خالد الحروب

خالد الحروب

مثالی ماں

    ترجمہ: رفعت حجازی

    بچے نے اپنا سر ماں کے بازو پر رکھ دیا اور پھر اپنی بانہیں اس کی گردن میں حمائل کر دیں ، ماں آہستہ روی کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کے چلتی رہی، اس کے آبشار جیسے سیاہ بالوں کو تیز و تند ہوا کے جھونکے بھی اس کے چہرے پر ڈال دیتے تھے اور کبھی بازو پر۔ہوا کی خوشبو اس کے بالوں میں بس جاتی اور یہ بال ہوا میں اڑنے لگتے اور پھر اس بچے کے معصوم چہرے کو چھوتے گویا ماں کی یہ زلفیں بچے کو جو اس سے لپٹ گیا تھا سلا رہی ہوں۔ ماں کا لباس گھٹنوں سے نیچے تابقدم لٹکتا ہوا بہت ہی پروقار لگ رہا تھا۔ اوپری حصے پر سفید رنگ کی قمیض بہت ہی بھلی لگ رہی تھی اور اس سفید رنگ کی قمیض کے ساتھ ننھا سا بچہ ماں سے لپٹا ہوا۔ سامنے ہوٹل کا لان تھا جہاں سرسبز و شاداب درخت دروازے کے پاس صف باندھے ہوئے کھڑے تھے ہوٹل کے پشت پر بھی ایک سبزہ زار تھا جس میں ایک ہی قد و قامت کے پودے ترتیب وار کھڑے تھے۔ ایک کونے میں سوئمنگ پول تھا وہ عورت بھی سوئمنگ پول تک پہنچ گئی اور تیراکی کے سلسلے کی ہدایات کے کارڈ کو دیکھ رہی تھی۔

    بچہ اپنی ماں کے گلے سے بدستور لپٹا ہوا تھا۔ ماں اور بچے کی اس یکجائی کا منظر کیف آور اور سحر آگیں تھا۔ اس قدر سحر انگیز کہ سامنے کے سرسبز مناظر سے نظریں ہٹ گئیں۔ سمندر کے کنارے کا نرم و سفید ریگ زار بھی نظروں کے لیے باعث کشش نہ رہ گیا۔ بچہ اپنی ماں کی گردن میں باہیں ڈالے ہوئے بدستور اسے لپٹا ہوا تھا۔ اس کی ممتا کو دیکھ کر مجھے اپنی ماں یاد آگئی، دونوں میں جو فرق ابھی مجھے لگا وہ صرف یہ تھا کہ میری ماں ہمیشہ اپنے سر کے بال ڈھک دیتی تھی جس کی وجہ سے اس کے چہرے پر ہر وقت ممتا کی گرمی اور نرمی کچھ زیادہ ہی نمایاں ہو جاتی تھی۔ یہ ایک فرق تو ضرور تھا لیکن میں نے محسوس کیا کہ بنیادی طور پر محبت کی گرمی اور شفقت کی نرمی وہی ایک ہے اور دونوں کا سرچشمہ بھی ایک ہے۔ مجھے ایسا لگا کہ وہ جنت جو میری ماں کے قدموں کے نیچے تھی وہ ساری ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے۔

    ہوٹل کا ریسٹورانٹ اس کا یہ کنارہ جو پشت کی جانب باغ کی طرف کھلتا ہے، مجھے زیادہ پسند ہے میں ایک کنارے پر بیٹھا ہوااس نوجوان ماں کی حرکات و سکنات اور اس کی آمد و رفت کو دیکھ رہا تھا، میری نگاہ باغ کے اندرونی حصے پر پڑی اور پھر آنے جانے والوں کی نقل و حرکت کے درمیان مجھے اس بچے کے معصوم سے ننھے منے سے رخسار نظر آئے اور کھانا کھاتے ہوئے میرا ہاتھ رک گیا۔ مجھے اپنے سینے میں محبت اور شفقت کی گرم لہر دوڑتی ہوئی محسوس ہوئی اور میں تصور کی دنیا میں وہاں پہنچ گیا جہاں میں گویا اتنا ہی بڑا تھا جتنا کہ خود یہ بچہ۔

    مجھے ایسا لگا کہ میری ماں کے دونوں ہاتھ میرے پالنے کی طرف بڑھ رہے ہیں اور وہ مجھے کپڑوں سے ڈھانک دینا چاہتی۔ ماں یہ اطمینان کر لینا چاہتی ہے کہ کسی بھی گوشے سے میرے جسم کو ٹھنڈی ہوا نہ لگے۔ ہوا مجھے ہمیشہ بستر پر تکلیف دہ لگتی ہے میری ماں کو یہ معلوم تھا اس لیے وہ ہر را ت اس کا خیال رکھتی تھی کہ میرے جسم پر چادر رہے۔ سردیوں میں تو اس کی توجہ اور بھی زیادہ ہو جاتی۔

    وہ رات کو میرے بستر کے پاس آہستہ آہستہ آتی وہ سمجھتی ہوتی کہ میں سویا ہوں۔ مجھے اس کی دھیمی دھیمی چال اور اس کی ہر حرکت کی خبر ہوتی۔ وہ اس کمرے میں آتی جہاں بچے  سوئے ہوئے ہوتے۔ وہ یہ اطمینان کرنا چاہتی تھی کہ سب اس کے بچے بستروں پر آرام اور عافیت کے ساتھ سو رہے ہوں۔ اسے میرا خیال کچھ زیادہ ہی تھا اس لیے کہ مجھے ٹھنڈک سے الرجی رہی اور معمولی ٹھنڈک بھی برداشت نہیں ہوتی۔ میں ہر رات اپنی خوابگاہ میں خاموشی سے بستر پر لیٹے لیٹے اس کا انتظار کرتا تھا۔ میں نے اسے معلوم نہیں ہونے دیا کہ میں جاگ رہا ہوں اور اس کا انتظار کر رہا ہوں۔ مجھے اچھا لگتا تھا کہ شفقت مادری سے لبریز دل کے ساتھ وہ اپنے نرم اور کمزور ہاتھوں سے میرے جسم پر چادر یا کمبل ڈالے۔ یہ معمول اس کا اس وقت بھی باقی رہا جب وہ بیمار تھی مرگ موت میں مبتلا۔ مجھے معلوم تھا وہ کمبل یا چادر میرے جسم پر ڈالتی۔ میں جاگتا ہوتا اور میری آنکھوں میں آنسو ہوتے۔ میرے آنسو کبھی نہ تھمے جب سے مجھے معلوم ہو گیا کہ وہ اب ایک ناقابل علاج بیماری کا شکار ہے۔ اس کا جسم آہستہ آہستہ گھل رہا تھا، پگھل رہا تھا۔ صبح اٹھ کے جب میں کالج کے لیے روانہ ہوتا تو پہلے اس کے ہاتھوں کو خوب چومتا اور وہ اس کے بدلے اپنی بہترین دعاؤں کے ساتھ مجھے رخصت کرتی۔ میں گھر سے دروازے بند کرتے ہوئے نکلتا۔ اپنے آنسو خشک کرتا ہوا اور آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر کہتا ، ’’یارب ......‘‘

    ریسٹورانٹ میں بیٹھے ہوئے پھر میری نگاہ سامنے اس بچے اور اس کی ماں پر پڑی۔ اس کے ایک ہاتھ کی طرف دو بچے اور تھے اس نے اپنے بچوں کے کپڑے اتارے اور بچے پانی میں اترنے اور نہانے کے لیے تیار ہوئے۔

    سوئمنگ پول کے قریب وہ ماں ایک کرسی پر بیٹھ گئی۔ سب سے چھوٹا بچہ اس کے پاس تھا اس نے اس بچے کو محفوظ جگہ پر بٹھا دیا پھر اس نے اپنی سفید قمیص کے بٹن کھولے اور چند سیکنڈ میں اس کا جسم کپڑوں سے بے نیاز ہو گیا۔ ارے! اس ماں کو یہ کیا ہوا، میری آنکھوں میں آنسو جھلملائے، میں نے چاہا انہیں پی جاؤں، کہیں ادھر سے کوئی گزرنے والا میرے آنسو دیکھ نہ لے۔

    مجھے پھر ماضی کی کچھ باتیں یاد سی آنے لگیں۔ میں اب جوانی کی سرحدوں کو چھو رہا تھا۔ میں جلد از جلد یونیورسٹی سے اپنی ڈگری حاصل کرنا چاہتا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ میری ماں اپنی زندگی میں یہ خوشی بھی دیکھ لے،آخری طبی رپورٹ کے مطابق میری ماں کے جگر میں وہ مرض خبیث بہت بڑھ چکا تھا۔ آنسوؤں کے بادل میری آنکھوں میں گھنے ہوتے گئے اور مجھے ایسا لگا کہ سورج وقت سے پہلے غروب ہونے والا ہے اور سورج کی روشنی میں اب پہلی جیسی چمک باقی نہیں ہے۔

    رات کے وقت اس کی کھانسی بڑھ جاتی اور جب ذرا تھمتی تو پھر ہولے ہولے چل کر میرے بستر کے پاس چلی آتی تاکہ اسے یہ اطمینان ہو جائے کہ نیند کی وجہ سے کہیں میرا جسم بے چادر تو نہیں ہو گیا۔ مجھے معلوم تھا وہ آئی ہے میں اس کے آنے کا انتظار کرتا تھا اور صرف بظاہر اس کے لیے میں سویا ہوا ہوتا پھر وہ جب آہستہ آہستہ واپس گئی تو آنسوؤں سے میرا تکیہ بھیگ گیا۔ دوسرے دن اس کا آپریشن ہونا تھا۔

    اب سامنے سوئمنگ پول کے پانی میں اس کا بے ستر جسم دور سے نظر آرہا تھا۔ ہوٹل کے فیشن ایبل راہ گیر مسافروں کی آنکھیں بھی اس کے بازوؤں پر پڑ رہی تھیں۔ میری ماں کبھی سوئمنگ پول میں نہانے کے لیے نہیں گئی۔ یہ نئے زمانے کی ماں۔ ارے ! اب وہ کیا کر رہی ہے؟ یا اللہ! اس کی ممتا کو محفوظ رکھ۔ کاش! میرے لیے ممکن ہوتا تو میں اس کے پاس جا کر اسے اس کی خفیف الحرکتی سے روکتا۔ یہ تیراکی کا عریاں لباس  جو وہ پہنے ہوئے تھی کبھی میری ماں نے نہیں پہنا۔ کاش! میں اس سے کہہ پاتا تم ایسی ماں کیوں نہیں بنتی جیسی میری ماں تھی۔

    میرا بے چارہ باپ ہم سب کے ساتھ آپریشن تھیٹر کے باہر کھڑا تھا۔ ہم سب سرجن کے باہر نکلنے کا انتظار کر رہے تھے تاکہ امید کی کوئی کرن تو نظر آئے۔دل کی کشتی طوفان میں کبھی ڈوبتی کبھی ابھرتی۔

    اب اس نے سوئمنگ پول میں نہاتے ہوئے اپنے کپڑے اتار دیے۔ اس کا مرمریں جسم آنے جانے والوں کی نظروں میں کھب گیا تھا مجھے اچانک لگا کہ اس کا یہ چمک دار جسم خوبصورت نہیں رہا، اس پر سیاہی مل دی گئی اور دور سمندر کے کنارے افق میں سورج نے شرم سے اپنا منہ چھپا لیا۔ میں نے نگاہ اٹھا کر جھانک کر دیکھا کہ اس کے پیروں کے نیچے کیا ہے وہاں کوئی جنت نہ تھی، کالی مٹی کے سوا کچھ نہ تھا۔

    آپریشن تھیٹر کا دروازہ کھلا، سرجن نے میرے والد کے شانے پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ صبر کرو غم کی شدت سے ایک چیخ نکلی اور میں نے کہا اے ’’مثالی ماں‘‘ تجھے اب ڈھونڈ کر کہاں سے لاؤں۔