ڈیزی الامیر

ڈیزی الامیر

کل

    ترجمہ: ڈاکٹر اعجاز راہی

    ابھی اس نے سڑک عبور کرکے چند قدم ہی آگے بڑھائے ہوں گے کہ اس کے پیچھے زبردست دھماکے کے ساتھ ایک بم پھٹا۔ اس کے اردگرد کی ہر چیز لرز گئی، مگر اس نے مڑ کر پیچھے نہیں دیکھا۔ اب اس میں اتنی ہمت نہ رہ گئی تھی کہ وہ خون میں لتھڑی ہوئی کوئی لاش یا ہنستے بستے کسی گھر کو مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہوتا دیکھ سکے۔ وہ اپنی مخصوص رفتار سے آگے بڑھتی رہی۔ اب اس کے دل میں یہ خوف بھی باقی نہ رہا تھا کہ کوئی دوسرا بم اسے بھی ٹکڑے ٹکڑے کر سکتا ہے یا چھپا ہوا کوئی شخص آسانی کے ساتھ اسے نشانہ بنا سکتا ہے۔

    وہ اپنے ساتھ کچھ بھی نہیں لائی تھی۔ جنگ کے ان طویل سالوں میں سامان خورونوش اور دوسری اشیاء جو وافر مقدار میں جمع کر رکھی تھیں، انہیں دیکھ کر اس پر یہ انکشاف ہوا تھا   کہ یہ چیزیں بھی اب زیادہ دیر تک اسے موت کے منہ میں جانے سے نہیں بچا سکیں گی۔ وہ نہ تو فاقوں مر رہی تھی، اور نہ ہی کپڑے نہ ہونے سے اسے موت گھیر رہی تھی، پھر یہ سب کچھ جمع کرنے کا کیا فائدہ؟

    اس کا فلیٹ فرنیشر اورآرائش کی دوسری چیزوں سے بھرا ہوا تھا۔ اب اس کے دل میں چوری، قبضے یا بم کے گرنے سے ان کے تباہ ہونے کا خوف ختم ہو گیا تھا۔ اس کے ذہن میں یہ سوال ابھرا کہ اگر وہ یہ سب کچھ یوں ہی چھوڑ دے تو کیا اس کی زندگی محفوظ ہو سکے گی؟ اب اس کے لیے اپنی زندگی کا تحفظ ہی سب سے بڑا سوال بن گیا تھا۔

    گزشتہ رات وہ اپنے پڑوسیوں سے ملنے سامنے والے فلیٹ میں گئی تھی کہ اسے شور سنائی   دیا۔ پھر جلد ہی یہ شور تکرار میں بدل گیا، وہ جب باہر نکلی تو اسے اپنے فلیٹ کے سامنے کچھ مسلح افراد نظر آئے، جو اس کے فلیٹ کا تالاتوڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس کے ساتھ ہی اس کے محلے کے کچھ اور لوگ بھی اس کے فلیٹ کی طرف لپکے۔

    ان کے پلازہ کا پورٹر مسلح افراد کو اس بات کا یقین دلانے کی کوشش کر رہا تھا کہ یہ فلیٹ خالی نہیں ہے اور جونہی اس کی نظر بڑھیا پر پڑی اس نے اطمینان کا سانس لیا۔ اس نے بڑھیا سے چابی طلب کی، تاکہ وہ یہ ثابت کر سکے کہ یہ فلیٹ خالی نہیں۔ اس نے چابی پورٹر کے سپرد کر دی اور ایک نظر مسلح افراد پر ڈالی، وہ نہ تو بندوقوں اور سنگینوں سے خوفزدہ تھی، جو ان کے کاندھوں سے لٹکی ہوئی تھیں اور نہ ہی ان کی قہر آمیز نظروں سے لرزیدہ ۔

    پورٹر دروازہ کھولنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہا تھا اور مسلح افراد فخریہ انداز میں اندر جا کر یہ ثابت کرنے پر تلے ہوئے تھے کہ یہ گھر خالی ہے اور اس پر قبضہ کرنا ان کا حق   ہے۔ جب دروازہ کھولا گیا، تو وہ بے دھڑک اندر داخل ہو گئے۔ گھر رستا بستا نظر آرہا تھا اور وافر سامان خوردنی موجود تھا۔ پھر وہ بالکونی کی طرف آئے جہاں رسی پر کپڑے سوکھنے کے لیے لٹکے ہوئے تھے۔ اور جب وہ کچن میں داخل ہوئے تو انہیں گیلی پلیٹیں نظر آئیں جن سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، شاید انہیں کچھ دیر پہلے ہی دھو کر رکھا گیا تھا۔ لیکن مسلح افراد اس پر بھی مطمئن نہ ہوئے، وہ اس فلیٹ پر قبضہ کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ اور کسی معقول عذر کی تلاش میں تھے، انہوں نے تمام کمروں کا چکر لگایا، جہاں کی ہر شے مکینوں کی موجودگی کا پتہ دیتی تھی۔

    ’’اس فلیٹ میں کتنے افراد رہتے ہیں؟‘‘ مسلح افراد میں سے ایک نے، جس کا لہجہ تلخ اورآنکھوں میں قہر تھا؟ سوال کیا۔

    ’’پانچ ......‘‘ قریب ہی کھڑے ایک پڑوسی نے جواب دیا۔

    ’’وہ لوگ اب کہاں ہیں ......‘‘

    ’’وہ عزیزوں کو ملنے قریب کی بستی میں گئے ہیں۔‘‘ ایک دوسرے پڑوسی نے جلدی سے جواب دیا ......پھر تما م پڑوسیوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھا، اور سب کی نظریں بوڑھی عورت پر جم گئیں، جو خاموش نظروں سے، ایک لفظ بھی ادا کیے بغیر مسلح حملہ آوروں کو گھور رہی   تھی۔ پڑوسیوں کو اپنے اردگرد دیکھ کر اس کے اندر ایک قوت بیدار ہو رہی تھی۔ اسے یوں محسوس ہوا، کچھ دیر پہلے وہ اپنے آپ کو کمزور سمجھ رہی تھی، مگر اب وہ اپنے حق کا تحفظ کر سکتی ہے۔ اس نےسوچا انہیں پتہ چلے کہ یہ گھر بنانے کے لیے اسے کس قدر محنت کرنی پڑی ہے اس  نے کتنی راتیں جاگ کر گزاریں، آخری عمر کے سکون کے لیے اسے کس قدر کام کرنا پڑا، اس نے یہ گھر سنوارنے کے لیے کتنے ہی سن و سال بے آرام گزار دیے تھے۔ وہ بڑے فخر کے ساتھ لوگوں کو سنایا کرتی تھی، مگر اب ...... اسے یہ ثابت کرنا پڑ رہا تھا کہ کیا یہ فلیٹ واقعی اس کا ہے؟ آخر کار یہی ہو سکتا تھا کہ مسلح افراد اس سے اس کا شناختی کارڈ طلب کرتے جس سے اس کی ملکیت ثابت ہو سکتی۔

    اسی لمحے اس کے دوسرے پڑوسی رائفلوں اور بندوقوں کے ساتھ اس کے گھر میں داخل ہوگئے تھے۔ اسے اب تک پتہ نہیں تھا کہ اس کے پڑوسیوں کے پاس اس قدر اسلحہ موجود ہے۔ اسے ان میں سے کسی نے کبھی یہ نہیں کہا تھا کہ اگر وہ کسی مشکل میں پھنس گئی ، تو وہ مدد کو پہنچیں گے۔ مگر آج سب اس کے اردگردموجود تھے۔

    اچانک اس نے خود کو بڑا ہلکا پھلکا محسوس کیا۔ اس کے چاروں طرف اس کے اپنے کھڑے تھے۔ اسے اب تنہائی کا احساس نہیں تھا۔ مگر مسلح افراد کی موجودگی بدستور پریشان کن تھی۔ ہر کوئی بے حس و حرکت کھڑا تھا، وہ پڑوسی اور حملہ آور سب ......ہر کوئی آنے والے لمحوں کی شدت محسوس کرتے ہوئے ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اچانک ایک حملہ آور نے اپنی رائفل سیدھی کی اور کھڑکی کی طرف رخ کرکے فائر داغ دیا۔ گولی کی آواز نے کمرے کا سکوت ایک چھناکے سے توڑ دیا۔ ہر چہرے پر خوف کی لکیریں ابھر آئی تھیں۔ اسی لمحے جس نے فائر کیا تھا، غصے سے پیر پٹختا ہوا فلیٹ سے باہر نکل گیا، جس کی تقلید میں دوسرے بھی ایک ایک کرکے نظروں سے اوجھل ہو گئے۔

    اس سے قبل اس کے اعصاب جواب دے جاتے، اس نے دیکھا، اس کے تمام پڑوسی اس کے گرد حلقہ کیے کھڑے ہیں۔ اس نے ان کی آنکھوں میں جھانکا، ہر آنکھ کہہ رہی تھی۔

    ’’تم ہم میں سے ایک ہو ...... ہم تمہارے اپنے ہیں۔ جب تک ہم زندہ ہیں، تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا......‘‘

    اس نے باری باری سب لوگوں کی طرف دیکھا، اور ہر چہرہ اسے اپنا لگا۔ مگر اب اس کے اندر ایک نیا خوف ابھر آیا تھا۔ اس نے خود سے سوال کیا، یہ حقیقت سہی کہ آج وہ لوگ میرے فلیٹ پر قبضہ نہ کر سکے۔ یہ بھی درست ہے کہ وہ میرے فلیٹ کو تباہ کیے بغیر چلے گئے، یہ بھی ٹھیک ہے کہ انہوں نے مجھے ہلاک یا زخمی کرنے کی آج جرأت نہیں کی۔ میرے ساتھ آج کچھ بھی نہیں ہوا۔ لیکن ......

    کون جانے کیا یہ سب کچھ اس کے ساتھ کل نہیں ہو گا۔......؟