میں اس جیسی کیوں نہیں
ترجمہ، عذرا نقوی
منیرہ نے ہولے سے سرگوشی کی، چڑیا کی طرح جو میٹھے گیت فضا میں بکھیر دیتی ہے۔
’’اے دلال! تم میرا کھانا کھاؤ گی؟ آؤ! دونوں مل کر کھاتے ہیں، آؤ ! دونوں مل کر کھائیں گے پھر کھیلیں گے۔ میں تو ہمیشہ تمہارے ساتھ ہر چیز بانٹنا چاہتی ہوں۔ تمہیں اچھا لگے گانا؟‘‘
دلال نے صرف سر ہلا کر چاروں طرف دیکھا، ڈر کے مارے اس کی جان نکلی جا رہی تھی۔ اس نے آنکھیں بند کرکے آنسوؤں کی برکھا کو روکا ورنہ اس کی بہن بہت آزردہ ہو جاتی۔ صرف منیرہ ہی اس کے لیے ہمدردی کا آسرا تھی۔ جب بھی دونوں کی نگاہیں ملتیں یا جب کبھی ام منیرہ (منیرہ کی ماں)کی نظروں سے دور دونوں کو کچھ دیر کا ساتھ مل جاتا، یہ ہمدردی اس کے وجود کو ڈھانپ لیتی۔ وہ دونوں دور بھی ہوتیں تب بھی یکجان ہوتی تھیں۔
مگر نا انصافی کا کرب، بارہ سالہ دلال کے لیےناقابل برداشت تھا۔ ان میں سے بیشتر سال اس نے اپنے خوش و خرم گھونسلے میں گزارے تھے جو اس کی اور اس کی ماں کی پناہ گاہ تھا۔ ہاں، وہ اپنے باپ کا پیار بھی یاد کرتی تھی جو آٹھ سال پہلے اس کو چھوڑ کر چل دیا تھا، مگر وہ اپنی ماں کے پروں کی گرماہٹ میں مگن رہی اور جب خود اپنے پروں پر اڑنا سیکھا تو آزادی کا مزہ بھی چکھا۔ اس کی ماں نے اسے محبت سے پروان چڑھایا تھا۔
مگر وہ آنسو کبھی نہیں بھول سکتی جس نے خوشیوں کا خاتمہ کر دیا۔ وہ دکھ بھری نگاہیں جن میں سوال ہی سوال تھے جواب کوئی نہ تھا۔
ہمیں کیوں جدا ہونا پڑا؟ ہم پھر کب ملیں گے؟ ہم ایک دوسرے سے دور کیسے رہیں گے؟ کیا میرا باپ مجھے اس رستے پر دانے بکھیرتے جانے کی اجازت دے گا تاکہ ان کی مدد سے واپس اپنے گھونسلے کا راستہ ڈھونڈ سکوں؟ یا ہوا اس راہ کے سب نشان مٹا دے گی؟ اے میری اماں! اے اماں!
دلال نے اپنے ہاتھ پر منیرہ کے ہاتھ کا لمس محسوس کیا اور اس کی پیار بھری التجا سنی،
’’دلال، میرے ساتھ کھانا کھا لو۔ مجھ سے اپنے دل کی بات نہیں کہنا چاہتیں، بولو؟‘‘
دلال نے اداسی سے کہا،
’’مگر جو ہم چاہتے ہیں کر کیسے سکتے ہیں؟ اگر تمہاری ماں کو ہمارے خوابوں کی بھنک بھی پڑ گئی تو وہ ان کو پیدا ہونے سے پہلے ہی مار ڈالیں گی۔ شاید تمہیں خواب دیکھنے کی اجازت ہو مگر تمہاری ماں مجھےیہ حق نہیں دیتیں۔ اگر میں خواب دیکھنے کی ہمت بھی کروں تو وہ میرے پر کتر دیں گی، میرے پنجے توڑ دیں گی۔‘‘
’’تم فکر مت کرو‘‘ منیرہ نے کہا ’’وہ اپنے کمرے میں سو رہی ہیں، میں نے اچھی طرح دیکھ لیا ہے۔ مجھے پتہ ہے میں بہت جرأت کر رہی ہوں، تم فکر مت کرو، میں سارا الزام اپنے سر لے لوں گی کہ میں ہی کچن سے کھانا لائی ہوں، تم نہیں۔‘‘
منیرہ دلال کو اپنے کمرے میں لے گئی۔ دونوں لڑکیوں کے کمرے کتنے مختلف تھے۔ منیرہ ہمیشہ سے اس کمرے میں رہ رہی تھی وہ اس کی عادی تھی مگر دلال کو یہ کمرہ شدت سے ایک اور دنیا کی یاد دلارہا تھا۔ سٹور روم کا وہ کونا نہیں جہاں آج کل وہ سوتی ہے۔ اسے اپنی ماں کے گھر والا اپنا کمرہ یاد آگیا۔ دونوں کمرے بالکل ایک جیسے ہی تو تھے۔ یہاں کی سفید قالین اس کے کمرے کی کتھئی رنگ کی قالین جیسی ہے، یہاں کے لال پردے اس کے کمرے کے پھولدار پردوں جیسے، اور دیوار پر لگی ہوئی تصویریں...... ۔ دلال نے دیوار پر لگی ہوئی تصویرکو بغور دیکھا جس سے شفقت اور محبت ٹپک رہی تھی ...... ایک درخت کی سرسبز شاخ پر ایک گھونسلے میں ایک چڑیا کا بچہ منہ کھولے ہوئے ہے اور اس کی ماں اپنی چونچ سے اس کے منہ میں دانہ ڈال رہی ہے۔ بالکل ایسی ہی تصویر، اس کی ماں کے گھر اس کے کمرے میں لگی تھی۔ ہاں، بالکل وہی تصویر۔ وہی رنگ، وہی برش، وہی آرٹسٹ، وہ ہی کاغذ اور ویسا ہی فریم اور یہاں تک کہ دیوار پر پردے سے تھوڑی دور بالکل اسی طرح سجی تھی۔
ایک بار پھر منیرہ کی آواز اسے حقیقت کی دنیا میں لے آئی تھی۔ منیرہ نے فرش پر اخبار بچھا کر کھانا لگا دیا تھا۔
اس نے آواز دی، ’’دلال! آؤ ، بیٹھ جاؤ۔‘‘
اوردلال اس آواز پر یوں کھنچی چلی گئی جیسے پیاسی دھرتی پر بارش۔
’’تم ہمارا بچا کھچا کھانا نہیں کھاؤ گی جس طرح میری اماں تم کو کھلاتی ہیں۔ میں انہونی کرکے دکھاؤں گی، انہیں ہم دونوں کے ساتھ یکساں برتاؤ کرنا ہو گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم دونوں مل کر رہیں۔ میں ہر چیز میں تمہیں شامل کروں اور تم بھی ہر بات مجھ سے کہو۔ ہماری ہر چیز مشترک ہو، خوشیاں اور آنسو بھی۔‘‘
دلال کانپ گی، اور گلوگیر آواز میں کہا،
’’نہیں منیرہ، میں نہیں چاہتی کہ تم میرے آنسو اور دکھ میں شریک ہو۔‘‘ اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔ سوتیلی ماں کے ظلم اور باپ کی بے توجہی نے اس بارہ سالہ بچی کی زندگی سے خوشیاں مٹا دی تھیں، صرف آنسو ہی اس کے ساتھی تھے۔
’’اے !دلال،‘‘ منیرہ نے کہا’’یہ نوالے جو ہم ساتھ کھا رہے ہیں کتنے مزے دار ہیں۔ اگر ان کی جگہ درختوں کے پتے بھی ہوتے تو ان بھنے ہوئے تیتر بٹیر سے بہتر ہی لگتے جو میں تمہارے بغیر اپنے ماں باپ کے ساتھ کھاتی ہوں۔‘‘
ام منیرہ کی تیز آواز گھر میں گونجی۔
’’کہاں ہو دلال! چلو کھانے کی میز لگاؤ، تمہارے بابا آگئے ۔‘‘
دلال نے اخبار پر رکھا ہوا کھانا سمیٹا، وہ اپنی سوتیلی ماں کا حکم بجا لانے کے لیے اٹھنے ہی والی تھی مگر اٹھ نہ سکی۔ اس کا جسم خوف سے کانپ رہا تھا۔ او رجب اس کی سوتیلی ماں کی گالیاں اور مار اس کے کمزور جسم پر پڑنے لگیں تو وہ سانس بھی نہیں لے پائی۔
’’تم اور تمہارا مکار پن! کھانا چرانے کے علاوہ اور کچھ نہیں سوجھا۔‘‘ ام منیرہ چیخی۔ ’’یا ابو منیرہ! منیرہ کے ابا، آؤ دیکھو تمہاری بیٹی نے کیا کیا۔ وہ اب چور بھی بن گئی ہے۔‘‘
منیرہ نے دوڑ کر اپنی ماں کا ہاتھ پکڑ لیا اور لرزتی ہوئی آواز میں بولی،
’’نہیں ماما! میں ہی دونوں کے لیے کھانا لائی تھی۔ میری بہن چور نہیں ہے۔ اللہ کی قسم، میں تھی کھانا لانے والی۔ میں ہمیشہ اپنے کھانے میں اس کو شریک کرنا چاہتی تھی مگر کبھی آپ سے کہنے کی ہمت نہیں ہوئی۔‘‘
اس کی ماں پھر دلال کو پیٹنے لگی اور چلائی ’’تم نے میری بیٹی کو بے وقوف بنا لیا تاکہ سزا سے بچ جاؤ۔ تم نے چالاکی سے اس سے ہمارا کھانا منگوا لیا تاکہ تم چور نہ کہلاؤ۔چور! جھوٹی!‘‘
منیرہ ڈری ہوئی چڑیا کی طرح کانپ رہی تھی مگر ہمت کرکے بولی ’’ماما! نہیں ماما! میں ہی تھی جو یہ کھانا لائی تھی، میں ہی لانا چاہتی تھی، میں ہی لائی تھی۔ آپ مجھ پر الزام کیوں نہیں لگاتیں؟ اگر یہ جرم ہے تو مجھے سزا دیجیے ماما! مجھے ایسے کیوں نہیں مارتیں جیسے اس کو ماررہی ہیں۔ مجھے اس کی جیسی اذیت کیوں نہیں دیتیں۔‘‘
ام منیرہ کی حیرت زدہ نگاہیں اس کے باپ کی لاپرواہ نگاہوں سے ملیں جو اس وقت اک منٹ کے لیے دروازے پر رک کر کھڑا ہو گیا تھا۔ وہ اور تیز آواز میں چیخی،
’’یہ کیا ہے منیرہ۔ کیا تمہارا دماغ چل گیا ہے، خود اپنے لیے اذیت مانگ رہی ہو۔‘‘
’’نہیں ماما!‘‘ منیرہ نے کہا۔ ’’مگر میں اپنی بہن دلال سے محبت کرتی ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ آپ انصاف کریں اور اپنے دل کی بھڑاس نکال لیں۔‘‘
’’تم کیا بک رہی ہو میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ تم چاہتی ہو کہ میں تم کو اذیت دوں؟ اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے تمہارے پر کاٹ دوں، پنجے توڑ دوں یا اللہ! یہ میں کیا سن رہی ہوں؟‘‘
منیرہ لڑکھڑاتی ہوئی دلال کی طرف گئی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا ’’میں اب کبھی آپ کو دلال کی بے عزتی نہیں کرنے دوں گی، مارنے نہیں دوں گی۔ اس کے لیے میں سب کچھ برداشت کر لوں گی۔ آپ کو ہم دونوں کو مل جل کر رہنے دینا ہو گا۔ یہ میری بہن ہے۔‘‘
’’مگر دلال کو تمیز سیکھنا چاہیے۔ اس کی پرورش ٹھیک سے نہیں ہوئی ہے۔ اسی لیے میں اسے سزا دیتی ہوں۔‘‘
’’نہیں ماما، یہ بات نہیں ہے۔ آپ اسے اس لیے اذیت نہیں دیتی ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ کوئی اور چڑیا اسے آپ کے گھونسلے میں لائی ہے۔ اگر کہیں ایسا ہو کہ آندھی مجھے بھی کسی اور گھونسلے میں لے جا کر پھینک دے تو؟ آپ کو تکلیف نہیں ہو گی اگر کوئی چیل آپ کی بے چاری چڑیا کے پنجے توڑ دے؟‘‘
’’تم کیوں دخل دے رہی ہو، ان سب باتوں کا کیا فائدہ۔‘‘
’’ماما ، اگر کوئی چیل یا جنگلی بلی گھونسلے پر حملہ کرے تو چڑیوں کے قانون کے مطابق کوئی چڑیا اپنی بہن کو اکیلا نہیں چھوڑے گی۔ وہ ساتھ جئیں اور مریں گی۔ آپ کو کیسا لگے گا اگر کوئی چیل صرف مجھ پر حملہ کرے اور میری بہن مجھ کو اکیلا چھوڑ کر چل دے؟‘‘
ام منیرہ پلنگ پر بیٹھ گئی اور آنکھیں بند کر لیں، اور اپنے گالوں پر بہتے ہوئے آنسو پونچھنے لگی۔ پھر آنکھیں بند کیے کیے بانہیں پھیلا دیں۔ آنکھیں کھولیں تو منیرہ اور دلال اس کی گود میں تھیں۔ اس نے دونوں کو لپٹا لیا اور بدبدائی،
’’نہیں میری جان! تم کسی اور گھونسلے میں نہیں جاؤ گی، اور دلال تم، تم بھی میری چڑیا ہو۔ تم جا کر اپنی ماں سے مل سکتی ہو، اور چاہو تو وہیں رہ سکتی ہو، ویسے یہاں بھی سکون و چین سے رہ سکتی ہو۔ اگر تم یہاں رہنے کا فیصلہ کرتی ہو تو تم اور منیرہ دونوں ہر چیز میں حصہ دار ہوں گی۔ کیا پتہ تمہیں منیرہ سے بھی زیادہ محبت یہاں ملے اور منیرہ تم سے جلنے لگے۔‘‘
سب ہنس پڑے، منیرہ نے پیار سے اپنی بہن کی طرف دیکھ کر کہا، ’’نہیں ماما، ہمیں صرف انصاف چاہیے اور آپ کے لیے دماغی سکون۔‘‘