سانپ
ترجمہ، عبدالقوم کریم، شمیم احمد قریشی
لندن سفید رنگ کے دھند میں ڈوبا ہوا تھا۔ہر جگہ دھند ہی دھند تھی، سفید رنگ کی دھند، سہ پہر کا وقت تھا اور دم بدم اندھیرا ہوتا جا رہا تھا۔ تاریکی کے ساتھ ساتھ دھند بھی سرمئی رنگ کی ہوتی جارہی تھی۔ بارش کی پھوار پڑ رہی تھی۔ پھوار اتنی باریک تھی کہ وہ بھی دھند میں مل جاتی تھی اور آدمی فقط اس کی رطوبت کو ہی محسوس کر پاتا تھا۔
دریائے ٹیمز جس کا رنگ دھند نے سرمئی کر دیا تھا، بغیر کسی آواز کے آگے کی طرف گھسٹ رہا تھا اور وہ پل جو اس دریا کے دونوں کناروں کو ملاتا تھا، اس دھند میں بہ مشکل نظر آرہا تھا۔ اس وقت میں اس پل سے گزر رہا تھا۔
میں نے پل کے دوسرے سرے پر نظر ڈالی، دھند کے بادل سے وہ آخری سرا چھپ سا گیا تھا۔ مجھے ایسا لگا کہ گویا خواب دیکھ رہا ہوں۔ ایک بار پھر پل کے دوسرے سرے کی طرف نظریں اٹھائیں لیکن پھر بھی وہ نظر نہ آیا۔ دھند تھی۔ میں نے اپنے آپ سے کہا:
یہ بھی مستقبل کی طرح نظر نہیں آرہا ہے۔
اسی وقت میں نے ایک شخص کو دیکھا جو پل کی دیوار پر جھکا ہوا دریا کو دیکھ رہا تھا۔ میرے پاؤں کی چاپ سن کر اس نے اپنے آپ کو درست کیا۔ وہ ایک لمبے قد کا آدمی تھا۔ اس کے شانے اندر کو جھکے ہوئے تھے۔ کسی حد تک کبڑا نظر آرہا تھا۔ لمبا اوورکوٹ پہنے ہوئے اور ہیٹ کو اپنی آنکھوں تک موڑے ہوئے تھا۔ میں چاہتا تھا کہ اس کے پہلو سے بے سرو صدا گزر جاؤں کہ اس نے کہا:
دیکھتے ہو ، بالکل سانپ کی طرح چل رہا ہے۔
میں رک گیا۔ آدمی نے ہاتھ سے دریا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، پھر کہا:
بالکل سانپ کی طرح چل رہا ہے۔
ذرا سا میں نے بھی پل کی دیوار سے اس دھند میں سے دیکھا کہ دریا کا پانی بغیر کسی آواز کے آہستہ آہستہ آگے چل رہا ہے۔
اس شخص نے اپنے ہاتھ پل کی دیوار پر مارے اور کہا:
ہاں، مجھے پل اچھا لگتا ہے۔
اس شخص نے اپنا منہ میرے کان کے قریب لا کر کہا:
یہ دنیا پل کی طرح ہے، جس پر سے گزر جانا ہی چاہیے، نہ یہ کہ اس کے اوپر گھر بنانا۔
میں پھر مسکرایا اور کہا:
یہ ایک مشرقی عقیدہ ہے۔
اس شخص نے میری ہاں میں ہاں ملا کر کہا:
ٹھیک ہے، یہ ایک ہندوستانی عقیدہ ہے۔ جس کو میں نے ہندوستان میں جانا۔ میں نے پوچھا:
کیا تم ہندوستان جا چکے ہو؟
وہ پھر اپنا منہ میرے کان کے قریب لایا اور کہا:
میں وہاں کام کرتا تھا۔
اس کے منہ سے شراب کا بھبکا اٹھ رہا تھا۔ ہم دونوں چلے گئے۔ یہ شخص مسلسل باتیں کیے جا رہا تھا اور اس کی باتیں ہندوستان کے بارے میں تھیں، یہاں تک کہ ہم ایک گھر کے قریب پہنچ گئے۔ یہ دو منزلہ گھر تھا۔ اس کی کھڑکیاں سڑک کی طرف کھلتی تھیں اور اس میں ایک چھوٹا سا باغ تھا۔ اس گھر کی دیواروں کا رنگ سرمئی تھا۔ دھند کے رنگ کا جو اس وقت سب جگہ پر چھایا ہوا تھا۔ آدمی رک گیا اور کہا:
آئیے ، یہ میرا ہی گھر ہے۔
میں اس کے پیچھے پیچھے ہو لیا۔ اس نے دروازہ کھولا اور ہم داخل ہو گئے۔ سب جگہ تاریکی ہی تاریکی تھی اور ایک خاص قسم کی مہک آ رہی تھی، میں نے پوچھا:
یہ مہک کاہے کی ہے؟
زعفران کی خوشبو ہے۔ اس خوشبو سے میں ہندوستان میں آشنا ہوا تھا۔ یہ خوشبو مجھے بہت اچھی لگتی ہے۔
جس وقت اس نے بتی جلائی میں ایک دم حیران ہو گیا، ہر طرف سانپوں کی تصویریں تھیں۔ مختلف قسم کے سانپوں کی تصویریں۔ جب اس نے مجھے متعجب دیکھا۔ زور سے ہنسا، ہنستے ہوئے اس کے جھکے ہوئے کندھے ہلنے لگے۔ اس حال میں اس نے کہا:
مجھے یہ اچھے لگتے ہیں۔ مجھے یہ بہت پسند ہیں۔
آہستہ آہستہ وہ سیڑھیاں چڑھنے لگا اور میں بھی اس کے پیچھے پیچھے چلا گیا۔ اب اس نے ہنسنا بند کر دیا تھا۔ اس کا سانس تیزی سے چل رہا تھا۔ اس نے کہا:
کیا تمہیں معلوم ہے ، ہندوستان میں لوگ سانپوں کی عبادت کرتے ہیں؟
میں نے پوچھا:
آپ کو سانپ کی کون سی ادا پسند ہے؟
اس نے جواب نہ دیا۔ ایک کمرے کا دروازہ کھولا اور ہم دونوں اس کے اندر چلے گئے۔یہ کمرہ بھی مختلف قسم کے سانپ کی تصویروں اور مجسموں سے بھرا ہوا تھا۔ ہر طرف سانپ ہی سانپ ، ہر چیز سانپ کی شکل کی تھی، یہاں تک کہ پلنگ اور کرسیوں کے پائے بھی سانپ کی شکل کے تھے۔
اس شخص نے ہم دونوں کے لیے گلاس میں وہسکی انڈیلی۔ کچھ دیر کھڑکی کے شیشے سے باہر جھانکتا رہا۔ سب جگہ دھند تھی اور کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ وہ میری طرف پلٹا اور گلاس کو ایک ہی بار میں خالی کرتے ہوئے کہا:
جانتے ہو، چالیس سال پہلے میں ہندوستان میں تھا۔مجھے ریل کے سروے کے لیے وہاں بھیجا گیا تھا۔ اس وقت میری عمر تیس سال تھی۔
اس وقت اس شخص کے سر پر ہیٹ نہ تھا اور اس کے سفید بال بجلی کی روشنی میں چمک رہے تھے۔ اس نے کہا:
یہ ریل ایک جنگل سے گزرنے والی تھی۔ ہماری ٹکڑی اس جنگل کے قریب خیمہ زن تھی اور ہم نے روزمرہ کے کاموں کے لیے نزدیک کے گاؤں سے لوگوں کو ملازم رکھا ہوا تھا۔ انہی میں سے ایک ’’رامو‘‘ تھا۔ دبلا پتلا گہرے سانولے رنگ کا۔ دوسرے گاؤں والوں کی طرح اس نے بھی فقط ایک زرد رنگ کی لنگوٹی باندھی ہوئی تھی۔ اس کے کالے بال اس کی آنکھوں کی طرح چمک رہے تھے۔ اس کی آنکھوں میں ایک خاص چیز نظر آرہی تھی۔اس کی جیسے کہ کوئی راز ہو یا کوئی کہانی۔ ایک نا تمام کہانی۔ مجھے رامو پسند آگیا۔ وہ کبھی نہیں ہنستا تھا۔ وہ بڑے صبر اور حوصلے کا آدمی تھا۔ اس کی خاموشی میں ایک عظمت پوشیدہ تھی۔ گھنٹوں میرے نزدیک بیٹھتا اور میں اسے لندن، وہاں کی تہذیب اور کارخانوں کے بارے میں باتیں کرتا رہتا ......وہ بڑے غور سے میری باتیں سنتا۔ صرف میری باتوں کے آخر میں معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ مجھ سے کہتا:
صاحب، یہ دنیا تو ایک پل کی طرح ہے جس سے گزرجانا ہی چاہیے، نہ یہ کہ اس پر گھر بنانا۔
اس کی اس بات کا میرے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ میں اس کی آنکھوں کی طرف جن میں ایک نا تمام کہانی پنہاں تھی، دیکھا اور وہ بھی میری طرف اس پر عظمت خاموشی سے دیکھتا رہتا تھا۔ ایک دفعہ میں نے اس سے پوچھا کہ وہ شادی کیوں نہیں کرتا۔ اس نے کہا۔
صاحب، یہ دنیا تو ایک پل ہے۔ اس پر سے گزر جانا چاہیے نہ یہ کہ اس پر گھر بنانا۔
اس کی آنکھوں میں راز ہی راز پنہاں تھے۔ ایک روز میں جنگل سے گزر رہا تھا۔ رامو بھی میرے پیچھے پیچھے آرہا تھا۔ اچانک میں نے ایک پھن دار سانپ کو دیکھا کہ جھاڑی میں سے ہماری طرف حیرت سے دیکھ رہا تھا۔ میں ڈر گیا اور میں نے فوراً ہی اپنی بندوق کی نالی اس کی طرف کر دی۔ ایک دم رامو نے بندوق کی نال زور سے دوسری طرف گھماتے ہوئے کہا:
صاحب اس کو مت مارنا۔
میں نے پوچھا:
کیوں؟
اس نے کہا:
شاید یہ نر ہو اور اس کی مادہ آپ سے اس کا انتقام لے۔
میں نے دوبارہ سانپ کی طرف دیکھا جو اسی طرح گھور گھور کے ہماری طرف دیکھ رہا تھا۔ مجھے لگا کہ اس کی آنکھیں بھی رامو جیسی ہیں اور ان میں بھی کوئی راز پنہاں ہے۔ کوئی نا تمام کہانی چھپی ہوئی ہے۔ رامو اسی طرح اپنی پر عظمت خاموشی کے ساتھ میری طرف دیکھ رہا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا:
تو یہ باتیں کہاں سے جانتا ہے؟
اس نے جواب دیا:
گاؤں میں ہم سب یہ باتیں جانتے ہیں۔
میں ہنس دیا۔ ایک روز پھر ہم جنگل سے گزر رہے تھے۔ ایک چیتےکو دیکھا۔ میں نے اس پر گولی چلا دی۔ چیتا جھاڑیوں میں چلا گیا۔ میں نے ان جھاڑیوں میں زرد رنگ کا جسم دیکھا۔ سوچا کہ شاید چیتا زخمی ہو گیا۔ میں نے پھر نشانہ باندھا اور گولی چلائی۔ ایک شخص کی چیخ سنی۔ میں ادھر بھاگا، دیکھا کہ ایک سانولا ہندوستانی پیلے رنگ کی لنگوٹی کے ساتھ خون میں نہایا ہوا ہے۔
رامو جھکا۔ اپنی اسی پر عظمت خاموشی کے ساتھ اس نے اس جسم کو دیکھا اور سر اٹھاتے ہوئے کہا:
صاحب، یہ میرا بہنوئی ہے۔
میں نے پریشانی میں اس سے کہا۔
میں نے یہ کام قصداً نہیں کیا۔
رامو نے سر ہلاتے ہوئے کہا:
صاحب، وہ پل سے گزر گیا۔
رامو اس لاش کو اپنے ساتھ گاؤں لے گیا اور کئی دن تک واپس نہ آیا۔ ایک رات کو میں خیمے میں بسر پر لیٹا ہوا تھا۔ شمع جل رہی تھی لیکن مجھے نیند نہیں آرہی تھی۔ رات آدھی گزر چکی تھی۔ میں نے دیکھا کہ خیمے کے کپڑے کو کسی نے چھری سے پھاڑ ا ۔ یہ ایک عورت تھی۔ وہ اندر آگئی۔ ڈر کی وجہ سے میرا جسم بے حرکت ہو گیا۔ اس جواں عورت کی آنکھیں شمع کی روشنی میں چمک رہی تھیں۔ بالکل اسی طرح جیسے اس جنگل والے پھن دار سانپ کی یا رامو کی۔ ان آنکھوں میں بھی راز پنہاں تھے اور ایک ناتمام کہانی ان میں پنہاں تھی۔ مجھ میں ہلنے کی طاقت نہ تھی جیسے کہ مجھ پر کسی نے جادو کر دیا ہو۔ موت میرے سامنے کھڑی تھی۔ وہ عورت آہستہ آہستہ میرے نزدیک آئی اور اس نے اپنا چھری والا ہاتھ ہوا میں بلند کیا۔ چھری روشنی میں چمکی لیکن اسی وقت کوئی دوسرا شخص خیمے میں آگیا۔ اس نے عورت کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا۔ اس عورت نے اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش کی لیکن اسی کشمکش میں شمع گر گئی اور خیمے میں تاریکی چھاگئی۔ میں نے بعد میں چیخ کی آواز سنی اور دیکھا کہ کوئی خیمے سے باہر بھاگ گیا۔ جب شمع روشن کی تو میں نے دیکھا رامو میرے بستر کے قریب پڑا ہوا ہے اور اس کے سینے سے خون نکل بہہ رہا ہے۔ اس وقت اس کی آنکھوں میں نہ وہ روشنی تھی اور نہ وہ راز۔ میں اس کے قریب بیٹھ گیا اور رامو نے آہستہ سے کہا:
صاحب اس عورت سے خبردار رہنا۔ یہ میری بہن ہے۔ تم نے اس کے شوہر کو مار دیا ہے اور وہ تم سے اپنے شوہر کا بدلہ لے گی۔
کچھ لمحوں کے لیے وہ خاموش ہو گیا۔ اب اس کا چہرہ سپاٹ تھا۔ کسی قسم کا درد و کرب نظر نہ آتا تھا۔ آہستہ آہستہ اس نے کہا:
صاحب، میں بھی اس پل سے گزر گیا۔
میں نے پہلی اور آخری مرتبہ اس کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھی۔ پھر وہ مسکراہٹ ختم ہو گئی اور وہ مر گیا۔ اس کے دوسرے دن میں اس عورت کی تلاش میں گاؤں گیا۔ اس کا نام گیتا تھا اور وہ انیس سال کی تھی۔ اس کا کوئی رشتہ دار نہ تھا۔ میں نے اپنی ملازمت ترک کر دی۔ میں نے وائسرائے سے اجازت لی اور اسے اپنے ساتھ لندن لے گیا۔ میں نے اس کو سکھانے، سمجھانے کی جتنی بھی کوششیں کیں وہ بے نتیجہ رہیں۔ وہ ایک لفظ بھی نہیں بولتی تھی اور ہمیشہ خاموش رہتی تھی۔ رامو کی طرح میں نے اسے بھی کبھی ہنستا نہ دیکھا۔ ہر روز وہ اسی کھڑکی میں بیٹھ جاتی اور دریا کو دیکھتی رہتی۔ بعد میں اس نے مجھ سے قلم ، کاغذ اور دوات مانگ لی اور تصویریں بنانا شروع کیں لیکن وہ سب تصویریں سانپوں کی تھیں، مختلف قسم کی سانپوں کی، یہ ساری تصویریں جو تم دیکھ رہےہو اس کی ہی بنائی ہوئی ہیں۔ تمام دن تصویریں بناتی رہتی اور دیواروں پر لگاتی رہتی۔
ایک رات کچھ آوازیں باورچی خانے سے سنائی دیں تو میں بیدار ہو گیا۔ بعد میں میرے کمرے کا دروازہ کھلا اور گیتا اندر آگئی۔ باورچی خانے کی چھری اس کے ہاتھ میں تھی۔ میں نے جلدی سے بتی جلائی اور دیکھا کہ اس کی آنکھیں چمک رہی ہیں، بالکل اس پھن دار سانپ کی طرح جسے میں نے جنگل میں دیکھا تھا۔ اس کے چہرے پر کسی قسم کے غم و غصے کے آثار نہ تھے۔ وہ میرے نزدیک آگئی۔ اسے اس حالت میں دیکھ کر میں اپنی پوری قوت کے ساتھ چیخا: مدد!
میری آواز کمرے میں گونج اٹھی اور شیشے لرزنے لگے۔ گیتا وہاں سے بھاگ گئی اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔ میں بھی اس کے پیچھے پیچھے بھاگا اور اس کے کمرے کو باہر سے تالا لگا دیا۔ اس کے بعد سے میرا معمول بن گیا کہ را ت کو میں اس کے کمرے میں تالا لگا دیتا۔ پھر گیتا روز بروز پژمردہ سے پژمردہ تر ہوتی گئی۔ اس نے تصویریں بنانی بھی چھوڑ دیں۔ اب وہ شیشے کے پیچھے سے دریا کو دیکھتی رہتی تھی۔
ایک روز جو میں گھر واپس آیا تو گیتا گھر میں نہ تھی۔ ہر جگہ اس کو تلاش کیا لیکن کہیں نہ ملی۔ میں نے پولیس میں رپورٹ کی تو پولیس کو اس کا بے جان جسم بہت دور دریا سے ملا۔
اس شخص نے دوبارہ اپنا گلاس خالی کر دیا۔ میں نے دیکھا اس کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہیں۔ اس حال میں اس نے کہا:
میں قاتل ہوں!
میں نے وہاں سے اٹھتے ہوئے کہا:
اچھا تو میں چلتا ہوں۔
وہ میرے ساتھ نیچے آیا۔ اب سب جگہ تاریکی ہی تاریکی تھی اور سڑک کے چراغ اس دھند میں چمک رہے تھے۔ پل پر جب ہم پہنچے تو اس نے کہا:
دنیا ایک پل کی طرح ہے۔
وہ وہیں ٹھہر گیا۔ میں اس سے چند قدم فاصلے پر جا کر رک گیا او ر اسے دیکھا کہ وہ پل کی دیوار سے جھکا ہوا دریا کے پانی کو دیکھ رہا ہے۔ میں نے اپنا راستہ لیا۔ اب بھی بوندیں برس رہی تھیں۔ اس دھند میں، میں نے اپنے پیچھے اس شخص کو دوبارہ سنا کہ بلند آواز میں مجھ سے پوچھ رہا ہے:
تمھیں پل کیوں پسند ہے؟
میں نے جواب نہ دیا۔ اب میں پل کے دوسرے کنارے تک پہنچ چکا تھا۔