحت ہو جائے گی۔‘‘
یہ کہہ کر ڈاکٹر کمرے سے باہر چلا گیا۔ اور اس کے بعد میں کمرے میں داخل ہوا۔ اس کے پلنگ پر سرہانے بیٹھ گیا۔ پھر اپنا سرد ہاتھ اس کی پیشانی پر رکھ آہستہ آہستہ دبانے لگا۔ اس نے پر معنی نگاہوں سے میری طرف دیکھا اور نہایت نرم لہجہ میں کہا۔
’’اس وقت یہاں بہت گرمی ہے آپ کہیں باہر ہواخوری کے لیے چلے جائیں، ایسا نہ ہو کہ آپ کو بھی تکلیف ہو جائے اور دوائی پلانے والے بھی کوئی نہ رہے۔‘‘
اس ہوا خوری کا مطلب میں اور وہ ہم دونوں بخوبی سمجھتے تھے کیونکہ میں روزانہ شام کو ڈاکٹر کے گھر جاتا تھا۔ جسے وہ جانتی تھی اور ساتھ ہی میں نے چند دن پہلے اسے یہ کہا تھا۔
’’صحت کو برقرار رکھنے کے لیے صبح اور شام ہواخوری لازمی ہے۔‘‘
میں سمجھتا تھا کہ عورت بے وقوف ہوتی ہے مگر یہ میری بڑی غلطی تھی۔ کیونکہ وہ میرے ہر بہانے کو اچھی طرح سمجھتی تھی۔ وہ میری ہر نامکمل بات کی تہہ تک پہنچ کر نتیجہ اخذ کر لیتی تھی۔ آج جب میں اتنے دنوں بعد ہر بات سوچتا ہوں کہ واقعی ان دنوں میرا دماغ ٹھیک نہ تھا شاید عشق کا بھوت مجھ پر سوارتھا اور اس کی وجہ سے میری عقل پر پردہ سا پڑ گیاہو۔ اچھا خیر اب میں اصل مطلب کی طرف آتا ہوں۔
ایک روز ڈاکٹر کی لڑکی نے میری بیوی سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس نے ایسا کیوں کہا میں نہیں جانتا۔ مگر اتنا ضرور کہوں گا کہ اس کی یہ با ت مجھے کچھ ناگوار گزری۔ مگر باوجود اس بات کے یہ وجہ بھی کیا تھی کہ میں اسے گھر آنے سے روکتا اور ساتھ میں ایسا بھی نہ کر سکتا تھا، نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ایک دن میرے مکان پر آ ہی گئی ......’’پہلے مجھے ایک گلاس پانی دو، گلا خشک ہو رہا ہے۔‘‘
پاس ہی صراحی میں پانی پڑا تھا۔ میں نے ایک بلوری گلاس میں پانی دیا، پینے کے بعد انہوں نے پھر کہانی شروع کی۔
اتفاق سمجھو یا کچھ اور اس دن نربدا کی تکلیف میں اضافہ ہو گیا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ بے چین تھی۔ اس تکلیف کی وجہ سے اس کے ہاتھ کی مٹھیاں بند ہو گئی تھیں ، اس وقت جو بھی کوئی اسے دیکھتا بخوبی سمجھ سکتا تھا کہ اسے بہت درد ہو رہا ہے۔ آج اس کی کمزوری نے طاقت گویائی بھی سلب کر دی تھی۔ شاید اس وجہ سے مجھے ہوا خوری کے لیے بھی نہ کہا۔ شاید وہ میری موجودگی اپنے قلب کی تسکین خیال کر رہی تھی۔ بالکل مدھم سا چراغ میں نے دروازے کے قریب جلا دیا تھا۔ مبادا زیادہ روشنی سے مریضہ کو کلف نہ ہو اس لیے کمرے میں دھندلی سی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ جس سے ہر چیز نمایاں طور پر نظر نہ آتی تھی۔ تمام مکان میں بالکل سناٹا تھا، صرف مریضہ کے کمرے میں کراہنے یا آہ سرد بھرنے کی آواز پیدا ہو رہی تھی۔ یکایک روپ لیکھا دروازے پر نمودار ہوئی۔ اور بعد میں ٹھٹک کر وہیں کھڑی رہی۔ چراغ کی دھندلی روشنی ٹھیک اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔ جس سے اس کا چہرہ کچھ نمایاں کچھ تاریک نظر آرہا تھا۔ میں نے ایک نظر اسے دیکھا۔ اور آنکھیں جھکا لیں۔ نربدا پانچ منٹ تک بہ چشم حیرت اس کی طرف دیکھتی رہی۔ بعد میں میرے چہرے کی طرف دیکھ کر بولی۔
’’کون ہے؟‘‘
اس حالت میں شام کے وقت وہ اپنےمکان میں ایک نووارد دوشیزہ کو دیکھ کر گھبرا سی گئی۔ اور اب میری خاموشی کو دیکھ کر بار بار سوال کرنے لگی۔
’’وہ کون ہے ! ...... کون ہے...... کیا نہیں بتاؤ گے؟ ......کچھ تو بتا دو کہ کون آیا ہے؟‘‘
پہلے تو میں نے نہایت نرم آواز میں جواب دیا۔
’’مجھے کیا معلوم !‘‘
اس وقت مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے کوئی میرے دل کو پکڑ کر ہاتھوں سے مسل رہا ہے۔ اس وقت خیال پیدا ہوا کہ میں اپنی وفا شعار بیوی سے دھوکا کر رہا ہوں۔ پھر میں نے دل کو مضبوط کرکے جواب دیا۔
’’کیا تم نہیں جانتی ۔ ہاں ٹھیک ہے تم نے اسے پہلے کبھی نہیں دیکھا یہ ہمارے ڈاکٹر صاحب کی لڑکی روپ لیکھا ہے۔‘‘
نربدا کی نظر یکایک میرے چہرے پر تھیں مگر مجھ میں اتنی جرأت نہ تھی کہ اس کی طرف دیکھتا۔ مجھے اسی حالت میں چھوڑ کر اس نے روپ لیکھا کی طرف دیکھا۔ اور اپنی تمام قوت یکجا کرکے شیریں لہجہ میں بولی۔
’’یہاں آؤ ......تم ذرا روشنی نزدیک لے آؤ۔‘‘
میں نے فوراً تعمیل کی۔ ان دونوں میں آہستہ آہستہ چند باتیں ہوئیں، اتنے میں ڈاکٹر بھی آگیا۔ اور بولا۔
’’یہ دو شیشیاں ہیں۔ ایک کالی اور دوسری سفید، کالی شیشی کی دوا جسم پر مالش کے لیے ہے اور سفید شیشی کی چار خوراک پینے کے لیے، احتیاط سے کام لینا مبادا دوا تبدیل ہو جائے۔ کیونکہ کالی شیشی میں پوائزن ہے۔‘‘
اس نے دونوں شیشیاں چارپائی کے پاس پڑی ترپائی پر رکھ دیں ۔ پھر روپ لیکھا کی طرف دیکھ کر بولا۔ ’’آؤ چلیں۔‘‘
روپ لیکھا نے کمرے کے چاروں طرف دیکھ کر جواب دیا۔ ’’میرا خیال ہے میں یہاں رہوں کیونکہ تیمارداری کے لیے کوئی بھی موجود نہیں ہے۔‘‘
اس سے پہلے کہ ڈاکٹر کوئی جواب دیا میری بیوی نے کہا۔
’’نہیں تمہارے یہاں رہنے کی ضرورت نہیں۔ میرے پاس خادمہ ہے جو اس وقت باہر کسی کام کے لیے گئی ہے۔‘‘
ڈاکٹر لڑکی کو اپنے ساتھ لے چلا تو نربدا نے پھر کہا۔
’’ڈاکٹر صاحب ان کو بھی ساتھ لے جائیں۔ کافی دیر سےیہیں بیٹھے ہیں۔‘‘
’’ڈاکٹر نے میری طرف دیکھا۔ میں اٹھ کھڑا ہوا۔ رات کا کھانا بھی روپ لیکھا کے ہاتھ کا بنا ہوا کھایا۔ مجھے حسب معمول آنے میں دیر ہو گئی۔ گھر پہنچنے پر معلوم ہوا کہ نربدا کسی ذہنی تکلیف میں مبتلا ہے۔ اس وقت میں ندامت سے سر جھکائے کھڑا تھا۔ آخر میں نے پوچھا۔
’’تمہیں کچھ زیادہ تکلیف ہے؟‘‘
مگر وہاں اتنی طاقت کہاں تھی جو میری بات کا جواب دیتی۔ وہ میری طرف دیکھ ٹک تک رہی تھی۔ ایسے معلوم ہوا تھا جیسے اس کی سانس نہایت مشکل سے چل رہی ہے۔ میں نے اسی وقت ڈاکٹر کو ٹیلی فون کیا۔ مریضہ کو دیکھنے کے بعد وہ فیصلہ نہ کر سکا کہ اس نئی تکلیف کی وجہ کیا ہے۔ اس نے دریافت کیا۔
’’کیا یہ دوا پی لی ہے؟‘‘
یہ کہہ کر اس نے کالی شیشی اٹھائی، وہ خالی تھی۔ نہایت جوش کے ساتھ اس نے پوچھا
کیا یہ دوا پی لی ہے؟
مریضہ نے آنکھ کے اشارے سے ہاں کہہ دی۔
ڈاکٹر کے جیسے حواس باختہ ہو گئے وہ بیٹری اٹھا کر اپنے مکان کی طرف بھاگا۔ شاید کوئی دوسری دوا یا کچھ اور لانے کے لیے، میرے دماغ نے چشم زدن میں تمام باتیں سمجھ لیں۔ ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی میرے دل کو پکڑ کر ہاتھ میں مسل ڈالنا چاہتا ہے۔ میں بے دماغ ہو کر بستر پر گر پڑا۔
سچا رفیق محسن جسے اپنے مایوس دوست کو تسلی دینے کی کوشش کرتا ہے۔ بالکل اسی طرح ڈبڈبائی آنکھوں سے میری طرف لرزتے ہاتھوں کے ہاتھ اٹھا کر نہایت آہستگی سے اپنے سینے کے پاس لے گئی۔ پھر میرے بالوں سے کھیلتے ہوئے نرم مری ہوئی آواز میں کہا۔
’’پیارے رنج نہ کرو۔ میں نے جو کچھ کیا سوچ سمجھ کر کیا ہے۔ میری زندگی کے بعد یقینا آپ کو راحت و مسرت میسر ہو گی۔ ایشور جو کرتا ہے اچھاکرتا ہے۔ اس کی ہر بات اور ہر کام میں بھلائی ہے۔ اسی خیال کے زیر اثر میں آج نہایت تسلی اور آرام سے اس کے پاس جا رہی ہوں۔‘‘
یہ کہہ کر اس نے آہستہ آہستہ آنکھیں بند کر لیں۔ اتنے میں ڈاکٹر واپس آگیا۔ اس کے ہاتھ میں چمڑے کا ایک بیگ تھا۔ مگر اب سب کچھ بے سود تھا۔ کیونکہ وہ ہمیشہ کے لیے میٹھی نیند سو چکی تھی۔ اب اسے جگانا ناممکن تھا۔ ڈاکٹر کی تمام تر کوشش بے کار ثابت ہوئی۔ اس کے کہے مطابق اس کی تکلیف کا خاتمہ اس کی جان کے ساتھ ہوا۔
گرمی کی وجہ سے وہ ایک بار باہر برآمدے میں گئے۔ مگر چند منٹ میں پھر واپس آ کر اپنی داستان شروع کی۔ جیسے اب وہ تازہ دم ہو کر غم کو ضبط کرکے آئے ہوں۔ میں یہ اچھی طرح سمجھ رہا تھا کہ جو کچھ انہوں نے کہا سب بے ارادہ تھا۔ اور زیادہ طول دینا بھی غیر مناسب ہے۔ مگر پھر بھی کسی ساحر کے سحر میں مسحور ہو کر جیسے کوئی سب کچھ بیان کرتا ہے۔ بالکل یہی حالت تھی۔ کوئی غیر معمولی طاقت ان کی زبان سے یہ داستان سنا رہی تھی۔
چند دن میں میری شادی ڈاکٹر کی لڑکی سے ہو گئی۔ مگر اب مجھے خوشی کی بجائے رنج و تکلیف ہے۔ کیونکہ جب کبھی میں نے اس سے پیار محبت کی باتیں کرنے کا خیال کیا اسی وقت سنجیدگی سے دور ہی رہنے کی کوشش کرتی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے اسے دل میں میرے خلاف کچھ شک ہے جسے میں باوجود کافی تلاش کے بھی نہ سمجھ سکا۔
اب میں غمگین رہنے لگا۔ پھر چند دوستوں کی صحبت میں آہستہ آہستہ شراب پینے کی بری عادت پڑ گئی۔
خزاں آ رہی تھی اور بہار جا رہی تھی۔ ایک شام کو میں اپنی نئی بیوی کے ساتھ لب دریا باغ میں چہل قدمی کر رہا تھا۔ تاریکی ہر لمحہ بڑھ رہی تھی۔ آہستہ آہستہ ہم اس کے گھیرے میں آرہے تھے۔ تمام اطراف بالکل سناٹا چھایا ہوا تھا۔ کسی طائر کے پر بدن کی آواز تک کانوں میں نہ آتی تھی۔ ہاں کبھی کبھی پتوں کی سرسراہٹ محسوس ہوتی تھی جو ہوا کے اثر سے ہلتے تھے۔
وہ تھک کر ایک بنچ پر بیٹھی اور پھر سر ہتھیلیوں پر رکھ کر لیٹ گئی۔ میں بھی اس کے قریب ہی بیٹھ گیا۔ اب مکمل تاریکی چھا گئی تھی۔ آسمان ستاروں سے نہایت خوشنما معلوم ہوتا تھا۔ جھینگروں کی آواز دور تک بالکل صاف سنائی دے رہی تھی۔ میں نے اس وقت کچھ شراب پی ہوئی تھی۔
اس وقت نئی بیاہی بیوی کی صورت نے میرے دماغ میں ایک خاص کشش پیدا کر دی۔ وہ نہایت بے فکری سے ایک خاص انداز کے ساتھ درختوں کے سائے میں لیٹی ہوئی تھی۔
وہ ایک سائے کی طرح میرے قریب تھی۔ مگر اسے اپنے بازوؤں کی گرفت میں لینا جیسے میری طاقت سے باہر تھا۔
یکایک ایسا معلوم ہوا کہ تمام درختوں کی چوٹیوں پر آگ لگ گئی۔ سنہرا چاند درختوں کے عقب سے اونچا ہو رہا تھا۔ پتوں سے چھن چھن کر روپ لیکھا کے منہ پر پڑ رہی تھی۔ میرے جذبات اس وقت بھڑک اٹھے۔میں نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔
’’میں تمہاری الفت کو کبھی نہیں بھول سکتا۔‘‘
میرے کانوں میں جیسے کسی نے شیشہ ڈال دیا ہو۔ میرے یہی الفاظ میرے کانوں میں پہنچے تو میں چونک پڑا۔ مجھے یک دم یاد آیا کہ یہی الفاظ اس سے پہلے بھی کسی دوسری عورت کو کہے گئے تھے۔ میرے بال کھڑے ہو گئے۔ تمام جسم لرز اٹھا۔ فضا میں ایک قہقہہ کی آواز سنائی دی۔ نہ معلوم مجھے کیا ہوا میں اسی وقت بے ہوش ہو گیا۔ اور جب ہوش آیا تو کمرے میں چارپائی پر پڑا تھا۔
’’کیا ہوا تھا۔‘‘ روپ لیکھا نے دریافت کیا۔
’’تم نہیں جانتی؟ اس آواز سے تو آسمان بھی دہل گیا تھا۔ ایک خوفناک قہقہہ کی آواز تھی۔‘‘
’’واہ!‘‘ میری بیوی نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ’’وہ تو پرندوں کا قافلہ تھا جو اڑ کر کہیں جا رہا تھا۔‘‘
دماغ پر زور ڈالنے سے معلوم ہو گیا کہ وہ راج ہنس کا ایک جھنڈ تھا جو بوجہ تبدیلی موسم دوسرے مقام پر جا رہا تھا۔ تمام دن غیر معمولی خیالات کو اپنے دماغ سے محو کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ مگر شام ہی پھر سینکڑوں خوفناک خیالات دماغ میں گھس آئے۔ پھرایسا ہونے لگا کہ قہقہہ کی آواز آرہی ہے۔ اب میری پریشانی میں روزبروز اضافہ ہونے لگا۔ یہاں تک کہ شام ہونے کے بعد میں اپنی بیوی سے ایک لفظ بھی نہ کہہ سکتا تھا۔
آخر میں نے اس مکان کو چھوڑ دیا۔ اور کشتی پر دریا کے سفر کو روانہ ہوا۔ شب و روز سیر و تفریح خوشگوار موسم اور سرد ہوا نے میری طبیعت کو قدرے پہلی حالت میں بدل دیا۔
گنگا کو عبور کرکے دریائے بھوکری کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ہماری کشتی پدما کے بہاؤ میں بہنے لگی۔ پدما ندی سانپ کی طرح بل کھاتی ہوئی سرما کی گہری نیند میں سو رہی تھی۔ ایک طرف بنجر زمین پڑی تھی۔ جہاں ریت پر سورج طلائی بارش کر رہا تھا۔ دوسری طرف لا تعداد آنکھوں کے فلک بوس درخت نہایت وقار سے کھڑے تھے۔
چند دن کے سفر کے بعد موزوں جگہ دیکھ کر لب دریا ہی خیمہ لگا دیا۔ ایک دن چہل قدمی کرتے ہوئے خیمہ سے بہت دور نکل گئے۔ غروبِ آفتاب کی سرخ روشنی روانہ ہو گئی اور نیلگوں سائبان خورشید کی متواتر چاندنی سے سرد ہو گیا۔ چاندنی اس لا محدود ریگستان پر چھا گئی۔
میں اس حسین منظر کی تاب نہ لا سکا۔ اور میرا دل تمنا، حسرت اور درد سے ایک بار تڑپ اٹھا۔ محسوس ہونے لگا کہ ہم دونوں اس وسیع دنیا میں بالکل تنہا ہیں۔ اور اس لا محدود طلسمات میں جواب کے سائے کی طرح بغیر کسی حیل و حجت کے آوارگی میں مصروف ہیں۔
اس نے اس وقت عنابی رنگ کی شال اوڑھی ہوئی تھی۔ جس کی وجہ سے صرف اس کا چہرہ نمایاں تھا۔ ہر جانب بالکل خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ دفعتاً روپ لیکھا نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے دیا۔ میرے جسم میں جیسے بجلی کی لہر دوڑ گئی۔ مجھے محسوس ہوا جیسے اس نے اپنی پرجوش جوانی محبت بھرا دل یہاں تک کہ اپنا بلوریں جسم سب کچھ اس سناٹے میں میرے سپرد کر دیا ہے۔ دبی ہوئی چنگاری یکایک روشن ہو گئی۔ میرے دل کی دبی ہوئی محبت اور جوش ازسرنو بیدار ہو اٹھا۔ ایسا ہونے لگا جیسے مجھ سا خوش نصیب اس عالم میں دوسرا نہیں، دوسرا کون ہے جو اس وقت اس کھلے آسمان کے نیچے چاندنی میں آزادی اور مسرت سے ایک ہو جائے۔
آج میرا دل یہ چاہتا تھا ہماری زندگی اس سیر و تفریح میں ختم ہو جائے۔ دنیا کے دھندوں سے دور، لوگوں کی آنکھوں سے پرے، رنج و الم سے بے بہرہ محبت کی اس پر سحر دنیا میں کھو جائیں۔ ہم تمام تفکرات سے آزاد اس نہ ختم ہونے والی محویت میں ایک آبشار کے کنارے پہنچے، چاند کی تیز شفاف کرنیں شمشیر آب دار کی طرح اس کے بلوریں پانی پر رقص کر رہی تھیں۔ جیسے اس کے دل میں پیوست ہونا چاہتی ہیں۔
یہاں عالم مدہوشی میں کھڑے ہوگئے۔ روپ لیکھا نے خاموش نگاہوں سے میری طرف دیکھا۔ اس دوران میں اس کی شال کچھ نیچے سرک گئی تھی۔ اب وہ مجسمہ حسن نظر آرہی تھی۔ میری برداشت کا پیمانہ چھلک گیا، میں نے اس کے نرم رخساروں کو بوسہ دیا، بالکل اسی وقت ایک آواز فضا میں گونج اٹھی۔
’’وہ کون ہے ؟ ...... وہ کون ہے؟‘‘
جس طرح کسی پر کوئی ناگہانی مصیبت پڑی۔ میں چونک پڑا۔ وہ مجسمہ حسن بھی سر تا پا لرز گئی۔ مگر اس کے جلدی ہی بعد تحقیقات سے معلوم ہوا یہ انسانی آواز نہ تھی بلکہ کوئی آبی جانور تھا جو غالباً اس سناٹے میں آواز سن کر چونک پڑا ہو۔
منتشر حواس کو یکجا کرکے ہم جلدی واپس ہوئے، شب بھی کافی گزر چکی تھی۔ خیالات بھی پریشان تھے۔ اس لیے بستر پر لیٹتے ہی نیند نے آ دبوچا۔
یکایک ایسا محسوس ہوا کوئی میرے قریب کھڑا اپنی سفید کانپتی ہوئی انگلی سے خواب راحت میں مدہوش روپ لیکھا کی طرف اشارہ کرکے پوچھ رہا ہے۔
’’وہ کون ہے ؟ ...... وہ کون ہے؟‘‘
میں گھبرا کر اٹھ کھڑا ہوا۔ فوراً ٹارچ کا بٹن دبایا۔ مسہری ہوا میں ہل رہی تھی اور کشتی پانی کی لہروں میں ہچکولے کھا رہی تھی۔ میرا خون سرد ہو گیا۔ پیشانی پر سرد پسینے کے قطرے نمودار ہوئے۔ اس کے بعد ایک فلک بوس قہقہہ کی آواز سنائی دی۔
قہقہہ کی آواز اس سنسان تاریکی میں گونج رہی تھی۔ دریا، گاؤں، شہر اور ریگستان کو طے کرتی ہوئی اس طرح نمایاں ہو رہی تھی جیسے یہ مستقل طور پر مسلسل کسی پوشیدہ دنیا سے آرہی ہے۔ آہستہ آہستہ آواز کم ہوگئی اور پھر بالکل باریک غیر معمولی طور پر سنائی دی۔
مجھے ایسا معلوم ہونے لگا جیسے یہ آواز میرے دماغ میں اپنا گھر تلاش کر رہی ہے۔ اور اب اسے نکالنا دشوار ہی نہیں بلکہ ناممکن ہو گیا ہے۔ آخر مجھے اس آواز نے دیوانہ سا بنا دیا اور وہ ناقابل برداشت معلوم ہونے لگی۔ میں نے روشنی گل کر دی اور لیٹ گیا کہ شاید نیند آجائے۔ مگر پانچ منٹ کے بعد اس تاریکی میں پھر کوئی کہہ رہا تھا۔
’’وہ کون ہے ؟ .......وہ کون ہے؟‘‘
قصہ بیان کرتے کرتے میونسپل کمشنر صاحب کا چہرہ خوفناک اور زرد ہو گیا۔ اب ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے ان کے حلق میں کوئی چیز اٹک گئی ہو۔ میں گھبرا گیا اور اٹھ کر ان کے نزدیک گیا۔ پھر شانے کو ہلاتے ہوئے سوال کیا۔
’’پانی لو گے؟ ...... ‘‘مگر کوئی جواب نہیں۔
دفعتاً چراغ ایک تیز روشنی کے بعد بجھ گیا۔ دروازے کے سوراخ سے صبح کی ہلکی سفید روشنی داخل ہو رہی تھی۔ چھت پر ایک کوا چلاتا ہوا گزر گیا، اسی وقت چڑیا کی سیٹی کے ساتھ ایک کتے کی بھی آواز سنائی دی۔ باہر سڑک پر ایک بیل گاڑی گزر رہی تھی جس کے پہیوں کی آواز بیل کے گھنگھروؤں سے مل کر کچھ دلفریب ہو گئی تھی۔
کمشنر بابو کے چہرے پر تبدیلی آچکی تھی۔ خوف کے آثار غالب تھے۔کسی خیالی خوف کے زیر اثر انہوں نے مجھے اپنی یہ داستانِ حیات بلا ارادہ سنا دی اور ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ وہ اپنی اس ناجائز حرکت پر خود ہی نادم ہو رہے ہیں۔ یہاں تک کہ خود کچھ غم و غصہ بھی چہرے پر نمایاں ہے۔
انہوں نے اسی وقت کرسی چھوڑ دی اور بغیر رخصتی الفاظ کہے تیزی سے باہر نکل گئے۔ میں نے کوئی بات کرنی مناسب نہ سمجھی۔
دوسرے دن نصف شب کو پھر وہی آواز سنائی دی۔
’’ڈاکٹر ! ...... ڈاکٹر !‘‘
مگر میں خاموش اپنی چارپائی پر پڑا رہا۔