عقیدت کی جیت
ترجمہ، رحیم
ضلعے کے سارے مویشی خانوں کو تہذیب نو کا بخار چڑھ رہا تھا اور وہ اپنی پہلی قدرتی چراگاہوں والی ہیئت کو کھو رہے تھے۔ جو بے کراں وسعتیں اس وقت تک غیر منقسم پڑی تھیں اب گیاہ زاروں میں ہندسی طور پر ٹکڑے ٹکڑے ہو رہی تھیں ...... اور تار کے جنگلے انہیں ٹیڑھے ترچھے قطعوں میں بانٹ رہے تھے۔
اب وہ ایسا میدان نہیں تھیں جس کی ہم آہنگ سرسبزی و شادابی افق تک دوڑتی چلی جاتی تھی۔ ان کی شکل و صورت تھوڑے تھوڑے فاصلے پر بدل رہی تھی اور یوں معلوم ہوتی تھیں کہ ان ٹکڑوں کا سلسلہ ہیں جنہیں آپس میں جوڑ رکھا ہے۔
جب زمین نے دیکھا کہ وہ مفتوح ہے اور اس سے بے اندازہ فائدہ اٹھایا جا رہا ہے تو اس نے ذلت آمیز جدوجہد سے ہاتھ اٹھا لیے اور اپنی بلند کیفیت لا محدودیت سے دست بردار ہو گئی۔
اجنبی قدموں نے تکریم کے بغیر اسے داغدار کر دیا۔ آلات عقوبت نے اسے طویل سیاہ زخموں سے لہولہان کر ڈالا۔ نامعلوم بیجوں نے اس کی زندگی بخش رس سے قوت کو چوس لیا اور لالچی ہاتھوں نے منفعت کی خاطر اس کے خون کی چوری کر لی۔
ایک ہی ٹکڑا رہ گیا تھا جو تبدیلیوں کے مقابلے میں ڈٹا رہا۔ وان رونی نو کا مویشی خانہ! وان رونی نو نے اس حملہ کو یوں دیکھا جیسے کوئی بیٹا، ماں کی بے حرمتی کو دیکھے اور اس کا دل سینے میں ڈوب جائے۔
اس کی آنکھ میں آنسو ہوتا اور لبوں پر طنز آمیز مسکراہٹ۔ اپنی ڈاڑھی ہلاتے ہوئے کہتا: ’’یہ تو کسی امریکی کی پتلون بن گئے ہیں۔‘‘ اور اس کی محزوں آنکھیں دھندلا جاتیں اور مختلف رنگوں کو ایک میں تحلیل کر دیتیں۔
اس کا مویشی خانہ ہر قسم کی تبدیلی سے ناآشنا رہا۔ گائیں، گھوڑیاں اور بھیڑیں یکجا ایک ہی کھیت میں چرتی تھیں اور سبھی خدمت گار وہیں کے باشندے تھے اور جس طرح کوئی جھنڈے کو سنبھالے ہو یہ میدان کے اس آخری ٹکڑے کو سنبھالے ہوئے تھے۔
یہاں وہ حقیقتوں کو بھول جاتے تھے اور اسی بات کا خواب دیکھتے تھے کہ اس کی حدود سے پرے بھی سب کچھ اسی طرح قائم و دائم ہے جیسے دس سال پہلے تھا۔ جس طرح غداری کا صدمہ فوری ہوتا ہے ان دس سالوں میں تبدیلیاں بھی فوری ہوئی تھیں۔ اگر پرانے معیاروں سے جانچو تو اس میں واقعی وہ تمام خصوصیات موجود تھیں جو مویشی خانے کے مالک میں ہونی چاہئیں۔ وہ دیہات میں پروان چڑھا اور اس کے سارے کاموں کا کاریگر تھا۔ اس کی روح دیہاتی تھی، سر تا سر ہمدردی۔ بڑھاپے کی وجہ سے اس کی عزت کی جاتی تھی اور نیکی کی وجہ سے محبوبِ خلائق تھا۔
مویشی خانہ پرانے طریقوں پر چل رہا تھا ، زراعتی سائنس جس طریقہ کارروائی کی حمایت کرتی تھی اسے اختیار کرنا زیادہ نفع بخش ثابت نہ ہوتا لیکن یہ تو جھنڈے کو گرانے کے مترادف ٹھہرتا۔
سیمنٹ کا چھوٹا سا گھر مویشی خانے کے گھروں کی طرز کا بنا ہوا تھا۔ اس کے تین کمرے تھے جو یکے بعد دیگرے ایک دوسرے سے نتھی تھے۔ یہاں سے ایک پلاٹیو نظر آتا تھا جس پر گویا بڑی صفائی سے جاروب کشی ہو رہی تھی۔ یہ گھر صریح غربت کا مذاق اڑا رہا تھا۔
اس روز صبح ہی سے چھوٹے گھر پر ڈراؤنے خواب کی مانند حبس چھائی ہوئی تھی۔
چھت کے آتشیں معانقے کے ساتھ ساتھ نیچی دیواریں نہایت تیز جھلسا دینے والی دھوپ کی خیرہ کن سفیدی کا انعکاس کر رہی تھیں۔ پلاٹیو کے پار زمین کی درزیں اک ابتری، پراگندگی کا نقشہ لیے ہوئے تھیں۔
چھوٹی سی اولتی کے سایہ تلے وان رونی نو چمڑے کا تسمہ گندھ رہا تھا اور پسینے سے تربتر تھا۔ اس نے لمحہ بھر کے لیے اپنے کام سے تیز نظریں ہٹا کر کھیتوں کو دیکھا جو دھوپ سے جھلس گئے تھے اور گھاس کے نہ ہونے سے چٹیل میدان بن گئے تھے۔ اس کی آنکھیں دھندلا گئیں اور کھیتوں کی پیلی رنگت کا ارتعاش اس کی نگاہوں کو غبار آلود کر گیا۔
تین مہینوں کی سنگ دل و بے پناہ قحط سالی نے سخت سے سخت جڑوں کو جلا کر راکھ کر ڈالا تھا اور ننگے کھیتوں میں کچھ تھا تو یہی مردار جانوروں کے ڈھانچے جو ادھر ادھر پڑے تھے۔ تباہی کی مسلمہ تصدیق۔
وان رونی نو نے تسمہ لٹکا دیا اور قریبی کنوئیں پر پانی پینے کے یے چلا آیا۔ اس نے ڈول میں اپنے سر کا نیم حصہ ڈبو دیا۔ پھر وہ دھوپ سے بچنے کی خاطر سونے کے کمرے میں آگیا کہ ایک نظر اپنی ننھی اعجاز کن مریم کو بھی دیکھ لے جو ضلع بھر میں مشہور تھی۔
دہلیز سے ادھر قدم رکھتے ہی وہ اک طرح کی تصوف بھری خاموشی سے دوچار تھی۔
کمرے میں اندھیرا تھا اور تمام خارجی اثرات سے محفوظ تھا۔ دو موم بتیوں نے اسے روشن کر رکھا تھا جو مستغرق مریم کے دائیں بائیں موجود تھیں۔ اس کے لیے یہ کہنا سخت مشکل تھا کہ مریم کا انداز بخشش کا تھا یا خشوع عبادت کا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کے چھوٹے چھوٹے سخت ہاتھ ایک پرتسکین احترام کے خالق تھے اور ہو سکتا ہے کہ کمرے کی ٹھنڈک جو اس کے سائے تلے اونگھ رہی تھی، اس کے اعجاز کا ہی نتیجہ ہو۔
دونا آفس لی نا نے اس کے لیے منکوں کی ایک چھوٹی سی چٹائی بن رکھی تھی اور اس کے پیچھے بہت سی کیلوں سے یوں ٹھونک رکھا تھا کہ ایک حلقہ سا بن جائے۔ میگ پائی اور الو کے انڈوں کی تسبیح بھی لٹک رہی تھی۔
بوڑھا سویں بار جھک کر اس پانی کے لیے دعا مانگنے والا ہی تھا جس کی انہیں اشد ضرورت تھی کہ اسے اپنی دعاؤں کی بے اثری کا احساس ہو گیا۔
’’لکڑی کا یہ بے حس ٹکڑا تو مینڈکوں کی طرف زیادہ متوجہ ہووے ہے۔‘‘
انتقام کی آرزو نے اس کے مقدس ارادے کو ختم کر دیا۔
باہر جو کچھ ہو رہا تھا اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا۔ خشک کھیت ......جن میں خاک اڑ رہی تھی۔ جانور ......جو زمین کو سونگھ رہے تھے اور خاک بھی نہ پاتے تھے۔ ان کے نتھنوں کی سانس سے مٹی کے دو مینار اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔
اس بے بس مخلوق کی ساری مصیبتیں اس کے غصے کا باعث بن گئیں اور اک مبہم منصوبہ کو ٹھوس شکل مل گئی۔
جب چاروں کھونٹ کی دھوپ سے ہر ایک عذاب میں مبتلا تھا تو اس ننھے بت کی طرح اس ٹھنڈے کمرے میں غیر ملتفت ہو جانا اک آسان بات تھی۔ ’’ہماری دعاؤں کو التجاؤں کے ذریعہ نہیں مانا تو قوت سے مان لے۔‘‘ اب مناسب یہی ہے کہ جب تک مان نہ لے یہ بھی مصیبت کا مزہ چکھتی جائے۔
وقت موزوں تھا۔ لڑکے کھالیں اتارنے گئے ہوئے تھے۔ بڑی بی باورچی خانے میں خار پشت پکا رہی تھی۔ اب وہ اپنی دھمکی کو مداخلت کے بغیر بروئے کار لا سکتا تھا۔
اس نے اک بے ادب ہاتھ بڑھا کر کنواری مریم کو کونے کے تخت سے اتار لیا اور جس طرح وہ چوزے کو اس کی چیں چیں ختم کرنے کے لیے اپنے کرتے میں چھپا لیتا تھا، اسے بھی چھپا لیا اور کمرے میں تالا ڈال کر اس راہ پر ہو لیا جس کی خاک جوتوں میں گھس کر اس کے پاؤں جلائے ڈالتی تھی۔
تیز ہوا کا جھونکا گرے ہوئے پتوں کے مخروطی چکر کو مبتلائے گرداب کر رہا تھا۔ جب وہ آگ کے لیے چولہے پر جھکتا تھا تو اس کے چہرے کو تپش محسوس ہوتی تھی۔ اسے وہی تپش تیز ہوا کے جھونکے میں موجود ملی تھی۔
وہ اون مونڈنے کے چھپر میں پہنچ گیا جو چوڑی کچی اینٹوں کی عمارت تھی اور چھت گھاس پھوس کی بنی ہوئی تھی۔ اس کے ایک کونے میں کھرلی تھی اور دیوار میں کڑا تھا اور ان دونوں کو ملا کر اس گھوڑی کا اصطبل سمجھ لو جو اس جگہ کی ساکھ تھی۔ مویشی خانے بھر میں یہی ایک جانور تھا جس کی ہڈیوں پر کچھ گوشت نظر آتا تھا۔
اس نے گھوڑی کی پیٹھ پر میشی کی نرم کاٹھی کو پھینکا۔ باگیں ڈالیں اور کاٹھی کو زیر انداز سے باندھا اور اس پر بیٹھ کر اس چور کی طرح چل پڑا جسے جنگل کے انتہائی گنجان حصے کی تلاش ہو۔
وہ سرپٹ مرغزار کی طرف بڑھا جا رہا تھا اور وہ رہا مویشی داغنے کی چراگاہ کا کھمبا او رصرف یہی تھی اک چیز جسے گرمی مرجھا نہ سکی۔
اس قہر کی جو تفصیل اسے نظر آئی، جلتی پر تیل کا کام کرتی گئی کہ پہلے ہی سورج کی تپش سے اس کا خون کھول رہا تھا اور گرمی کپڑوں کے اندر سے اسے پھونک رہی تھی۔
اس نے گھوڑی کی باگیں ڈھیلی چھوڑ دیں کہ وہ جھٹکے کے بغیر ٹھہر جانے کی عادی تھی۔ کرتے کے اندر سے مورتی نکال کر اس پر کافرانہ طمانیت کے ساتھ نگاہ کی۔ اس نے گھوڑی کا زیر بند کھول دیا اور اس بلندی پر جو جانوروں کی پہنچ سے باہر تھی پرومی تھی اس کی طرح ننھی کنواری کو باندھ دیا۔
جب کام ختم کر چکا تو اپنے کارنامے پر اک نظر دوڑائی کہ کہیں بچ نکلنے کا کوئی امکان تو نہیں۔ جب یقین ہو گیا تو تسلی کا قہقہہ لگایا جس سےچہرے کی شکنیں اور بھی واضح ہو گئیں۔
اس نے گلے میں مسیح کی شبیہ والا تعویذی فیتہ پہن رکھا تھا، اسے چوم کر کہنے لگا۔ ’’خدا کی قسم جب تک مینہ نہ برساؤ گی اسی کھمبے کے ساتھ جکڑے رہو گی۔‘‘ اور کسی مزید توقف کے بغیر گھوڑے پر اچھل کر سوار ہو گیا اور گھر کی راہ لی۔
معاً وہ ٹھہر گیا۔ ایک جذبہ اس کے سینے میں ابھر رہا تھا جسے وہ الفاظ میں بیان نہ کر سکتا تھا۔ دور افق پر۔ کیا تھا وہ؟ ایک سیاہ لکیر آگے کو حرکت کرتی نظر آتی تھی۔
اسے یقین نہ آتا تھا ۔ اسے اپنی آنکھوں پر دھوکا ہو رہا تھا۔ گھر تو وہ قریباً پہنچ ہی گیا تھا پھر بھی آگے نکل گیا کہ دیکھے بھلا اور لوگ کیا کہہ رہے ہیں۔
ایک ہی شور تھا جو سننے میں آ رہا تھا۔ ’’بند کرو دروازے اور کھڑکیاں بند کرو! طوفان آ رہا ہے۔ ‘‘ اور اس کا شک دور ہو گیا۔
اک لمحہ خاموشی رہی ۔ پھر طوفان پہلی بار زمین پر ٹوٹ پڑا۔ سڑک پر خاک و خاشاک کا چکر جنباں و لرزاں مینار کی صورت میں اٹھ کھڑا ہوا۔ پوپ لر کے پرانے درخت جھکے جا رہے تھے۔ ان کی سربلند چوٹیاں چیخ رہی تھیں اورکے سوارینا کے پیڑ باریک اور تیز سیٹیاں بجا رہے تھے۔
وان رونی تو مسرور سا ہو کر سوچ میں پڑ گیا۔ اپنے جذبے کے ہاتھوں زمین میں گڑ گیا تھا۔ اس نے اپنے آس پاس دیکھا۔ جو چند جانور اسے نظر آئے، یکساں طور پر ، پہلو بہ پہلو آندھی کے رخ دوڑے جا رہے تھے۔اسے یوں معلوم ہوا کہ وہ موٹے ہو گئے ہیں۔ گویا وہ کسی دوسرے عالم میں تھا۔ اسےیہ جان پڑا کہ وہ معجزوں سے مملو ہے اور جب اس نے لمحہ بھر کی کھوئی ہوئی قوت کو پا لیا تو گھوڑے کی گردن پر جھک گیا اور ننھی کنواری کی طرف سرپٹ دوڑنا شروع کر دیا۔
وہ رہی وہ! سخت گانٹھوں کے ساتھ جکڑی ہوئی۔ ننھی ، بالکل ویسی کی ویسی۔ تیرگیٔ طوفان میں ذرا کم تاباں۔ وان رونی نے اس کے پیر چوم لیے، محبت اور پیار کے بول نچھاور کر دیے، اسے نرم کاٹھی میں لپیٹ لیا اور خود ننگی پیٹھ پر سوار ہو کر گھر کو سرپٹ دوڑ پڑا۔
یوں معلوم ہوتا تھا آندھی سارے جہان کو اپنے آگے بھگائے لیے جا رہی ہے۔ اب تیز تو تھی مگر شدید نہیں تھی۔ بڑے بڑے قطرے گرنا شروع ہو گئے جو مٹی میں گیند کی طرح لڑھکتے تھے۔ بڑے میاں گیلی مٹی کی باس میں لمبے لمبے سانس لے رہا تھا۔ جب وہ روکنے والے جنگلے کے قریب پہنچا تو قطروں کا حجم بڑھ گیا تھا۔ زمین پر پڑتے تھے تو بلبلے اٹھتے تھے۔
وہ اندر داخل ہوا تو شرابور تھا۔
اون مونڈنے کے چھپر میں سبھی مصروف تھے اور ہر اس چیز کو چھت تلے لا رہے تھے جس کی بابت احتمال تھا کہ مینہ سے خراب ہو جائے گی۔
اوون پرندہ پر پھٹپھٹا پھٹپھٹا کر اپنی فتح مندانہ مسرت کا اظہار کر رہا تھا۔ بجلی آسمان کے آر پار لحظہ بہ لحظہ چمک، کڑک رہی تھی۔
فی لائپ سب سے چھوٹا بیٹا تھا۔ وہ پیاؤ کی لکیر کے ساتھ ساتھ مینہ کے ٹھنڈے ٹھار ہلے میں تر بتر گھوڑے پر سوار چیختا چلاتا آ رہا تھا۔ اس نے کاٹھی کے ساتھ ایک کھال باندھ رکھی تھی جس کے سم گھوڑے کے شانوں سے مہمیز کا کام کر رہے تھے۔ گھر کے قریب آجانے پر مشتعل جانور چاروں پیر جوڑ جوڑ کر بار بار اچھلا کودا۔
’’ارے کدھر کو؟ کیا کرت ہو؟ کوئی مصیبت ......؟‘‘ وان رونی نو نے چلا کر کہا۔
’’بوڑھا ہو رہا ہوں بابا اور بدھو بھی اور پٹھوں میں اینٹھن بھی ہے۔‘‘ وہ ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنس پڑے۔
بارش ہولے ہولے مدھم پڑ گئی۔ چھتوں سے ننھی ننھی نہریں بہہ نکلیں۔ ان سے جو قطرے ٹپک رہے تھے، وہ پہلے قطروں کے نشانوں کو اور گہرا کر رہے تھے۔ چند لمحے پیشتر آندھی نے جن درختوں کو تازیانے لگائے تھے وہ دھل دھلا کر نکھر گئے تھے اور ان کے سبز پتے چمک رہے تھے۔ تنوں کا رنگ گہرا پڑ گیا تھا۔
خندقوں نے دریاؤں کو چرا لیا تھا اور جوہڑوں نے جھیلوں کو۔ پرندے پروں کے گیند بنے، ساکت و جامد ، اپنے پپوٹوں کو نیم بند کیے ایستادہ تھے۔ ایک ہلکا ترنم ، ایک بھرپور طمانیت چھائی ہوئی تھی اور گو اندر ہی اندر ان میں شدت تھی مگر لوگوں تک کی حرکتوں کو اعتدال پر رکھے ہوئے تھیں۔ لوگ ٹھنڈی ہواؤں سے اپنی جلدوں کو تھپتھپا رہے تھے۔
سارے میدان سے معانقہ گیر تھا۔ ایک نرم ترنم، ایک سکوت استغراق۔
اسی روز رات کے نو بجے۔ چھوٹے مویشی خانے میں ہر چیز محو خواب معلوم ہوتی تھی۔ بوڑھے میاں بیوی کی خواب گاہ میں روشنی نظر آتی تھی۔ گھر کی ساری موم بتیاں وہیں جمع ہو کر محسنہ کے لیے نور بکھیر رہی تھیں۔ وان رونی نو ہاتھ میں تسبیح لیے ’’مریم! خوش آمدید‘‘ گاتا تھا جس کا جواب سب متحدہ آواز میں دیتے تھے۔
باورچی، کارندے سبھی اس اہم وقت میں جمع تھے۔ ایک گہری یکساں لہجے کی آواز سے وقفے وقفے پر متحدہ آوازیں آ ملتی تھیں۔ ان سادہ روحوں کے دلوں سے نکلا ہوا تقدس تمام فضا میں طاری تھا۔
کھڑکیوں پر مینہ کے تھپیڑے رک رک کر پڑتے تھے۔
ننھی کنواری اپنے طاقچے میں موجود تھی اور اس واقعے سے جو اطمینان حاصل ہوا تھااس سے پھولی نہ سماتی تھی۔ اس نے اس فتح نو کی خوشبو کو آس پاس کے سارے ولیوں پر پھیلا دیا تھا۔