رابندر ناتھ ٹیگور

رابندر ناتھ ٹیگور

شادی

    کسی زمانے میں نائجور کے بابو مشہور زمیندار ہوا کرتے تھے۔ سالانہ خرچ اخراجات کے لیے مشہور تھے۔ کہتے ہیں کہ وہ ڈھاکہ کی ململ کا کھردرا کنارہ پھاڑ دیا کرتے تھے۔ کیونکہ یہ ان کی نازک جلد کے ساتھ چھو کر چبھتا تھا۔ گڑیا کی شادی پر بھی وہ ہزاروں روپے صرف کر دیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک خاص جشن کے موقع پر جو نہایت شان و شوکت سے منایا جا رہا تھا، رات کو دن میں تبدیل کرنے کے لیے انہوں نے بے شمار لمپ و فانوس جگائے۔ اور آسمان سے چاندی کی تاریں برسائیں تاکہ سورج کی کرنوں کی مانند ہوں۔

    یہ حضرت نوح ؑکے طوفان سے پہلے کی باتیں ہیں۔ انقلاب آیا ان پرانے زمانے کے بابوؤں کی نسل جو شاہانہ شان و شوکت سے رہتے تھے دیر تک قائم نہ رہ سکی۔ جب یہ ایک لیمپ کا تیل جس میں بہت سی بتیاں جل رہی ہوں، جلد خرچ ہو جاتا ہے اور تھوڑی دیر کے لیے ٹمٹما کر بجھ جاتا ہے۔ بعینہٖ اس خاندان کی حالت ہوئی۔

    ہمارا پڑوسی کالی بابو داس گزشتہ شان و عظمت کا آخری ٹمٹماتا چراغ ہے، اس کے جوان ہونے سے پیشتر ہی اس عالی شان خاندان کی شان و شوکت کا چراغ تقریباً بجھ چکا تھا۔ جب اس کا والد انتقال کر گیا تو مرگ کے اخراجات کی مشکل میں آنکھوں کو چندھیانے والی ایک زور کی چمک دے کر یہ چراغ بالکل بجھ گیا اور نتیجہ کے طور پر دیوالہ نمودار ہوا۔ قرض چکانے کے لیے جائیداد فروخت کرنی پڑی جو کچھ نقد روپیہ باقی بچا وہ بزرگوں کی شان و شوکت و شاہانہ اخراجات قائم رکھنے کے لیے بالکل ناکافی تھا۔ نینجور چھوڑ کر کالی بابو کلکتہ چلا آیا۔ تھوڑی دیر بعد اس کا لڑکا اس جہانِ فانی سے کوچ کر گیا اور ایک لڑکی پیچھے چھوڑ گیا۔

    کلکتہ کالی بابو ہمارے پڑوس میں رہتا ہے حیرانی کی بات ہے کہ ہمارے خاندان کی کہانی ان کے خاندان کی کہانی ان کے خاندان کی تواریخ سے بالکل مختلف ہے۔ میرے والد نے اپنی سنت سے روپیہ کمایا ۔ انہیں اس بات کا فخر تھا کہ ضرورت سے زیادہ ایک پائی بھی کبھی فضول خرچ نہیں کی، ان کا لباس اور ہاتھ ایک معمولی حیثیت کے شخص کی مانند تھے۔ جو ہاتھ سے محنت کرکے روٹی کماتا ہے، فضول خرچ اور ظاہری ٹیپ ٹاپ سے انہوں نے کبھی بابو کا لقب حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی اور اس کے لیے میں ان کا اکلوتا بیٹا ان کا مشکور ہوں۔ انہوں نے مجھے نہایت اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ اور دنیا میں ترقی کرنے کے قابل بنایا۔ مجھے یہ ماننے میں مطلق شرم نہیں کہ دنیاوی ترقی کے لحاظ سے میں ایک خودساختہ انسان ہوں۔ میری الماری میں بڑے موٹے چند نوٹ مجھے زیادہ عزیز ہیں۔ بہ نسبت ایک شجرہ نسب کے جو ایک خالی خاندانی الماری میں پڑا ہوا ہو۔

    میرے خیال میں یہی وجہ تھی کہ کالی بابو کا بابو خاندان کی شہرت کے وقت کے آبائی بنک میں سے جس کا اس وقت دیوالیہ نکلا چاہتا تھا۔ بذریعہ چیک پبلک کریڈٹ پر روپیہ لینا مجھے نہایت ناگوار گزرتا تھا۔ میں دل میں خیال کرتا تھا کہ کالی بابو مجھے اس وجہ سے حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے کہ میرے والد نے اپنے ہاتھوں سے محنت کرکے روپیہ کمایا تھا۔

    مجھے اس بات کا خیال ہونا چاہیے کہ سوائے میرے اور کوئی شخص کالی بابو سے کسی طرح کبیدہ خاطر نہیں تھا۔ دراصل اس جیسا ضعیف شخص جو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچاتا۔ ملنا مشکل تھا۔ شادی غمی کے موقع پر اس کا سلوک ہمیشہ انسانیت اور شرافت کا ہوتا تھا۔ اپنے پڑوسیوں کی تمام رسمیات اور مذہبی موقعوں اور تہواروں میں وہ ہمیشہ شامل ہوتا تھا۔ بچے بوڑھے سے بلاتمیز وہ خندہ پیشانی سے بات کرتا تھا۔ گھر کے معاملات کی تفصیل پوچھنے میں اس کی ہمدردی و شرافت نہ تھکنے والی تھی۔ اس کے دوست مجبوراً اس کے مندرجہ ذیل قسم کے ریمارکوں کا سلسلہ اس کی زبان سے سننے کے لیے ٹھیر جاتے تھے۔

    پیارے تمہیں مل کر مجھے بڑی خوشی ہوئی ہے۔ تم راضی ہونا؟ شانتی کا کیا حال ہے؟ اور دادا کیسا ہے؟ تمہیں معلوم ہے کہ مجھے ابھی ابھی پتہ لگا ہے کہ مادھو کے لڑکے کو بخار چڑھ گیا ہے۔ اب وہ کیسا ہے؟ اور ہری چرن بابو؟ مجھے اسے ملے دیر ہو گئی ہے۔ امید ہے کہ وہ بیمار نہیں ہے۔ رکھ لال کہاں ہے۔ اور کیسے ہے؟ اور وہاں تمہارے ہاں مستورات کا کیا حال ہے؟ خوش تو ہیں؟

    کالی بابو  ہر وقت اجلا اور صاف لباس پہنتا تھا۔ اگرچہ اس کے کپڑوں کا سٹاک بہت تھوڑا تھا۔ ہر روز وہ اپنی قمیص، واسکٹ، کوٹ اور پتلون ، لحاف، تکیہ اور چھوٹی سی دری جس پر وہ بیٹھا کرتا تھا۔ دھوپ میں رکھتا تھا کہ خشک رہیں۔ جب ذرا ہوا لگ جاتی تو وہ انہیں ہلا کر برش سے جھاڑتا اور سنبھال کر رکھ لیتا تھا۔ اس کا تھوڑا سا فرنیچر (میز، کرسی وغیرہ)  کمرے کی قدرے آرائش کا باعث تھا۔ اور اس بات کی طرف اشارہ کرتا تھا کہ ضرورت کے وقت     اور بھی مہیا کیا جا سکتا ہے۔ اکثر جب کوئی نوکر موجود نہ ہوتا تو تھوڑی دیر کے لیے وہ مکان بند کر دیتا۔ اور قمیص اور دوسرے کپڑے دھوپ میں سوکھنے ڈال دیتا۔ اور دیگر اسی قسم کے معمولی کام کرتا۔ جب یہ کرچکتا تو دروازے کھول دیتا۔ اور پھر دوستوں سے جو ملاقات کے لیے آتے، ملتا تھا۔

    جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے۔ اگرچہ کالی بابو تمام زمین ہاتھ سے کھو بیٹھا تھا لیکن بزرگوں کی تھوڑی سی جائیداد ابھی اس کے قبضے میں باقی تھی۔ منجملہ ان کے ایک خوشبودار پانی چھڑکنے کا چاندی کا گلاب دان، ایک عطر دانی، جس پر میناکاری ہوئی تھی، ایک سنہری طشتری، ایک نایاب دوشالہ، ایک پرانے زمانے کی خلعت اور ایک بزرگوں کی خاندانی پگڑی تھی۔ یہ چیزیں اس نے بہ مشکل قرض خواہوں کے پنجے سے چھڑائی تھیں۔ ہر ایک مناسب موقع پر وہ ان اشیا ء کو سجا کر رکھتا تاکہ سب دیکھ سکیں۔ اور نینجور کے بابوؤں کا عز و وقار اور شان و شوکت جس کے لیے ان کی ایک عالم شہرت تھی اس گئے گزرے زمانے میں بھی تھوڑی بہت قائم رہ سکے۔

    باطن اس کا نہایت صاف اور ایک حلیم الطبع انسان کا سا تھا۔لیکن ظاہراً گفتگو میں وہ آزادانہ طور پر اپنے خاندان پر فخر و ناز کرنا اپنا ضروری بلکہ مقدس فرض سمجھتا تھا۔ اس کے دوست آشنا بھی اسے ایسا کرنے میں امداد دیتے تھے۔ اور اس شغل میں خوب خط اُڑاتے تھے۔

    اڑوس پڑوس کے لوگ جلدی اسے ٹھاکر دادا کے نام سے پکارنے لگ گئے، وہ اس کے گھر میں جمع ہو جاتے اور گھنٹوں بیٹھے رہتے تھے۔ اس کا خرچ بچانے کے لیے کالی بابو کا کوئی نہ کوئی دوست اس کے لیے تمباکو لے آتا اور کہتا:

    ’’ٹھاکر دادا! آج یہ تمباکو ہمار ے ہاں گیا سے آیا ہے، دیکھو تو سہی پینے میں کیسا ہے؟‘‘

    ٹھاکر دادا حقہ میں بھر کر پیتے اور کہتے

    ’’بہت اچھا ہے۔‘‘

    پھر وہ کسی نفیس تمباکو کا جو اس کے بزرگ نینجور میں پرانے وقتوں میں پیا کرتے تھے اور جو ایک اشرفی کا ایک تولہ آتا تھا، ذکر چھیڑ دیتا تھا ۔

    ’’میں نہیں کہہ سکتا کہ حاضرین میں سے کسی کو تمباکو پینے کا شوق ہے، میرے پاس تھوڑا سا موجود ہے۔ اور جلد منگوا سکتا ہوں۔‘‘

    ہر ایک جانتا ہے کہ اگر وہ کہتے کہ ہاں پئیں گے تو کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈ لینا لازمی امر ہے۔ مثلاً کہ الماری کی چابی کھوئی گئی ہے۔ اور کہ ملازم گنیش کہیں رکھ گیا ہے۔ کالی بابو کہا کرتا۔

    ’’جس گھر میں نوکر ملازم ہیں پتہ نہیں لگتا چیز کہاں جاتی ہے۔ اب اس گنیش کو ہی جس کی بے وقوفی میں بیان کرنے سے قاصر ہوں لے لیجیے۔ یہ ایسا نالائق ہے  مگر میرا دل اجازت نہیں دیتا کہ اسے برداشت کروں۔‘‘

    کالی بابو کے خاندان کی عزت کی خاطر گنیش ہر ایک الزام برداشت کرنے کو تیار رہتا۔

    ایسے موقع پر اکثر حاضرین میں سے ایک بول اٹھتا۔

    ’’ٹھاکر دادا! کچھ مضائقہ نہیں ڈھونڈنے کی تکلیف نہ کیجیے۔ جو تمباکو ہم پی رہے ہیں کافی اچھا ہے، تمہارے والا ذرا تیز ہو گا۔‘‘

    اس پر کالی بابو کو ذرا اطمینان ہوتا۔ اور گفتگو اس مضمون پر ختم ہو کر اور مضامین پر جاری رہتی۔ جب مہمان جانے کے لیے اٹھتے ٹھاکر دادا دروازے تک انہیں چھوڑنے جاتا اور دہلیز پر کھڑا ہو کر کہتا:

    ہاں ایک بات رہ گئی۔ آپ لوگ میرے ہاں دعوت کب کھائیں گے؟

    ہم میں سے کوئی جواب دیتا۔

    ’’ٹھاکر دادا! ابھی نہیں پھر کبھی سہی۔‘‘

    ’’بہت اچھا، مناسب ہو گا اگر ہم موسم برسات تک انتظار کریں۔ ابھی بہت گرمی ہے۔ آج کل کے موسم میں جیسی شاندار ضیافت کہ میں تم لوگوں کو دینی چاہتا ہوں ہاضمہ بگاڑ دے گی اور باعث نقصان ہو گی۔‘‘

    جب موسم برسات شروع ہو جاتا تو ہم اسے اس وعدے کی نسبت یاد نہیں دلاتے تھے۔ اگر کسی وجہ سے یہ مضمون چھڑ جاتا تو کوئی دوست نرمی سے صلاح دیتا کہ جب بارش ہو رہی ہو تو ادھر ادھر آنا جانا بہت تکلیف دہ معلوم ہوتا ہے۔ بہتر ہو کہ برسات ختم ہو لینے دیں۔ اس طرح سے بازی جاری رہتی۔

    بلحاظ اس کی حیثیت کے ٹھاکر دادا کا مکان بہت چھوٹا تھا۔ اور ہم اس معاملے میں اس سے ہمدردی کیا کرتے ۔ اس کے دوست اسے یقین دلاتے کہ ہم تمہاری مشکلات اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ کلکتے میں اچھے مکان کا ملنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ دراصل برسوں وہ کالی بابو کے لیے ایک موزوں مکان تلاش کرتے رہے تھے۔ مگر شاید میرے لکھنے کی ضرورت نہیں کہ کوئی شخص اس کے لیے موزوں مکان حاصل کر لینے کی بے وقوفی کا مرتکب نہیں ہوا تھا، ٹھنڈا سانس بھر کر اور بہ توکل خدا ٹھاکر دادا کہا کرتے تھے:

    ’’خیر آخر مجھے اسی مکان میں گزارہ کرنا پڑے گا۔ میرے لیے دوستوں کی جدائی برداشت کرنا ناممکن ہے۔ تمہارا نزدیک موجود ہونا تمام مشکلات کا کفارہ کر دیتا ہے۔‘‘

    اس کے بعد وہ مسکرا دیتے۔

    بعض اوقات یہ باتیں میرے دل پر بہت گہرا اثر کرتیں۔ میں سوچتا کہ اصل وجہ یہ ہے کہ جب ایک آدمی جوانی کی حالت میں ہوتا ہے تو وہ احمقوں کی سی باتیں کرنا کبیرہ گناہ خیال کرتا ہے۔ کالی بابو دراصل احمق یا بے وقوف نہیں تھا۔ معمولی لین دین اور کاروبار میں ہر ایک شخص کی صلاح لینا مناسب خیال نہیں کرتا تھا لیکن نینجور کی بابت اس کی گفتگو عقل سے بعید معلوم ہوتی تھی۔ چونکہ ظاہراً مذاقیہ محبت جو ہم لوگوں کو  اس سے تھی اجازت نہیں دیتی تھی کہ ہم اس کے ناممکن الیقین بیانات کے خلاف بولنے کے لیے لب کشائی کریں۔ اس لیے وہ گفتگو میں مناسب حدود کے اندر نہیں رہ سکتا تھا۔ جب لوگ اس کے سامنے نینجور کی شان دار تواریخ مبالغہ آمیز و مضحکہ خیز پیرایہ میں بیان کرتے تو وہ ہر ایک لفظ پر نہایت سنجیدگی سے یقین کر لیتا اور کبھی خواب میں بھی خیال نہ کرتا کہ کوئی شخص ان باتوں کو جھوٹا اور ناقابل اعتبار سمجھ سکتا ہے۔

    جب میں بیٹھ کر نہایت غور و خوض سے ان خیالات کو، جو میرے دل میں بابو کی نسبت تھے، سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں تو میں دیکھتا ہوں کہ کالی بابو سے جو نفرت مجھے ہے اس کی زیادہ گہری وجہ یہ بھی تھی اور یہ میں اب بیان کروں گا۔

    اگرچہ میں ایک امیر باپ کا بیٹا ہوں، اگر ہندوستانی کالج میں وقت اور روپیہ ضائع کر سکا تھا لیکن میری محنت کا یہ پھل نکلا کہ جب میں نوجوان ہی تھا میں نے کلکتہ یونیورسٹی کی ایم اے کی ڈگری حاصل کر لی ۔ میرا چال چلن نہایت اعلیٰ اور شک و شبہ سے بالاتر تھا۔ دکھنے میں خوش شکل اور وجیہہ تھا۔ بلکہ اگر میں یہ کہوں کہ میں ایک خوبصورت جوان تھا تو یہ خود شنائی خیال کی جائے تو کی جائے لیکن کوئی اسے جھوٹ خیال نہیں کر سکتا تھا۔

    اس میں تو کوئی شک نہیں کہ میرے والدین کا خیال تھا کہ بنگال کے نوجوانوں میں میں ایک نہایت قابل نوجوان بہ لحاظ شادی ہوں اس لحاظ سے مجھے بھی کوئی شک نہ تھا اور میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ شادی کے بازار میں اپنی پوری قیمت پا کر چھوڑوں گا۔

    جب میں نے یہ سوچا کہ میری پسند خاطر بیوی کیسی ہے تو میرے دل کی آنکھوں کے سامنے ایک مالدار صاحب حیثیت شخص کی لڑکی جو دیکھنے میں حسین ماہ جبیں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ تھی کی تصویر کھچ گئی۔

    ہر جانب دور و نزدیک سے سگائی کی تجویزیں آنے لگیں۔ انہوں نے بھاری نقد رقمیں پیش کیں ۔ میں نے یہ پیشکش سختی سے بلا کم و کاست اور بلا رو و رعایت اپنی عقل کی ترازو میں تولیں تو ایک بھی نہ نکلی جسے اپنا عمر کا ساتھی بنانے کے قابل سمجھتا۔ بھابھوتی شاعر کے الفاظ میں مجھے یقین ہو گیا کہ ممکن ہے کہ کوئی ایسا وقت آئے کہ اس دنیا میں جو وقت اور جگہ کی قید سے آزاد ہے، ایسی لڑکی پیدا ہو جائے جو میری شاہانہ عزت کی شریک ہونے کی مستحق کہلا سکے۔ مگر موجودہ زمانے میں آج کل کے بنگال کے چھوٹے سے قطعہ زمین میں ایسی بے مثل لڑکی کا پیدا ہونا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور دکھائی دیتا تھا۔

    اس اثنا میں وہ والدین جو مجھ پر نظر رکھتے تھے ہر طرح سے میری صفتوں کے راگ گاتے رہے اور میری تعریفوں کے پل باندھتے رہے۔ میں یہ تعریف اپنا حق تصور کیا کرتا تھا۔ کیونکہ میں اپنے خیال میں ایسا نیک تھا۔ کہتے ہیں کہ جب دیوتا ہم فانی انسانوں کو اپنی بخششوں سے محروم رکھتے ہیں کہ ان کا عقیدت مندی سے اقرار کریں ۔ اور اگر ایسا نہ کیا جائے تو دیوتا لوگ ناراض ہو جاتے ہیں، میرے دل میں بھی یہ دیوتاؤں جیسی خراج تحسین و آفرین وصول کرنے کی خواہش جاگزین ہو گئی تھی۔

    میں پیشتر ذکر کر چکا ہوں کہ ٹھاکر دادا کی ایک اکلوتی پوتی تھی ۔ میں نے اس لڑکی کو اکثر دیکھا تھا۔ مگر کبھی خیال نہیں کیا تھا کہ وہ خوبصورت ہے۔ میرے دل میں بھی خیال تک نہ گزرا تھا کہ وہ میری ہمراز و غمگسار بن سکتی ہے۔ باوجود اس کے مجھے یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن کالی بابو مجھ سے ضرور درخواست کرے گا کہ میں اس کا ناچیز تحفہ یعنی اس کی پوتی قبول کروں۔ دراصل کالی بابو سے میری اندرونی نفرت کا یہی راز تھا۔ میرے دل میں سخت غصہ تھا کہ اس نے ابھی تک کیوں ایسا نہیں کہا ہے۔

    میں نے سنا تھا کہ دادا نے اپنے دوستوں سے کہا ہے کہ نینجور کے بابو کسی سے کوئی درخواست نہیں کیا کرتے۔ خواہ لڑکی کنواری رہے۔ وہ خاندان کی آن نہیں چھوڑتے۔ ہاں یہ میرے لیے ناممکن تھا کہ صرف اپنے غصے کے اظہار کی خاطر اس ضعیف شخص کو سزا دوں اور بہت عرصہ تک میں نے کچھ نہ کہا سنا مگر اچانک ایک روز مجھے ایک ایسی عجیب سی تجویز سوجھی کہ میں اسے عمل میں لانے کی خواہش کو نہ روک سکا۔

    بیشتر ذکر ہو چکا ہے کہ کالی بابو کے دوست اس کی تعریفوں کے پل باندھ باندھ کر اسے پھلا دیتے تھے۔ ایک دوست نے جو ریٹائرڈ ملازم گورنمنٹ تھا، اسے کہا تھا کہ جب کبھی میں چھوٹے لاٹ صاحب سے ملتا ہوں تو وہ نینجور کے بابوؤں کی بابت ضرور تازہ خبر دریافت کرتے ہیں اور سنا ہے کہ چھوٹے لاٹ صاحب کہتے ہیں کہ تمام بنگال میں حقیقی معزز خاندان مہاراجہ کالی پور اور نینجور کے بابوؤں کے ہیں۔ جب کالی بابو نے یہ سفید جھوٹ سنا تو اسے بڑا فخر ہوا۔ اور اکثر یہ کہانی دہرایا کرتا۔ اس کے بعد جب کبھی اس شخص سے ملتا تو علاوہ اور باتوں کے یہ ضرور پوچھتا

    ’’کہو چھوٹے لاٹ صاحب کیسے ہیں؟ مجھے یہ سن کر بڑی خوشی ہو گی کہ وہ اچھی طرح ہیں اور میم صاحب کا کیا حال ہے؟ اور ننھے بچے! یہ بڑی خوشخبری ہے ان سے جب تم ملو تو میرا سلام ضرور کہنا۔‘‘

    کالی بابو اکثر کہا کرتا تھا کہ میرا ارادہ ہے کہ لاٹ صاحب سے ملاقات کروں۔ مگر یہ فرض کرنے میں ہمیں کوئی تامل نہیں کہ کئی بڑے اور کئی چھوٹے لاٹ آئیں گے اور چلے جائیں گے۔ پیشتر اس کے کہ کالی بابو اپنی خاندانی بگھی آراستہ کرکے گورنمنٹ ہاؤس کی جانب روانہ ہو سکے گا۔

    ایک روز کالی بابو کو ایک طرف لے جا کر میں نے اس کے کان میں کہا:

    ’’ٹھاکر دادا کل میں لاٹ صاحب کے ہاں دعوت کے موقع پر حاضر تھا۔ وہ تمہارا ذکر کرتے تھے۔‘‘

    میں نے کہا : ’’کالی بابو کلکتہ چلے آئے ہیں۔‘‘

    ’’انہیں اس بات کا سخت رنج ہے کہ آپ نے ان سے ملاقات نہیں کی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام رسمی تکلف کو بالائے طاق رکھ کر آج شام کالی بابو سے ان کے مکان پر خود پرائیویٹ طور پر ملاقات کرنے کی غرض سے آئیں گے۔‘‘

    کوئی اور شخص ہوتا تو ایک منٹ میں میری شرافت تاڑ جاتا اور اگر یہ دیدہ دانستہ کسی اور شخص سے کہا جاتا تو بھی کالی بابو فوراً سمجھ جاتا ۔ مگر چونکہ اپنے دوست کی زبانی جو ملازم دفتر سرکاری تھے، بہت کچھ سن چکے تھے اور خود بھی خوب مبالغہ آمیز گپیں اڑا چکے تھے اس لیے  انہیں لیفٹیننٹ گورنر کا ان کے گھر چل کر آنا ایسا معلوم دیا کہ مبالغہ سے بری ہے اور عین اغلب بلکہ درست ہے۔ یہ خبر سن کر کالی بابو قدرے گھبرا گیا۔ لاٹ صاحب کی ملاقات کی ہر ایک تفصیل کے متعلق اسے فکر دامن گیر ہوئی۔ خاص کر انگریزی زبان سے اپنی نا آشنائی کے متعلق اسے بہت فکر ہوا۔

    ’’کہ اس مشکل کا کیا علاج کیا جائے۔‘‘

    ’’یہ کوئی تشویش کا باعث نہیں ہے، آپ گھبرائیے نہیں۔ انگریزی زبان سے ناواقف ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ ایک عالی و معزز خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ علاوہ ازیں لاٹ صاحب ہمیشہ ایک مترجم ہمراہ رکھتے ہیں۔ اور انہوں نے خاص طور پر ذکر فرمایا ہے کہ یہ ملاقات پرائیویٹ ہو گی۔

    دوپہر کے قریب جب تمام پڑوسی یا تو اپنے کام میں مصروف تھے یا سو رہے تھے۔ کالی بابو کے مکان کے سامنے ایک گاڑی آ کر ٹھیری، دو باوردی سپاہی سیڑھیاں چڑھ آئے اور بلند آواز سے بولے:

    ’’چھوٹے لاٹ صاحب حضور!‘‘

    پرانے فیشن کی خلعت اور دیگر لباس زیب تن کیے اور خاندانی دوپٹہ پہنے کالی بابو استقبال کے لیے تیار تھا، ملازم گنیش بھی اپنے مالک کے نفیس ترین کپڑے پہنے اس موقع کے لیے تیار کھڑا تھا۔

    جب چھوٹے لاٹ صاحب کے آنے کا اعلان ہوا تو لرزاں و ترساں ہونکتے ہوئے دروازے تک دوڑ کر آئے اور بار بار سلام بجا لا کر میرے ایک دوست کو جس نے لاٹ صاحب کا بھیس بدلا ہوا تھا، استقبال کرکے اندر لائے، ہر ایک سیڑھی پر جھک کر سلام کرتے۔ اور اسی انداز سے واپس آئے، لکڑی کی ایک کرسی پر اپنے آباواجداد کا خاندانی دوشالا بچھا رکھا تھا اور لاٹ صاحب سے درخواست کی کہ تشریف رکھیں۔ جب یہ ہو چکا تو کالی بابو نے اردو زبان میں جو صاحب لوگوں کی قدیمی درباری زبان ہے ایک برجستہ تقریر کی۔ سونے کی طشتری پر اشرفیوں کی لڑی رکھ کر بطور نذرانہ پیش کی یہ اشیاء اس کے بزرگوں کی بچت کھچت تھیں۔

    گنیش داس جس کے چہرے پر خوف و ہراس نمایاں تھا گلاب دانی ہاتھ میں لیے ہوئے پیچھے کھڑا تھا۔ اس نے اتنا گلاب چھڑکا کہ لاٹ صاحب تر بتر ہو گئے۔اور عطر دانی میں سے بار بار ان کے کپڑے معطر کرتا جاتا تھا۔

    کالی بابو افسوس ظاہر کرتا تھا: ’’میں حضور کا استقبال ہمارے خاندان کی پرانی روایات اور شان کے مطابق کرنے میں قاصر رہا ہوں، اگر حضور کا شرف ملاقات نینجور میں حاصل ہوتا تو میں یقیناً پوری کروفر سے حضور کا استقبال بجا لاتا۔ مگر کلکتہ میں میں ایک اجنبی شخص ہوں۔ یہاں تو بعینہٖ ایسی حالت ہے جیسا کہ ایک مچھلی کی حالت پانی سے باہر ہوتی ہے۔‘‘

    میرے دوست نے، جو سر پر بلند ریشمی انگریزی ٹوپی پہنے ہوئے تھا، سر ہلا کر ہاں میں جواب دیا۔ شاید یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ انہیں انگریزی رواج کے مطابق کمرے کے اندر داخل ہوتے وقت ٹوپی اتار کر رکھ دینی چاہیے تھی۔ مگر دوست ایسا کرنے کی جرأت نہیں کر سکتے تھے۔ اور مبادا بھانڈا پھوٹ جائے اور ملاقات کی رسم کی یہ خلاف ورزی کالی بابو اور گنیش کے تو خواب و خیال میں کبھی بھی نہیں آسکتی تھی۔ ان کے  خیالات کی بلند پروازی بھلا ادھر کیسے راغب ہو سکتی تھی۔ دس منٹ کی ملاقات کے بعد جس کے دوران میں میرا دوست یعنی فرضی لاٹ صاحب صرف سر ہلاتا رہا۔ وہ چلنے کے لیے کھڑا ہوا۔ جیسا کہ پہلے ہی طے ہو چکا تھا۔ دونوں باورچی پیادے اشرفیوں کی لڑی، سونے کی طشتری، خاندان کا پرانا دوشالہ، چاندی کا گلاب دان اور عطر دان اٹھا کر لے گئے۔ اور پرتکلف طریق سے گاڑی میں رکھ دیئے۔ کالی بابو نے خیال کیا کہ چھوٹے لاٹ صاحب کا ایسا ہی دستور ہوتا ہے۔

    ساتھ کے کمرے میں سے میں یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ ہنسی کو روک رکھنے کی وجہ سے میری پسلیوں میں درد ہو رہا تھا۔ جب مجھ سے زیادہ ضبط کی طاقت نہ رہی تو میں اس سے اگلے کمرے میں بھاگ گیا۔ اور اچانک دیکھا کہ ایک کونے میں کھڑی ایک لڑکی ہچکیاں لے لے کر رو رہی ہے جس سے معلوم ہوتا تھا کہ اس کے دل کو کوئی صدمہ پہنچا ہے۔ جب اس نے مجھے بلند آواز سے ہنستے دیکھا تو گھبرا کر وہ بے حس و حرکت کھڑی رہی، اس کی بڑی بڑی سیاہ آنکھوں کی روشنی نکل کر میری آنکھوں میں پڑ رہی تھی۔ آخر آنسوؤں سے رکی ہوئی آواز میں بولی:

    ’’میرے بابا نے تمہیں کیا نقصان پہنچایا ہے، تم کیوں انہیں دھوکا دینے آگئے ہو، یہاں کس غرض سے آئے ہو؟‘‘

    اس سے زیادہ وہ بول نہ سکی۔ اور ہاتھوں سے چہرے کو ڈھانپ کر پھر رونے لگی۔

    یہ دیکھ کر میری ہنسی جھٹ رک پڑی۔ مجھے یہ کبھی خیال نہیں آیا تھا کہ جو کچھ میں نے کیا تھا وہ ایک نہایت مزے دار مذاق سے زیادہ ہے مگر اب مجھے معلوم ہوا کہ میں نے اس معصوم لڑکی کے دل کو ٹھیس لگائی ہے۔ اور تکلیف پہنچائی ہے۔ میرا یہ ظالمانہ فعل مجھے بھدی سے بھدی شکل میں دکھائی دینے لگا۔ اور زبان حال سے پکار اٹھا کہ میں مجرم ہوں۔

    اب تک کالی بابو کی پوتی کسُم کے متعلق اگر میرے دل میں کوئی خیال تھا تو وہ یہ تھا کہ شادی کے بازار میں اس کا کوئی خریدار نہیں ہے اور کہ اس کے لیے خاوند کی تلاش فضول ہے۔ مگر اب مجھے دیکھ کر سخت تعجب ہوا کہ اسی کمرے کے کونے میں ایک انسانی دل حرکت کر رہا ہے۔

    تمام رات مجھے بہت کم نیند آئی۔ میرے دل کے اندر ایک ہنگامہ برپا تھا۔ اگلے روز علی الصبح ہی تمام مال مسروقہ لے کر میں کالی بابو کی جائے رہائش کی جانب روانہ ہو گیا۔ تاکہ پوشیدہ طور سے سب کچھ گنیش کے حوالے کر دوں۔

    دروازے کے باہر میں نے کچھ عرصہ انتظار کی مگر جب کوئی نظر نہ پڑا تو کالی بابو کے کمرے میں جانے کی سیڑھیوں پر چڑھ گیا ۔ دروازے کے باہر میرے کان میں آواز پڑی کہ کسُم اپنے دادا سے یوں سوال کر رہی ہے:

    ’’دادا چھوٹے لاٹ صاحب نے کل جو کچھ تمہیں کہا ہے مجھے بتاؤ۔ ایک ایک نقطہ بتاؤ، میں یہ تمام حال سننے کی ازحد مشتاق ہوں۔

    کالی بابو کو مزید اکساوٹ کی ضرورت نہیں تھی۔ اس کا چہرہ فخر سے تمتما رہا تھا۔ جب اس نے تمام تعریفی کلمات جو لاٹ صاحب نے نینجور کے قدیمی خاندان کی بابت کہے تھے سنائے۔لڑکی اس کے سامنے بیٹھی اس کے منہ کی طرف دیکھ رہی تھی اور ہر ایک لفظ پوری توجہ سے سن رہی تھی۔ دادا کے لیے جو اسے محبت تھی وہ تقاضا کرتی تھی کہ وہ اپنا پارٹ اس انداز سے ادا کرے کہ اس کے دادا کا دل میں کوئی شک نہ اٹھنے پائے۔

    میرا دل متاثر ہوا اور میری آنکھوں سے آنسو نکل پڑے جب ٹھاکر دادا چھوٹے لاٹ صاحب کی آمد اور عجیب و غریب ملاقات کے متعلق اپنا بیان ختم کر چکا تو میں ابھی باہر کھڑا تھا۔ آخر جب کالی بابو کمرے سے چلا گیا تو اندر جا کر میں نے تمام مسروقہ مال لڑکی کے قدموں پر رکھ دیا اور بغیر کوئی بات کہے باہر چلا آیا۔

    کچھ گھڑی دن گئے میں پھر ملنے آیا۔ جیسا کہ ہمارے ہاں یہ برا رواج ہے ۔ میری عادت تھی کہ جب اس ضعیف شخص کے کمرے میں داخل ہوا کوئی سلام بندگی نہیں کیا کرتا تھا۔ مگر آج جھک کر میں نے نمسکار  کیا اور چرن چھوئے۔ مجھے یقین ہے کہ کالی بابو نے خیال کیا ہو گا کہ میری نئی خوش خلقی کا باعث چھوٹے لاٹ صاحب کی ملاقات ہے۔ وہ میرے نمسکار کرنے سے بہت خوش ہوا۔ اور اس کی آنکھوں میں ایک قسم کا جلال ٹپک رہا تھا۔ اس کے چند دوست آئے ہوئے تھے۔ اور لیفٹیننٹ گورنر کی آمد کا قصہ پہلے سے بھی زیادہ حاشیہ آرائی اور تفصیل کے ساتھ بیان کرناشروع کر دیا تھا۔اس ملاقات کی کہانی پہلے ہی کیا بہ لحاظ نوعیت اور کیا بہ لحاظ طوالت رزمیہ کہانی بننی شروع ہو گئی تھی۔

    جب باقی کے تمام ملاقاتی چل دئیے تو میں نے بدیں الفاظ نہایت عاجزی سے اپنی شادی کے متعلق ارادہ اظہار کیا۔

    ’’اگرچہ میں ایک منٹ کے لیے بھی یہ امید نہیں کر سکتا کہ میں بذریعہ شادی ایسے عالی خاندان سے رشتہ جوڑ سکوں۔ پھر بھی ......‘‘

    جب میں نے اپنا مطلب صاف صاف بیان کیا تو بوڑھا مجھ سے بغل گیر ہوا اور فرطِ انبساط کی حالت میں بولا۔

    ’’میں تو ایک غریب شخص ہوں مجھے امید نہیں تھی کہ میری قسمت ایسی اچھی ہے۔‘‘

    کالی بابو کی زندگی میں یہ پہلا اور آخری موقع تھا کہ اس نے اپنی مفلسی کا اقبال کیا۔ اور یہی اس کی زندگی کا پہلا اور آخری موقع تھا کہ جب اس نے نینجور کے بابوؤں کی جاہ و حشمت بھلا دی خواہ ایک لمحہ کے لیے ہی۔