آخری فیصلہ
ترجمہ: ڈاکٹر اعجاز راہی
اوزولا سکیڑ میں اس وقت شام کے سات بج کر تیس منٹ ہوئے تھے۔ جنگ کی شدت اور خودکار ہتھیاروں کی خوفناک آوازیں پورے محاذ پر چھائی ہوئی تھیں۔ جنگ کا فرنٹ بڑا طویل تھا۔ وفاقی اور علاقائیت پسندوں کے درمیان گھمسان کا رن پڑا ہوا تھا۔ آگ کے شعلوں نے پورے جنگل کو جگمگا دیا تھا۔ توپوں کے مسلسل گولوں نے اس روشنی کو گرد، اڑتے ہوئے پتھروں اور انسانی جسم کے چیتھڑوں نے مزید ہیبت ناکی عطا کر دی تھی۔ درختوں کی شاخیں اور انسانی جسم کے حصے پورے میدان جنگ میں پھیل گئے تھے۔
جنگ کی یہی خوفناکی تھی، جس نے سوسائیڈ سکواڈ کے لیفٹیننٹ جوزف امیہ کو 30 بریگیڈ کیمپ ایملی اوزو پہنچا دیا تھا۔ وہ یہاں بھیجے جانے پر خوش نہیں تھا، کیونکہ اس نے اعلیٰ حکام سے درخواست کی تھی، کہ اسے جنگ سے باہر کے علاقے یعنی ہیڈ کوارٹر بھیج دیاجائے مگر اس کی درخواست نامنظور کرتے ہوئے اسے ایک اور ہاٹ سیکٹر میں بھجوا دیا گیا جس کے سبب اس کے اندر خفگی کا ایک پہلو جاگ گیا تھا۔
’’ایک اور خوفناک سیکٹر‘‘ وہ بڑبڑایا۔ ’’یوں لگتا ہے، جیسے ان کے نزدیک جنگ میں نے ہی چھیڑی اور میں ہی سبب ہوں اس تباہ کاری کا...... مجھے تو انہوں نے ایک آرمرڈ کار سمجھ لیا ہے، جو جنگ کی شدت کے مطابق ایک محاذ سے دوسرے کی طرف حرکت میں رہتی ہے اور بہت سے دوسرے آفیسرز جن کے پیچھے گاڈ فادر ہیں، پیچھےبیٹھے بدستور کلبوں کے مزے لوٹ رہے ہیں۔‘‘
جب سے اسے موومنٹ سنگل ملا تھا، اس وقت سے ہی اس کے غصے اور شدید محسوسات کا یہی عالم تھا۔ وہ غصے کے سبب تقریباً نیم پاگل ہو رہا تھا اور شاید اس کے اس رویے میں مزید شدت آجاتی، اگر اس کے دوست آفیسر اس کی دلجوئی نہ کرتے اور اسے اپنے کمانڈنگ آفیسر کے پاس جانے سے روک نہ لیتے۔ جہاں اس نے کہنا تھا کہ یہ روز روز کے تبادلوں کی بجائے اسے ایک بارہی جہنم میں بھیج دیا جائے۔ وہ جنگ آلود جگہ جگہ سے پھٹی ہوئی قمیص کو اتا کر کمانڈنگ آفیسر کو بتانا چاہتا تھا کہ اس جنگ نے اس کے جسم پر کتنے نشان چھوڑے ہیں اور ان میں سے ابھی اتنے ہرے ہیں کہ کسی نئے زخم کی گنجائش نہیں۔ وہ اپنی پتلون اتار کر اپنے کولہے میں ابھی تک پیوست ان گولیوں کے نشان دکھاتا اور کہتا کہ محاذ جنگ پر جن گولیوں کی آوازیں آپ سنتے ہیں، وہ آپ کے ساتھی آفیسراپنے جسم پر روک لیتے ہیں۔ ممکن تھا کہ کمانڈنگ آفیسر ناراض ہو جاتا، اور اس کا کورٹ مارشل ہو جاتا، مگر وہ تو ہر صورت حال کے لیے تیار تھا۔
اس کے ساتھ اس حد تک زیادتی کی گئی کہ اسے ٹرانسپورٹ اور اس کا بیٹ مین بھی دینے سے انکار کر دیا گیا! چنانچہ اوزولا سیکٹر تک پہنچنے کے لیے اسے پندرہ میل کا سفر اپنے سامان کا بوجھ خود اٹھا کر پیدل طے کرنا پڑا۔
لیفٹیننٹ جوزف امیہ اس وقت ایک بوڑھے غصب ناک pugl i st بنا ہوا تھا۔ وہ باغی فوجوں میں صرف اس لیے شامل ہوا تھا، تاکہ وہ ایک خاص شخص کے خلاف جنگ کر سکے۔ اگرچہ وہ اپنے نظریات میں سختی کے سبب بہت مشہور نہ ہو سکا ، مگر اس کی بہادری اور جانفشانی کے سبب سب ہی اس کا احترام کرتے تھے۔ سخت محنت اور فوری فیصلے کی قوت کا سب لوہا مانتے تھے ۔ اس جیسے کئی او ربھی تھے، جنہوں نے مختلف محاذوں پر بہادری کے جوہر دکھائے، مگر موت انہیں چاٹ گئی۔ لیفٹیننٹ جوزف اس لحاظ سے خوش قسمت تھا کہ موت بار بار اس کے جسم کو چوم کر گزر جاتی رہی۔ جنگ کے آغاز سے اب تک وہ تقریباً 20 محاذوں پر لڑ چکا تھا۔ اس کے اکثر ساتھی ایک ایک کرکے جان دیتے رہے اور وہ یہ سوچتا کہ وہ اس محاذکے بعد کبھی گھر نہیں لوٹ سکے گا، مگر وہ موت کے ہاتھوں سے بچتا رہا۔
وہ اب تک زندہ تھا۔ ہر محاذ کی فتح کے بعد اس کی تعریف و توصیف میں اضافہ ہوتا رہا۔ ایک بار تو وہ تنہا ایک پوری یونٹ سے لڑتا رہا تھا۔ چنانچہ اسی لیے اس کے ساتھی اسے ’’جنگلی لومڑی‘‘ کے نام سے بلاتے تھے اور احترام کے ساتھ اسے Atica کہا جاتا تھا۔ وہ بھاری بھرکم وجود رکھتا تھا، مگر ا سکا چہرہ معصومانہ تھا۔ وہ ہر وقت مسکراتا ہوا محسوس ہوتا، اس وقت بھی جب وہ شدید غصے کے عالم میں ہوتا۔
خدا جوزف پر مہربان تھا مگر اس کے ساتھی اس سے خوش نہیں تھے، بلکہ حاسد تھے۔ وہ بار بار اپنی ترقی کے امتحانات پاس کرتا رہا مگر اس کے افسران ہمیشہ اس کی ترقی کے راستے میں حائل رہتے۔ شاید اس کا سبب یہ ہو کہ وہ ایک انتہا پسند تھا۔ یا یہ بھی کہ اس کے افسران اس کی حمایت نہ کرتے ہوں۔ دونوں وجوہات بھی ہو سکتی ہے۔ اس کی ایک وجہ اور بھی ہو سکتی ہے کہ اس کا چہرہ بڑا بدصورت ہو گیا تھا، قدرتی طور پر نہیں، بلکہ ایک گولی اس کے چہرے کی خوبصورتی چھین کر لے گئی تھی۔ ایک محاذ پر ایک گولی جس کے بدن پر شاید لیفٹیننٹ جوزف کی موت نہیں لکھی تھی۔ مگر آنکھ اور ناک کے درمیان وہ اس طرح داخل ہو گئی تھی کہ اس نے جوزف کو موت کے دہانے تک پہنچا دیا۔ جب ڈاکٹروں نے لیفٹیننٹ جوزف کو زندگی کی نوید دی تو اس کے چہرے سے اس کا سارا حسن چھن چکا تھا۔
جب وہ 30 بریگیڈ کیمپ میں پہنچا، تو ٹھنڈ کی شدت کے ساتھ قبرستان جیسی تاریکی نےبڑھ کر اس کا استقبال کیا۔ کچھ فاصلے پر اسے ایک مدھم سی روشنی دکھائی دی، چنانچہ اس کے قدم اس کی طرف بڑھنے لگے۔ وہ بانسوں سے بنے دروازے پر رکا۔ آواز سننے کی کوشش کی، پھر دروازے کو کھٹکھٹانے لگا۔ تقریباً 10سیکنڈ کے بعد اسے بھاری بوٹوں کی آواز سنائی دی اور دروازہ کھل گیا، ساتھ ہی روشنی میں اضافہ ہو گیا۔
’’میں لیفٹیننٹ جوزف امیہ ہوں۔ یہاں تبدیل ہو کر آیا ہوں۔ تمہارے ایجوننٹ سے ملنا چاہتا ہوں۔‘‘
آنے والا ایک قدم پیچھے ہٹا اور اسے کمرے میں آنے کا اشارہ کیا۔
’’میں کیپٹن افیلی ہوں۔ ایجوننٹ ۔ مجھے تم سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔‘‘
’’شکریہ۔‘‘
’’تم کیسے آئے ہو ......‘‘
’’پیدل ......‘‘
’’اوہو ...... تم بہت تھک گئے ہو گے۔‘‘
’’ہاں۔میں واقعی تھک چکا ہوں۔‘‘
افیلی اسے لے کر ایک بڑے ہال میں داخل ہوا۔ جوزف نے محسوس کیا اس میں ذرا سا بھی غرور نہیں ہے۔ اسے خوشی ہوئی کہ افیلی بھی اس کی طرح کئی محاذوں پر بہادری سے لڑ چکا تھا۔
’’لیفٹیننٹ امیہ۔ مجھے افسوس ہے کہ ہمارے کیمپ میں خوراک کا ذخیرہ ختم ہو چکا ہے۔ تاہم میں تمہیں کچھ پام وائن دے سکتا ہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے، وہ بھی چلے گی۔‘‘
کیپٹن افیلی نے اسے ایک بنچ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا او رایک الماری کھولی، جس میں فائلیں بھری ہوئی تھیں۔ وہیں سے اس نے پام وائن کی ایک بوتل نکالی اور اس کی طرف بڑھا دی۔ جوزف نے وائن گلاس میں انڈیلی اور ایک ہی سانس میں آدھا گلاس گلے میں اتارنے کے بعد افیلی کی طرف دیکھتے ہوئے بولا:
’’کمانڈنگ آفیسر سے کب ملاقات ہو گی۔‘‘
’’ابھی نہیں۔ وہ یہاں سے پانچ میل دور رہتا ہے، کل صبح اس سے ملاقات ہو سکے گی۔‘‘
’’تازہ آپریشن کب تک شروع کیا جائے گا۔‘‘
’’ٹھیک شام کے چھ بجے۔ یہ وقت یہاں زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔ ہم اس آپریشن میں اب تک 80 نوجوان گنوا چکے ہیں۔ صرف 21دنوں میں دس آفیسر موت کے ہاتھوں میں کھیل گئے۔‘‘
’’یہ تو ایک خوفناک جنگ ہے۔‘‘ لیفٹیننٹ جوزف نے کچھ سوچتے ہوئے کہا اور پھر بولا۔ ’’یقینا ہم ناممکنات سے لڑ رہے ہیں۔‘‘
’’ہاں۔ مگر بھوک کی شدتوں کے ساتھ۔‘‘
اس کے بعد تادیر ایک خاموشی کمرے کا طواف کرتی رہی، جہاں دو آدمی آمنے سامنے بیٹھے آنے والے واقعات کے ناممکنات میں ممکنات کی تلاش کر رہے تھے۔ کچھ دیر بعد کیپٹن افیلی اٹھتے ہوئے بولا:
’’آؤ لیفٹیننٹ جوزف۔ تمہیں میں اپنے کمرے تک پہنچا آؤں۔ میرا خیال ہے تمہیں شدید نیند آرہی ہے۔‘‘
’’ہاں۔ مجھے واقعتاً نیند آ رہی ہے۔ ایک ہانپتے ہوئے کتے کی طرح۔‘‘
کیپٹن افیلی کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے کیمپ کے میدان سے گزر کر وہ ایسی جگہ پہنچے جہاں چھوٹے چھوٹے ہٹ بنے ہوئے تھے۔ افیلی نے ایک دروازے پر دستک دی۔ دروازہ ایک شخص نے کھولا جو یونیفارم میں نہیں تھا۔ بستر پر بیٹھتے ہوئے افیلی نے کہا:
’’جوزف۔ ہم تمہیں اپنے درمیان دیکھ کر بہت خوش ہیں۔ ہم تمہاری فتح کی کہانیاں سن چکے ہیں۔‘‘
’’لیکن آپ لوگوں نے میرے مسائل کے بارے میں نہیں سنا ہو گا۔‘‘
’’مسائل تو ہم سب کے ساتھ ہیں۔‘‘
’’مجھے دوسرے لوگوں کے مسائل سے کیا غرض ہو سکتی ہے۔‘‘ اس نے قدرے درشت لہجے میں کہا۔ افیلی کو اس کے رویے پر حیرت ہوئی۔ اس نے پوچھا۔
’’کیا بات ہے۔‘‘
’’دو گولیاں میری کمر کے نیچے پیوست ہیں۔ لیکن افسران اعلیٰ اب بھی مجھے جنگ سے باہر بھیجنے پر تیار نہیں۔ دراصل میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہیں بہرحال مرنا ہے۔‘‘
’’ہاں میں تمہارے دکھ کو سمجھ سکتا ہوں۔ میرا بھی گھٹنا بے کار ہو چکا ہے۔ مگر ڈاکٹر تمہاری گولیاں کیوں نہیں نکالتا!‘‘
’’وہ کیسے نکال سکتے ہیں۔ گولیاں گوشت کے اندر دور تک جا چکی ہیں۔ جہاں سے نکالنا اب ممکن نہیں رہا۔ بس ایک ہی طریقہ ہے کہ وہ میرے کولہوں کا گوشت اس طرح کاٹ دیں جس طرح کلہاڑی سے لکڑی کاٹ دی جاتی ہے اور اس کے باوجود بھی مجھے پیچھے نہیں بھیجا جا رہا۔‘‘
لیفٹیننٹ جوزف کی آواز میں غصے کے ساتھ دکھ بھی تھا۔ اس نے اچانک قمیص کے بٹن کھولے اور پتلون کا بیلٹ ڈھیلا کرتے ہوئے بتلانے لگا۔
’’دیکھو یہ تازہ زخم ہے، جو پچھلے محاذ پر لگا۔‘‘
افیلی نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دینے کے انداز میں دبایا۔ لیکن منہ سے کچھ نہیں بولا۔ اسے حیرت تھی کہ اتنا گہرا زخم ہونے کے باوجود یہ شخص ابھی تک زندہ کیسے ہے۔
’’تم دیکھ سکتے ہو، کہ میں ایک محاذ سے دوسرے محاذ پر محض اپنے زخموں میں اضافے کے لیے جا رہا ہوں۔جیسے میں ایک بیگ ہوں، جس میں ہر محاذسے گولیاں اکٹھا کرنا ضروری ہے۔‘‘
’’دیکھو یار۔ اگر کسی کو یہ احساس ہو جائے کہ ہم سے نا انصافی ہو رہی ہے تو یہ جنگ ہمیشہ کے لیے ختم نہ ہو جائے۔ بہت پہلے اسے ختم ہو جانا چاہیے تھا۔ ‘‘ کمرے میں ایک طویل خاموشی کا وقفہ تھا۔ تقریباً پانچ منٹ کے بعد کیپٹن افیلی بولا:
’’امیہ ...... بہتر ہے کہ تم سو جاؤ۔ مجھے تو اس وقت تک جاگنا ہے جب تک محاذ سے تازہ صورتحال نہ آجائے۔‘‘
’’دوسرے افسران کہاں ہیں۔‘‘
’’وہ آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ اگر وہ بھی زندہ نہ لوٹ سکے تو پورے بریگیڈ میں دو آفیسر رہ جائیں گے ایک میں اور ایک تم......‘‘
’’کیوں ......‘‘
’’ہم ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز سے کچھ افسران کی توقع کر رہے ہیں، مگر وہ ابھی تک نہیں پہنچے۔ اچھا تم آرام کرو ......خداحافظ۔‘‘
افیلی فوراً کمرے سے نکل جانا چاہتا تھا۔ وہ لیفٹیننٹ جوزف امیہ سے ہونے والی گفتگو سے دل آزردہ ہو گیا تھا۔ اس نے سوچا اگر ایک ہیرو اعتماد کھو دے تو اس کے پیچھے آنے والوں کا اعتبار تو یوں ہی ختم ہو جاتا ہے۔
صبح سویرے 32 ویں بریگیڈ کے بچے کھچے لوگ واپس آگئے۔ ایک سو ایک جانے والوں میں سے صرف چالیس لوٹے تھے۔ ان لوگوں کے ساتھ جانے والے دو افسران وفاقی مورچے پر قبضے کی کوشش کرتے ہوئے چیتھڑوں کی طرح فضا میں پھیل گئے تھے۔ اگرچہ یہ بری خبریں تھیں، مگر اس کے ساتھ ہی بے پناہ بہادری کی کہانیاں بھی پہنچی تھیں اور بچ جانے والے لوگوں کی نظر میں شکست کا سبب ہتھیاروں کی کمی تھی۔
دوسری صبح پریڈ کے وقت کمانڈنگ آفیسر کی لینڈ روور درمیان میں آ کر رکی۔ کمانڈنگ آفیسر کے اترنے سے پہلے ہی چھ کمانڈوز پچھلے حصے سے کود کر اترے اور اس طرح کمانڈنگ آفیسر کے گرد دائرہ بنا لیا، جیسےوہ کسی دوسری آرمی کا فوجی آفیسر تھا۔ تمام کمانڈوز کے پاس خودکار رائفلز تھیں، اگر ایسی چیزیں تمام بریگیڈ کے پاس ہوتیں، تو شاید صورت حال مختلف ہوتی۔
کمانڈگ آفیسر کے ایجوٹنٹ نے گزشتہ رات کےآپریشن کی رپورٹ پیش کی، جو یقیناً اس کے لیے خوشی کا سبب نہیں تھی۔ چند ساعتوں تک سوچنے کے بعد وہ بولا:
’’توپ خانے سے کچھ لوگوں کو آنا تھا ، کوئی آیا ......‘‘
’’صرف ایک ۔ سر‘‘
’’اس کا نام ......‘‘
’’لیفٹیننٹ جوزف امیہ سر۔‘‘
’’پریڈ برخواست کر دو اور اسے لے کر میرے پاس آؤ۔‘‘
دفتر میں اس نے امیہ کا گرمجوشی سے استقبال کیا اور اس کے سابقہ کارناموں پر اسے مبارکباد پیش کی اور خاصی تعریف کی۔ پھر اس نے اس پروگرام کا تفصیلی ذکر کیا جو اس کے بریگیڈ کے سپرد تھا۔ ان ہی میں اس نے یہ بھی بتایا کہ آج بعض وفاقی مورچوں پر حملہ بھی شامل تھا۔ اس نے مزید کہا:
’’ہم جونہی اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے تو ہم کو 500افراد کی مزید کمک مل جائے گی۔ مسٹر امیہ۔ میں تمہیں اس بات کی اجازت دیتا ہوں کہ آج کے حملے کی پلاننگ تم خود کرو۔‘‘
’’یس سر‘‘
’’کوئی سوال ......‘‘
’’یس سر۔ کیا مجھے کچھ خودکار رائفلز مل سکتی ہیں۔‘‘
’’نہیں۔ یہاں خودکار رائفلز نہیں ہیں۔‘‘
’’یس سر۔‘‘
لیفٹیننٹ امیہ نے ایک نظر کمانڈنگ آفیسر کے گارڈ پر ڈالی اورسکول کے طویل گراؤنڈ سے سکول کی پرانی عمارت کی طرف چل دیا۔ جہاں غیر فوجی سپاہی آرام کر رہے تھے۔ کچھ لوگ پرانی عمارت سے باہر گھاس پر بیٹھے تھے، جہاں وہ پام کرنیل کے پودے توڑ توڑ کر چبا رہے تھے۔ شاید ان پودوں سے وہ اپنی بھوک مٹا رہے تھے۔
ان میں سے کچھ بالکل ننگے تھے، لباس سے محروم۔ کچھ نے پیال سے ستر پوشی کی ہوئی تھی۔ ان کی سیاہ پسلیاں گوشت سے ننگی محض پتلی سی جلد میں لپٹی نظر آ رہی تھیں۔
انہوں نے جب لیفٹیننٹ امیہ کو اپنی طرف آتے دیکھا تو ایک دم کھڑے ہو گئے اور اندر ہال کی طرف چل دیے۔ ان کے قدم تھکے ہوئے اور مردہ دکھائی دے رہے تھے۔ امیہ مسکرایا۔ اس کے چہرے پر ایک دکھی مسکراہٹ تھی۔ وہ ان لوگوں کی اس حالت پر حیران نہیں تھا۔ ان میں سے اکثر نوجوان تھے اور یوں لگتا تھا جیسے وہ کسی امتحان کے لیے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہوں۔ یہ پورے زمانے سے ناراض تھے، کیونکہ زمانے نے ان کے ساتھ بہت برا سلوک کیا تھا۔ ان کی ناراضی غضب کی سرحدوں کو چھو رہی تھی۔ ان کے احساسات میں شدت تھی، اتنی کہ خوف لگنے لگتا۔ یہی وہ نوجوان ہیں جنہوں نے کئی جنگیں جیتیں او رکئی ہاری تھیں۔ اس وقت ان کی قیادت بہترین افسران کے ہاتھ میں تھی، تو وہ خوب لڑے تھے۔ اب وہ ان کیمپوں میں آرام کرنے کے لیے لائے گئے تھے تاکہ نئے آپریشن کے لیے تیار ہو سکیں۔ مگر بھوک اور تباہ کاریوں نے انہیں ہر چیز سے بیزار کردیا تھا۔ نئے افسران سے نئے سگنل اور نئے آپریشن سے۔
لیفٹیننٹ امیہ اس طرح ہال میں داخل ہوا، جیسے ان لوگوں سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔ امیہ ہال کے بیچوں بیچ کھڑا ہو گیا۔ اس کے سامنے بیشتر ایسے لوگ تھے، جو ننگے فرش پر لیٹے یا بیٹھے ہوئے تھے، کچھ نے گھاس پھونس سے بستر بنارکھا تھا۔ وہ بڑی مشکل سے اٹھے،جیسے جنگ کی ساری تھکن ان کے اعصاب میں سرایت کر چکی ہو۔ پھر انہوں نے سلیوٹ کیا۔
’’مون سارپ‘‘
’’گڈ ایوننگ۔ ...... میرے بھائیو!‘‘ امیہ نے جواب دیا۔ ’’سارجنٹ کون ہے ......‘‘
’’میں۔ سر‘‘ ایک نوجوان نے آگے بڑھ کر کہا۔ جس کے آثار سے کوئی ایسا عہدہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
’’تمام لوگ ......فوری طور پر باہر گراؤنڈ میں آئیں۔‘‘
’’اوکے سر ......‘‘
امیہ وہیں کھڑا انہیں باہر جاتے دیکھتا رہا۔ ان میں سے اکثر کے انداز سے یوں لگتا تھا، جیسے انہوں نے کبھی ڈرل نہیں کی۔ دو تین کے سوا باقی لوگوں کے پیر جوتوں سے بھی محروم تھے اور جنھوں نے بوٹ پہن رکھے تھے وہ بھی اپنی زندگی پوری کر چکے تھے، کیونکہ ہر جوتا بری طرح پھٹا ہوا تھا۔
باہر آ کر سب نوجوان ایک قطار میں کھڑے ہو گئے اور لیفٹیننٹ امیہ کا انتظار کرنے لگے ۔ امیہ آگے بڑھا اور بولنے لگا:
’’میں لیفٹیننٹ جوزف امیہ ہوں۔ میں ہرمحاذ پر لڑ چکا ہوں مگر اب تک زندہ ہوں اور ابھی زندہ رہوں گا۔ اور جو میرے احکامات پر عمل کریں گے وہ بھی میرے ساتھ زندہ رہیں گے۔میں یہاں تمہاری مدد کرنے کے لیے آیا ہوں۔ تمہیں خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہر چیز خودبخود ٹھیک ہو جائے گی۔ اب تم جاؤ اور آرام کرو۔ نیند پوری کر لو۔‘‘
بیافرا زندہ باد۔ بیافرا زندہ باد۔
جواب میں چند مری ہوئی آوازیں آئیں Yah ۔ امیہ نے کہا اب ہم ایک گیت گائیں گے ہم سب ...... تم میرا ساتھ دو گے۔
Remember nu Chuma Nzeogwu
Chuma Nzeogwu nwa biagra, Eryl
Remenber nll whillie archibong
Willie Archibong bu nwa Bcafra, Enye.
چند منٹ تک گیت کی لہریں فضا میں پھیلتی رہیں اور پھر دم توڑ گئیں۔ امیہ اب مکمل طور پر دلبرداشتہ ہو گیا تھا۔ اس کے ذہن میں بے شمار سوال ابھر کر ذہنی فساد میں بدل گئے تھے۔ وہ واپس اپنے کمرے میں آگیا اور نصف رات تک سونے اور جاگنے کے درمیان جنگ لڑتا رہا۔
ٹھیک صبح پانچ بجے لیفٹیننٹ امیہ اپنے نوجوانوں کے ساتھ محاذ پر پہنچ گیا اور اس ارادےسے کہ جونہی روشنی پھیلے وہ وفاقی مورچوں پر حملہ کر دیں گے۔ یہ پلان رات کو ہی تیار کر لیا گیا تھا۔ کیونکہ گزشتہ دن کی تباہی کے بعد وفاقی فوجیں سوچ بھی نہیں سکتی تھیں کہ ان پر دوبارہ حملے کی مخالف کیمپ میں سکت رہ گئی ہو گی۔
نوجوان کے پاس بولٹ والی رائفلیں تھیں، جسے وہ کک اینڈ شارٹ کے نام سے پکارتے تھے۔ چھ چھ گولیاں تھیں۔ لیفٹیننٹ امیہ رات کو اپنے کمانڈنگ آفیسر سے ملاقات کے بعد سے اب تک خاصا پریشان رہا تھا۔ دوسری طرف نوجوان بھی نہیں جانتے تھے کہ ان کا نیا افسر کون اور کتنا دلیر ہے۔
لیفٹیننٹ امیہ کے جوان دشمنوں کے مورچوں سے تقریباً 500گز کے فاصلے پر تھے۔ وہ ایک پہاڑی سے ان کو دیکھ سکتا تھا۔ اس نے اپنے آدمی سے کہہ دیا تھا کہ جب تک وہ نہ کہے گولی نہ چلائی جائے۔ سب نے ہاں کا جواب اس طرح دیا تھا کہ ان کے دلوں کا خوف ان کی آواز میں بھی شامل ہو گیا تھا۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ آئندہ چند منٹوں میں کیا ہونے والا ہے۔ اور دوسری طرف لیفٹیننٹ آخری فیصلہ کر چکا تھا،آخری جنگ لڑنے کے لیے۔
ٹھیک صبح چھ بجے اس نے آگے بڑھنے کا حکم دیا اور اپنی جیب سے ایک میلا سا رومال نکالا۔ ابھی انہوں نے تقریباً سو گز کا فاصلہ ہی طے کیا تھا کہ اس نے اپنی بوسیدہ رائفل کے ساتھ رومال باندھا اور اسے ہوا میں بلند کر دیا۔
’’اپنی بندوقیں پھینک کر اپنے ہاتھ بلند کر لو۔ ہم سرینڈر کرنے جا رہے ہیں۔‘‘
سب نے بے چوں و چرا بندوقیں پھینک دیں اور اپنے ہاتھ ہوا میں لہرا دیے۔ جیسے وہ کب سے اس حکم کا انتظار کر رہے تھے۔
جہاں انہوں نے بندوقیں پھینکی تھیں، وہ جگہ وفاقی مورچوں سے صاف نظر آ رہی تھی۔چنانچہ انہوں نے حیرت سے دیکھا کہ ایک پوری پلاٹون ان کی طرف آ رہی ہے اور ......ان کے ہاتھ سرینڈر کے انداز میں ان کے سروں سے اوپر تھے ......اور ایک طویل جنگ لڑنے اور ہر محاذ پر کامیابی حاصل کرنے والا لیفٹیننٹ امیہ بھی اپنے ہاتھ اوپر اٹھائے آہستہ آہستہ دشمن کے سامنے سرینڈر کرنے جا رہا تھا۔ جس کے بارے میں نہ کبھی اس نے سوچا تھا اور نہ ہی کبھی علاقائیت پسند فوج کے کسی ایک سپاہی نے بھی ...... مگر یہ سچ تھا کہ لیفٹیننٹ جوزف امیہ سرینڈر کر رہا تھا ......اپنے دشمن کے سامنے اور یہ اس کا آخری فیصلہ تھا۔