banner

اس مہینے کی شخصیت

میر انیس

شاعر

میر ببر علی انیس 1803 میں فیض آباد میں پیدا ہوئے، ان کے والد میر مستحسن خلیق خود بھی مرثیہ کے ایک بڑے اور نامور شاعر تھے۔ مروجہ تعلیم کے علاوہ انہوں نے سپہ گری میں بھی مہارت حاصل کی۔ ان کا شمار علماء کی صف میں نہیں ہوتا ہے تاہم ان کی علمی معلومات کا سب کو اعتراف ہے۔ ایک بار انہوں نے سر منبر علم ہیئت کی روشنی میں سورج کے گرد زمین کی گردش کو ثابت کر دیا تھا۔ اسی طرح جب پاس پڑوس میں کسی کی موت ہو جاتی تھی تو وہ اس گھر کی خواتین کی نالہ و زاری اور اظہار غم کا گہرائی سے مطالعہ کرنے جایا کرتے تھے۔ یہ مشاہدات آگے چل کر ان کی مرثیہ نگاری میں بہت کام آئے۔جس طرح انیس کا کلام سحر آمیز ہے اسی طرح ان کا پڑھنا بھی مسحور کن تھا۔ منبر پر پہنچتےہی ان کی شخصیت بدل جاتی تھی۔ آواز کا اتار چڑھاؤ آنکھوں کی گردش اور ہاتھوں کی جنبش سے وہ اہل مجلس پر جادو کر دیتے تھے اور لوگوں کو تن بدن کا ہوش نہیں رہتا تھا۔ مرثیہ خوانی میں ان سے بڑھ کر ماہر کوئی نہیں پیدا ہوا۔ آخری عمر میں انہوں نے مرثیہ خوانی بہت کم کر دی تھی۔ 1874 ء میں لکھنؤ میں ان کا انتقال ہوا۔ انہوں نے تقریباً 200 مرثیے اور 125 سلام لکھے، اس کے علاوہ تقریباً 600 رباعیاں بھی ان کی یادگار ہیں۔

پسندیدہ ویڈیوز

ای- کتب

مزید دیکھیں