خوشی اور غم کے آنسو
ترجمہ، عذرا نقوی
یونیورسٹی کا بڑا سا ہال خوشیوں سے معمور تھا۔خواتین قطار در قطار بیٹھی ہوئی تھیں، مسکراتے چہرے، پرشوق نگاہیں۔ ایئرکنڈیشن کی ٹھنڈی پر کیف ہوا۔ سٹیج پر لڑکیاں فخر سے یونیفارم پہنے بیٹھی ہوئی بہت اچھی لگ رہی تھیں۔ایسا لگ رہا تھا جیسے چڑیوں کے جھنڈ ہوں یا موسم بہار کے پھول۔
پہلی قطار میں بیٹھی ہوئی ایک خاتون نے دوسری عورت سے پرمسرت سرگوشی کی :
’’میری بیٹی احلام کا آج گریجویشن ہے۔ اس کا نام اناؤنس کیا جائے گا اور وہ اپنی کلاس کی ساتھیوں کے ساتھ جلوس میں چلے گی۔ یااللہ! تیرا شکر، تو نے مجھے نا امید نہیں کیا۔‘‘
’’مبارک ہو!‘‘ اس عورت نے جواب دیا۔’’اللہ اس کو ہر کامیابی دے۔ میری بھانجی کا بھی آج گریجویشن ہے۔ وہ میری بیٹی کی طرح ہی ہے۔ اس کی ماں میری بہن تھی۔ اس کے انتقال کے بعد اسے اور اس کے بھائیوں کو میں نے ہی پالا ہے۔ اللہ اس پر کرم کرے۔ یہ میرے لیے سب سے زیادہ خوشی کا موقع ہے، آج اس کو شاندار تقریب میں دیکھوں گی۔‘‘
احلام جو اپنی کلاس کی ساتھیوں کے ساتھ انتظار کر رہی تھی، اس نے اپنے اردگرد موجود چہروں کا جائزہ لیا۔ کیا وہ سوزان ہے؟ وہ خاموش طبع اور سنجیدہ لڑکی؟ آج پہلی بار یہ کتنی کھلی کھلی لگ رہی ہے۔ اور کیا وہ عفاف ہے؟ کتنی مست لگ رہی ہے، خوب انجوائے کر رہی ہے۔
قریب بیٹھی ہدیٰ نے ایک کاغذ دیکھتے ہوئے کہا،
’’دیکھو، یہ میرا نام لکھا ہے۔ اللہ کا شکر ہے، اس سے پہلے کبھی میرا نام صحیح نہیں لکھا گیا۔ ہمیشہ میرے خاندانی نام (Surname) میں کسی حرف یا نقطے کا اضافہ ضرور ہو جایا کرتا تھا، لوگ بہت مہربان ہو گئے ہیں۔ مگر آج کے دن مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے وہ میرے نام کی ہجے غلط لکھیں یا صحیح۔ یہ ہی کافی ہے کہ سب کو معلوم ہے کہ میں پاس ہو گئی، الحمدللہ!‘‘
احلام اپنی کلاس کی ساتھیوں کے چہرے کا جائزہ لیتی رہی۔’’کیا یہ سب بھی اتنی ہی خوش ہیں جتنی میں ہوں؟‘‘ اس نے خود سے پوچھا ’’کیا یہ سب بھی وہی سوچ رہی ہیں جو میں سوچ رہی ہوں؟ اس خوشی کے لمحے تک پہنچنے کے لیے ان سب کو بھی میری ہی طرح مشکلات پیش آئی تھیں؟‘‘
نظامت کرنے والی خاتون کی آواز مہمانوں اور طالبات کی سرگوشیوں پر چھا گئی۔
’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم‘‘ اس نے اعلان شروع کیا اور درودشریف کے بعد کہا: ’’اس اللہ کی تعریف کے ساتھ جس نے ہمیں ہدایت دی اور علم اور عقل سے نوازا۔‘‘
پورے ہال پر خاموشی چھا گئی۔ وہ لمحہ آگیا تھا جس کا سب کو انتظار تھا، تقریب شروع ہو گئی۔ خطبات پیش کیے گئے، خواتین پر جوش انداز میں تالیاں بجا رہی تھیں۔ سامعین میں بیٹھی ہوئی ہر عورت یہ محسوس کر رہی تھی کہ جیسے اس کی ہزاروں بہنیں اور بیٹیاں اس کے گلے لگ کر مبارک باد پانے کی منتظر ہیں۔ ’’اللہ تمہیں ہر کامیابی عطا کرے۔‘‘
احلام نے مجمع پر نظر ڈالی، اور اسے بھی ایسا لگا کہ وہ سب اس کی عزت افزائی کے لیے آئی ہیں اور اس کو گلے لگا کر مبارک باد دینا چاہتی ہیں۔
ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے ساری دنیا اس کی کامیابی کا جشن منا رہی ہے۔ اپنے نام اور ڈویژن کے اعلان کے انتظار میں اس کا پورا جسم کانپ رہا تھا۔
بہت دن پہلے بھی اسے ایسا ہی احساس ہوا تھا۔ مگر نہیں، وہ مختلف تھا۔ جب وہ گیارہ سال کی تھی اور ریڈیو پر اپنے ایلیمنٹری سکول کے نتیجے کے اعلان کی منتظر تھی۔ شوق اور امید سے دل معمور تھا ...... مگر صرف نتیجے سے ایک دن پہلے اس کے والد نے اس کی والدہ سے کہا تھا:
’’سنو! احلام کے لیے یہ سرٹیفکیٹ بس کافی ہے۔ اب آگے تعلیم کی ضرورت نہیں ہے۔ اسے چاہیےکہ گھر کا کام کاج سیکھے، تمہاری مدد کرے اور ہمیں سکول کے بکھیڑوں سے دور رہنے دے۔‘‘
کسے معلوم تھا کہ والد کا فیصلہ ایسے خوش آئند خوابوں اور خوبصورت توقعات کو چور چور کر دے گا؟ احلام کا شوق، عزم و حوصلے متزلزل ہو گئے۔ احلام نے اپنی استانیوں، ساتھیوں اور پرنسپل کی ہمت افزائی سے خود کو دریافت کیا تھا۔ اپنے کتابوں کے شوق، اور اپنے نام سے جو کلاس کے نمبروں کی لسٹ میں سب سے پہلا ہوتا تھا احلام نے اپنی پہچان بنائی تھی۔ احلام سعید کلاس میں اول نمبر پر تھی۔ وہ خود کو اپنی ماں کی دعاؤں کے حوالے سے پہچانتی تھی، وہ دعائیں جن میں تمنا تھی کہ میری بیٹی تعلیم مکمل کرکے ایک بڑی پروفیسر بنے۔ سکول سے الگ ہو کر بھلا اس کی پہچان ہی کیا تھی؟
اس کی ماں اور خالہ نے اس کے والد کو قائل کرنے کی کوشش کی مگر بے سود۔ سب جوا س کے روشن مستقبل کی امید رکھتے تھے، دل برداشتہ ہو گئے۔ سب خواب اور توقعات ڈھیر ہو گئیں۔ اس کے والد نے اپنا فیصلہ سنا دیا تھا۔ جب اس کے نام کا اعلان ہوا تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، تکلیف اور غم کے آنسو۔
احلام نے پانچ سال یوں ہی گزار دیے، بغیر کسی تعلیمی کورس کے جو اس کے ذہن رسا کو دعوت دے، بغیر کسی کلاس کی ساتھی کے، بغیر کسی امتحان اور نتیجے کے انتظار کے مگر پھر بھی وہ جو بھی ہاتھ لگتا پڑھتی اور اس کے بارے میں سوچتی۔ وہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے ہوم ورک کی نگرانی کرتی، وہ چاہے کتنا ہی سکول کے کام سے جان چرائیں وہ جی جان سے پڑھائی میں ان کی مدد کرتی۔ اس نے اپنے بھائی کی کتابیں پڑھ ڈالیں، نظمیں یاد کر لیں، اسلامی فقہ پڑھا۔ جب بھی اس کے کسی بھائی کو حساب کے سوالوں یا تھیوری میں مشکل پیش آتی وہ خوشی خوشی الجبرا اور calculus کے سوال حل کر دیتی۔ وہ اپنے رشتے داروں اور پڑوسیوں سے سکول اور پڑھائی کی باتیں کرتی رہتی تھی تاکہ خود کو کلاس روم ، استانیوں اور کلاس کی ساتھیوں کے کچھ قریب محسوس کر سکے۔ اس کے اردگرد رہنے والے حیران تھے کہ یہ سب کیسے ہو تا ہے۔
ان پانچ سالوں میں وہ تعلیمی دنیا کو نہیں بھولی، وہ دنیا جس کی اس کو چاہت تھی۔ حالانکہ جب بھی ہر سال نتیجوں کا اعلان ہوتا تو اس کا دکھ اور گہرا ہو جاتا تھا۔ وہ اس محرومی کی سخت اذیت میں رہتی تھی۔ وقت گزرا جا رہا تھا اور وہ ایک تاریک گوشے میں بیٹھی اپنی اداسی میں گم تھی۔ مگر وہ اپنے والد کے سامنے سر اٹھا کر ان کی سخت گیری کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں رکھتی تھی۔
’’پلیز ! اماں‘‘ وہ اپنی ماں سے التجا کرتی ’’پلیز، ان سے کہیے کہ مجھے ایک اور موقع دے دیں۔ میں سکول کب واپس جا سکوں گی؟ میں اس ارمان میں مری جا رہی ہوں۔ ہر کوئی وقت کے ساتھ دوڑ رہا ہے علاوہ میرے۔ میں جسے کوئی امید نہیں سوائے اللہ کی رحمت کے جو مجھے پھر تعلیم کی طرف بھیج دے گی۔ میں بھی دوسروں کی طرح زندگی کی تازگی محسوس کر سکوں گی۔ اماں پلیز۔‘‘
’’میری پیاری بچی، کاش میں یہ کر سکتی۔ کئی بار میں نے کوشش کی مگر کچھ نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ انہوں نے مجھے اس موضوع پر گفتگو کرنے کے لیے منع کر دیا ۔ تم سمجھتی ہو نا؟ ان کا خیال ہے کہ لڑکیوں کو ڈگریوں کی ضرورت نہیں ہے۔ انہیں تو وہ کام سیکھنے چاہئیں جو شادی کے بعد ان کے کام آئیں۔ یہ میں تم کو کئی بار بتا چکی ہوں۔‘‘
’’تو پھر ٹھیک ہے، میں خود ان سے بات کروں گی، ہاں! آج ہی۔ میں اب اور یوں ہی خاموش نہیں بیٹھی رہ سکتی۔ مجھے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کیا سوچتے ہیں، کیوں انہوں نے یہ غیر منصفانہ فیصلہ کیا ہے۔ اماں! میں ان کو قائل کر لوں گی۔ ان شاء اللہ میں واپس سکول جاؤں گی۔‘‘
اس نے اپنے گالوں پر بہتے ہوئے آنسو پونچھتے ہوئے کہا: ’’یا اللہ! میری مدد کر۔‘‘
’’شام بخیر، بابا۔ کیا میں بیٹھ سکتی ہوں؟ میں آپ سے ایک ضروری بات کرنا چاہتی ہوں۔‘‘
اس نے یہ الفاظ ان کے چہرے کی طرف دیکھ کر بہت حیران کن اعتماد کے ساتھ کہے۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ اپنے والد کا سامنا کرسکتی ہے، اس نے کبھی کوشش ہی نہیں کی تھی۔ اس کے کسی بھی بھائی بہن نے آج تک ان سے بات نہیں کی تھی۔ بس اماں کے ہی وسیلے سے بات ہوتی تھی۔ ان کی سخت گیری مشہور تھی۔
’’شام بخیر احلام! بیٹھ جاؤ، تم سکول واپس جانے کے بارے میں با ت کرنا چاہتی ہو۔ میں نے تھوڑی دیر پہلے تمہاری ماں کے ساتھ گفتگو سن لی ہے۔ میں ٹھیک کہہ رہا ہوں نا؟‘‘
’’جی ہاں بابا! مجھے امید ہے کہ آپ مجھے بتائیں گے کہ آپ کیوں مجھے پڑھانا نہیں چاہتے۔ سکول جانے سے مجھے باقاعدہ کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔ اس سے مجھے پڑھے لکھے لوگوں سے ملنے کا موقع ملے گا، مختلف قسم کے لوگوں کا تجربہ ہو گا۔ تعلیم ایک اسلامی فریضہ ہے۔ علم بہت ضروری ہے اور سکول علم پھیلانے کا بہترین وسیلہ بن گئے ہیں۔ بابا! میرا یقین کیجیے، سکول تو نیکی کے دائرے ہیں۔ ہماری استانیاں ہماری ماؤں کی طرح ہیں، اور انتظامیہ کے لوگ ہمارے باپوں کی طرح ہیں جو اپنے شاگردوں کو دین و دنیا کے احسن طریقے سکھا کر رخصت کرتے ہیں۔‘‘
’’احلام میری بیٹی! تم جو کچھ کہہ رہی ہو میں سمجھتا ہوں، مگر میں منتظر تھا کہ تم خود کہو، تمہاری طرف سے اس رویہ کا اظہار ہو۔ مجھے بھی اس بات کا اعتراف کرنا چاہیے کہ میں نے غلطی کی کہ خود کو ایک سیپ کے خول میں بند کر لیا اور کھینچ کر تم کو بھی اپنے ساتھ بند کر لیا۔ میں نے سوچا تھا کہ سمندر کی گہرائیوں میں سیپ میں بند رہ کر تم تیز و تند موجوں سے محفوظ رہو گی۔ میں تمہاری حفاظت کرنا چاہتا تھا۔‘‘
’’بابا ، کیا اب وقت نہیں آگیا ہے کہ ہم اس خول سے نکلیں اور حقیقی دنیا کو دیکھیں ...... اس کے سمندر اور اس کے ساحل؟‘‘
’’ہاں بیٹی، اب اس کا وقت آگیا ہے۔ ہمیں کافی دیر ہو گئی ہے۔‘‘
احلام کی یادوں کا سلسلہ اناؤنسر کی آواز سے ٹوٹا،
’’احلام سعید منصور۔ آنرس گریڈ اور پہلی پوزیشن۔‘‘
سارا ہال تالیوں کی آواز سے گونج اٹھا اور یہ آواز اسے یادوں کی دنیا سے حال میں لے آئی۔ جب وہ اپنا ڈپلوما لینے گئی تو اس نے سامنے بیٹھے لوگوں کی طرف دیکھا اور ایک شفیق آواز اس کے دل میں اتر گئی۔
’’دیکھو بہن! وہ میری بیٹی ہے، احلام۔‘‘
اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ مگر اس بار یہ آنسو خوشی کے تھے۔