سانپوں کے جوتے
ترجمہ:ڈاکٹر صہبا جمال شاذلی( نیو زی لینڈ)
ننھی سی بچی اس کے انکل سیئم (Sam) کے پیروں کے درمیان بیٹھی تھی۔اس کے والدین، ایلس (Alice اور ریچرڈ Richard) بھی وہیں،ان کے قریب بیٹھے تھے۔ ان کی طلاق ہو چکی تھی اور ایلس نے دوسری شادی کر لی تھی۔ وہ ایک دس مہینہ کا بچہ اپنے ساتھ لیے ہوئے تھی۔یہ دراصل سیئم کی تجویز تھی کہ وہ سب مل کر ایک مرتبہ بیٹھیں اور اسی سلسلہ میں یہ اس وقت تالاب کے کنارے ایک مسطح چٹان پر بیٹھے تھے جو تالاب سے زیادہ دور نہیں تھی۔
’’دیکھیں‘‘ چھوٹی لڑکی نے کہا۔
سب ہی نے مڑ کر دیکھا کہ ایک چھوٹا سا سانپ دو چٹانوں کے بیچ سے باہر آرہا تھا۔
’’یہ تو کچھ بھی نہیں ہے‘‘ریچرڈ نے کہا۔
’’یہ سانپ ہے‘‘ ایلس نے کہا۔ ’’ تمہیں ان سے بہت محتاط رہنا چاہیے۔ کبھی انہیں چھونا مت۔‘‘
’’معاف کریں‘‘ ریچرڈ نے کہا۔ ’’ہمیشہ ہر چیز سے احتیاط برتنی چاہیے۔‘‘
ننھی لڑکی یہی سننا چاہتی تھی کیونکہ اسے سانپ کا اس طرح دیکھنا پسند نہیں آیا تھا۔
’’جانتی ہو سانپ کیا کرتے ہیں ؟‘‘سیئم نے لڑکی سے پوچھا۔
’’کیا؟ ‘‘ لڑکی نے سوال کیا۔
’’وہ اپنی دم منہ کے اندر لے کر خود کو ایک گول گھیرے کی شکل میں موڑ لیتے ہیں۔‘‘
’’وہ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟‘‘ بچی نے پوچھا۔
’’تا کہ وہ آسانی سے پہاڑوں سے نیچے آ سکیں ۔‘‘
’’وہ سیدھی طرح سے چلتے کیوں نہیں؟‘‘
’’ان کے پیر نہیں ہوتے ۔دیکھیں ؟‘‘ سیئم نے کہا۔
سانپ نے شاید انسانوں کی موجودگی کو محسوس کر لیا تھا اسی لیے وہ سانس روکے خاموش ٹھہرا رہا۔
’’اب اسے سچائی بتاؤ ۔‘‘ ایلس نے سیئم سے کہا۔
بچی نے اپنے انکل کی طرف دیکھا۔
’’ان کے پیر ہو تے ہیں ،لیکن وہ گرما میں انہیں چھوڑ دیتے ہیں۔‘‘ سیئم نے کہا۔’’ اگر تمہیں کبھی جنگل میں چھوٹے چھوٹے جوتے دکھائی دیں تو سمجھ لینا کہ وہ سانپوں کے ہیں۔‘‘
ایلس نے دوبارہ کہا ’’ اسے سچائی بتاؤ ۔‘‘
’’تخیل حقیقت سے بہتر ہے ۔‘‘ سیئم نے ننھی لڑکی سے کہا۔
ننھی لڑکی نے پیار سے چھوٹے بچے کو تھپتھپایا۔ وہ اس وقت چٹان پر بیٹھے سارے ہی لوگوں سے محبت کرتی تھی۔ہر شخص خوش تھا سوائے اس کے کہ سارے بڑے لوگوں کے ذہنوں کے پیچھے یہ خیال گردش کر رہا تھا کہ ان کا پھر اس طرح یکجا ہونا ایک بےتکا اور مضحکہ خیز عمل تھا۔ایلس کا شوہر اپنے باپ کی دیکھ بھال کرنے کے لیے ، جو بیمار تھا، جرمنی گیا ہوا تھا۔جب سیئم کو اس بات کا پتہ چلا تو اس نے ریچرڈ کو ، جو اس کا بھائی تھا ،بلا لیا۔ ریچرڈ کو تینوں کا ایک ساتھ ملنے کا خیال پسند نہیں آیا۔ سیئم نے اسی سلسلہ میں دوسرے دن فون کیا تو ریچرڈ نے کہہ دیا کہ وہ اس بارے میں بات کرنا بند کرے۔ لیکن جب سیئم نے اسی رات پھر سے فون کیا تو ریچرڈ نے ہامی بھر لی ، جانتے ہوئے بھی کہ اس کی کوئی اہمیت نہیں۔
وہ سب تالاب کے کنارے چٹان پر بیٹھے تھے۔ دوپہر میں وہاں پر جانوروں کی دیکھ بھال کرنے والے افسر نے بچی کو اپنی دوربین سے درختوں پر بیٹھے کوؤں کو دکھایا۔ وہ بہت متاثر ہوئی اور پھر ایک کوے کے لیے ضد کرنے لگی۔
’’میرے پاس کوؤں کے بارے میں ایک بڑی اچھی کہانی ہے۔‘‘سیئم نے کہا۔ ’’میں جانتا ہوں انہیں کوا (crow) کیوں کہا گیا۔ دیکھو یہ سب چڑیاں ہی تھیں۔اور راجا کو ہمیشہ تنگ کیا کرتیں۔لہٰذا اس نے اپنے ایک ملازم سے کہا کہ ان سب کو مارڈالو۔ ملازم ان چڑیوں کو مارنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ باہر چلا گیا ۔ ان کی طرف دیکھا اور دعا کرنے لگا۔’’بڑے ہو جاؤ، بڑے ہو جاؤ (Grow, Grow) اور معجزانہ طور پر وہ بڑے ہو گئے۔ راجا کا اصول تھا کہ وہ کوےکے جتنے بڑے پرندے کو نہیں مار سکتا تھا۔اب راجا ، کوے اور ملازم سب خوش ہو گئے۔‘‘
’’لیکن انہیں کوے (crows) کیوں کہا گیا ؟‘‘ بچی نے اصرار کیا۔
’’وہ ایسا ہے کہ‘‘ سیئم نے کہا ۔’’بہت بہت عرصہ پہلے کسی ماہر لسانیات نے یہ کہانی سنی۔لیکن اس نے غلط سن لیا۔ملازم نے ’بڑے ہوجاؤ‘ (grow) کہا تو اس نے سنا ’ ‘crow ۔ اور بس تب ہی سے وہ کوا ‘crow’ کہلایا۔
ایلس نے پھر کہا ۔’’اسے سچائی بتاؤ۔‘‘
’’یہی سچائی ہے ۔‘‘سیئم نے کہا۔’’ ہمارا بہت سارا ذخیرہ الفاظ اکثر توڑ مروڑ دیا جاتا ہے۔‘‘
’’کیا یہ سچ ہے؟ ‘‘ بچی نے اپنے باپ سے پوچھا۔
’’مجھ سے نہ پوچھو‘‘اس نے جواب دیا۔
کچھ عرصہ پہلے ریچرڈ اور ایلس نے شادی کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے منگنی کر ڈالی۔ سیئم نے ریچرڈ کو اس شادی سے روکنے کی بہت کوشش کی ۔اس نے کہا کہ تم بندھ جاؤگے۔تم اپنے فیصلے لینے کے لیے آزاد نہیں رہ پاؤگے۔اگر وہ فضائی فوج کا عادی نہ ہوتا تو وہ ہرگز بھی چوبیس سال کی عمر میں شادی کے بارے میں نہ سوچتا۔
سیئم کو اچھا نہیں لگا جب اس نے ایلس کو ایک طرف لے جاکر ( وہاں دل کی شکل کے ڈبے رکھے تھے جن میں دل کی شکل کی پودینہ کی گولیاں ، دل کی تصویریں چھپے کاغذ میں لپیٹے رکھی تھیں ، ہر مہمان کے لیے) کہا کہ وہ یہ شادی نہ کرے۔پہلے تو ایلس نے سمجھا کہ یہ کوئی مذاق تھا۔ ’’ تم مجھے بہت گھٹیا آدمی لگ رہے ہو ‘‘اس نے سیئم سے کہا۔
’’یہ زیادہ دن چلے گا نہیں۔‘‘سیئم نے کہا، ’’ یہ مت کرو۔‘‘ اس نے دل کی شکل کا ڈبہ اسے دکھا کر کہا ، ’’ اس کمبخت کی طرف دیکھو۔‘‘
’’وہ میری تجویز نہیں تھی۔ وہ آپ کی ماں کا خیال تھا۔‘‘ ایلس نے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔سیئم اسے جاتا ہوا دیکھتا رہا۔ اس نے جالی نما، ہلکے بادامی رنگ کے کپڑے کا لباس اور چمکتے ہوئے جوتے پہن رکھے تھے۔ وہ بہت خوبصورت تھی۔ سیئم بالکل نہیں چاہتا تھا کہ وہ اس کے بھائی سے شادی کرے جو اپنی زندگی میں ہمیشہ باہر نکالا گیا۔پہلے ماں کی طرف سے اور پھر فضائی فوج سے۔ (’’جب تم نیلے آسمان میں اڑو تو میرے بارے میں ضرور سوچ لینا‘‘ ان کی ماں نے ایک مرتبہ ریچرڈ کو لکھ کر بھیجا تھا۔ اوہ کرائیسٹ! ) اور اب وہ اپنی بیوی کے زیرنگرانی ہوگا۔
جب گرما میں ریچرڈ اور ایلس نے شادی کرلی ، تو انہوں نے سیئم کو چھٹیاں ان کے ساتھ بتانے کے لیے مدعو کیا۔یہ اچھی بات تھی کہ ایلس اپنے دل میں سیئم کے تعلق سے کوئی بغض نہیں رکھتی تھی۔ وہ اپنے شوہر کے لیے بھی اپنے دل میں کوئی عناد نہیں رکھتی تھی جب کہ اس نے آرام کرسی میں جلا کر سوراخ کردیا تھا ، اور کشتی کو طوفان کے وقت جھیل میں لے جا کر اس کے مرکزی باد بان کو اتنی بری طرح سے نقصان پہنچایا کہ وہ ناقابل مرمت ہو گیا۔وہ بہت صابر عورت تھی۔سیئم اس کے لیے پسندیدگی کے احساسات رکھتا تھا۔ سیئم کو ایلس کا ریچرڈ کے لیے پریشان ہونا پسند تھا جب وہ طوفان میں کشتی لے کر گیا تھا۔ سیئم ہر سال ہی اپنی گرما کی چھٹیوں کا کچھ حصہ ضرور ان کے ساتھ گزارتا تھا۔ اور ہر یوم تشکر پر ان کے گھر جاتا تھا۔ دو سال پہلے ، جب سیئم مطمئن ہو چکا تھا کہ ان کے درمیان سب ٹھیک چل رہا تھا ، ریچرڈ نے کہا کہ وہ طلاق لے رہے تھے۔اگلے دن جب ناشتہ کے بعد سیئم اور ایلس اکیلے تھے، اس نے طلاق لینے کی وجہ جاننی چاہی۔
’’اس نے سارا فرنیچر جلا دیا۔‘‘ایلس نے کہا ، ’’ کشتی کے ساتھ تو وہ پاگل کی طرح برتاؤ کرتا تھا۔ اور اس سال تین مرتبہ اس نے مجھے ڈبونے کی کوشش کی کیونکہ میں کسی سے متاثر ہو رہی تھی۔‘‘
’’تم کس میں دلچسپی لے رہی تھیں ؟‘‘
’’تم جانتے ہو ، کسی میں بھی نہیں۔‘‘
’’میں جاننا چاہتا ہوں ایلس ، وہ کون ہے ؟‘‘
’’ہینس (Hans) ‘‘
’’ہینس ، کیا وہ جرمن ہے ؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’کیا تم اس جرمن سے محبت کرتی ہو ؟‘‘
’’میں اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہوں گی۔ تم کیوں مجھ سے بات کررہے ہو ؟کیوں نہیں تم جا کر اپنے بھائی کے ساتھ ہمدردی کرتے ۔‘‘
’’کیا وہ اس جرمن کے بارے میں جانتا ہے ؟‘‘
’’اس کا نام ہینس ہے۔‘‘
’’وہ ایک جرمن نام ہے۔‘‘ سیئم نے کہا اور باہر چلا گیا تاکہ ریچرڈ کو ڈھونڈے اور اسے سمجھائے۔
ریچرڈ اپنی بیٹی کے پھولوں کے باغ کے پاس نیچے بیٹھا تھا اور سامنے اس کی بیٹی گھاس پر بیٹھے اپنے پھولوں سے باتیں کررہی تھی۔
’’تم نے ایلس کو پریشان تو نہیں کیا ؟ کیا ہے؟‘‘ریچرڈ نے کہا۔
’’ریچرڈ وہ اس دو ٹکے کے جرمن کے ساتھ تعلقات رکھتی ہے ۔‘‘سیئم نے بتایا۔
’’اس کا کسی چیز سے کیا تعلق ہے؟‘‘
’’آپ لوگ کس بارے میں بات کررہے ہیں ؟‘‘بچی نے پوچھا ۔دونوں خاموش ہو گئے اور سنہرے پھولوں کی طرف دیکھنے لگے۔
اس جرمن کے بارے میں بات چیت کے بعد ،ریچرڈ نے سیئم سے کار میں لمبی ڈرائیو پر جانے کے لیے کہا۔اور اب وہ تیس یا چالیس میل کی مسافت طے کرنے کے بعد وہ اس شراب خانہ پہنچے جو دونوں نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا اور دونوں میں سے کسی کو بھی کوئی خاص پسند نہیں آیا۔سیئم وہاں بیٹھے دو گورے اور سنہرے بالوں والے خلط لباسی نوجوانوں کے بیچ ہورہی گفتگو میں دلچسپی لینے لگا۔وہ حیران تھا کہ کیا ریچرڈ جانتا تھا کہ وہ عورتیں نہیں تھیں۔ویسے وہ بھی ان کی بات چیت سے کوئی راستہ نہیں نکال پا رہا تھا۔اور پھر اس نے ایلس کے بارے میں بات کرنی شروع کی۔
’’کیا تم اب بھی ایلس سے محبت کرتے ہو ؟‘‘
’’میں نہیں جانتا۔‘‘ ریچرڈ نے کہا ۔’’ میرے خیال سے تم صحیح تھے۔ فضائیہ ، ماں اور شادی......‘‘
’’وہ سچ مچ کی عورتیں نہیں ہیں۔‘‘ سیئم نے کہا۔
’’ کیا؟‘‘
سیئم نے سوچا کہ شاید ریچرڈ ان ہی دو لوگوں کو گھور رہا تھا جنہیں وہ خود بھی دیکھ رہا تھا۔ سیئم کو غلط فہمی ہو گئی تھی۔ریچرڈ تو سارے شراب خانہ پر یونہی نظر دوڑا رہا تھا۔
’’وہ دو گورے سنہرے بالوں والے نو جوان جو بار سٹول پر بیٹھے ہیں ، وہ آدمی ہیں۔‘‘
ریچرڈ نے اب غور سے دیکھا۔’’ کیا تمہیں یقین ہے؟ ‘‘ اس نے کہا۔
’’بالکل ، میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں۔ جانتے ہو میں نیویارک شہر میں رہتا ہوں۔‘‘
’’ہو سکتا ہے کہ میں تمہارے ساتھ تمہارے گھر رہنے کے لیے آ جاؤں ۔آ سکتا ہوں ؟‘‘
’’تم تو ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ نیویارک میں رہنے کی بجائے مر جانا بہتر سمجھوں۔‘‘
’’کیا تم چاہتے ہو کہ میں اپنے آپ کو مار ڈالوں یا تمہارے یہاں آکر تمہارے ساتھ رہنے لگوں ؟‘‘
’’اگر تم چاہتے ہو تو‘‘سیئم نے لاپرواہی سے کندھے اچکاتے ہوئے کہا ، ’’ وہاں صرف ایک خواب گاہ ہے ، معلوم ہے نا۔‘‘
’’میں تمہارے اپارٹمنٹ آچکا ہوں ،سیئم۔‘‘
’’میں صرف تمہیں یاد دلانا چاہتا تھا۔لگتا نہیں کہ تم واضح طور پر سوچ رہے ہو۔‘‘
’’تم صحیح کہہ رہے ہو ‘‘ ریچرڈ نے کہا۔’’ وہ کمبخت جرمن۔‘‘
شراب خانہ کی شراب پیش کرنے والی خاتون نے خالی گلاس سمیٹے اور ان کی طرف دیکھا۔سیئم نے اس سے کہا’’ اس شریف انسان کی بیوی کسی اور شخص سے محبت کرتی ہے۔‘‘
’’میں نے اتفاقاً سن لیا‘‘اس نے کہا۔
’’شاید جرمن آدمی ، امیریکن آدمیوں کی طرح ڈراؤنے نہیں ہیں ‘‘اس نے پوچھا ۔’’کیا اور شراب بھر لاؤں ؟‘‘
جب ریچرڈ سیئم کے ساتھ رہنے کے لیے آگیا ، اس نے اپارٹمنٹ میں مختلف جانور لانے شروع کر دیے۔ ایک کتا اور پھر ایک بلی لے آیا جو سرما کے دوران وہیں رہے۔ ایک نیلے رنگ کا طوطا جو بہت ہی چھوٹے پنجرے میں قید تھا اور ریچرڈ چڑیوں کے مالک کو یہ بات سمجھانے سے قاصر رہا کہ وہ دوسرا پنجرہ دے دے۔طوطا سارے گھر میں اڑتا پھرتا تھا۔ بلی اس کے لیے خطرناک تھی۔ سیئم نے اس دن اطمینان کی سانس لی جب بلی اپنے آپ ہی غائب ہو گئی۔ایک مرتبہ سیئم نے باورچی خانہ میں ایک چوہا دیکھا اور سمجھا کہ وہ ریچرڈ کا کوئی نیا پالتو جانور تھا جب تک کہ اسے کوئی پنجرہ اپنے اپارٹمنٹ میں نظر نہیں آیا۔ جب ریچرڈ گھر آیا تب اس نے بتایا کہ وہ چوہا اس کا نہیں تھا۔ سیئم نے چوہے پکڑنے والے کو بلوایا لیکن اس نے آنے سے انکار کردیا کیونکہ کتا اس پر غرا رہا تھا۔سیئم نے یہ سب ریچرڈ سے کہا تاکہ اس کو اپنی غلطی اور غیر ذمہ دارانہ حرکتوں کا احساس ہو۔ بجائے احساس کرنے کہ وہ ایک اور بلی لے آیا۔اور کہا کہ وہ چوہے کو پکڑ لے گی ، لیکن رکیں...... وہ بلی کا بچہ تھا۔ ریچرڈ بلی کا کھانا لا کر اسے چمچ سے کھلا رہا تھا۔
ریچرڈ کی بیٹی اس سے ملنے کے لیے آئی۔ اس کو سارے جانور بہت پسند آئے۔ کتے کو اس کا برش کرنا اچھا لگتا تھا۔ بلی اس کی گود میں سو جاتی تھی۔اور طوطا سارے گھر میں اڑتا پھرتا اور وہ اس سے بات کرتی، اس کے پیچھے پیچھے بھاگتی رہتی اور کوشش کرتی رہتی کہ وہ اس کے ہاتھ پر بیٹھ جائے۔ کرسمس پر اس نے اپنے باپ کو ایک خرگوش تحفہ میں دیا۔ وہ ایک موٹا سا سفید خرگوش تھا جس کا ایک کان بھورے رنگ کا تھا۔ جب سیئم اور ریچرڈ دونوں بھی اپارٹمنٹ میں موجود نہیں تھے ، خرگوش کو پنجرے میں بند کر کے بستر کے قریب چھوٹی میز پر رکھ دیا گیاتاکہ کتے اور بلی اس کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں ۔سیئم نے کہا کہ ایلس نے اپنی بیٹی کے ذریعہ ریچرڈ کے لیے خرگوش کرسمس کے تحفہ کے طور پر بھجوا کر بڑی قابل مذمت حرکت کی تھی۔ بالآخر بخار کی وجہ سے خرگوش مر گیا۔ خرگوش کی بیماری پر سیئم کے ایک سو ساٹھ ڈالر خرچ ہو گئے۔ریچرڈ کے پاس کوئی کام نہیں تھا۔اس لیے وہ ادائیگی کر نہیں سکتا تھا۔ سیئم کے پاس ایک I.O.U (I Owe You) کی کاپی تھی۔جس میں اس نے لکھ رکھا تھا، ’خرگوش کی موت......160 $ ایک سو ساٹھ ڈالر میں۔ حیوانات کے ڈاکٹر کے۔‘ جب ریچرڈ کو ملازمت مل گئی تو اس نے قرض کی ادائیگی کے لیے یادداشت کی کاپی دیکھی تو قدرے ناراض ہوتے ہوئے سیئم سے کہا ، ’’ تم نے صرف پوری رقم لکھ دی ہوتی ، مجھے خرگوش کی یاد کیوں دلا دی ؟‘‘وہ اتنا پریشان ہوا کہ دوسری صبح اپنی نئی ملازمت پر جانا ہی بھول گیا۔
’’یہ بہت غیر انسانی حرکت تھی‘‘ اس نے سیئم سے کہا ۔’’خرگوش کی موت ...... ایک سو ساٹھ ڈالر ......یہ بہت ناگوار عمل تھا۔بے چارہ خرگوش ......تم پر خدا کی لعنت ہو......‘‘ وہ خود پر قابو نہیں رکھ پا رہا تھا۔
کچھ ہفتوں بعد سیئم اور ریچرڈ کی ماں کا انتقال ہو گیا۔ ایلس نے سیئم کو تعزیتی خط لکھا۔ ویسے ایلس نے کبھی بھی ان کی ماں کو پسند نہیں کیا تھا۔ لیکن ان کی شخصیت سے ضرور متاثر رہی۔ وہ کبھی اس خیال کو اپنے ذہن سے نہیں نکال سکی کہ کیوں انہوں نے ایک سو پچیس ڈالر منگنی کی تقریب میں کاغذی قندیلوں پر خرچ کیے تھے۔ اتنے سالوں بعد بھی وہ ابھی تک اس بارے میں سوچتی رہتی تھی۔ اپنے خط میں اس نے لکھا تھا کہ ’’تم کیا سوچتے ہو ، کیا ہوا ہو گا ان قندیلوں کا تقریب کے بعد؟‘‘ اس نے اپنے تعزیتی خط میں لکھا تھا۔ عجیب سا خط تھا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ ان کی موت سے خوش تھی، سیئم نے اسے خرگوش کا تحفہ بھجوانے کی حماقت پر معاف کر دیا۔ ایک تفصیلی خط لکھا کہ انہیں ایک بار مل بیٹھنا چاہیے۔ سیئم ایک ایسی قیام گاہ کے بارے میں جانتا تھا جو شہر سے باہر تھی، جہاں وہ لوگ آرام سے اختتام ہفتہ کے دو دن رہ سکتے تھے۔ ایلس کو تجویز اچھی لگی۔ لیکن ایک بات اس کو ہمیشہ پریشان کرتی تھی کہ سیئم کی سیکرٹری اس کے خطوط، شارٹ ہینڈ کی لکھائی میں ٹائپ کیا کرتی تھی۔ اپنے خطوط میں اس نے بارہا سیئم کو بتایا کہ وہ خود لکھا کرے۔ سیئم نے محسوس کیا کہ ایلس اور ریچرڈ دونوں ہی ایک دوسرے سے ملنے کے مشتاق ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ پھر سے مل جائیں۔
اب وہ سب ایک ہی قیام گاہ میں رکے تھے، لیکن مختلف کمروں میں۔ ایلس، ان کی بیٹی اور چھوٹا بچہ ایک کمرے میں تھے۔ ریچرڈ اور سیئم کے کمرے نیچے ہال سے لگے ہوئے تھے۔ چھوٹی لڑکی رات میں باری باری سب کے ساتھ اپنا وقت گزارتی تھی۔ جب سیئم نے دو پاؤنڈ فج (Fudge) (ایک قسم کی مٹھائی) لائے تو بچی نے کہا وہ اس رات اسی کے ساتھ رہے گی۔ اگلی رات ایلس کے بیٹے کو پیٹ درد کی شکایت ہو گئی اور سیئم اس لیے یہ سب جانتا تھا کہ کیونکہ اس نے دیکھا کہ ننھی لڑکی اپنی ماں کا کمرہ چھوڑ کر، جب وہ سو رہی تھی، بچہ کو ڈھونڈتی ہوئی باہر آگئی تھی۔
’ ’ کیا تم مجھے کارنیوال (جشن) لے جاؤ گے؟‘‘ اس نے پوچھا۔
وہ سونے کا گاؤن پہنے تھی جس پر نیلے رنگ کے بھالو بنے ہوئے تھے جو الٹے چلتے ہوئے جیسے گاؤن کے نیچے کے حصہ پر گر رہے ہوں۔
’’کارنیوال تو بند ہو گیا ‘‘ سیئم نے کہا۔ ’’بہت دیر ہو چکی ہے۔‘‘
’’کیا کچھ بھی کھلا نہیں ہے؟‘‘
’’شاید ڈونٹ (doughnut) (ایک طرح کا چھوٹا سا میٹھا کیک) کی دکان۔ وہ ساری رات کھلی رہتی ہے۔ میرے خیال سے تمہیں وہاں جانا چاہیے۔‘‘
’’مجھے ڈونٹ بہت پسند ہیں۔‘‘
ننھی لڑکی نے سیئم کے کندھوں پر بیٹھ کر اپنے آپ کو برساتی کے اندر چھپا لیا تھا۔ وہ سوچنے لگا دس سال پہلے شاید میں اس با ت پر یقین نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن اب کر تا ہوں کہ اس کے کندھوں پر کافی بوجھ تھا اور دو پیر اس کے سینہ سے نیچے لٹک رہے تھے۔
اگلے دن وہ سب پھر سے، تیرنے کے بعد تولیے لپیٹے ہوئے، چٹان پر بیٹھ گئے۔ کچھ فاصلہ پر دو ہپی اور ایک آیئرش آدمی کسی جزیرہ سے کشتی چلاتے ہوئے ساحل کی طرف جا رہے تھے۔
ننھی لڑکی نے کہا۔ ’’کاش میرے پاس ایک کتا ہوتا‘‘
اس کے باپ نے کہا ’’لیکن یہ تمہیں غمگین کر دےگا جب تمہیں اس سے دور جانا پڑے۔‘‘
’’میں اسے کبھی نہیں چھوڑوں گی‘‘ لڑکی نے کہا۔
’’تم ابھی بچی ہو ...... تم گھسٹتی چلی جاؤ گی۔‘‘اس کے باپ نے کہا ’’کیا تم نے سوچا تھا کہ آج تم یہاں ہو گی؟‘‘
’’عجیب بات ہے‘‘ ایلس نے کہا۔
’’یہ ایک اچھی تجویز تھی‘‘ سیئم نے کہا۔ ’’میں ہمیشہ صحیح ہوتا ہوں‘‘
’’آپ ہمیشہ صحیح نہیں ہو‘‘ بچی نے کہا۔
’’میں کب غلط تھا؟‘‘
’’تم کہانیاں سناتے ہو۔‘‘
’’تمہارے انکل تخیلاتی ہیں۔‘‘
’’مجھے ایک اور کہانی سناؤ۔‘‘
’’ابھی اس وقت میں سوچ نہیں پا رہا ہوں۔‘‘
’’سانپ کے جوتوں کے بارے میں بتائیں۔‘‘
’’تمہارے انکل سانپوں کے بارے میں مذاق کر رہے تھے، پتہ ہے؟‘‘ ایلس نے کہا۔
’’میں جانتی ہوں‘‘ اس نے کہا۔ پھر سیئم سے پوچھا۔ ’’کیا آپ مجھے دوسری کہانی سناؤ گے؟‘‘
’’میں ان لوگوں کو کوئی کہانی نہیں سناؤں گا جو ان پر یقین نہیں رکھتے‘‘ سیئم نے کہا۔
’’اوہ، چلیں چھوڑیں‘‘ بچی نے کہا۔
سیئم نے اس کی طرف دیکھا۔ وہ دبلی پتلی لڑکی تھی۔ اس کےبال سنہرے۔ خاکی تھے جو سورج کی روشنی میں اپنی ماں کے بالوں کی طرح چمکتے نہیں۔ وہ اپنی ماں کے اتنی خوبصورت نہیں تھی۔ سیئم نے شفقت سے اپنا ہاتھ بچی کے سر پر رکھا۔
آسمان پر بادل گھوم رہے تھے۔ کبھی کبھی چاند دکھائی دیتا تھا۔ مکمل اور دھندلا۔ کوے بھی ابھی تک درختوں پر بیٹھے تھے۔ ایک مچھلی پانی سے اچھل کر چٹان تک آگئی تھی۔ کسی نے کہا ’’دیکھو!‘‘ اور ہر شخص نے نظریں گھمائیں...... دیر ہو گئی تھی۔ اور صرف پانی میں بڑے ہوئے دائروں کو دیکھتے رہے جہاں وہ غائب ہوئی تھی۔
’’تم نے کس لیے ہینس سے شادی کی؟‘‘ ریچرڈ نے پوچھا۔
’’میری سمجھ میں تو یہ نہیں آتا کہ میں نے تم دونوں سے ہی کیوں شادی کی؟ ‘‘
’’تم کیا کہہ کر آئی ہو کہ کہاں جا رہی ہو، جبکہ وہ کہیں گیا ہوا ہے؟‘‘ ریچرڈ نے مزید جاننا چاہا۔
’’میری بہن سے ملنے کے لیے جا رہی ہوں۔‘‘
’’کیسی ہے تمہاری بہن؟‘‘ ریچرڈ نے پوچھا۔
وہ ہنس پڑی۔ ’’ٹھیک ہے۔ اندازہ لگاتی ہوں۔‘‘
’’اس میں ہنسنے والی کیا بات ہے؟‘‘ ریچرڈ نے کہا۔
’’ہماری گفتگو‘‘ ایلس نے جواب دیا۔
سیئم نے ننھی بھتیجی کو چٹان سے اترنے میں مدد کی۔ ’’ہم چہل قدمی کریں گے۔‘‘ اس نے بچی سے کہا۔ ’’میرے پاس ایک لمبی کہانی ہے تمہارے لیے۔ باقی لوگوں کو شاید پسند نہ آئے۔‘‘ لڑکی نے گھٹنوں میں کمزوری محسوس کی۔ سیئم کو برا لگا۔ اس نے لڑکی کو اٹھا کر اپنے کندھوں پر بٹھا لیا اور اس کے گھٹنوں کو اپنے ہاتھوں سے پکڑ لیا تاکہ اسے بار بار دیکھنا نہ پڑے۔
’’وہ کہانی کیا ہے؟‘‘ لڑکی نے پوچھا۔
’’ایک مرتبہ‘‘ سیئم نے کہا ’’میں نے تمہاری ماں کے بارے میں ایک کتاب لکھی تھی۔‘‘
’’کس بارے میں تھی؟‘‘ ننھی لڑکی نے پوچھا۔
’’وہ ایک ایسی چھوٹی سی لڑکی کے بارے میں تھی جو ہر قسم کے دلچسپ جانوروں سے ملتی تھی ......خرگوش جو اس کی جیبی گھڑی اس کو بار بار دکھایا کرتا تھا۔ وہ اس بات سے پریشان تھا کہ وہ دیر سے آیا تھا۔‘‘
’’میں اس کتاب کے بارے میں جانتی ہوں۔‘‘ لڑکی نے کہا۔ ’’لیکن وہ کتاب آپ نے نہیں لکھی۔‘‘
’’میں نے ہی لکھا تھا۔ لیکن اس وقت میں بہت شرمیلا ہوا کرتا۔ اور میں اس بات کو تسلیم نہیں کرسکتا تھا کہ وہ کتاب میں نے لکھی تھی۔ اس لیے کسی اور کا نام لکھ دیا۔‘‘
’’آپ شرمیلے تو نہیں ہو‘‘ بچی نے کہا۔
سیئم چلتا رہا۔ درخت کی کوئی ٹہنی نیچے تک سامنے آجائے تو پھرتی سے جھک کر آگے بڑھتا رہا۔
’’کیا بہت سارے سانپ ہوتے ہیں؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’اگر ہیں بھی تو وہ نقصان دہ نہیں ہیں۔ وہ تمہیں چوٹ نہیں پہنچائیں گے۔‘‘
’’کیا وہ درختوں میں چھپے ہوتے ہیں؟‘‘
’’کوئی سانپ تم تک نہیں پہنچ سکتا‘‘ سیئم نے کہا۔ ’’میں کیا کہہ رہا تھا؟‘‘
’’آپ’ ایلس حیرت انگیز سرزمین پر‘ (Alice in Wonderland) کے بارے میں بتا رہے تھے۔‘‘
’’کیا تم نہیں سوچتی کہ میں نے وہ کتاب لکھ کر اچھا کام کیا ہے؟‘‘ سیئم نے پوچھا۔
’’آپ بہت سادے انسان ہو۔‘‘
شام ہو چکی تھی۔ سردی کافی تھی۔ انہوں نے سوچا کاش ان کے پاس دو تولیے ہوتے تو وہ خود کو لپیٹ لیتے۔ لڑکی اپنے باپ کے پیروں کے درمیان بیٹھی تھی۔
کچھ ہی دیر پہلے ریچرڈ نے کہا تھا کہ بچی کو سردی لگ رہی تھی اور انہیں جانا چاہیے۔ لیکن اس نے کہا تھا کہ اسے سردی نہیں لگ رہی تھی اور وہ خود کو سنبھال لے گی۔ ایلس کا بیٹا سو چکا تھا۔ ادھ کھلی آنکھوں کے ساتھ۔ چھوٹے چھوٹے کالے کیڑے چٹان کے سامنے پانی پر جمع ہو گئے تھے۔ یہ یہاں پر ان کی آخری رات تھی۔
’’ہم کہاں جائیں گے؟‘‘ ریچرڈ نے پوچھا۔
’’بحری غذہ کاریستوران کیسا رہے گا؟ قیام گاہ کے مالک نے بتایا تھا بچوں کے لیے آیا بھی مل جائے گی۔‘‘
ریچرڈ نے سر ہلایا۔
’’نہیں؟‘‘ ایلس نے کہا اور سب نا امید ہو گئے۔
’’ہاں، یہ ٹھیک رہے گا‘‘ ریچرڈ نے کہا۔ ’’میں وجود کے متعلق (existentially) زیادہ سوچتا ہوں۔‘‘
’’اس کاکیا مطلب ہے؟‘‘ لڑکی نے پوچھا۔
’’یہ لفظ تمہارے باپ کی دریافت ہے‘‘ سیئم نے کہا۔
’’اسے تنگ مت کرو‘‘ ایلس نے کہا۔
’’کاش میں اس آدمی کے چشمہ سے پھر سے ایک بار دیکھ سکتی۔‘‘
’’ادھر دیکھو‘‘ سیئم نے کہا اور اپنے دونوں ہاتھوں کے انگوٹھے اور انگلی ملا کر دو دائرے بنائے۔’’ان میں سے دیکھو۔‘‘
ننھی لڑکی جھک کر سیئم کی انگلیوں کی بنی عینک سے درختوں کی طرف دیکھنے لگی۔
’’صاف دکھائی دے رہا ہے نا؟‘‘
’’ہاں‘‘ بچی نے جواب دیا۔
’’مجھے بھی دیکھنے دو۔‘‘ ریچرڈ نے کہا اور جھک کر بھائی کی انگلیوں سے دیکھنے لگا۔
’’مجھے مت بھولو‘‘ ایلس نے کہا۔ وہ بھی دوسری طرف سے جھک کر انگلیوں کے دائروں سے جھانکنے لگی۔ جیسے ہی وہ اس کے سامنے جھکی، ریچرڈ نے اس کی گردن کے پچھلے حصہ کا بوسہ لے لیا۔