بھکاریوں کی عزت نفس
ترجمہ: ڈاکٹر اعجاز راہی
مجسٹریٹ نے فائل سے نظریں ہٹائیں اور اپنی کوری آنکھیں میری آنکھوں میں گاڑھ دیں۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے اس کی نظریں میرے دل میں اترنے لگی ہوں۔
’’میں تم سے تنگ آگیا ہوں۔ سخت تنگ۔ گلیوں میں پھرتا ہوا کوئی ایسا بھکاری نہیں، جس کی حرکتوں کا مجھے پتہ نہ ہو۔‘‘ مجسٹریٹ نے چند ساعتوں کے توقف کے بعد پھر بولنا شروع کیا۔ ’’کچھ تو ایسے ہیں، جو میری نظروں کے سامنے بھیک مانگتے مانگتے بڑے ہو گئے۔ جیسے تم۔ کوئی ایسا نہیں ہے جس کی آباد کاری کے لیے میں نے کئی کئی بار کوشش نہ کی ہو۔ مگر وہ ہر بار بھاگ جاتے ہیں۔‘‘
یہ جنگ کا اعلان نامہ تھا۔ مجھے اندازہ ہوا کہ وہ یقیناً ہمیں چند ہفتوں کے لیے بحالیاتی کیمپ میں بھیج دے گا۔ مجھے نہ جانے میں صرف ایک قباحت تھی کہ میں رچرڈ سروروبیلے کی کفالت بھی کرتا تھا۔ اگر مجسٹریٹ صرف یہ جان لے کہ وہ دوسرے بھکاریوں کی طرح پیراسائٹ Parasite نہیں تھا جنہیں وہ عموماً استحصالی بھکاری بھی کہا کرتا۔
رچرڈ ایک کار کے حادثے میں بری طرح زخمی ہونے کے بعد معذور ہوا اور تب سے اس کے ماں باپ نے اسے پیسے بنانے کی مشین بنا لیا تھا۔ وہ اسے بھیک مانگنے پر مجبور کرتے تاکہ گھر چلتا رہے۔ انہوں نے کبھی اس سے پیار سے بات تک نہیں کی۔ بلکہ وہ اس سے جانوروں جیسا کام لیتے تاکہ ان کا چولہا جلتا رہے۔ وہ تقریباً 21 سال کا ایک پیر سے معذور ایک ایسا دکھی انسان تھا جس کے چہرے پر پوری دنیا کی اداسی عود کر آئی تھی۔ کئی بار تو وہ مجھے اپنی ساس سے بھی زیادہ بوڑھا دکھائی دیتا۔
’’تم بھکاریوں نے مجھے اپنا فرض ادا کرنا بھی محال کر دیا ہے۔ اس کے باوجود کہ تمہیں پھر سے آباد کرنے کی میری تمام کوششوں کو خاک میں ملا دیا گیا، میں پھر بھی ہر بار تم لوگوں کو ایک چانس دے دیتا ہوں۔ تاکہ تم نئی زندگی شروع کر سکو۔ ممکن ہے تمہیں میری کوششوں کا احساس ہو جائے ......تاہم اب میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ تم لوگوں کو جبراً بحالیات کیمپ میں بھیج دیا جائے۔‘‘
مجسٹریٹ اگرچہ تلخ باتیں کر رہا تھا مگر اس کا لہجہ نرم تھا اورمیں اپنی آزادی کو دور ہوتے ہوئے محسوس کر رہا تھا۔ اب یہ آخری موقع تھا کہ میں اپنا کردار ادا کر سکتا۔ ایک گہری دکھی نظر اور چند منتخب الفاظ شاید مجھے بچا سکتے۔ میں نے اپنا گلہ صاف کیا اور بولنے لگا۔
’’مائی لارڈ۔ ہم سے بہت سے ایسے بھکاری ہیں جو گھر والوں کے مجبور کرنے پر ایسا کرتے ہیں۔ وہ ہم سے ایسا سلوک کرتے ہیں جیسے ہم کوڑھ کے مرض میں مبتلا ہیں۔‘‘ میں نے اپنے آنسو خشک کیے اور بولتا رہا۔’’وہ ہم سے اپنی زندگی کی گاڑی چلانے کے لیے یہی کچھ چاہتے ہیں۔ وہ کبھی اس بات کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے کہ ہم محنت سے کما کر لائیں اور وہ اس میں گزر بسر کریں۔ کوئی ہمیں ملازمت نہیں دیتا، لیکن بھیک دے دیتے ہیں۔ بھیک دیتے ہوئے ہمدردی بھی کرتے ہیں، مگر نوکری نہیں دیتے۔ ہمیں قابل رحم بننے سے کوئی دلچسپی نہیں، ہمیں تو باعزت زندگی گزارنے کے لیے وسائل کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے وجود کو تسلیم کرا سکیں۔‘‘
کورٹ روم میں ایک گہری خاموشی چھا گئی تھی، جیسے میری باتوں نے خاصا اثر کیا ہو۔ ہر شخص کے دل میں ہمدردی نے جگہ لے لی تھی۔ مجسٹریٹ بھی خاموش تھا۔ میں کورٹ روم میں موجود ہر چہرے پر رحم کے جذبات دیکھ رہا تھا۔ اور شاید ایک دکھ خود میرے چہرے پر بھی چھا گیا تھا۔ میں ایک مقناطیسی قوت رکھتا ہوں، وہی جو ایک فلم ڈائریکٹر ایک ایکٹر سے چاہتا ہے۔ میں نے جو کچھ کہنا تھا، کہہ چکا ...... اب مجھے اپنی تقریر کے نتائج کا انتظار تھا۔
’’میں جانتا ہوں کہ تم میٹرک پاس ہو۔ تمہارا نام نتھانیئل ہے۔ کیا یہ درست نہیں؟......‘‘ مجسٹریٹ نے اس رپورٹ کا صفحہ پلٹا جو غیر یورپی معاملات کے شعبے نے تیار کی تھی اور اس وقت مجسٹریٹ کے سامنے تھی۔ ’’ہاں ......نتھانیئل میک گومارے۔ اس شعبے نے یہ تجویز دی ہے کہ تمہیں بحالیات کے ادارے میں بھجوایا جائے، جہاں تم کوئی ہنر سیکھ سکو۔ میں چاہتا ہوں کہ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے تم غیر یورپی معاملات کے شعبے کی بلڈنگ میں 14 نمبر کمرے میں رپورٹ کرو۔ ٹھیک کل صبح 10 بجے......‘‘
مجھے یہ سن کر بڑی مایوسی ہوئی۔ میں نے اپنی تقریر اس فیصلے کے لیے نہیں کی تھی۔ مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں کوئی کام کروں جبکہ بھیک سے میں اس سے زیادہ کما لیتا ہوں، جو مجھے کوئی کام کرکے ملیں گے۔ اگر میں کوئی کام کرنے لگا تو آخر وہ گھوڑے کیا کریں گے جو کام کرتے ہیں۔ مجھے بہرحال بھیک کی توقیر بچانا ہے۔ کاروباری اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ تمام بھکاری کام کاج سے گریز کریں۔
’’اور تم رچرڈ سرورو بیلے۔ اس بار میں تمہیں چھوڑ رہا ہوں۔ مگر یاد رکھو، اگر تم بھیک مانگنے کے جرم میں دوبارہ میرے سامنے پیش ہوئے، تو میں تمہیں مزدوروں کے کیمپ میں بھیج دوں گا، جہاں سے تم واپس نہیں آسکو گے ...... سمجھے ...... اب تم دونوں دفع ہو جاؤ ......‘‘
اگر مجسٹریٹ عدالت سے باہر آتے ہوئے خوشی سے دمکتا میرا چہرہ دیکھ لیتا، تو یقیناً فوری طور پر مجھے بحالیات بھجوا دیتا اور میں جیتا ہوا کیس ہار جاتا۔ تاہم یہ اچھا ہوا ، کہ اس کی نظر میرے چہرے پر نہیں پڑی۔
سوائے چند باتوں کے ہر چیز شیڈول کے مطابق تھی۔ تاہم میرا دوست رچرڈ جو شاید دنیا کا مظلوم ترین نوجوان تھا، اس کی حالت قابل رحم تھی۔ اس کے ساتھ مسئلہ یہ تھا کہ وہ سوچنے کی صلاحیت سے محروم تھا۔ ہاں یہ بھی صحیح ہے کہ قوت متخیلہ جس قدر مجھ میں ہے وہ ہر ایک میں تو ہو بھی نہیں سکتی۔ وہ ہمیشہ زندگی کے مایوس پہلوؤں کو ہی سامنے رکھتا تھا۔
’’ان دنوں میں نے خودکشی کی کوشش بھی کی۔ ‘‘ رچرڈ نے کہا۔ ’’میں اب اس ذلت کی زندگی کے ساتھ زیادہ دیرتک زندہ نہیں رہ سکتا۔ میں تھک چکا ہوں لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلا پھیلا کر ......مگر یہ سب کچھ میرے ساتھ ہی کیوں ہوا ......؟ نتھانیئل ...... مجھے بتاؤ ......کیوں......؟‘‘
پتہ نہیں رچرڈ مجھ جیسے آدمی سے یہ سوال کیوں کر رہا تھا، جس کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔ ایک ایسے ہی موقع پر میں نے اس سے کہا تھا، کہ وہ اپنے خالق کو خط لکھے اور بتائے کہ اس کے ساتھ کیا بیت رہی ہے، شاید وہ ہی اس کا بہتر جواب دے سکے۔
’’میں نہیں جانتا‘‘ میں نے جواب دیا۔’’ایسے واقعات اچانک ہو جاتے ہیں، جس کا جواز ہمارے پاس نہیں ہوتا، پھر سوال کرنا ہی فضول ہوتا ہے۔ فطرت چیزوں کو سنوارنے بگاڑنے کا عمل جاری رکھتی ہے۔ اس سب کے باوجود کبھی قدرت نے توڑی ہوئی چیز سنواری ہے؟ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ قدرت ہمیں اس کے عوضانے میں کچھ نہ کچھ ضرور دیتی ہے۔ کم از کم میں تو یہی سمجھتا ہوں۔ لیکن ہمیں اس کا پتہ کیسے چلے......؟ بہرحال ......‘‘
شاید یہ پہلا موقع تھا، جب میں اس کے سوال کا کوئی ٹھوس اور مدلل جواب نہیں دے سکا تھا۔ میں اسے بتانا چاہتا تھا کہ اس کی معذوری کا مکمل عوضانہ ملا ہے۔ لیکن کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا میرے لیے بڑا مشکل تھا۔ چنانچہ اسی لیے میں نے گھر چھوڑ دیا تھا۔
میں نے گھر اس لیے چھوڑا تھا کہ میرے گھر والے مجھے سمجھ نہیں سکے تھے۔ انہوں نے مجھے تقریباً neurotic بنا دیا تھا۔ مگر آج میں سوچتا ہوں کہ شاید وہ میری اپنی حساسیت تھی۔ جو ان کے عمل کو مبہم بناتی رہی۔ وہ میرے آزادانہ گھومنے پر ناراض ہوتے۔ ہر شخص اس طرح بیٹھ جاتا جیسے سارے معذور ہوں۔ مجھے ہاتھوں میں پکڑی گڑیا کی طرح تصور کیا جاتا۔ مجھے اس کی بھی اجازت نہیں تھی کہ میں خود اپنے پینے کے لیے پانی لے سکتا۔ جو چیز بھی میں چاہتا مجھے مل جاتی تھی۔ یہ ضرورت سے زیادہ شفقت رفتہ رفتہ میرے اندر منفی جذبات پیدا کرنے لگی۔ اس سے میرے اندر احساس ہوا کہ میں کوئی متعلق شے نہیں ہوں۔ محض invalid ہوں۔پھر جانے کیسے خیال آیا کہ ایک دن وہ میرے منہ پر اپنا پیر رکھ دیں گے اور پھر میرا گلہ دبا دیں گے جس کے بارے میں شاید وہ کوئی فیصلہ کر چکے ہیں، چنانچہ میں نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔
میرے سامنے ایک نئی زندگی تھی۔ میں نے شادی کر لی۔ پھر دو بچے اور چمپون پہاڑی پر میرا اپنا گھر۔ ایک اور کمرہ جو صوفیہ ٹاؤن میں تھا اور اس میں ایک خوبصورت پیانوبھی تھا۔ دو سالوں میں میں نے 500 پاؤنڈ بھی جمع کر لیے اور شاہ خرچی سے استعمال بھی کیے۔ اب صرف ایک ہی خیال تھا کہ میرے پاس اتنے پیسے ہوں، جو میرے بڑھاپے میں کام آسکیں، پھر دونوں بیٹوں کا مستقبل بھی میرے سامنے تھا۔
’’خداراہ نتھا نیئل ......‘‘ رچرڈ بولا۔ ’’تمہارا کیا مسئلہ ہے کہ تم ہر وقت خیالوں میں غرق رہتے ہو ...... میں کہاں جاؤں۔ کچھ خیال کرو......‘‘
میں نے اسے خداحافظ کہا۔ گھر آیا، کچھ کھا پی کر جب میں بستر پر لیٹا تو میرے گرد سوچوں نے جال بننا شروع کر دیا۔ مجھے خیال آیا۔ معاشرے میں انشورنس ہے۔ مختلف سوسائٹیاں ہیں، اداروں میں یونینیں ہیں، جو اپنے ورکرز کے حقوق کا تحفظ کرتی ہیں۔ بھکاریوں کی یونین کیوں نہیں......؟ مجھے شہر کے تمام بھکاریوں کو جمع کرکے یونین بنانی چاہیے۔ جس کا کوئی اچھا سا نام ہو، جیسے یونائیٹڈ بیگرز یونین ......ہر بھکاری کو 10 شلنگ ہفتہ وار چندہ دینا چاہیے، صرف جوہانسبرگ میں 100کے قریب بھکاری ہیں، اگر وہ سارے چندہ دیں تو ایک سال میں دو ہزار چار سوپاؤنڈ جمع ہو سکتے ہیں۔
کیا زبردست آئیڈیا تھا۔ ایک جینئس کا خیال ...... بعض اوقات مجھے افسوس ہوتا تھا، کہ یہ دنیا میری صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھا رہی۔ ممکن ہے وہ آئن سٹائن کو بھی تسلیم نہ کرتے، وہ بھی تو آئن سٹائن کی ہی نسل سے تھا۔ بہرحال اس کے لیے تو انہوں نے بہت کچھ کیا ہے۔
میں منشور میں یہ چیز شامل کر سکتا ہوں کہ ہر رکن کو ہر سال ایک بونس دیا جائے گا، جو یقیناً ایک پرکشش پیشکش ہو گی۔ میں یہ بھی وعدہ کر سکتا ہوں کہ بے گھروں کے لیے مکان خرید کر دوں گا۔ یعنی ہر سال ایک مکان ضرورت مندوں کے لیے جیسے رچرڈ...... مکان میں تیسرے درجے کی تمام ضروریات موجود ہوں ...... اگرچہ یہ سکیم مہنگی تھی، مگر اس کی برادری میں اس کا اعتماد بڑھانے کے لیے ضروری تھی، ہر ایک کو اپنی اپنی باری کا انتظار کرنا ہو گا۔
دوسری صبح میں غیر یورپی ڈیپارٹمنٹ کے کمرہ نمبر 14 میں پہنچ چکا تھا۔ ایک سفید فام سپاٹ چہرے کے ساتھ ایک میز کی دوسری طرف بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے اپنا نام بتایا۔ اس نے کچھ کاغذ نکالے اور ان پر میرا نام لکھنے لگا۔ پھر وہ مجھے تھماتے ہوئے بولا۔ اس کاغذ پر لکھے ہوئے پتہ پر پہنچ جاؤں۔
جب میں اندر آیا تو بارش کی پھوار ہو رہی تھی، مگر اب اس میں شدت آچکی تھی، میں نے دل ہی دل میں موسم کو گندی سی گالی دی اور ساتھ ہی میری نظر ایک خوش لباس خاتون پر پڑی جو میری طرف ہی آ رہی تھی، وہ ایک چلتی پھرتی سونے کی کان لگ رہی تھی۔ اور ٹپ دینے کے لیے ہمہ وقت تیار۔ میں نے اپنے چہرے پر جہاں کی مظلومیت سجا لی اور خود کو اس طرح دہرا کر لیا ، جیسے کئی روز سے بھوکا ہوں۔
’’او غریب ...... تم تو شاید بھوک سے مرنے والے ہو ...... یہ لو اور جاؤ کچھ کھانے کے لیے خرید لو......‘‘
اس نیک دل خاتون نے میرے ہاتھ پر نصف کراؤن رکھ دیا اور میں اسے معمول کے مطابق دعائیں دیتا ہوا آگے بڑھ گیا۔
یہی وہ طریقہ کار ہے جو میں اپنے پیشے میں اختیار کر چکا ہوں۔ اور یہاں بھی یہی طریقہ استعمال کیا، جس کے نتیجے میں تھوڑی دیر میں میرے ہاتھ پر دس نصف کراؤن موجود تھے۔ ٹھیک ہے۔ اگر یہی رفتار جاری رہی تو میں جلد ہی شہر کا ایک رئیس آدمی بن جاؤں گا۔ یا کم از کم اپنی بھکاری برادری کا امیر ترین۔ دوسری طرف ڈیپارٹمنٹ مجھے کسی ڈیسک کے پیچھے بٹھانا چاہتا ہے۔میرے نزدیک ان کی یہ کوشش محض مجرمانہ تھی۔
ایسے ہی دنوں میں جب میں اپنی سالانہ تعطیلات منا رہا تھا، تو میرے دل میں بھکاریوں پر ایک کتاب لکھنے کا خیال آیا۔ ایسی کتاب جو شدید جذباتی اور دلچسپ ہو، جس میں خاکوں کے ساتھ خوبصورت رنگین تصاویر بھی دی جائیں۔ اس میں کچھ ایسے قواعد و ضوابط ہوں جو آسانی کے ساتھ دنیا کے اس نہایت محترم، مقدس اور قدیم ترین پیشے میں استعمال کرنے کے کام آ سکیں۔ اسے یقیناً نئے اور پرانے بھکاریوں میں نصاب کا درجہ حاصل ہو گا جو میری زندگی کے تجربات اور ذہانت سے فن اور زندگی سنوارنے کے لیے اصول سیکھ سکیں گے۔ یقینی طور پر اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ دنیائے ادب کی انوکھی کتاب ہو گی۔ یہاں تک کہ ارب پتی افراد بھی وقت گزاری کے لیے اس کتاب کے ذریعے بھیک مانگنے کو عار نہیں سمجھیں گے۔ شاید غریب ممالک بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
یہ کتاب یقینی طور پر تاریخ فن کے ابتدائی ادوار سے شروع ہو گی۔(جیسے بچے کو پڑھائی کے لیے چھوٹی عمر سے تیار کیا جاتا ہے) اور پھر یہ ہمارے عصر تک آجائے گی۔ جہاں آج کے جدید عہد کے بھکاری امریکی کاروں یا موسیقی کی لہریں پھیلا پھیلا کر بھیک مانگتے اور اپنے بنکوں میں اپنے اکاؤنٹس بھرتے رہتے ہیں اور ایسے ہی بھکاریوں سے ٹیکس ڈیپارٹمنٹ متاثر ہوتا ہے۔ میری خواہش ہو گی کہ یہ کئی ماہ تک Best Seller لسٹ پر موجود رہے۔ میں سوچ کی انہی خوش فہمیوں میں ڈوبا ہوا بالآخر اس جگہ تک پہنچ گیا، جہاں کے لیے غیر یورپی معاملات کے شعبے کے سفید فام نے رپورٹ کرنے کے لیے کہا تھا۔
مجھے اس وقت بڑی حیرت ہوئی جب اس دفتر کے سامنے بھی مجھ ایسے لوگوں کی بھیڑ نظر آئی۔ مجھے اپنے دل کی دھڑکنیں ڈوبتی ہوئی محسوس ہوئیں یا پھر تیز تر ہوتی ہوئیں۔ کیونکہ اتنے بہت سارے بھکاریوں کو ایک جگہ دیکھ کر مجھے اپنا پلان پورا ہوتا ہوا نظر آیا۔ میں نے آگے بڑھ کر دیکھا، تو معلوم ہوا کہ یہ ایک تربیت گاہ ہے، جہاں ٹائپنگ سکھائی جاتی ہے۔
وہاں کے انچارج نے جو کچھ بنیادی باتیں بتائیں۔ مجھے اس میں دلچسپی محسوس ہوئی او رمیں نے کئی بے سروپا سوال کر دیے تاکہ اسے اپنی ذہانت سے مرعوب کر سکوں۔ ٹھیک شام کے 5بجے میں ٹائپ رائٹر پر بیٹھا، میری انگلیاں کی بورڈ پر ایک قابل ٹائپسٹ کی طرح چل رہی تھیں۔
گھر کی طرف جاتے ہوئے میں اپنے دوست رچرڈ کی نکڑ کی طرف بھی چلا گیا، جہاں اس کی حالت ہمیشہ سے بھی زیادہ بدحال نظر آرہی تھی۔ میں نے اسے دعوت دی کہ وہ میرے ساتھ میرے گھر چلے، میں اسے اپنا کمرہ آرام کے لیے دوں گا اور جب ہم گھر پہنچے تو میں نے پیانو بجانا شروع کر دیا۔ میں ابھی زیادہ نہیں جانتا، چند بنیادی سروں کو ہی سمجھ سکا ہوں۔ تاہم میں نے رچرڈ کو سمجھانا شروع کیا۔
’’دیکھو رچرڈ ......تم بھی ایسے ہی ایک فلیٹ کے مالک بن سکتے ہو۔ تم اتنی محنت دوسروں کے لیے کیوں کرتے ہو۔ خدارا یہ سب کچھ صرف اپنے لیے کرو ...... صرف اپنے لیے۔‘‘
’’میں ان لوگوں کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔ ان کے کرائے کے مکان میں، کچن کے اخراجات میں۔ تم سوچ بھی نہیں سکتے کہ ان ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے بعد مکان خریدنے کا تصور بھی کر سکتا۔ میں تو خواہش بھی نہیں کر سکتا۔......‘‘
’’اصل میں تم یہ کرنا نہیں چاہتے۔ تمہیں اس پر سوچنا چاہیے۔ پلان بنانا چاہیے پھر اس کے مطابق کام شروع کرو، جیسے میں نے خود کیا ہے۔‘‘
رچرڈ خاموش رہا۔
’’میں نے ایک پلان بنایا ہے۔ اگر میں کامیاب ہو گیا ، تو تم ایک سال کے اندر ایک مکان کے مالک بن سکو گے۔ میری تجویز غور سے سنو۔‘‘ پھر میں نے اسے یونین بنانے کی پلاننگ اور پوری تفصیل بتائی۔ میری باتیں سنتے ہوئے رفتہ رفتہ اس کے چہرے کا تناؤ ختم ہوتا گیا اور اس کے دانت چمکنے لگے ۔ میں نے اسے پہلی میٹنگ بلانے کے لیے انتظامی امور کا انچارج بھی بنا دیا۔
گزشتہ رات میں نے ایک عجیب خواب دیکھا کہ میں ریس کورس میں ہوں اور وہاں جیتنے والے گھوڑوں پر شرطیں لگ رہی تھیں۔ ایک کی دو ...... ایک کی دو کی آوازیں سنائی دیں۔ میں ایک معذور ٹانگ پر جھولتا ہوا اپنے گھر آیا، اپنی بچی کھچی آمدنی اٹھائی اور ٹرفونٹین ریس کورس پہنچ گیا۔ میں نے دور تک نظر دوڑائی، کہیں آس پاس پولیس والا تو نہیں۔ پوری طرح تسلی کر لینے کے بعد جب اطمینان ہوا ، تو میں نے سوچا مجھے آخر پولیس والوں سے اس قدر ڈرنے کی ضرورت بھی کیا ہے۔ پھر میں نے شرط لگا دی اور پہلے ہلے ہی میں ایک کے دو جیت گیا۔ ابھی میرا ایک پاؤنڈ دگنا ہو گیا تھا۔ پھر میں نے بڑی شرط لگا دی۔ اچانک میری نظر ایک لمبے تڑنگے آدمی پر پڑی، پہلی نظر میں ہی وہ مجھے ایک سست الوجود اور چالاک شخص لگا، وہ مسلسل مجھے گھور رہا تھا۔
میں بڑی بے چینی محسوس کر رہا تھا، چنانچہ میں نے اٹھ کر ماحول سے لطف اندوز ہونے کا فیصلہ کیا، ابھی میں چند قدم ہی آگے بڑھا ہوں گا کہ مجھے ویلفیئر کے محکمے کی ایک خاتون گیلو ویدین دکھائی دی۔ اسے یہ عادت تھی کہ وہ خود کو نمایاں کرنے کے لیے ہر جگہ موجود ہوتی تھی خواہ اس کی ضرورت ہو یا نہ ہو۔ آج مجھے ایسے کسی قسمت کا حال بتانے والی کی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ اس پر نظر پڑتے ہی میں نے خود کو مشکل میں محسوس کر لیا تھا۔ وہ ایسے موقعوں پر موجود رہ کر بھکاریوں کے بارے میں رپورٹیں ترتیب دے کر مجسٹریٹ کو پیش کر دیتی ہے۔ جس کے نتیجے میں اب تک ہمارے 13 بھکاری رفیوجی کیمپ میں پہنچ چکے تھے۔ اب میرے پاس بچنے کا صرف ایک ہی راستہ تھا کہ اس سے پہلے کہ وہ کسی پولیس والے تک پہنچے، میں یہاں سے نکل جاؤں۔ میں آہستہ آہستہ گیٹ کی طرف بڑھنے لگا اور اسی دوران لوگوں نے دو کے سات کا شور مچا دیا۔ میں نے بھی دو کے سات پر شرط لگا ئی تھی۔ چنانچہ میں تیزی سے آگے بڑھا اور یہ بھی بھول گیا کہ مس گیلوویدین مجھے دیکھ چکی ہے۔ میں تیز دوڑتا ہوا، جتنا ایک معذور ٹانگ والے کے لیے ممکن تھا، بکی آفس پہنچا۔ صرف چھ ٹکٹ بکے تھے۔
جب بکی نے میرے ہاتھ پر چمکتے ہوئے نوٹ رکھے، تو میں کس قدر خوش تھا، شاید میں بیان نہ کر سکوں۔ میں جونہی اپنی جیب میں پیسے رکھ کر پیچھے ہٹا، وہی شخص جو کرسی پر میرے ساتھ بیٹھا تھا، آیا اور میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا۔
’’آخر ...... ہم جیت گئے۔‘‘
اس کا نام بلشنگ گروم تھا اور اب میں اتنا بے وقوف بھی نہیں تھا کہ اس کی بات نہ سمجھ پاتا۔ وہ میرے شریک ہونے کی شاندار ایکٹنگ کر رہا تھا۔
’’کیا ہوا ہے۔ ہم دونوں نے کیا کیا ہے۔‘‘
’’زیادہ چالاک بننے کی کوشش نہ کرو۔ ہم دونوں نے اس گھوڑے پر مشترکہ شرط لگائی تھی۔ آؤ مل کر اس کی خوشی منائیں۔‘‘ وہ اس دوران اس طرح مسکراتا رہا ، جیسے اس کی بیوی نے اکٹھے چار بچوں کو جنم دیا ہے۔
’’دیکھو بھائی...... ‘‘ میں نے ایک کوشش کی تھی اور شاید اس سے بہتر میں اپنے لیے کوئی اچھا کام نہیں کر سکا ہوں۔ کیا یہ صحیح نہیں ہے ...... میری بات غور سے سنو ...... یہ شرط میں نے تنہا لگائی تھی اور اس سے تمہارا کوئی تعلق نہیں۔ بہتر ہے کہ تم اپنا راستہ ناپو۔ میں تو یہ بھی نہیں جانتا کہ تم ہو کون ......! جاؤ اور اپنے لیے چیز کا ایک پیس اور خرید لو ...... میں کوئی اتنا آسان بھی نہیں ہوں، جس سے تم پیسے ہتھیا سکو۔‘‘
میری اس بات پر اس نے اچانک مسکرانا بند کر کے مجھے یوں گھورنے لگا جیسے مجھے طاعون ہو گیا ہو۔ اس کی موٹی اور پھینی ناک سے یوں آوازیں نکلنے لگیں، جیسے وہ کوئی بھپرا ہوا سپینش سانڈ ہے۔(بس بات اتنی تھی کہ میں بات بڑھانا نہ چاہتا تھا وگرنہ میں اسے ٹوریڈو کی طرح تھکا سکتا تھا) بہرحال وہ پھر مسکرانے لگا تھا، جیسے شکار دیکھ کر کوئی درندہ دانت کھول دے۔
’’چھ سو اور پچاس پاؤنڈ بہت زیادہ رقم ہے۔ ‘‘ وہ غصے سے بولا۔ ’’کوئی بھی مجھے میرے نصف حق سے محروم نہیں کر سکتا۔ تم ایک معذور کیا کر لو گے۔‘‘
’’شٹ اپ‘‘ میں نے بھی اسی انداز میں جواب دیا۔ ’’مجھے تم نے پھر معذور کہا تو ......‘‘ اس کے ساتھ ہی میں نے اسے ایک زوردار مکا مارا، جبکہ اس نے جوابی کارروائی کے طور پر ایک زبردست ضرب میری ٹھوڑی پر لگائی۔ میں سنبھل نہ سکا اور یک دم نیچے گر گیا۔ میرے سرمیں شدید چوٹ آئی اور مجھے یوں لگا جیسے جنگلی ٹم ٹم نے ایک ٹھوس کونگا میرے سر پر دے مارا ہو۔ چند ساعتوں بعد میرا سر اپنی جگہ پر آیا اور میں اٹھ کھڑا ہوا۔ غصے سے کانپ رہا تھا۔ اگر میرا وجود مکمل ہوتا تو میں اس کو مزہ چکھا دیتا۔ اس خیال سے میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔
مجمع لگ گیا۔ لوگوں کی ہمدردیاں میرے ساتھ تھیں۔ کچھ سفید فام تو اس کے سر کے ٹکڑے کر دینے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ اور مجھے یقین تھا کہ وہ ایسا کر سکتے تھے۔
اچانک مجھے ایک پولیس والا نظر آیا، جو ادھر ہی آرہا تھا۔ میں نے فیصلہ کیا اور لوگوں کے درمیان سے دوڑ پڑا۔ لوگ میرے لیے راستہ چھوڑ رہے تھے۔ میں تھوڑی دور تک ہی گیا ہوں گا کہ، میں توازن نہ ہونے کے سبب منہ کے بل گر ا اور اتنی دیر میں پولیس والا میرے سر پر پہنچ گیا۔
دیکھو بیٹے ۔ کوئی گڑبڑ نہ کرنا۔ چاپ چاپ میرے ساتھ چلو۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘
ان حالات میں میرے سامنے کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا، سوائے اس کے کہ میں چپ چاپ خود کو اس کے حوالے کر دیتا۔ ویسے بھی میری ماں کہا کرتی تھی کہ ایسے موقعوں پر جدوجہد نہیں کرنا چاہیے بلکہ خود کو یونیفارم والے کے حوالے کر دینا چاہیے۔
مجھ پر پہلا الزام بلشنگ کو جیتی رقم دینے سے انکار تھا۔ چنانچہ میں نے اپنا ویک اینڈ رفیوج کیمپ میں گزارنے سے بچنے کے لیے میں نے خود کو پیش کر دیا تھا مگر یہی چیز میرے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی اور مجھے ایک پولیس سارجنٹ کی معیت میں رفیوج کیمپ بھجوا دیا گیا۔ اگرچہ پولیس سارجنٹ نے ازراہ ہمدردی مجھے بڑے مجرموں کے ساتھ بند نہیں کیا۔ مگر وہ ایسا کرا بھی تو مجھے کیا فرق پڑتا، ماہر جیب تراش، چور اچکے، گھروں کے تالے توڑنے والوں کے درمیان مجھے چھوڑ دیا جاتا ، تو شاید تاش کے پتوں کے ذریعے میں ان سے بھی کچھ کما لیتا۔
’’مجھے یقین ہے ۔ تم جلد ہی جیل سے لوٹ آؤ گے۔‘‘ مجسٹریٹ نے ہمدردانہ لہجے میں کہا۔ شاید اسے کسی نے کہہ دیا تھا کہ میں ایک بہتر مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہوں۔ اس نے مجھے غور سے دیکھا۔ میں نے سوچا کہ موجودہ کرسی مجسٹریٹ کے لیے کم درجے کی ہے۔ آخر یہ تمام پیشیوں میں اسی کرسی پر کیوں نظر آتا ہے۔
’’وہ بھکاری جو ریس کھیلتے ہیں آخر خوفناک رویے کے حامل کیوں ہوتے ہیں۔ اور ان ہی لوگوں کے خلاف ہو جاتے ہیں، جو ان سے مہربانی کرتے ہیں۔‘‘
میری بھی کیا قسمت تھی، کہ جائز رقم جیتنے کے بعد بھی مجھے اخلاقیات پر لیکچر سننا پڑ رہا تھا۔ مجسٹریٹ ترحم نظروں سے مجھے دیکھ رہا تھا، جو میری طبع پر ناگواری کا سبب تھا۔ مس گیلو ویدین میری طرف دیکھ کر ایسے مسکرا رہی تھی، جیسے اس نے کوئی عظیم فتح حاصل کی ہو۔ اسی دوران مجھے کٹہرے میں کھڑا ہونے کے لیے کہا گیا۔
ایک آدمی نے مجھ سے حلف لیا کہ میں جو کچھ کہوں گا سچ کہوں گا جبکہ میں جانتا تھا ، کہ میں جو کچھ کہوں گا سچ ہی کہوں گا، مگر وہ سچ صرف میرے لیے ہو گا۔ دوسروں کے نزدیک میں برا آدمی اور محض بھکاری ہوں۔ مجھ سے حلف لینے کے بعد پراسکیوٹر نے بلشنگ پر سوالوں کی اس طرح بوچھاڑ کر دی جیسے بلشنگ نے اسے بھی تیس فیصد دینے کا وعدہ کیا ہو۔ اس نے بلشنگ کو میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
’’کیا تم اس شخص کو جانتے ہو۔‘‘
’’نو ...... سر......‘‘
پھر تم نے کیسے اس سے دس شلنگ لے کر مشترکہ طور پر شرط لگانے کا فیصلہ کیا۔‘‘
’’اصل میں میں مسلسل ہار رہا تھا۔ چنانچہ میں نے فیصلہ کیا کہ کسی دوسرے کے ساتھ مل کر شرط لگاؤں۔ اسی دوران اس سے ملاقات ہو گئی، ہم باتیں کرتے رہے اور شرط لگا دی۔‘‘
’’کیا تمہیں کسی نے اس سے باتیں کرتے ہوئے دیکھا ہے۔‘‘
’’میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتا۔ تاہم بے شمار لوگ وہاں موجود تھے۔‘‘
’’پھر کیا ہوا۔‘‘
’’میں نے اسے دعوت دی کہ مشترکہ شرط لگائی جائے، جس پر یہ راضی ہو گیا ......‘‘
’’تم نے اس کے ساتھ اشتراک کیوں کیا؟‘‘
’’میں نے سوچا یہ یقینی طور پر خوش قسمت ہو گا۔ ویسے میں تو صبح سے ہی ہار رہا تھا۔ چنانچہ میں نے اسے دس شلنگ دے دیے۔‘‘
’’تم نے اسے مارا کیوں تھا ......‘‘
’’یہ مجھے دھوکا دینا چاہتا تھا اور ساتھ ہی مجھ پر حملہ آور بھی ہوا، مگر وہ ایسا کر نہیں سکا۔‘‘
مجسٹریٹ نے میری طرف کچھ بے اعتبار نظروں سے دیکھا، لیکن اس بار میں نے اس کے لیے اپنے دل اور نظروں میں قطعی احترام نہیں پایا۔ میں نے دل ہی دل میں اپنی آدھی رقم کو خداحافظ کہہ دیا تھا، کیونکہ بلشنگ کی گھڑی ہوئی کہانی واٹر ٹائٹ تھی......
’’میں تم سے شدید مایوس ہوا ہوں۔‘‘ مجسٹریٹ نے کہا۔ ’’میرا خیال نہیں تھا کہ تم چور بھی ہو۔ میں اس پر یقین نہیں کر سکتا کہ تم اتنی بڑی رقم تنہا شرط پر لگا سکتے ہو۔ بھکاریوں کے پاس اتنی رقم کہاں ہوتی ہے۔ مجھے اس کی باتوں پر یقین ہے۔ اس لیے میں جیتی ہوئی رقم کو تم دونوں میں برابر تقسیم کرنے کا حکم دیتا ہوں۔‘‘
’’میں تم پر یقین نہیں کرتا کیونکہ کسی بھکاری کے پاس اتنے پیسے کہاں ہوتے ہیں...... میرے ذہن میں مجسٹریٹ کے جملے گونجنے لگے۔ اسے کیا معلوم کہ میں تو ایک ہفتے میں اتنی رقم کما لیتا ہوں، جتنی اسے ایک مہینے میں نصیب نہیں ہوتی۔ ’’میں یقین نہیں کرتا‘‘ اوہ مائی گاڈ۔
مجھے مجسٹریٹ کا یہ جرم کہ وہ میری ذاتی رقم سے نصف ایک جھوٹے کو دے رہا تھا، ایک قتل عام سے بھی بڑا جرم لگا۔یہ تاریخی گدھ اسی طرح دوچار وارداتیں کرتا رہا، تو جلد ہی اپنی محنت کی زندگی سے ریٹائر ہو کر ایک خوبصورت بنگلہ خرید کر باقی زندگی آسودگی سے کاٹ سکتا ہے۔
بلشنگ مجھے ایک مقناطیسی صلاحیت رکھنے والا متاثر کن شخص لگا۔ اس کا رویہ غیر لچک دار ، نہایت پر اعتماد، انسانیت اور ہمدردانہ شعور سے بے بہرہ اور حلف اٹھا کر جھوٹ بولنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیے بغیر مجھ ایسے معذور شخص سے بھی رقم چھین کر لے گیا۔ اگر مجھے اس امر کی اجازت دی جائے کہ میں پورے جہان میں سے اپنے لیے کسی بھائی کا انتخاب کروں تو میں بلشنگ کو چن لوں گا۔
میں نے آدھمی رقم دے کر بلشنگ کا حساب بے باق کیا اور باہر نکلنے لگا ، تو مس گیلیو ویدن نے مجھ پر ایک اور الزام لگا دیا۔ تاہم جب میں گھر کی طرف چلا، تو جلد از جلد گھر پہنچنا چاہتا تھا۔ میں اپنے اندر پیدا ہونے والے اس جذبے کو بڑی مشکل سے دباتا رہا، کہ میں کسی مصروف علاقے میں کھڑا ہو کر کچھ کمائی کر لوں۔ مگر میں نے اس وقت اچھا لباس پہنا ہوا تھا، اور لوگ اپنے سے اچھے لباس والے کو خیرات نہیں دینگے۔ وہ تو بھیک ہی اس لیے دیتے ہیں کہ مانگنے والا دینے والے سے کمتر نظر آئے۔
میں جب گھر پہنچا، وہاں گاؤں سے خط آیا ہوا تھا، کہ میرا بیٹا ٹامی بیمار ہے۔ میں بیٹے کی بیماری کا سن کر بے چین ہو گیا۔ ایک ایسا شخص جو اپنے بیوی بچوں سے اتنی دور ہو، اسے اچھے دنوں کے لیے کچھ انتظار کرنا ہی پڑتا ہے۔ مگر میں اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم اور بہترین تربیت دوں گا تاکہ وہ معاشرے کے دوسرے بچوں کی طرح پروان چڑھیں۔ ایک ایسے باپ کی طرح نہیں جو معذور اورمحتاج ہو۔ میں کھلے آسمان کے نیچے ان کے لیے بہترین جگہ بناؤں گا۔ ممکن ہے میں بہت بڑا بھکاری بن جاؤں۔ مگر بیوی کے لیے خاوند اور بچوں کے لیے شفیق باپ بننا زیادہ پسند کروں گا۔ جانے سے پہلے میں نے اپنے پڑوسی سے جو مالک مکان بھی تھا کہا کہ اگر وہ رچرڈ کو جاتے ہوئے نہ مل سکا، تو کیا تم اسے ساری صورت حال بتا سکو گے۔ اور کیا یہ کمرہ مجھے دوبارہ مل سکے گا۔
’’ہاں ...... میں ہمیشہ یہ کمرہ تمہارے لیے ہی رکھوں گا، جب بھی تم چاہو گے، یہ تمہیں مل جائے گا۔‘‘
اپنے دل کی گہرائیوں سے میں جانتا تھا کہ مجھے اس کی پھر ضرورت پڑے گی۔ میرے پاس تین سو پینتیس دلیلیں ہیں کہ اس کی مجھے ضرورت پڑے گی۔ (تین سو پینتیس کا ہندسہ میرے ذہن میں نقش کر گیا تھا کیونکہ بلشنگ نے اتنی ہی رقم مجھ سے لی تھی۔) میں ایسا کیوں سوچتا ہوں۔ اس لیے کہ میرے ذہن میں بلشنگ گروم اور جوہانسبرگ کی دیالوعوام کی ایک دنیا بسی ہوئی ہے ہمیشہ کے لیے۔
مجھے واپس آنا ہی ہے۔ اپنے پیشے کی توقیر کے لیے۔