سسٹر ایپاری سی یوں
ترجمہ رحیم
’’س‘‘ میں ولی’’کلیر‘‘کی بہنوں کی خانقاہ کی دہری جالی والی نیچی کھڑکی میں سے مجھے ایک راہبہ نظر آئی جو سربسجود ہو کر مصروفِ دعا تھی۔ وہ بلند قربان گاہ کے سامنے دراز تھی، منہ فرش کی طرف تھا، بازو باہر کو پھیلے ہوئے تھے اور جسم قطعاً ساکت ۔ اگر وہ زندہ تھی تو اتنی ہی جس قدر اس ملکہ اور شہزادی کے چت پڑے بت زندہ تھے جن کی سیل کھڑی کی بنی ہوئی قبریں گرجے کے مشرقی حصے کی زینت آرائی کر رہی تھیں۔ وہ معاً اٹھ کھڑی ہوئی اور یہ حرکت اس نے یقیناً سانس لینے کے لیے کی تھی۔ اب وہ میری نظروں کے سامنے تھی۔ جس طرح شکستہ دیواریں کبھی کا شاندار محل ہوتی ہیں، صاف ظاہر تھا کہ وہ بھی صغر سنی میں بہت حسین ہو گی۔ اگر اسے اسی کا کہیں تو بآسانی نوے کا بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس کے چہرے کی ......مردوں کی سی مردنی اس کے لرزاں سر چپکے منہ اور سفید ابرو سے عیاں تھا کہ وہ اس عمر کو پہنچ گئی ہے جہاں کوئی مرورِ زمانہ کا خیال تک نہیں لاتا۔
اس کے مردہ چہرے میں جو اس دنیا کا نہیں معلوم ہوتا تھا، ایک غیر معمولی چیز تھی ......آنکھیں۔ وقت کو شکست دیتے ہوئے وہ ابھی تک اپنی آگ، اپنی گہری سیاہی، اور ایک ہیجان خیز اور ڈرامائی اظہار کو محفوظ کیے ہوئے تھیں۔ ان کی اک نگاہ کو ایک دفعہ دیکھ کر عمر بھر بھلایا نہیں جا سکتا تھا۔ اس راہبہ کے پاس جو خانقاہ میں داخل ہو کر خدا کے حضور اپنا معصوم دل پیش کر رہی ہو، ایسی جوالامکھی آنکھوں کا ہونا اک ناقابل توجیہہ بات تھی۔ یہ آنکھیں اک طوفان خیز ماضی کا پتا بتا رہی تھیں۔ اک حزیں یاد پر روشنی ڈال رہی تھیں۔ اگرچہ مجھے امید یہی تھی کہ راہبہ کے راز سے کبھی آگاہ نہ ہو سکوں گا، مجھے تجسس کھائے جا رہا تھا۔ بہرحال اتفاقات نے میری آرزو کو قطعاً پورا کرنے کی ذمہ داری اپنے سر لے لی۔
اسی شام سرائے کی کھانے کی گول میز کے گرد بیٹھے ہوئے ایک معمر شریف آدمی سے میری شناسائی ہو گئی جو بہت باتونی اور ہوشیار تھا اور ان لوگوں میں سے تھا جنہیں اجنبیوں کو معلومات پہنچانے کا شغف ہو۔ وہ میری دلچسپی سے پھولا نہ سمایا اور اپنی بلا کی یادداشت کے دفتر کھول دیے۔ میں نے ابھی ولی کلیر کی خانقاہ کا ذکر اور اس تاثر کا اظہار ہی کیا تھا، جو بوڑھی راہبہ کی آنکھوں نے میرے دل پر چھوڑا تھا کہ وہ پھٹ پڑا۔ ’’آہ سسٹر ایپاری سی یوں! جی، جی ہاں، واقعی اس کی آنکھوں میں ہے سہی کچھ نہ کچھ۔ ان میں اس کی سوانح حیات لکھی پڑی ہے۔ یقین جانئے اس کے آنسوؤں نے اس کے گالوں کی ان شکنوں کی آبیاری کی ہے جو قریب سے دیکھنے پر نہر معلوم ہوتی ہیں۔ چالیس سال اشک ریز رہی ہیں ۔ اس دوران میں ڈھیروں ہی اشک بہہ گئے ہوں گے لیکن ان کا پانی اس کی آنکھوں کی چنگاریوں کو مدھم نہ کر سکا۔ بیچاری سسٹر ایپاری سی یوں! چونکہ میرا باپ اسے لڑکپن سے ہی جانتا ہے اور میں تو جانوں اس نے اس سے تھوڑا بہت معاشقہ بھی کیا ہو گا۔ سو مجھ سے بہتر بھلا اور کون اس کی زندگی کی کہانی بیان کر سکتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں وہ ایک دیوی کی مثل تھی۔
راہبہ بننے سے پہلے اسے آئے رین کے نام سے پکارتے تھے۔ اس کے والدین نیک خاندان کے افراد تھے اور گاؤں میں مانی ہوئی حیثیت کے مالک۔ ان کے بہتیرے بچے ہوئے مگر سب مر گئے اور یہی تنہا رہ گئی جس پر ان کی ساری محبت اور ناز برداری مرکوز تھی...... تھا وہ قصبہ جہاں پیدا ہوئی تھی اور تقدیر کی رضا یہی تھا کہ یہی قصبہ مشہور شاعر ......کی جنم بھومی بھی ٹھہرے، تقدیر جو ہمارے پنگوڑے کی چادروں سے ہی اس رسے کو بٹنا شروع کر دیتی ہے جس سے ہمیں پھانسی دینا ہوتی ہے۔‘‘
میری چیخ نکل گئی اور داستان گو کے منہ سے الفاظ نکلے بھی نہ تھے کہ ’’زوال زدہ فرشتہ اعظم‘‘کے مصنف کا جلیل القدر نام پکار دیا جو شاید رومانی حدت کا صحیح ترین نمائندہ تھا، جس کے نام کے ایک ایک حرف میں تذلیل کن تکبر، تحقیر کن تنفر، تلخ طعن و طنز اور مایوس کن اور کفر آمیز یاد وطن کے ہڑکے کی دھار موجود تھی۔ گو ابھی تک مجھے ان دونوں کے تعلق کا کوئی سلسلہ معلوم نہیں تھا۔ راہبہ کی نظر اور یہ نام میرے تخیل میں گھل مل گئے تھے اور ان دونوں کے اختلاط سے مجھے پہلے ہی اس ڈرامے کا کھیل سوجھ رہا تھا ، جو دل سے تعلق رکھتا ہے اور جس سے دل کا لہو بہا کرتا ہے۔
اطلاع دینے والے نے دہرا کر کہا۔ ’’وہی ہے وہی۔ شہرہ آفاق جو آن دی کمارگو...... گاؤں کو اس کی ذات پر ناز تھا۔ اس گاؤں میں معدنی چشمے نہیں تھے۔ معجزے کرنے والا پیر نہیں تھا۔ کوئی عظیم گرجا نہیں تھا۔ رومن زمانے کے کتبے نہیں تھے۔ غرض یہاں کوئی ایسی دلچسپی کی چیز نہیں تھی جو باہر سے آنے والوں کو دکھائی جاتی لیکن اس پر بھی گاؤں نہایت فخر سے اپنے چوک کی طرف اشارہ کرتا تھا۔ ’’یہی ہے وہ گھر جہاں کمارگو پیدا ہوا تھا۔‘‘
میں نے قطع کلامی کرتے ہوئے کہا: ’’آہ، اب سمجھا! سسٹر ایپاری سی یوں یعنی آئے رین کمارگو سے محبت کرتی تھی، جس نے بے التفاتی کی اور وہ خانقاہ میں داخل ہو گئی کہ بھول جائے ......‘‘
راوی نے مسکرا کر کہا ’’ذرا ٹھہریے صاحب! اگر اس قصبے میں لے دے کے یہی کچھ تھا تو یہ روزمرہ کا اک واقعہ ہوا اور بیان کرنے کی زحمت کے لائق کیوں ہونے لگا ...... سسٹر ایپاری سی یوں کے قصے میں اور بھی بہت کچھ ہے۔ صبر کیجیے تو سب کچھ سن لیجیے گا۔‘‘
آئے رین نے اپنے بچپن میں کمارگو کو ایک نہیں ہزاروں بار دیکھا تھا، لیکن آپس میں کبھی گفتگو نہیں ہوئی تھی کہ وہ جوان ہو بھی چکا تھا اور یہ ابھی بچی تھی وہ تنہا اور الگ تھلگ رہتا تھا، اس نے گاؤں کے لڑکوں سے بھی کوئی سروکار نہ رکھا تھا۔ جب آئے رین بہار شباب میں قدم رکھ رہی تھی تو یتیم کمارگو سالامانکا میں قانون پڑھ رہا تھا۔ وہ چھٹیوں کے دوران اپنے سرپرستوں کو ملنے کے لیے صرف ایک دفعہ گاؤں آتا تھا۔ گرمیوں کا ذکر ہے کہ وہ ......کو لوٹ رہا تھا۔ اتفاقاً طالب علم کی نظریں اٹھیں اور آئے رین کی کھڑکی پر پڑ گئیں۔ وہاں اس نے لڑکی کو دیکھا جس کی نظریں اس پر جمی ہوئی تھیں۔ وہ نظریں جو آدمی کا دل سینے سے اڑا لے جائیں! دو سیاہ سورج آپ دیکھ ہی چکے ہیں کہ ابھی تک وہ کس شے کی مانند ہیں! کمارگو نے کرائے کے گھوڑے کی باگ کھینچ لی کہ اس حیرت زاحسن سے جی بھر کر سیر ہو لے، لیکن لڑکی کا چہرہ کو کنار پھول کی طرح تمتما اٹھا، کھڑکی سے پیچھے ہٹی اور اسے زور سے بند کر دیا۔ کمارگو نے اپنی نظمیں قلیل المیعاد ادبی رسالوں میں چھپو انا شروع کر دی تھیں۔ اس رات اس نے اک حسین نظم کہی جس میں اس نے اس اثر کو بیان کیا تھا جو گاؤں میں داخل ہوتے وقت اس کے دل میں آئے رین کی دید سے پیدا ہوا تھا۔ جب رات ہو گئی تو اس نے اسی کاغذ کو جس پر یہ نظم لکھی تھی، ایک پتھر پر لپیٹا اور آئے رین کی کھڑکی پر دے مارا۔ شیشہ ٹوٹا اور لڑکی نے کاغذ اٹھا لیا۔ اس نے نظم کو ایک نہیں سینکڑوں نہیں ہزاروں بار پڑھ ڈالا۔ وہ اسے انتہائی ذوق و شوق سے پڑھتی رہی۔ اس میں جذب ہو گئی۔ مزے کی بات ہے کہ یہ نظم جو کمارگو کی تصنیفات کے مجموعے میں شامل نہیں ہے۔ اعلان محبت نہیں تھی بلکہ افسوس اور کوسنوں کا عجیب سا مرکب تھی ۔ شاعر اپنے آپ کو مردود کہہ رہا تھا کہ اس کے نصیبوں میں دریچے والی لڑکی کی پاکدامنی اور خوبصورتی نہیں ہے۔ اگر وہ اس للی کے قریب آجائے تو اس کا رس چوسے بغیر نہ چھوڑے۔ اس نظم کے واقعے کے بعد کمارگو سے کوئی ایسی بات سرزد نہ ہوئی جس سے پتہ چلتا کہ اسے اک ایسا شخص بھی یاد ہے ، جسے آئے رین کہتے ہیں۔ وہ اکتوبر میں میڈرڈ روانہ ہو گیا جہاں اس کی زندگی کے پرجوش حصے کا آغاز ہو گیا تھا جو اس کی ادبی سرگرمیوں اور سیاسی معرکوں پر مشتمل تھا۔
جس دن سے کمارگو گیا تھا، آئے رین روز بروز غمگین ہوتی جا رہی تھی۔ وہ سچ مچ بیمار ہو گئی۔ اس کے والدین نے اس کی طبیعت کو بحال کرنے کے لیے اپنے مقدور بھر سب کچھ کر ڈالا۔ وہ کچھ عرصے کے لیے اسے باواجوزلے گئے۔ اس کے لیے انہوں نے نوجوان لڑکیوں کی صحبت اور رقص و سرود کو عام رکھا۔ اس کے مداح بھی تھے ان کی تعریفیں بھی تھیں جو اس کے کانوں میں گونج رہی تھیں۔ لیکن نہ اس کی طبیعت بحال ہوئی اور نہ صحت بہتر۔
وہ رات دن کمارگو کے تصور میں غرق رہتی تھی۔ بائرن نے جولارا کے متعلق کہا تھا وہی کمارگو پر بھی صادق آتا تھا کہ جنہوں نے اسے دیکھا ہے ان کا دیکھنا لاحاصل نہیں۔ خود آئے رین کو بھی یہی خیال تھا کہ وہ شک میں مبتلا نہیں ہے۔ اسے یقین تھا کہ اس عجیب عجیب اور اداس اداس نظم میں کوئی جادو تھا جس کا وہ نشانہ بن چکی ہے۔ لاریب کہ وہ اس چیز کی گرفت میں تھی جسے آج کل تسلط وہم کہتے ہیں۔ ہر وقت اس کی آنکھوں کے سامنے کمارگو موجود تھا۔ زرد رو، کٹھور اور اپنی متفکر پیشانی پر گھنگریالے بالوں کا سایہ لیے ہوئے۔ جب آئے رین کے والدین نے دیکھا کہ ان کی بیٹی کسی پراسرار مرض سے گھلی جا رہی ہے تو انہوں نے اسے دارالخلافے میں لے جانے کی ٹھانی جہاں بہترین ڈاکٹروں کے مشوروں کے میسر ہونے کے علاوہ کئی دل بہلاوے بھی ہوں گے۔
آئے رین کے میڈرڈ پہنچنے تک کمارگو اک مشہور شخصیت بن گیا ہوا تھا۔ اس کے خودسرانہ آتشیں، ہیجان خیز اور برق آسا شعروں نے نقالوں کا اک مدرسۂ فکر پیدا کردیا تھا۔ اس کے معرکے اور کارنامے لوگوں کے موضوعِ سخن تھے۔ وہ ایسے لوگوں کے گروہوں میں گھرا ہوا تھا جو شیطان صفت بذلہ سنج، بے پروا اور لا ابالی تھے۔ وہ ہر رات کوئی نہ کوئی خرمستی ایجاد کر لیتے تھے۔ کبھی شہر کے شرفا کے آرام میں خلل انداز ہوتے تھے اور کبھی شراب و کباب کی بدمستی سے بھرپور مجلسیں بپا کرتے تھے۔ جن کا ذکر چند اخلاق سوز اور ملحدانہ نظموں میں موجود ہے۔ اور کئی نقاد مصر ہیں کہ یہ نظمیں حقیقتاً کمارگو کا نتیجۂ فکر نہیں ہیں۔ شرب و سرور کی محفلیں اور اوباشی بھرے جلسے، فرامشنوں کی نشستیں اور باغیانہ سبھائیں باری باری منعقد ہوتی تھیں۔ کمارگو اپنے جلاوطن ہونے کی راہ کو پہلے ہی ہموار کر رہا تھا۔ آئے رین کے والدین دیہات کے سادہ دل لوگ تھے۔ انہیں ان چیزوں کی قطعاً خبر نہ تھی۔ بازار میں شاعر سے ان کی ملاقات ہوئی، وہ اس سے بڑی گرمجوشی کے ساتھ ملے کہ بالآخر وہ اپنے ہی گاؤں کا تھا۔
کمارگو لڑکی کے حسن کو دیکھ کر پھر بھونچکا سا رہ گیا۔ اس نے غور سے دیکھا کہ اس کی ملاقات سے آئے رین کے خوبصورت اور زرد گالوں پر پھر سے سرخی دوڑ گئی ہے۔ وہ ان کے ساتھ ساتھ چلتا گیا اور رخصت ہوتے وقت وعدہ کرتا گیا کہ پھر کسی وقت ان کے پاس ملاقات کے لیے آئے گا۔ یہ بیچارے گاؤں کے بھولے باشی اس کی توجہ سے بہت خوش تھے۔ حسب وعدہ وہ ان کے یہاں آتا رہا۔ کچھ روز بعد آئے رین کے منہ پر رونق آگئی۔ اس سے والدین بے حد مطمئن ہوئے۔ انہیں خاک بھی معلوم نہیں تھا کہ اس کے نام کے ساتھ کیا یا فضیحتیں وابستہ ہیں۔ انہیں خیال سا ہوا کہ ممکن ہے یہی ہمارا داماد ٹھہرے۔ انہوں نے اسے آمدروفت کی کھلی اجازت دے رکھی تھی۔
آپ کے چہرے سے ترشح ہے گویا آپ اپنے خیال میں اختتام کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ یہی آپ کی بھول ہے۔ آئے رین اس کی اتنی بری طرہ سے گرویدہ ہو گئی تھی جیسے اس نے کوئی جادو کا شربت حب پی لیا ہو۔ لیکن اس کے باوجود چھ مہینے سے وہ اس کے یہاں جانے سے انکار کرتی رہی۔ لڑکی کی مقدس مدافعت نے اسے اپنے دوستوں کا نشانۂ تضحیک بنا دیا۔ اس نے ایک ابلیسانہ و سفاکانہ انتقام کی شرط لگا لی اور یہ شرط اس نے اپنے غرور کی خاطر لگائی۔ وہ غرور جو بعض رومانوی پہلوؤں کا زہر آلود سرچشمہ ہوتا ہے۔ دیکھنا چاہیں تو آپ بائرن اور کمارگو کا غرور ہی دیکھ لیجیے۔ اس نے دلیل بازی سے کام لیا ۔ پھسلایا، سرد مہر ہو گیا۔ جذبۂ رقابت بیدا رکیا۔ خودکشی کی دھمکی دی۔ الغرض اسے قابو میں لانے کے لیے ہر ایک طرح کا جال بچھایا۔ وہ بے بس ہو گئی۔ آخر اس نے اس سپردگی کا وعدہ کر لیا جو خطرناک تھی۔ جرأت اور شائستگی کے معجزہ کی نوازش! کہ وہ پاک صاف اور بے داغ لوٹ آئی۔ کمارگو کا وہ مذاق اڑا کہ مارے غصے کے آپے سے باہر ہو گیا۔
دوسری ملاقات کے وقت اس کی طاقت نے جواب دے دیا۔ اس کی قوت ارادی جھک گئی۔وہ مغلوب ہو گئی اور جب پریشان و لرزاں، آنکھیں بند کیے وہ اپنے ملعون عاشق کے بازوؤں میں پڑی تھی، وہ کھلکھلا کر ہنس پڑا۔ اور اس نے پردے کی ڈوریاں کھینچ دیں۔ آئے رین کیا دیکھتی ہے کہ آٹھ دس نوجوان ہولناک نظروں سے یوں دیکھ رہے ہیں گویا اسے کھا جائیں گے۔ وہ طنزکے طور پر ہنس رہے تھے، تالیاں بجا رہے تھے۔
وہ لپک کر اٹھی اور سنورے بغیر پریشان بالوں اور عریاں شانوں کے ساتھ سیڑھیوں سے دھم بازار میں آ کودی۔ وہ گھر اس حالت میں پہنچی کہ اس کے پیچھے پیچھے شریر لڑکوں کا گروہ تھا جو اس پر کیچڑ اور پتھر پھینک رہا تھا۔ ’’اسے کیا ہوا اور وہ کہاں رہی؟‘‘ یہ بتانے سے اس نے قطعاً انکار کر دیا۔ یہ بات میرے باپ نے اس شخص سے سنی تھی جسے وہ اتفاقاً جانتا تھا اور جو ان میں تھا جن کے ساتھ کمارگو نے شرط لگائی تھی۔ اسے سرسام ہو گیا جس سے اس کی جان کے لالے پڑ گئے۔ جب تندرست ہوئی تو خانقاہ میں داخل ہو گئی جو اسے خاصی دور تھی۔ اس کے توبہ و استغفار کے طریقوں سے ننوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے۔ تحیر کن روزے، روٹی میں راکھ کی ملاوٹ، تین تین دن پانی کی بوند چکھے بغیر چلنا۔ سردیوں کی راتوں میں ننگے پاؤں اور گھٹنوں کے بار مصروفِ عبادت رہنا۔ اپنے آپ کو کوڑے مارنا۔ گردن میں کڑا۔ کنٹوپ کے نیچے کانٹوں کا حلقہ کمر کے گرد کیلوں والی پیٹی ......
اس کے رفیق اسے ولی سمجھتے تھے، جس چیز نے انہیں سب سے زیادہ متاثر کیا تھا وہ اس کا گریۂ مسلسل تھا۔ ممکن ہے یہ افسانہ سا ہی ہو مگر کہتے ہیں کہ ایک بار اس نے آنسو ؤں سے سلفچی بھر دی تھی۔ ایک دن معاً اس کی آنکھیں خشک ہو گئیں، ان میں ایک بھی آنسو نہ رہا لیکن رہیں درخشاں اور ان کی درخشانی آپ دیکھ ہی چکے ہیں۔ بیس سال سے اوپر گزر چکے ہیں اس واقعہ کو۔ پارسا لوگوں کا خیال ہے کہ یہ عفو خداوندی کی نشانی ہے تاہم سسٹر ایپاری سی یوں کو اپنے معاف ہونے کا یقین نہیں۔ جبھی تو وہ اس بڑھاپے میں بھی روزے رکھتی ہے، سربسجود رہتی ہے اور اپنے آپ کو کوڑے مارتی ہے۔
میں نے کہا ’’اس کی توبہ و استغفار دو کے لیے ہے۔‘‘ اور حیران تھا کہ واقعہ نگار کی فہم و فراست اس بات کو گرفت میں لینے سے قاصر کیوں رہی ہے۔ ’’کیا تمہیں خیال ہے کہ سسٹر ایپاری سی یوں کمارگو کی نامبارک روح کو بھول گئی ہے؟‘‘