محمود تیمور

محمود تیمور

چوہیا

    ترجمہ، رفعت حجازی

    بچی اگرچہ سات برس کی تھی مگر دیکھنے والا سوچتا زیادہ سے زیادہ چار برس کی ہو گی، ہڈیوں کا ڈھانچہ ، پست قد، کالی رنگت، کالی کلوٹی بالکل کوئلہ، دیکھنے والے کے لیے فرق کرنا مشکل تھا کہ سچ مچ وہ کالی ہے یا دھول مٹی سے اس کی رنگت اس قدر کالی ہو گئی ہے، اس کے کالے پن میں اس کے میلے کچیلے گھنگرالے مرچ جیسے موٹے کالے سر کے بالوں نے اور اضافہ کیا تھا، وہ اتنی کمزور اور مریل تھی کہ ہڈیاں ہی ہڈیاں، سینہ دھنسا ہوا یہاں تک کہ اس کے پہنے ہوئے جگہ جگہ پیوند لگے کپڑوں میں بھی اس کی پسلیاں صاف دکھتی تھیں، کپڑے کیسے پہنے تھے کہ اگر صحیح و سالم حالت میں ہوتے تو سب کو ملا کے لوگ ڈریسنگ گاؤن کہتے۔

    اور جب بھی کوئی اس بچی سے پوچھتا ’’لڑکی تیرا باپ کون ہے؟‘‘ تو ایک فطری خوف اس پر طاری ہو جاتا اور وہ معصوم لہجے میں بولتی: ’’مجھے نہیں معلوم۔‘‘ اور جب پوچھنے والا پوچھتا ’’بچی تیری ماں کون ہے؟‘‘ تو بے خیالی میں کپڑوں کے ایک حصے کو اپنی انگلیوں میں مسلتی ، سڑک کے ایک کنارے کو بجھی بجھی نظروں سے دیکھتے ہوئے کچھ کہنا چاہتی مگر کہہ نہ پاتی اور یوں ہی منہ میں کچھ بڑبڑاتی اور کہتی ’’مجھے نہیں معلوم۔‘‘

    اور اگر پوچھنے والے کا جذبۂ تفتیش کچھ زیادہ بڑھ جاتا اور وہ بات کو دراز کرنا چاہتا تو پوچھتا ’’لڑکی تم رہتی کہاں ہو؟‘‘ تو پسینے میں بھیگی ہوئی انگلی سے ایک خستہ، ٹوٹے پھوٹے گھر کی طرف اشارہ کرتی جو کہ زمانے کے ستموں سے بس ابھی کسی بھی پل گرنے ہی والا تھا، یہاں اس گھر کی پہلی منزل پر اور وہیں اس بچی نے اپنے رات کے آرام کے لیے خود ہی ایک جگہ کا انتخاب کیا تھا دروازے کے پیچھے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر کے پاس، اور اسی کوڑے کے ڈھیر کے سامنے دن بھر کی جی توڑ محنت کے بعد اس کے جسم کو راحت ملتی اور یہیں سے وہ بچپن کے خوابوں کی ڈور ڈھیلی چھوڑتی، اور ننھے منے معصوم معصوم خواب بنتی۔

    رات کے ایک خاصے حصے کے ڈھل جانے کے بعد بچی یہ فراغت پانے میں تب ہی کامیاب ہوتی، جب وہ اپنی مکان مالکن کھو سٹھ بڑھیا کی خدمت سے نجات پاتی، وہ بڑھیا چڑیل سوکھی لکڑی جیسی ٹیڑھی کبڑی اس قدر بدمزاج اور بدذات تھی کہ خدا اس کی شکل و صورت کو غارت و برباد کرے، ایسی ترش مزاج چڑچڑی کہ ہر وقت گالیاں بکتی چیختی چلاتی کہ بچی کا جینا حرام کیا تھا۔

    یہ بچی اس کھوسٹ کم بخت بڑھیا کو خالہ خالہ کہہ کر پکارتی مگر اس بڑھیا نے الٹا بچی کا لقب ’’چوہیا‘‘ رکھا تھا، یہاں تک کہ بچی پورے محلے اور علاقے میں ’’چوہیا‘‘ کے نام سے ہی جانی اور پکاری جانے لگی، اور جب اسے کوئی چوہیا پکارتا تو فوراً جواب دیتی ’’جی‘‘ اس طرح بہت جلد اس کا اصلی پرانا نام اس کے حافظے سے مٹ گیا اور اس نے اپنے نام کو ماضی کے کسی نہاں خانے میں دفن کیا۔

    کیا اس بچی کا واقعی کوئی ماضی بھی تھا جیسے ہر انسان کا ہوتا ہے یا وہ اس کوڑے کرکٹ کے انبار سے ہی پھوٹ پڑی تھی، جیسے گھر کے آس پاس جمع شدہ گندے پانی سے ہری کائی خود بخود اگتی ہے، اس کی پیدائش کے حالات کے معنی اس کی خود کی نظر میں کیا تھے؟ اور وہ ان کے کیا معنی اخذ کرتی تھی؟ بچی کو کھلانے پلانے کے معاملے میں بھی بڑھیا کھوسٹ اور کم ذات ہی تھی، جو بچا کھچا گھر میں ہوتا وہ اس بچی کے آگے پھینکتی مگر بچی اف بھی نہ کرتی، بچی کا ایک مشہور و معروف نام بھی تھا جس کی بدولت یہ لوگوں میں مشہور تھی......اور یہ نام تھا ’’چوہیا‘‘ ۔

    کیوں نہ اس بے کس لڑکی کا نام چوہیا ہوتا؟ اس نام سے اس کو شکایت کیونکر ہوتی؟ اسے خدا کی مخلوق کی اس زبردست چوٹ سے کوئی شکوہ بھی نہ تھا، کیوں وہ اس نام سے خصوصاً نوازی گئی تھی، اسی لیے بچی کی دوستی ایک سچ مچ کی ’’چوہیا‘‘ سے ہو گئی تھی، اس کے اور چھوٹی چوہیا کے درمیان ایک تعارف اور چاہت کا رشتہ بندھ چکا تھا جو اس کے ساتھ اس کے فلیٹ میں رہتی تھی، خود ہی چنی ہوئی ایک جگہ ...... دروازے کے پیچھے، کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر، ہر چاہت کی کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے، اور ہر تعارف کی ایک ابتدا بھی ضرور ہوتی ہے۔

    ہوا یوں تھا کہ ایک رات جب بچی اس منتخب شدہ جگہ، دروازے کے پیچھے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر کے نزدیک اپنی ٹوٹی پھوٹی چٹائی پر لیٹ گئی تو کچھ دیر بعد نیند اس کی آنکھوں کے گرد گھومنے لگی۔ مگر نزدیک پڑے کوڑے کے ڈھیر سے کوئی رینگنے والی چیز اس کو زبردست پریشان کیے جا رہی تھی تو کروٹ بدل کر ماحول کا جائزہ لینے لگی، اور ہمہ تن گوش ہو گئی تو پریشانی کے عالم میں بھانپ گئی، اصل میں معاملہ کیا ہے؟ سرسراہٹ بڑھ گئی ، اب کوڑا بھی ادھر ادھر بکھرنے لگا، دیوار پر لٹکے گردوغبار سے لدے لال ٹین سے ایک مریل سی کرن میں ایک چھوٹا سا سرا ابھرا، جس میں دو خوفزدہ مگر چوکنی آنکھیں چمک رہی تھیں، چمکتی آنکھوں کو دیکھ کر بچی کو اس قدر ڈر لگا کہ اس نے چلانے کی کوشش کی مگر اس کی زبان بند ہو گئی، اور آواز حلق میں پھنس گئی، اس کے ہاتھ پاؤں شل ہو گئے مگر اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا، آنکھوں کے دو پپوٹے جم گئے اور وہ خوف و دہشت کی انتہا میں چلتی پھرتی چوہیا کا ہلتا جلتا سر دیکھ رہی تھی۔

    چوہیا اپنے جسم سے دھول جھاڑتے ہوئے کوڑے کے ڈھیر سے باہر آئی اور اپنی باریک دھار جیسی تیز ناک سے سونگھ رہی تھی، اس کی مونچھوں کے بال ہلتے تھے ، تھوڑی سی کوشش کے بعد اس کو کھانے کو ایک ٹکڑا ملا، حریصانہ انداز میں اسے ہاتھوں میں پکڑ کر کترنے لگی۔

    اور بچی خوف اور پریشانی کے عالم میں اپنی پناہ گاہ کی خاک پکڑ کر بیٹھی ......پھر اچانک بچی کے ذہن میں آیا کہ کیوں نہ اس چوہیا سے دوستی کی جائے، اس خیال سے ہی اس کو تھوڑی راحت ملی اور وہ چوہیا کو دیر تک دیکھتی رہی، جب کہ چوہیا اس پائے ہوئے ٹکڑے کو بار بار کترنے میں مصروف تھی اسی دوران غیر شعوری طور پر بچی سے ایک حرکت سرزد ہو گئی اور چوہیا نے فوراً کوڑے کے ڈھیر میں چھلانگ لگائی اور دیکھتے دیکھتے اس کی تہوں میں چھپ گئی اس ٹکڑے کی پروا کیے بنا جس کو وہ بڑے شوق سے کھا رہی تھی، ٹکڑے کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا اب بھی باقی تھا۔

    بچی کے چہرے پر ایک معنی خیز مسکراہٹ ابھری اور وہ سوچ میں پڑ گئی، کیا چوہیا واقعی اس سے ڈر گئی؟ یا چوہیا کو اس کی موجودگی کا بالکل اندازہ نہ تھا اور جب ہوا تو بھاگی؟ ......میرے اللہ کیا اس جیسی حقیر چیز کی بھی اتنی قدر و منزلت ہے اس دنیا میں کہ کوئی اس سے ڈرے ......کیا چوہیا اس کے بارے میں اتنے عظیم خیالات رکھتی ہے۔

    چوہیا کے چھوڑے ہوئے ٹکڑے کو بچی متواتر گھورتی رہی، اور خود سے کہنے لگی کہ اس میں بالکل شک کی گنجائش نہیں کہ چوہیا بھوکی تھی، اگر بھوکی نہ ہوتی تو اس ٹکڑے پر یوں نہ ٹوٹ پڑتی اور بار بار لقمے نہ نگلتی، کچھ دیر بعد اب بچی خود کوڑے کو الٹنے پلٹنے لگی تاکہ خود کی بھوک مٹائے، کوڑے میں سے کھانا تلاش کرنا کوئی نئی بات نہ تھی یہ تو بچی کا معمول تھا...... جب اسے زوروں کی بھوک لگتی تو وہیں کچھ تلاش کرکے کھا لیتی، مگر اس رات چوہیا کے چھوڑے ہوئے ٹکڑے کے سوا، اسے کچھ نہ ہاتھ آیا، بھوک کے باوجود طبیعت اس چھوٹے ٹکڑے کو کھانے پر مائل نہ ہوئی، اس لیے اس نے اس رات  بھوکے پیٹ سونے کا ارادہ کیا، خود کو تسلی دیتے ہوئے کہ چوہیا اس سے بہت زیادہ بھوکی تھی،اگر نہ ہوتی تو یوں ٹکڑے پر نہ ٹوٹ پڑتی، اس لیے ٹکڑے کی حقدار اس سے زیادہ چوہیا ہی تھی۔

    چوٹی چوہیا کھانے کی تلاش میں خود ہی کیوں نکلتی ہے؟ کیا اس کا بھی اپنا سگا کوئی نہیں جو اس کے لیے کھانا لاتا؟ اور اسے خود کھانا تلاش کرنے کی زحمت نہ اٹھانی پڑتی، وہ اس لیے کہ بچی کو معلوم تھا کہ بچوں کے لیے مائیں کھانا لاتی ہیں، لاتی ہی نہیں، ان کو اپنے ہاتھوں سے کھلاتی ہیں چاہے بچوں کا پیٹ بھرا ہی کیوں نہ ہو ......شاید اس بے چاری چوہیا کو بھی نہیں معلوم اس کے ماں باپ کون ہیں......ہوتے تو وہ اس طرح خود ہی تلاش میں نہ نکلتی ......خود اس کا بھی یہی حال تھا۔ واہ کتنی یکسانیت اور کتنی مماثلت ہے دونوں کے احوال میں ......انسانی چوہیا بہت دیر تک اسی طرح کے خیالات میں ڈوبی رہی ......پھر اس پر نیند کا غلبہ ہو گیا، تو اٹھ کر چٹائی پر دراز ہو گئی تاکہ جو مزید گفتگو خود سے کرنا باقی رہ گئی تھی وہ خوابوں کی حسین وادیوں میں پوری کرے۔

    اگلے دن بچی اپنی مالکن بڑھیا کی خدمت کے بوجھ  تلے برابر دبی رہی، اور وہ سب وصول کرتی رہی جو اس دن کھوسٹ بڑھیا نے اس کی قسمت میں مخصوص کرکے رکھا تھا، گالیاں، تھپڑ، لاتیں، مار مکے ...... اور جب اسے را ت گئے بڑھیاسے نجات ملی تو دوڑ کے اپنی منتخب شدہ جگہ دروازے کے پیچھے بیٹھ گئی اور جلدی سے کپڑوں کے تہوں میں چھپائی چیز کو تلاش کرنے لگی ......اس نے روٹی کا ایک ٹکڑا نکالا اور کونے میں پھینکا جہاں کل چوہیا کو دیکھا تھا، اور خود چٹائی پر لیٹ گئی، تھوڑی دیر کے بعد رینگنے کی آواز آئی اور بچی نے اپنی آنکھیں اس کونے میں دوڑا دیں اور ہمہ تن گوش ہو گئی ......دھیرے دھیرے کترنے کی آواز اس کو سنائی دی، اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا، اس نے باریک ناک والا چمکتا سر سہمے ہوئے انداز میں سونگھتے دیکھا، مونچھوں کے بال ہلتے جلتے ......چوہیا کو زیادہ دیر تلاش نہ کرنا پڑا ...... اور ٹکڑے کو قریب ہی پایا اور بے حد شادمانی اور اشتیاق سے اسے کترنے لگی ......وفور مسرت سے بچی کا دل جھوم جھوم اٹھا، کیونکہ اس کا چوہیا کو کھلانے کا منصوبہ پورا ہو گیا تھا۔

    اب کے بعد چوہیا کو ہر رات کھانا کھلانا بچی کا محبوب مشغلہ بنا، وہ چوہیا کے سامنے لقمہ پھینکتی ...... چوہیا لقمے کو پورا کھا جاتی، وہ دوسرا لقمہ پھینکتی تو چوہیا کے لیے اس کو پورا کھانا چیلنج بنتا ......چوہیا کو کبھی ڈر لگتا تو پچھلی ٹانگوں پر بھاگتی مگر پھر لقمے کو آدھا چھوڑنے کو بھی اس کا دل نہ کرتا، اور بنا ہچکچائے واپس لوٹتی اور چھوٹے چھوٹے لقمے نگلنے لگتی اور اپنی دو چمکتی آنکھوں سے برابر خوف کی نظروں سے بچی کو دیکھتی رہتی، اور خود بچی بھی چوہیا کی اس دانائی پر خوشی سے پھولے نہ سماتی ......ایک بار چوہیا نے بچے ہوئے ٹکڑے کو اپنی دم پر لادا، اپنے نرم و نازک ہاتھوں سے جیسے کھانے کے وقفے کو ذرا اور کھینچ کر کچھ زیادہ ہی محظوظ ہونا چاہتی ہو، بچی نے خیال کیا کہ اس سے بڑھ کر حسین اور دلکش نظارہ اور کیا ہو سکتا ہے؟ مسرت اور انبساط کا احساس بچی کی رگ رگ میں پیوست ہو گیا اور وہ بے قابو ہو کر کھلکھلا کر ہنس پڑی ......چوہیا ہنسی کی آواز سن کر ایسی بھاگی کہ اور پھر کبھی پلٹ کر نہ آئی......

    بچی اپنی اس حرکت پر بے حد نادم خود سے پوچھتی رہی، کیا چوہیا کو غصہ آیا اور اسی لیے  چھپ گئی؟ یا اس نے سوچا بچی اس سے کھلواڑ کر رہی ہے، اور کھلواڑ کا ذریعہ بننا چوہیا کو پسند نہ آیا؟ کیا اسے بچی سے کوئی خطرہ محسوس ہوا یا یہ سوچا بچی کے ذہن میں چوہیا کو کوئی تکلیف پہنچانے کا ارادہ ہے؟ ......نہیں ایسا تو بالکل نہ تھا ......دونوں صورتوں میں چوہیا کی سوچ غلط ہے ...... نہ ہی بچی اس سے کھلواڑ کرنا چاہتی تھی نہ اسے کوئی ایذا پہنچانا چاہتی تھی ......کاش چوہیا کو اندازہ ہوتا کہ وہ اسے کس قدر چاہتی ہے اور مانتی ہے۔

    دن گزرتے رہے اور بچی نے اپنی روٹھی محبوب چوہیا کو منانے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی، وہ اس پر واضح کرنا چاہتی تھی کہ وہ اسے کس قدر دل و جان سے چاہتی ہے ......پیار کرتی ہے ......کیونکہ بچی پر یہ راز کھل گیا تھا کہ اس کی اس چھوٹی سی مخلوق کے ساتھ وابستگی کے پیچھے کون سا جذبہ کارفرما ہے ......یعنی دونوں کی زندگی کس قدر یکساں ہے، دونوں کی زندگی میں ایک کمال کی مشابہت اور مماثلت ہے ......یہاں تک کہ کھانے کے معاملے میں بھی دونوں کی تقدیر ایک ہی قلم سے لکھی گئی ہے۔

    اس چھوٹی سی چوہیا کی صحبت میں رات کا زیادہ تر وقت گزارنا بچی کا مشغلہ بن گیا تھا، وہ دونوں رات بھر جاگتیں اور بہت خوش و خرم رہتیں جبکہ رات کے وقت گھر کے آس پاس بالکل ہیبت ناک سناٹا چھایا رہتا، اگرچہ بچی اس خوشی کا معاوضہ دن میں اس کھوسٹ بڑھیا کی خدمت میں ضرور ادا کرتی ......بڑھیا بوسیدہ ٹیڑھی ہڈی والی جھریوں والی کھال میں لپٹی ہوئی ......خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ بچی دن کے طویل اور تکلیف دہ گھنٹے کیسے بسر کرپاتی تھی، اس کے ہاتھ کام پر کیا آتی کہ سیڑھیاں اترنا چڑھنا، گھر کے گرد بار بار گھومنا شروع ہو جاتا، اور دن بھر بنا کسی وقفے یا آرام کے دشوار ترین کاموں میں لگ جاتی، بالکل اس لٹو کی طرح جس سے بچےکھیلتے ہیں......بچوں کے لیے وہ مزے دار لمحات ہوتے ہیں جب لٹو پر موٹا طاقتور دھاگا چڑھاتے ہیں اور تھوڑا سا دھاگا پھینکنے کے لیے بچاتے ہیں جس سے لٹو میں مزید زور پیدا ہوتا ہے، ادھر لٹو زور سے پھینکا ادھر وہ گھومتا رہا، جب چکر میں کمی آئی تو ٹھہراؤ کے ساتھ گھومتا ہے اور دائرہ بناتا ہے مگر پھر اچانک چڑھائے ہوئے دھاگے کا زور اس کو تیز تیز گھومنے پر اکساتا ہے،اور لٹو گھومتا رہتا ہے، یہاں تک کہ بچے تھک جاتے ہیں اور ان کا جی اس کھیل سے بھر جاتا ہے اور لٹو کو وہ زمین پر پھینک کے چلے جاتے ہیں۔

    کیا اس بچی کا حال بھی لٹو کی مانند نہ تھا؟ گھر کے سارے لوگ جن میں سر فہرست کھوسٹ بڑھیا تھی، جب چاہتے اس کا دھاگہ کھینچ کے اسے زمین پر زور سے پٹک دیتے اور لٹو رات گئے تک گھومتا رہتا، ناچتا رہتا، کیوں نہ گھر کا یہ انسانی لٹو نجات ملنے پر رات کا وقت محبوب چوہیا کے ساتھ گزارنے میں آرام کی سانسیں لیتا؟

    بچی کے لیے جو ممکن ہوتا وہ اس محبوب دوست کے لیے جمع کرکے رکھتی اور رات کے وقت اس حسین ملاقات میں چوہیا کو کھلاتی نذرانہ کے طور پر ...... اور چوہیا کو اپنے ہاتھوں سے پیٹ بھر کر کھلانے میں وہ عجیب و غریب اطمینان محسوس کرتی ......چوہیا آتی، تھوڑے فاصلے پر رہتی ...... بچی ٹکڑا پھینکتی ......وہ کھاتی ...... یہ مزید پھینکتی جاتی ......وہ کھاتی رہتی ...... اس طرح دونوں ایک دوسرے  کی خاطریں کرتیں۔

    دن بیتتے گئے، آپسی پیار و محبت بڑھتا گیا، چوہیا بچی سے اس قدر مانوس ہو گئی تھی کہ اب تو سیدھے اس کے ہاتھ سے کھانا کھاتی، بیچ بیچ میں بچی کا دل بہلانے کے لیے یہاں چلتی وہاں پھرتی، اچھلتی کودتی، پھدکتی ...... جیسے دونوں سٹیج پر کوئی مزاحیہ کھیل کا مظاہرہ کر رہی ہوں، اور اپنا اپنا رول بخوبی نبھا رہی ہوں، بچی کی آنکھوں سے شوق اور ولولے کے ملے جلے تاثر چھلکتے ......چوہیا اپنا رول اداکرکے تھوڑے فاصلے پر بیٹھتی اور ٹکٹکی باندھ کر اسے دیکھتی، اس کی مونچھیں ہلتی جلتی ......جیسے کہہ رہی ہوں ...... لو میرے پاس جو تھا وہ میں نے تم کو سونپ دیا۔ اب تم بھی اپنا حصہ ادا کرو ......بچی اطمینان کے ساتھ اپنی چٹائی پر لیٹتی اورچوہیا کو دنیا بھر کے قصے ، کہانیاں، حکایات، لطیفے ، غرض جو کچھ دیکھا یا سنا تھا وہ چوہیا کو سناتی ......کبھی کبھی اپنی یادداشت پر زور دیتے ہوئے کہتی ...... جو بھی معصوم ذہن میں آتا ......اس طرح مستقبل کے لیے خوابوں میں اونچے اونچے محل تعمیر کرتی اور چوہیا کو سناتی رہتی۔

    اسی طرح بچی کی شامیں گزرنے لگیں  اطمینان و سکون سے ......لیکن ایک دن آیا اور اس  کھوسٹ بڑھیا نے بچی کو طلب کیا اور حکم دیا فوراً اوپر والی منزل پر چلے جانے کا جہاں اسے ایک شدید بیمار ہمسایہ عورت کی خدمت پر متعین کیا گیا تھا ......بچی کے پاس عذر کا کوئی سامان نہ تھا، اور وہ چپ چاپ حکم کی تعمیل میں لگ گئی۔ بیمار عورت جوڑوں کی تکلیف میں مبتلا تھی اور وہ بستر کے ساتھ لگ گئی تھی، کروٹ بدلتے وقت اس قدر چیختی چلاتی جیسے ہڈیوں میں موٹے موٹے کیل ٹھونک دیے گئے ہوں، تھوڑا سا بھی ہلتی تو آہ و فغاں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ...... ایسے میں اس بچی کی بے بسی کا عالم قابل دید تھا ...... چہرے پر پیلی مردنی چھا گئی تھی، کانوں میں مریضہ کی چیخ و پکار کی صدائیں گونجتی تھیں ...... مریضہ کبھی غشی کی حالت میں چلی جاتی اور کمرے میں سکوت چھا جاتا ......جیسے مریضہ پر کسی بھوت یا جن کا سایہ ہو جو اسے ڈراتا اور دھمکاتا ہو ...... بچی کے دل میں طرح طرح کے شکوک و شبہات پیدا ہوتے، جب اس پیلی صورت کو دیکھتی جو شکنوں سے بھری تھی جیسے عذاب اور کڑواہٹ میں مبتلا ہو، اس کی ادھ کھلی آنکھوں سے ایک اداس اور پھیکی کرن نکلتی۔ منہ کھلا رہتا، ہونٹ الگ الگ جہاں سے وہ بجھی بجھی بوجھل سانسیں لے رہی تھیں ......بچی کو وہم ہوتا گیا یہ عورت اب اس انتظار میں ہے کہ کب اسے قبر کی گہرائیوں میں پہنچایا جائے یا کسی جن یا بھوت کی محفل میں طلب کی گئی ہے جہاں کی جادوئی اور ڈراؤنی دنیا سے یہ مریضہ چوری چھپے فرار کی تاک میں ہے، مگر خود کو بے بس پا کر نجات نہیں پا سکتی۔

    بچی کو سب سے شدید دکھ تھا اپنی محبوب چوہیا سے بچھڑنے کا ...... اسے یہ خیال ستا رہا تھا کہ وہ چوہیا کو اپنے ہاتھوں سے کھلا نہیں پا رہی ہے ...... سوچتی ...... کیا چوہیا اس کو ڈھونڈتی ہو گی؟ کہیں وہ اس کی طرح اچانک غائب ہونے کو اس کی لاپرواہی اور بھلا دینے سے تعبیر تو نہیں کرتی ...... یا ہو سکتا ہے گھر والے جو گفتگو کرتے ہوں گے میرے بارے میں اس سے وہ سمجھ گئی ہو گی کہ اصل میں واقعہ کیا ہے؟

    کتنی بار بچی نے اندھیرے کا سہارا لے کر محبوب چوہیا سے ملنے کی خواہش کی ، تاکہ اسے یقین دلائے کہ آپسی پیار و محبت مستحکم ہے، وہ اس کو بھلا نہیں سکتی ......کتنی بار چاہا کہ جو اسے کھانے کو ملتا وہ اپنی دوست کو کھلاتی ......تھوڑی دیر اس کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو کرتی ، مگر آڑے آئی یہ بیمار ہمسایہ عورت جو چمگاڈروں والی زندگی گزار رہی تھی ...... راتوں کو جاگتی، دن میں اونگھتی...... یہاں تک کہ اپنی محبوب چوہیا سے ایک بار بھی ملنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ کئی بار اس کے من میں آیا کہ چپکے سے بھاگ جائے مگر بڑھیا کا ڈر لاحق تھا ......پھر بیمار عورت کے پاس ہی لگی رہنے  میں عافیت پائی کہ ہو سکتا ہے ، کبھی ٹھیک ہو جائے اور اسے چھٹکارا ملے۔

    اگلی صبح بچی دن میں مریضہ کے پاس ہی بیٹھی تھی کہ اس کے کانوں میں کہرام اور ہنگامے کی آوازیں بلند ہو گئیں، لوگوں کی چلت پھرت بہت ہی زیادہ ہو گئی ...... تو یہ ماجرا جاننے کا اشتیاق اس کو بھی ہوا۔ وہ فوراً کمرے سے باہر آئی اور سیڑھی کی کھڑکی سے جھانکنے لگی ......تو کیا دیکھا کہ لوگوں کا ایک بڑا ازدحام گھر کے صحن میں اکٹھا ہوا ہے جن میں زیادہ بچوں  کی تعداد تھی، بچوں نے ایسا شور وغل مچا رکھا تھا کہ اور باقی سب آوازیں دب گئی تھیں، وہ اس قدر چیختے تھے ، شور مچاتے تھے کہ مردوں اور عورتوں کی آوازیں سنائی نہیں دے رہی تھیں، بچی نے وہ الفاظ سننے کی کوشش کی جو کھوسٹ چڑیل بڑھیا بڑبڑا رہی تھی ...... بڑھیا کہتی تھی ’’اور آخر میں نے تجھ کوپکڑ ہی لیا ...... تو موذی حیوان ...... سارے مصیبتوں کی جڑ ...... آفت کی پر کالی ...... اب تو مجھ سے بچ کر کہاں جائے گی۔‘‘

    بچی سیڑھی سے گرنے ہی والی تھی، جب بڑھیا کو یہ خرافات بکتے سنا اس پر کچھ کچھ واضح ہونے لگا کہ بڑھیا یہ الفاظ کس کے لیے استعمال کر رہی ہے ......’’تم نے میرا کون سا کپڑا بنا کھائے چھوڑا  ...... کون سا کھانا بچا جس پہ تو نے ڈاکہ نہیں ڈالا ...... بدبخت......ابھی تجھے تیرے کیے کی سزا مل جائے گی۔‘‘

    چوہیا کی چیں چیں کی آواز بچی کے کانوں تک پہنچ گئی جو اس کے لیے غیر مانوس نہ تھی، مگر بچوں کے شور میں چوہیا کی آواز گم ہو گئی، بچی تھر تھر کانپنے لگی  ......وہ تیزی سے زینہ سے اتری، اور زینے کے آخری حصے پر اس کے قدموں میں تیزی آئی  ......لوگوں کے ہجوم نے گھر کا احاطہ کیا تھا، ہجوم کے پیچھے جو دروازہ تھا، بچی ڈری ڈری سہمی حیران و پریشان اس دروازے سے چپک گئی، اس نے یکایک دروازہ کھولا اور خود آگے آئی  ...... بھیڑ کو چیرتے ہوئے بچی نے ایک سوراخ سا بنایا اور اندر داخل ہو گئی اور دیکھا بڑھیا کے ہاتھوں میں لوہے کا چوہے دان ہے جس میں اس کی محبوب دوست مضطرب، نڈھال، بے حال خون کے آنسو رو رہی ہے، چوہیا کو نہ چین تھا نہ قرار ...... یکے بعد دیگرے سلاخوں کو پکڑتی کہ کاش فرار کا ایک موقع اسے میسر ہو جاتا۔

    بچی کا خون کھولنے لگا۔ یہ دیکھ کر کہ لوہے کی پکڑ ابھی اسی وقت چوہیا کی گردن مروڑ دے گی اور اس نازک جان کی شمع زندگی پلک جھپکتے ہی بجھ جائے گی  ...... بچی خشک ہو رہی تھی اور چوہے دان میں پھنسی دوست کو دیکھنے لگی  ...... اسے چوہیا کا سر دکھا......مونچھیں ہل رہی تھیں مگر سر خون میں لت پت تھا  ......چوہیا بچنے کے لیے آخری بار جان توڑ کوشش کر رہی تھی، مگر اب اسے بھی لگ رہا تھا کہ اس کا معاملہ سلجھنے والا نہیں  ......دونوں کی آنکھیں ملیں، بچی کی آنکھیں اور چوہیا کی آنکھیں، بچی نے دیکھا کہ جان بچاتے بچاتے اب چوہیا کو چکر آرہے ہیں، اور اس پر غش طاری ہو جاتے ہیں  ...... چوہیا اس حالت میں بھی چیں چیں کی آوازیں بلند کرتی تھی کہ کاش کوئی اس کی مدد کے لیے آئے  ...... مگر چوہیا کی آوازیں شور میں گم ہو گئیں  ...... بچی کا ضبط ٹوٹ گیا اور وہ دوڑ کر چوہے دان پر کود گئی  ...... مگر کھوسٹ بڑھیا کے گرد ہجوم نے بچی کو چوہیا کو آزاد کرانے سے روکا اور آناً فاناً بچی کی نظروں سے چوہے دان اوجھل  ہو گیا، اور مدد کی چیں چیں  ...... اور آوازیں اس گھٹن والے ماحول میں گونجنے لگیں  ...... اتنے میں چڑیل کھوسٹ بڑھیا کی آواز ابھری  ......’’اس نجس حیوان کو جلانے کے لیے مٹی کا تیل لاؤ ...... ہم اس کو محلے میں جلا ہوا چھوڑیں گے...... واہ کیا خوب نظارہ ہے بچو۔‘‘  ...... بچوں نے تالیاں بجائیں  ...... پر بچی گھر کے دروازے کے ساتھ چمٹی ہوئی تھی  ...... بے بس و لاچار اور اس کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے  ......بڑھیا کا ہاتھ مٹی کے تیل کی بوتل لے کر بڑھا اور تیل کے قطرے سلاخوں سے چوہیا کے بدن پر ٹپکائے  ...... اس نے ہمسایوں کو خبردار کیا کہ وہ اپنے اپنے گھروں کے دروازے بند کر یں تاکہ جلتی ہوئی چوہیا کسی کے گھر میں داخل نہ ہو اور وہاں  آگ نہ لگے، سارے دروازے جلدی جلدی بند ہو گئے  ...... ہجوم نے ایک جلتا ہوا آگ کا گولہ چوہے دان سے باہر آتے دیکھا، بچی دروازے کے ساتھ لگی آگ کے اس گولے کا مشاہدہ کر رہی تھی  ...... جیسے اس آگ کا ایک حصہ اس کے تن بدن کو لگ چکا تھا اور وہ آگ کی سوزش سے تلملا رہی تھی۔ اس نے دیکھا کہ آگ کا گولہ دروازے کی طرف لپکا......وہ آگے بڑھی اور دروازہ کھول دیا۔ اور آگ کا گولہ گھر میں داخل ہوا۔ بچی بھی اس کے پیچھے پیچھے ہو لی ، کھوسٹ بڑھیا گالیاں بکتی ہوئی جزع فزع کرتی ہوئی، دھمکیاں دیتے ہوئے چلانے لگی  ...... اس کو اپنی خطا کا احساس ہو رہا تھا کہ کتنا بڑا خمیازہ اس کو بھگتنا پڑے گا  ...... جوں ہی وہ اپنے مکان کے اندر داخل ہوئی  ...... دروازہ خودبخود بند ہو گیا، خوف کی ایک لہر پورے ہجوم میں دوڑ گئی اور لوگ دروازے کے پاس جمع ہو گئے  ...... ان کی زبانیں ان کے حلق میں بند ہو گئیں اور کچھ نہ کہہ پائے ...... اچانک شور بڑھا اور آواز بلند ہوئی، آگ! آگ!

    اور ایک عورت چادر کو کھینچتے ہوئے بولی، خبردار! کوئی دروازے کے پاس نہ آئے ۔ یہ چوہیا نہیں کوئی جن ہے۔

    ایک شور پھر بلند ہوا، آگ کے شعلے آسمانوں سے باتیں کرنے لگے، فریاد و فغاں کی آواز بھی بلند ہوئی، لیکن کوئی دروازے کے قریب بھی بڑھنے کی ہمت نہ کر سکا، شعلے آسمانوں سے باتیں کر رہے تھے، ان شعلوں میں ایک آواز تھی، خوفناک، ہیبت ناک۔