دیوار کی دراڑ
ترجمہ، عبدالقوم کریم، شمیم احمد قریشی
آسماں پربادل چھائے ہوئے تھے۔ کچھ کالے سفید مرغ اور مرغیاں لکڑی کے زینے پر ایک لائن میں بیٹھی ہوئی سو رہی تھیں۔ کالے رنگ کی بلی غمناک آواز میں میاؤں میاؤں کر رہی تھی اور اس کی آواز گہری خاموشی کے پردے کو چاک کر رہی تھی۔ حبیب نے جو ابھی ابھی کام سے لوٹا تھا، پانی سے اپنے ہاتھ منہ دھونے لگا۔ اس کی ماں اس طرف ایک مجسمے کی طرح حیران پریشان کھڑی تھی اور طبق معمول کسی چیز کی طرف بھی متوجہ نہ تھی ۔ حبیب نے اسے آواز دی:
ماں، ماں ......!
ماں نے جواب دیا:
ہاں ماں صدقے جائے!
حبیب نے پوچھا:
آج رات کھانے کو کیا ہے؟
ماں نے پھر اسی طرح جواب دیا:
ہاں ماں صدقے جائے۔
حبیب نے پھر شکایت آمیز لہجے میں کہا:
ماں میں تجھ سے کیا پوچھ رہا ہوں اور تو کیا جواب دے رہی ہو!
اس کی ماں نے پھر جواب نہ دیا جیسے کہ اس نے کچھ سنا ہی نہ ہو۔ حبیب نے ذرا غصے سے آواز دی: ماں!
ماں کو ایک جھٹکا لگا۔ اس کے تصورات کی دنیا میں ارتعاش پیدا ہوا جیسے کہ وہ گہری نیند سے جاگ گئی ہو، اس نے پوچھا:
بیٹے کہہ تو کیا کہہ رہا ہے؟
حبیب سمجھ گیا کہ اس کی ماں کسی اور ہی حال میں ہے۔ وہ اس کے قریب آیا اور پوچھا:
ماں کیا ہوا، کیا ٹوٹ گیا، کیا ختم ہوا کہ تو بول نہیں رہی؟
ماں بولنا ہی چاہتی تھی کہ اس کی آنکھ پھیکے باریک چاند پر پڑی جو کہ صحن کے بیری کے درخت کی شاخوں کے پیچھے سے جھانک رہا تھا۔ وہ فوراً چلائی۔
حبیب بیٹے جلدی سے پانی لے کر آ!
حبیب دوڑ کر باورچی خانے میں گیا اور اپنی ماں کے لیے کٹورے میں صاف پانی لے کر آیا۔ اس نے دیکھا کہ اس کی ماں نے آنکھیں بالکل بند کیے ہیں اور کسی کو دیکھنا نہیں چاہتی۔ حبیب نے حیرانی میں آواز دی:
ماں ، لو پانی لے آیا!
ماں نے کٹورے کو اپنی انگلیوں سے چھوا اور اسے ہاتھوں میں پکڑ لیا۔ اس کے بعد اس کی آنکھیں پانی کو دیکھتے ہوئے کھولیں اور اس نے دل ہی دل میں کچھ پڑھا۔ اسی لمحے ملا کی اذان جو خدا کی بزرگی بیان کر رہا تھا سنائی دی۔ حبیب کی ماں نے اپنی ہتھیلیوں پر نظر ڈال کر کلمۂ شہادت پڑھتے ہوئے کہا:
حبیب بیٹے! میں نے تیری خوش قسمتی دیکھی، نئے چاند کو پانی میں دیکھا، خوشحالی ہو گی، خدا تجھے لمبی عمر دے گا اور تیری مرادیں بر آئیں گی۔
اس کے بعد اس نے اپنے بچے کا سر اپنے سینے سے لگا لیا اور اس کے سر پر اپنا ہاتھ پھیرا۔ اسی وقت اس کی نگاہ سفید بالوں پر پڑی جو اس کی قلموں میں سے کہیں کہیں جھانک رہے تھے۔ تقریباً چیختے ہوئے اس نے کہا:
نہ بیوی نہ بچے، نہ کچھ کھایا، نہ کچھ دیکھا، تو تو میرے بیٹے بڈھا ہو گیا!
حبیب نے کہا:
خدا نہ کرے ماں، کیا ہوا؟
ماں نے جواب دیا:
تیرا سر بھی تیری ماں کی طرح سفید ہو گیا، اللہ توبہ، یہ کیسا وقت آگیا ہے؟
حبیب نے اپنا سر اٹھایا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنی مان کے کندھے جو اس کے قد کے مقابلے میں بہت پست تھے پکڑتے ہوئے غرور سے کہا:
ماں یہ بال دھوپ میں سفید نہیں ہوئے، جاگنے سے، چراغ کی روشنی سے اور پڑھنے کی وجہ سے سفید ہوئے ہیں۔ جب تک مرد زحمت نہ اٹھائے، مرد نہیں بنتا۔
اس کی ماں نے کہا:
ہاں بیٹا، میں سمجھتی ہوں۔ شکر کہ تو مرد ہے لیکن جب میں نے پہلی دفعہ تیرے سفید بال دیکھے تو مجھے رونا آگیا۔
حبیب کو دھکا لگا۔ اس نے اپنا چہرہ ماں کی طرف سے موڑ لیا۔ ایک دو قدم اس سے دور چلا گیا۔ اس کا جی چاہا کہ رو پڑے، زور زور سے روئے لیکن شرم سے اس کی آواز گلے میں گھٹ گئی۔ اس نے یہ شعر پڑھتے ہوئے:
موے سفید را فلکم رایگاں نداد
ایں رشتہ را بہ نقد جوانی خریدہ ام
(زمانے نے مجھے یہ سفیدبال مفت میں نہیں دیے بلکہ میں نے ان کو اپنی نقد جوانی دے کر خریدا ہے) ماں کو مخاطب کیا لیکن ماں نے حبیب کی بات ہنسی میں ٹال دی کیونکہ وہ سمجھتی تھی کہ حبیب اتنا بڑا نہیں ہے جتنا کہ اپنے آپ کو بنا رہا ہے۔ دونوں چپ ہو گئے۔ اگر بولتے تو ہو سکتا تھا کہ کسی راز سے پردہ اٹھ جاتا یا کوئی غم تازہ ہو جاتا۔ حبیب نے بات بدلی اور کہا:
ماں کچھ اور با ت کر۔
ماں نے کہا:
میرے بیٹے میں کیا بات کروں؟ کون سی بات کروں؟ میں تو بوڑھی ہو گئی، بالکل بوڑھی مرغی کی طرح ، بوڑھی کڑکڑاتی، اندھی مرغی کی طرح ۔
اسی وقت ڈھول تاشوں کی آوازیں اور ہنسی کے فوارے پڑوس سے سنائی دیے۔ اس گھر میں پڑوسی کی لڑکی کی شادی کا جشن تھا۔ وہی لڑکی جس سے حبیب کو پیار تھا، لیکن اس نے کسی سے بھی اس کا ذکر نہ کیا تھا۔ حبیب نے اشارے سے پوچھا:
ماں پڑوس میں کیا ہوا؟
ماں نے جواب دیا:
کچھ نہیں ۔ لیلا کی شادی ہے، ہمیں انہوں نے نہیں بلایا۔ ہمیں اپنے برابر تھوڑا ہی سمجھتے ہیں۔
حبیب کا چہرہ فق ہو گیا۔ بالکل چونے کی طرح سفید لیکن اس نے اپنے دل میں کہا:
ہاں لیلا کی شادی ہے، ہمیں کیا؟
لیکن ماں نے حبیب کے حال کو نہ دیکھا کیونکہ اسے اپنا ماضی یاد آگیا۔ جوانی کی یاد پینتالیس سینتالیس سال پرانی باتیں جب عورتیں اس کی ماں کے پاس آتیں اور درخواست کرتیں کہ ان کے لڑکے کو اپنی غلامی میں لے لے۔ اس کے بعد اسے باجے گاجوں کی آوازیں آنے لگیں کہ وہ دلہن بنی ہوئی اپنے دولہا کے ساتھ شہر سےگزر رہی تھی اور لوگ نئی پرانی گھوڑوں گاڑیوں پر سوار ان کے ساتھ چل رہے تھے۔ کچھ ہی لمحے بعد اسے یاد آیا کہ کس طرح وہ پہلی بار اپنے سسرال میں داخل ہوئی، اسی جگہ جہاں اس کی مرادوں کی منزل تھی۔ اسی وقت پڑوسی کے گھر سے گانے بجانے کی آوازیں زیادہ آنے لگیں۔
کوئی بہت ہی افسردہ آواز میں گا رہی تھی:
چھوڑ بابل کا گھر، مجھے پیا کے نگر آج جانا پڑا۔
حبیب نے پوچھا:
یہ لوگ کیا گا رہے ہیں؟
ماں نے طنزیہ طور پر جواب دیا:
وہی کہہ رہے ہیں کہ : چھوڑ بابل کا گھر مجھے پیا کے نگر آج جانا پڑا۔ حبیب نے کہا:
یہ دنیا عجیب ہے!
ماں نے کہا:
ہاں میرے بچے، ایسی ہی بات ہے۔ قسمت کا لکھا ہو کے ہی رہتا ہے ۔ حبیب نے کہا:
درست کہتی ہو ماں،ڈھول کی آواز دور سے ہی بھلی لگتی ہے۔
اس وقت اسے اپنا باپ یاد آیا، وہ باپ جسے اس نے کہیں سڑک پر کبھی کسی چوراہے پر دیکھا تھا اور جس نے بڑی سردمہری سے اس کے سلام کا جواب دیا تھا۔ اس کی نگاہ اپنی ماں کے ہاتھوں پر چلی گئی، وہ ہاتھ جن سے اس نے ساری عمر جھاڑو دی، برتن دھوئے، کپڑے دھوئے اور سلائی کی تاکہ اپنے بچے کا پیٹ بھر سکے۔ اسے اپنے باپ کی کمی محسوس نہ ہو اور اسے سوتیلی ماں کے طعنے نہ سننا پڑیں۔ اپنی کم حیثیتی پر اسے رونا آگیا اور اپنا ماتھا اس طرح دیوار سے ٹکا جیسے منت کر رہا ہو۔ اس کی ماں اس سے ذرا دور کھڑی رو رہی تھی۔ حبیب نے بے اثر باتوں سے ماں کے آنسوؤں کو روکنا نہ چاہا۔ وہ سمجھتا تھا کہ یہ آنسو ہزاروں رنجیدہ عورتوں کا وہ قیمتی سرمایہ ہیں جو مرد کی ہوس کا شکار بن کر اپنا سب کچھ کھو بیٹھی ہیں اور اس کی ماں کو ان کی قدر کرنا چاہیے۔ اسے لڑکیوں کی ہنسی سنائی دی جو وہ دلہن کو اس کے کمرے میں لے جا رہی تھیں۔ اس کے وجودمیں آگ لگ گئی اور اس کا جسم اس میں جھلس کر رہ گیا۔ اس کا جی چاہا کہ ایک دم لیلا کو دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرے لیکن گھر کی وہ چھوٹی دیوار ان کے بیچ میں ایک پہاڑ بن گئی۔ اس کے دل میں آیا کہ: یہ کیا زمانہ آگیا کہ مجنوں تو دیوار کے اس طرف اپنی جاں دے رہا ہے اور دیوار کے اس طرف اس کی لیلا بے فکر کسی اور کے ساتھ خراماں خراماں جا رہی ہے!
اس نے زور سے اپنا سر دیوارسے پٹخا، ناخنوں سے دیوار کو نوچا لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ اس کی سمجھ میں آگیا کہ سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔ اور زندگی میں کچھ باقی نہیں رہا۔ اس کی آنکھ درخت کے گڈھے پر پڑی جو اسے پھانسی کے پھندے کے لیے مناسب معلوم ہوا، لیکن اس کی ماں جو دیوار کو ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی متوجہ ہوئی کہ دیوار میں دراڑ پڑ گئی ہے۔ وہ زور سے چیخی۔
حبیب بیٹے، دیوار میں دراڑ پڑ گئی، گرنے والی ہے، دیوار سے دور ہو جا! اور حبیب حیران پریشاں اس دیوار سے دور ہو گیا، جتنے دور کہ ہو سکتا تھا!