امین افغان پور

امین افغان پور

موسکا

    ترجمہ، عبدالقوم کریم، شمیم احمد قریشی

    اس کی بڑی بڑی سیاہ خمار آلود آنکھیں مجھے بے ساختہ اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں اور میں اس کے قریب چلا جاتا ہوں۔ اسے بغور دیکھتا ہوں، کہیں ایسا نہ ہو کہ میں نے غلطی کی ہو۔ اس کے ابرو بھرے بھرے اور ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں، اس کی ناک ستواں، باریک جس میں اس نے لونگ پہنی ہوئی ہے، اس کا چہرہ گول مہتابی اور گردن لمبی صراحی دار ہے۔ اس کے ہونٹ سرخ اور سرکا ٹیکہ اس کے ماتھے پہ سجا ہوا ہے۔اس کی لمبی چوٹیاں اس کے بازوؤں پر بید مجنوں کی طرح لیٹی ہوئی ہیں۔ اس کی سیاہ قمیص کا گریباں مسگ گیا ہے اور میری نگاہیں قمیص کے نیچے کی خوبصورتی پر جمی ہوئی ہیں۔ اگرچہ وہ مسکرا رہی ہے لیکن مجھے اس کے مسکراتے ہوئے ہونٹوں پر ایک عجیب سی تلخ مسکراہٹ نظر آتی ہے۔ دور عقب میں ایک سیاہ رنگ کا خیمہ نظر آرہا ہے۔ جہاں ایک اونٹ بیٹھا ہوا جگالی کر رہا ہے۔ ایک بڑھیا سیاہ توے پر روٹی پکا رہی ہے اور خیمے کے داہنی طرف کچھ بھیڑیں ادھر ادھر مٹر گشت کر رہی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ اس کے برابر کھڑے بڑے کتے کی نیت ان بھیڑوں کی طرف کچھ اچھی نہیں ہے۔ ہاں یہ خانہ بدوش ہے۔ میری خانہ بدوش۔ میرے ملک کی خانہ بدوش کہ شاید اس کا دل اس فریم سے بھرچکا ہو۔ وہ پھر میری طرف دیکھتی ہے جیسے کہ وہ چاہتی ہے کوئی اسے بلائے۔ میں اسے بلاتا ہوں:

    نکل آ! تاکہ ہم باتیں کریں۔ میرا دل بھی اس جگہ سے بھر چکا ہے۔ میں بھی تمہارا ہم وطن مسافر ہوں۔

    وہ مجھ سے پوچھتی ہے:

    تم یہاں کیا کرتے ہو؟

    جواب دیتا ہوں:

    نہیں معلوم ، یہ دنیا بڑی ہے۔ میں بھی تمہاری طرح اس میں سرگرداں ہوں۔

    پھر وہ تلخ ہنسی ہنستی ہے۔ یا تو وہ ڈرتی ہے یا شرماتی ہے کہ اس میں سے باہر آئے۔ یا شاید اس بھیڑ ، بھڑ کے کو یا اس ہال کی گرمی، سگرٹوں کے دھوؤں ، وہسکی کے بھپکوں ، مردوں اور عورتوں میں سے اٹھتی ہوئی تیز خوشبوؤں اور پسینوں کے لپٹوں کو وہ برداشت نہیں کر سکتی، شاید اس ہال کے فانوسوں کی روشنی اس کی آنکھیں برداشت نہیں کر سکتی، ہر طرف عورتیں اور لڑکیاں رقصاں ہیں اور ان کے قیمتی لباس ان کی مرکیوں سے گھوم رہے ہیں۔ ان عورتوں کی آنکھوں سے ہوس اور شہوت برس رہی ہے۔ شراب کے ہر گھونٹ سے ان کے ہونٹ سرخ تر اور پر شہوت تر ہوتے جاتے ہیں اور وہ ایک خاص ادا سے اپنے ہونٹوں کو اپنے سفید رومالوں سے صاف کرتی جاتی ہیں۔ میں اس خانہ بدوش کی سرگرداں آنکھوں کو دیکھتا ہوں جو ان عورتوں کو کاغذ کے سفید، نرم و نازک رومالوں کو ٹوکری میں ڈالتے ہوئے دیکھ لیتی ہیں۔ میں اس طرح کھڑا ہوا اس خانہ بدوش کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتا ہوں اور آہستہ سے پوچھتا ہوں:

    تمھارا نام کیا ہے؟

    مسکراتی اور شرماتی ہوئی جواب دیتی ہے:

    موسکا۔

    اس ہال میں مہمان مرد اور عورتیں لڑکے اور لڑکیاں کھڑے بیٹھے ایک دوسرے سے باتیں کرنے میں مصروف ہیں۔ ایک طرف دیکھتا ہوں کہ ایک شخص ایک عورت کی گردن میں جس کے سنہرے با ل ہیں اپنے بازو حمائل کر دیتا ہے اور باتوں کے دوران اس کو چومتا بھی جاتا ہے۔ میں دل ہی دل میں سوچتا ہوں۔ کاش یہ منظر موسکا نہ دیکھے! لیکن میں دیکھتا ہوں کہ موسکا کی پیشانی شرم و حیا سے بھیگ چکی ہے۔ دوسری طرف دیکھتا ہوں کہ ایک جواں شخص ایک لڑکی کے حنائی رنگ کے بالوں سے اٹھکیلیاں کرتا ہوا اس کے کان میں اپنی محبت کا نغمہ الاپ رہا ہے۔ میں موسکا کی خما آلود آنکھوں کی طرف دیکھتا ہوں اور ایسا لگتا ہے کہ اس کی آنکھیں ایک نقطہ پر مرکوز ہیں۔ شاید وہ اپنے آپ کچھ سوچ رہی ہے۔ وہ اپنا گھڑا اٹھائے درے کی طرف جا رہی ہے۔ جہاں ایک گڈریا درخت  سے ٹیک لگائے بانسری سے ایک غمگین نغمہ الاپ رہا ہے۔ موسکا آہستہ آہستہ ان کی طرف جاتی ہے۔ گڈریا بانسری بجانا بند کر دیتا ہے اور اٹھتا ہوا اس کی طرف بڑھتا ہے لیکن جیسے ہی موسکا اس کی یہ پیش روی دیکھتی ہے وہاں سے بھاگ جاتی ہے اور گڈریا گانے لگتا ہے کہ ’’اس درے کا ہر پودا دوا ہے کیونکہ ان سے لڑکیوں کی چادریں چھو گئی ہیں‘‘۔ وہ موسکا کے پیچھے دوڑتا ہے۔

    میں دیکھتا ہوں کہ موسکا کے ہونٹ لرزنے لگتے ہیں جیسے کہ وہ نیند سے جاگ گئی ہو، وہ تیزی سے اپنی پلکیں جھپکاتی ہے۔ ایک مست لڑکی کے ہنسنے سے جو کسی جواں لڑکے کی ہنسا دینے والی بات پر بہت زور سے قہقہہ لگاتی ہے میرے خیالوں کا سلسلہ ٹوٹ جاتا ہے۔ موسکا میری طرف دیکھتی ہے اور پوچھتی ہے:

    کیا بات ہے؟

    مجھے بھی نہیں معلوم کہ اسے کیا جواب دوں۔ میں اسے ایک مرتبہ پھر آواز دیتا ہوں۔

    باہر آجاؤ نا!

    اس مرتبہ جیسے کہ اس نے جرأت پیدا کر لی ہو، آہستہ آہستہ شرماتی ہوئی میرے نزدیک آجاتی ہے۔ اپنے پھٹے ہوئے میلے ہاتھوں کو اپنی چادر میں چھپا لیتی ہے۔ اس کے ہاتھوں سے گوبر کی بدبو آرہی ہے۔ وہ جس طرف بھی دیکھتی ہے ادھر سب عورتوں، مردوں، بوڑھوں اور جوانوں کے سفید سفید ہاتھ خوشبوؤں سے بھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس وقت وہ اپنے میلے ہاتھوں سے شرماتی ہے۔ اس کی نگاہ جہاں بھی پڑتی ہے دیکھتی ہے کہ ان سب کے ہاتھوں میں وہسکی سے بھرے ہوئے جام ہیں۔ آہستہ سے مجھ سے پوچھتی ہے۔

    کیا کوئی مجھے یہاں ایک گلاس پانی دے گا؟ میں بہت پیاسی ہوں۔

    میں اس کے لیے پانی لاتا ہوں۔ وہ مجھ سے منہ پھیر لیتی ہے، اپنے سر پر ہاتھ رکھتی ہے، پانی پیتی ہے اور خدا کا شکر ادا کرتی ہے۔ اپنی میلی آستین سے ہونٹ صاف کرتی ہے اور مجھ سے آہستہ سے پوچھتی ہے:

    یہ کون ہیں؟

    میں ادھرادھر دیکھ کر مطمئن ہو جاتا ہوں کہ کوئی مجھے دیکھ تو نہیں رہا، اور کہتا ہوں کہ:

    یہ سب غیر ملکی ہیں۔

    اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ میں نے اس سے ٹھیک بھی کہا ہے یا نہیں، کیونکہ وہ ان سب چیزوں سے نا آشنا ہے۔ اس کی ماں نے اسے ایک لمبے سفر میں مفر کے دشت سوزاں میں جنم دیا تھااور جب سے اس نے ہوش سنبھالا ہمیشہ خشک کانٹوں سے بھری ہوئی وادیاں، پہاڑ اور دریا دیکھے یا سیاہ رنگ کے خیمے اور اونٹوں کا کارواں، میں اسے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں لیکن اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ غیر ملکی بھی انسان ہیں لیکن ان کے ہاتھ اتنے پاک صاف کیوں ہیں،ان کے لباس اس قدر نئے کیوں ہیں، ان کے ہاتھ ان کے چہرے کیوں اس قدر سرخ و سفید ہیں، ان کے بچوں کے ہاتھ کیوں پھٹے ہوئے نہیں ہیں۔ان کے جسموں پر پھٹے ہوئے کپڑے کیوں نہیں ہیں،ان کے رنگ ایسے سرخ و سفید کیوں ہیں؟ اور اسی طرح کے بہت سارے سوال۔ ہر شخص کو وہ گھبرا کر دیکھتی ہے۔ عورتوں کے زیورات ، بجلی کی تیز روشنی میں چمک رہے ہیں۔ گلے کے ہار سفید سفید گردنوں میں اور سونے کی باریک چوڑیاں ہاتھوں میں بہت دلکش معلوم ہوتی ہیں، کیونکہ یہ خود بھی عورت ہے، اس کی نگاہیں زیورات پر جم جاتی ہیں اور حیرت سے اس کا منہ کھلا رہ جاتا ہے۔ میں اس سے پوچھتا ہوں۔

    باہر نہیں چلو گی؟

    وہ فوراً ہی مان جاتی ہے اور کہتی ہے کہ:

    یہاں میرا دم گھٹا جاتا ہے، چلو باہر چلیں!

    میں چاہتا ہوں کہ اسے اس بلڈنگ کی آٹھویں منزل سے لفٹ کے ذریعے نیچے لاؤں۔ ہم دونوں لفٹ میں داخل ہوتے ہیں۔ اس کی آنکھوں میں بدگمانی کے آثار پیدا ہو جاتے ہیں لیکن میں اسے اطمینان دلاتا ہوں کہ اس مشین سے جلدی نیچے جا سکیں گے۔ وہ پوچھتی ہے:

    یہ کیا ہے؟

    اس سے پہلے کہ میں اس کے سوال کا جواب دیتا، لفٹ نیچے جانے لگتی ہے۔ تعجب اور ڈر سے موسکا کے گلے سے گھٹی ہوئی آواز نکلتی ہے لیکن میں اسے بتاتا ہوں کہ یہ لفٹ ہے اور بجلی سے چلتی ہے۔

    اس کی اب بھی سمجھ میں نہیں آتا اور میں بے دھیانی میں اس کے پیر پر پیر رکھ دیتا ہوں، وہ چیختی ہے:

    تم نے تو میرا پیر ہی کچل دیا!

    میں دیکھتا ہوں کہ اس کا میلا پیر میرے پیر کے نیچے آگیا ہے۔ ہم دونوں لفٹ سے نکل کر بازار میں داخل ہوتے ہیں۔ ایک چوڑی سڑک ہے، موٹریں ایک دوسرے کے پیچھے بھاگ رہی ہیں، سڑک کے دونوں جانب خوبصورت اونچی اونچی عمارتیں کھڑی ہیں۔ بجلی کے سائن بورڈز چمک رہے ہیں، میں ان کو پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں:

    (ستارہ کیفے، سنہرے مرغے کا تھیٹر، مولنروژ عیش کی دنیا، علا ؤ الدین کا دیا، سنہرا...) اور موسکا میرا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیتی ہے۔ وہ ڈرتی ہے کہ میں کہیں گم نہ ہو جاؤں۔ دکانوں کے شیشوں سے عورتوں کی تصویریں نظر آتی ہیں۔ بجلی کے قمقمے جل اور بجھ رہے ہیں۔ کیفے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں۔ بھنے ہوئےمرغ شیشوں کے پیچھے سے رکھے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ موسکا کے منہ میں پانی بھر آتا ہے اور وہ اسے نگل جاتی ہے۔ کچھ قدم آگے شہوت آگیں برہنہ عورتوں کی تصویریں لگی ہوئی ہیں۔ میں کوشش کرتا ہوں کہ موسکا انہیں نہ دیکھ پائے لیکن اس کی نگاہ ان پر پڑتی ہے اور وہ شرم سے اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیتی ہے اور مجھ سے بھی کچھ نہیں کہتی۔ داہنے ہاتھ کی طرف ایک تنگ و تاریک گلی ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ وہاں کچھ  نیم برہنہ عورتیں ہیں اور ہر آنے جانے والے پر کوئی گندا جملہ اچھال دیتی ہیں۔ اس بار موسکا انہیں برداشت نہیں کر پاتی اور مجھ سے ہنستے ہوئے پوچھتی ہے:

    یہ یہاں کیا کر رہی ہیں؟

    میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں اسے کیا جواب دوں۔ جھوٹ بھی بول نہیں پاتا۔ فقط اتنا کہتا ہوں کہ:

    یہ بری عورتیں ہیں۔

    اسے یاد آتا ہے کہ ایک بار وہ اپنے باپ کے ساتھ بنگال میں کسی شہر میں گئی تھی۔ اس نے ایسی عورتوں کو دکھاتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بری عورتیں ہیں۔

    میں اطمینان کا سانس لیتا ہوں اور اپنے دل میں کہتا ہوں کہ:

    خدا کا شکر ہے اس جھنجٹ سے نجات ملی۔

    تقریباً شام ہو چکی ہے اور ہم آہستہ آہستہ شہر کے مرکز سے گاؤں کی طرف چلنے لگے ہیں۔

    سوئٹزرلینڈ خود ایک خوبصورت جگہ ہے اور خاص طور پر شہر ’’لوزان‘‘ جیسے ہی آپ چھوٹی سڑکوں سے گزریں۔ آپ کی نگاہیں سرسبز پہاڑیوں پر پڑتی ہیں۔ جو درختوں سے بھری ہوئی ہیں۔ ان پہاڑیوں پر جگہ جگہ کج مج سڑکیں بنی ہیں، پہاڑیوں پر، ٹیلوں پر، لکڑی کے گھر نظر آتے ہیں۔ یہ گاؤں خاص طور پر بہت خوبصورت ہے۔اس جنگل کو دیکھتا ہوں۔ موسکا نے میرا بازو پکڑا ہوا ہے۔ میں اس سے ان گاؤں اور ٹیلوں کے بارے میں باتیں کرتا ہوں۔ بارش کی بوندیں گرنے لگتی ہیں اور موسکا اپنے آپ کو اپنی سیاہ چادر سے ڈھکے ہوئے مجھ سے کہتی ہے:

    مجھے سردی لگ رہی ہے!

    میں اس سے کہتا ہوں:

    جلدی ہم ایک گرم جگہ جائیں گے اور وہاں کچھ کھائیں گے۔

    وہ مجھ سے پوچھتی ہے۔

    کیا یہاں بھی لڑکیوں کی شادی زبردستی کر دی جاتی ہے؟

    میں تعجب سے پوچھتا ہوں۔

    کیا مطلب؟

    وہ جواب دیتی ہے۔

    ہم خانہ بدوشوں میں رواج ہے یا تو لڑکی کی بچپن میں ہی منگنی کر دیتے ہیں یا پھر زبردستی اس کی شادی۔

    تعجب کی بات ہے؟

    کیا تمہیں اپنے ملک کے بارے میں کچھ معلوم نہیں؟

    میں جلد ہی اس کی ہاں میں ہاں ملاتا ہوں اور کہتا ہوں کہ :

    ایسا ہی ہے۔ لیکن حقیقت میں میرا دھیان ادھر نہ تھا اور میں بھولا ہوا تھا کہ اس وقت میری انجل میرے انتظار میں آنکھیں بچھائے ہوئے ہو گی۔

    موسکا مجھ سے کہتی ہے:

    میرے باپ نے بھی میری منگنی اپنے بھتیجے سے بچپن میں کر دی تھی۔ شاید کچھ عرصہ بعد ہماری شادی ہو جائے۔

    اگرچہ میری بیشتر توجہ ادھر ادھر سرسبز جنگل، ٹیلوں اور پہاڑوں پر بنے ہوئے مکانوں کی طرف ہے لیکن پھر بھی میں موسکا کی بات پر دھیان دیتا ہوں۔ اس لمحے مجھے ایسا لگتا ہے کہ وہ سارے گھر سیاہ خیمے بن گئے ہیں۔ گاؤں کپ پھیلے ہوئے پہاڑ سے اٹھتے ہوئے سفید بادل مجھے ایسے لگے جیسے کہ ان خیموں میں سے دھواں اٹھ رہا ہو۔ مجھے اپنے وطن کے بچوں کی زندگی یاد آجاٹی ہے اور میں تصور کرتا ہوں کہ یہ دھواں اس آگ سے بلند ہو رہا ہے جو روٹی پکانے والے توے کے نیچےجل رہی ہے ...... حسد کرتے ہوئے موسکا سے پوچھتا ہوں:

    تمہارا آدمی خوبصورت ہے؟

    اپنی پیشانی پہ بل ڈالتے ہوئے وہ کہتی ہے:

    ایسا خوبصورت جیسے آدم خاں درخانے کا آدم خاں۔

    کنکھیوں سے مجھے دیکھتی جاتی ہے۔ شاید اسے میرے حسد سے لذت مل رہی ہو۔ موسکا کہتی ہے:

    بلند قد، کالے بال، بڑی بڑی آنکھیں، بھری بھری بھویں، خوبصورت چہرہ، پھیلا ہوا سینہ، نوکیلی مونچھیں ......

    میں اس کی ساری باتوں کواپنے ذہن میں مجسم کرتا ہوں۔ میں موسکا سے پوچھتا ہوں:

    اس کا نام کیا ہے؟

    کجیر۔

    میں ایک بار پھر کجیر کی تصویر کو اپنے ذہن میں مجسم کرتا ہوں اور ایک مرتبہ دیکھتا ہوں کہ یہی کجیر خیمے کے برابر میں کھڑا ہوا، بندوق لیے میری طرف نشانہ باندھ رہا ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا بات ہے۔ لیکن عجب سے دیکھتا ہوں کہ موسکا میرا ہاتھ چھوڑ کر خیمے کی طرف بھاگتی ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا ہوا۔ موسکا کا چہرہ اس کی سیاہ رنگ کے چادر میں آہستہ آہستہ دور اور چھوٹا ہوتا چلا جاتا ہے۔ میں اپنا چہرہ اس جواں خانہ بدوش کی طرف کرتا ہوں اور وہ اسی لمحے مجھ پر فائر کرتا ہے۔ اس کی بندوق کی نالی سے خاکی رنگ کا دھواں نکلتا ہے۔

    اس جواں کے فائر کی آواز سے میں ہوش میں آجاتا ہوں اور جب میں اپنا رخ ہال کی طرف کرتا ہوں تو دیکھتا ہوں، موسکا کا چہرہ اس فریم میں مسکرا رہا ہے۔

    ہا ل میں مردوں اور عورتوں کے قہقہے بکھرے ہوئے ہیں اور ایک طرف ایک ویٹر شمپین کی بوتل کھول کر مہمانوں کے جاموں میں شمپین انڈیل رہا ہے۔