حسین عید

حسین عید

چپ کی چیخ

    ترجمہ: ڈاکٹر اعجاز راہی

    اسے یوں لگا جیسے وہ اچانک ملگجے اندھیروں سے نکل کر روشنیوں کے شہر میں آگئی ہو۔ اس کے دائیں بائیں آگے پیچھے روشنی کے ہزاروں قمقمے اس کے بدن کو ہلکا پھلکا کرکے اسے روشنی میں تحلیل کر رہے ہوں۔ چاروں طرف کھڑے خوبرو نوجوانوں کی نظریں اس میں جذب ہونے لگی تھیں۔ اس کے خوبصورت لامبے بال ہوا میں لہرا رہے تھے۔ اس نے کمال بے نیازی سے سر کو جھٹکا دیا۔ بال اس کے شانوں پر یوں کھیلنے لگے جیسے باد نسیم نرم و لطیف شاخوں سے کھیلتی ہے۔ وہ ایک مست غزال کی طرح چوکڑیاں بھرتی مسکراہٹوں کی خیرات تقسیم کرتی ہوا کے دوش پر آگے ہی آگے بڑھ رہی تھی۔ روشنیاں اور نظریں اس کے چاروں اور رقص کناں ساتھ رواں تھیں۔

    ’’نرگس ......‘‘ مجمع میں سے کسی نے آواز دی۔

    ’’نرگس ......‘‘ ایک اور آواز ابھری۔

    ’’نرگس ......نرگس......نرگس‘‘ چاروں طرف سے آوازیں اس کے گرد حلقہ کرنے لگیں۔ پھر ایک ہاتھ اس نے اپنے کاندھے پر محسوس کیا۔ وہ مسکرائی اور پہلو بدل لیا۔

    نرگس، نرگس ...... کی آوازوں کے ساتھ کوئی اسے جھنجھوڑنے لگا، اسے یوں لگا جیسے کوئی اس پر جھکا ہوا ہے۔ اس نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں۔ اس کی ماں اسے شانوں سے پکڑ کر جھنجھوڑ رہی تھی۔ صبح کا پیغام بن کر سورج کی تیز کرنیں اس کمرے کے اکلوتے روشن دان سے گزر کر اس کے چہرے پر پڑ رہی تھیں۔

    اس نے ماں کی طرف دیکھا، پھر روشن دان سے آتی شعاعوں کی طرف، چند ساعتوں کے لیے اس کے اندر بجلیاں دوڑ گئیں۔

    ’’تو کیا وہ خواب دیکھ رہی تھی‘‘ اس نے سوچا ...... اور ایک شدید خواہش اس کے اندر بیدار ہوئی کہ کاش اس کی ماں اسے نہ جگاتی اور خواب جاری رہتا۔

    ماں اس کے قریب ہی تخت پر بیٹھ گئی۔ اپنی انگلیوں سے اس کے کھچڑی اور میل سے اٹے ہوئے بالوں میں کنگھی کرتے ہوئے کہنے لگی۔ ’’نرگس ...... تیرے بابا کی طبیعت خراب ہے۔ وہ کام پر جانا چاہتا تھا مگر بخار کے سبب چل نہیں سکتا۔‘‘

    ’’بابا ...... بیمار ہیں۔‘‘ وہ سوالیہ نظروں سے ماں کی طرف دیکھنے لگی۔ اسے اچانک محسوس ہوا، جیسے اس کے چاروں طرف جلتے ہوئے تیز روشنیوں کے بلب بجھ گئے ہوں۔

    ’’ہاں ...... تیرا بابا شدید بیمار ہے۔ کام پر نہیں جا سکتا۔‘‘

    ’’اوہ ...... وہ غلاظت سے بھرے ڈسٹ بن اور دروازوں کے سامنے پڑے مومی تھیلے ......‘‘

    ’’ہاں وہ تیرے بابا کاانتظار کر رہے ہیں لیکن ......‘‘

    ’’لیکن ......لیکن میں تو اکیلے گاڑی نہیں کھینچ سکتی۔‘‘

    ’’مجھے معلوم ہے ......کریمہ تیرے ساتھ ہو گی ...... اٹھو تیار ہو جا ......‘‘

    ماں اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گئی۔ اس نے اپنے بابا کی طرف دیکھا جو لکڑی کے ایک بوسیدہ تخت پر چت لیٹا تھا۔ کیلوں سے بھرے ہوئے بوسیدہ پھٹوں سے بنے اس تخت کو وہ پلنگ کہتے تھے۔ اس کمرے میں دو تخت تھے جن پر پرانی سی دریاں پڑی تھیں۔ نرگس کے نرم اور گوشت سے بھرے ہوئے جسم میں ساری رات یہ لکڑیاں چبھتی رہتیں۔ مگر اب وہ اپنے ماں باپ کی طرح اس کی عادی ہو چکی تھی۔ اس کا بابا ایک مختصر سے پرانے کرتے میں ملبوس تھا۔ اس کی دائیں ٹانگ تخت سے نیچے جھول رہی تھی۔ معاً اسے خیال آیا کہ جب وہ چھوٹی تھی تو اکثر بابا کے ساتھ اس کی گدھا گاڑی میں بیٹھ جاتی اور جب بے خیالی میں اس کی دونوں ٹانگیں نیچے جھولنے لگتیں تو بابا جلدی سے اسے اوپر کرکے بٹھا دیتا۔ بابا کہتا، بیٹا ٹانگوں کو جھولنا نہیں چاہیے۔ انہیں مضبوطی سے گاڑی میں رکھو...... اگر یہ جھولنے لگیں تو کمزور ہو جاتی ہیں اور آدمی چلنے پھرنے کے قابل نہیں رہتا ......مگر آج ......خود بابا کی دائیں ٹانگ ہوا میں جھول رہی تھی۔

    اسی اثنا میں ماں نے کریمہ کو بھی جگا دیا ۔ کریمہ کی عمر دس سال تھی۔ اسے جب معلوم ہوا کہ بابا بیمار ہے اور اب اسے بڑی بہن کے ساتھ گدھا گاڑی لے جانا ہے تو وہ خوشی سے اٹھ بیٹھی اور جب دیکھا کہ بڑی بہن اٹھنے میں دیر کر رہی ہے تو غصے سے کہنے لگی۔

    ’’تمہیں کچھ فکر نہیں کہ بابا بیمار ہے اور چل نہیں سکتا۔ اب ہمیں ہی بابا کا کام کرنا ہے۔‘‘

    ’’نرگس سن کر مسکرائی ...... وہ جانتی تھی کہ بابا کریمہ کو ساتھ نہیں لے جاتا اور وہ باہر جانے کی خوشی میں ایسا کہہ رہی ہے۔

    نرگس اٹھ کھڑی ہوئی۔ جلدی جلدی نلکے سے منہ دھو کر باہر کھڑے گدھے کو گاڑی کے آگے باندھنے لگی۔ پھر دونوں اس پر سوار ہو کر زندگی میں پہلی بار باہر زندگی کی بڑی شاہراہ پر بابا کے سائے کے بغیر نکل کھڑی ہوئیں۔

    یہ راستے نرگس کے لیے نئے نہیں تھے۔ مگر آج اسے یہ سب کچھ اجنبی لگ رہا تھا۔ وہ جب بھی بابا کے ساتھ آتی تھی اسے یہ سڑکیں اچھی لگتیں، تیزی سے گزرتی ٹریفک، بلند و بالا عمارتیں، لوگوں سے بھرے فٹ پاتھ، وہ ایک ایک چیز سے حظ اٹھاتی، مگر آج ایک خوف اس کے اندر گھر کر گیا تھا۔ اس نے اس خوف کو کئی بار یہ سوچ کر جھٹکنے کی کوشش کی کہ یہ تو وہی راستے ہیں جہاں سے وہ بارہا گزری ہے۔ مگر آج اسے ہر شے نئی اور اجنبی لگ رہی تھی۔ پہلے جب کبھی کوئی گزرتا ہوا شخص اس کے بھرے ہوئے جسم پر نظریں گاڑ لیتا، تو اس میں تازگی آ جاتی تھی۔ آج ہر نظر تیر کی طرح چبھ کر اسے زخما رہی تھی۔ ایک انجانا ڈر اس کے ساتھ ساتھ بڑھتا رہا۔

    تیز اور بھری ٹریفک کے درمیان سے اپنے لیے جگہ بنانا اس کے لیے مشکل ہو رہا تھا۔اس نے گدھے کی رفتار سست کر لی اور فٹ پاتھ کے ساتھ ساتھ چلنے لگی۔ جس راستے کو بابا نصف گھنٹے میں طے کرتا، وہ ایک گھنٹہ سے بھی زائد وقت لے کر اس جدید طرز کے بنے ہوئے خوشحال لوگوں کے علاقے میں پہنچ گئی، جہاں اسے بابا کی جگہ لوگوں کی غلاظت کو سمیٹ کر لے جانا تھا۔ وہ سوچتی ...... آخر وہ ہی کیوں لوگوں کی غلاظت اٹھانے کے لیے بنے ہیں۔ یہ لوگ خود کیوں یہ کام نہیں کرتے۔ کیا میرے ہاتھ دوسرے کی گندگیاں اٹھانے کے لیے بنے ہیں۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو دیکھا۔ سرخ و سپید ہاتھ صابن کی محرومی کااحساس دلا رہے تھے۔ اس نے گاڑی روک دی۔ کریمہ کی طرف دیکھا۔ جو پورے انہماک کے ساتھ ماحول میں غرق تھی۔ ’’اترو ......‘‘

    اس نے کریمہ کی طرف دیکھتے ہوئے آہستگی سے کہا۔ جانے کیوں اپنے ساتھ اس گندے کام پر لانے کے خیال سے افسردہ ہو گئی تھی۔ مگر یہ سارا کام اکیلے اس کے بس کا نہیں تھا۔

    دونوں بہنیں ٹوکرا اٹھا کر چار منزلہ عمارت کی طرف بڑھیں۔ انہیں سب سے پہلے چوتھی منزل پر جانا تھا۔ عمارت میں لفٹ تھی مگر انہیں استعمال کی اجازت نہیں تھی۔ اس نے بارہا بابا سے پوچھا تھا کہ وہ لفٹ پر کیوں نہیں جا سکتے۔ مگر بابا بے چارہ کیا جواب دیتا، اسے تو خود یہ معلوم نہیں تھا کہ لفٹ کے دروازے خود بخود ان پر کیسے بند ہو گئے ہیں۔ وہ جب چوتھی منزل پر پہنچی تو اس کا سانس پھول گیا۔ کریمہ دوڑتی ہوئی یہاں تک پہنچی تھی۔ اسے یاد آیا، صرف چند سال پہلے تک جب وہ بابا کے ساتھ ہوتی، تو کریمہ کی طرح دوڑ کر اوپر آیا کرتی تھی ۔ لیکن چار سال قبل تیسری منزل کے کانے بابو نے جب اشارے سے اسے اندر بلایا۔ اس سے قبل کہ وہ اندر جاتی، بابا نے دیکھ لیا تو پوچھا کدھر جا رہی ہو۔ تو اس نے بتایا کہ چھ نمبر والا کانا بابو اسے بلا رہا ہے۔ بابا نے اسے کچھ بھی نہیں کہا، اس روز اس نے ایک لمحے کے لیے بھی اسے اپنے سے دور نہیں ہونے دیا اور پھر کبھی ساتھ نہیں لایا۔

    اس نے اپنا ٹوکرا ایک کونے میں رکھا اور پہلے فلیٹ کے دروازے پر پہنچی۔ ہر منزل پر چھ فلیٹ تھے۔ وہ باری باری ہر دروازے پر رکھے پلاسٹک کے تھیلوں کو اٹھاتی، ٹوکرے میں رکھتی رہی۔ جب چوتھی منزل پر کام ختم ہوا، تو اس کا ٹوکرا بھر چکا تھا۔ اسے پھر نیچے سڑک پر آنا تھا۔ اس کے لیے ٹوکرا اٹھا کر چوتھی منزل سے اترنا عذاب تھا اور پہلی بار محسوس ہوا کہ اس کا بوڑھا باپ کس قدر بہادر انسان ہے۔ جو برسوں سے بوجھ اٹھاکر سیڑھیوں پر چڑھ اتر رہا ہے۔ وہ مختلف خیالوں میں غرق نیچے اتری اور ٹوکرے کو گاڑی میں انڈیل   کر دوبارہ اوپر تیسری منزل پر آگئی۔ فلیٹ نمبر ٢ کے سامنے سے کوڑے کا تھیلا اٹھاتے ہوئے اسے برسوں پہلے کی بات یاد آگئی جب وہ بہت چھوٹی تھی۔ ایک بار حسب معمول وہ ایک لکڑی سے کوڑے کو کرید رہی تھی تو اسے ایک غبارہ ملا تھا اسی لمحے دروازہ کھلا اور ایک نہایت خوبصورت خاتون دروازے سے نکلی۔ اسے محسوس ہوا تھا جیسے وہ خاتون بھی اس غبارے کی طرح نرم و ملائم ہے۔

    اس نے جلدی سے غبارہ پھینک دیا اور خاتون کو دیکھنے لگی۔

    ’’یہ لو ......نیا غبارہ بازار سے خرید لینا‘‘ اس خاتون نے پرس کھولا اور ایک سکہ اس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ اسے یہ بات تو کبھی سمجھ نہیں آئی کہ اس نے کوڑے میں پڑا ہوا غبارہ لینے   سے کیوں منع کیا تھا مگر اس دن سے وہ عورت اسے اچھی لگنے لگی تھی۔ اس کے بال ریشم کی طرح ملائم اور ہوا میں اڑتےمحسوس ہوتے ۔ وہ جب بھی اسے باہر سڑک پر دیکھتی تو اسے یوں لگتا، جیسے ہوا چلتی ہی اس لیے ہے کہ اس خاتون کے بالوں سے کھیلے۔ کبھی کبھی اس کا جی چاہتا کہ کاش اس کے اپنے بال بھی اتنے لمبے، ملائم اور خوبصورت ہوتے۔

    تیسری منزل پر کام ختم کرکے جب وہ دوسری منزل پر پہنچی تو فلیٹ نمبر ٥ اس کے سامنے تھا۔ اس کے دروازے کے سامنے سے کوڑا اٹھاتے ہوئے گھر کی مالکن کا چہرہ اس کے سامنے آگیا۔ اس گھر کی مالکن جس قدر سیاہ، چیچک زدہ اور بھدی تھی اس کا خاوند اسی قدر وجیہہ ، خوبصورت اور بیوی کی نسبت کم عمر تھا۔

    اسے یاد آیا۔ ایک بار اس گھر کے کوڑے کے تھیلے سے بھی اسے اسی طرح کے غبارے ملے تھے، بلکہ اکثر ملتے تھے۔

    گراؤنڈ فلور کے آخری فلیٹ کے سامنے سے تھیلا اٹھاتے ہوئے اس نے سکھ کا سانس لیا۔ اب اسے صرف جھاڑو پھیرنا تھی اور کام ختم۔ اچانک اسے محسوس ہوا، جیسے اس تھیلے میں ایک بوتل ہو۔اس نےجلدی سے تھیلے کا منہ کھولا، بدبو کا ایک بھبکا اس کی طرف بڑھا۔ اس نے بوتل باہر کھینچ لی او رجلدی سے تھیلا دوبارہ بند کیا اور اسے ٹوکرے میں رکھ دیا۔

    اس کے اندر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ بوتل خوشبودار تیل کی تھی اور شہر میں کئی جگہوں پر بڑے بڑے بورڈوں پر اس تیل کے اشتہارات لگے ہوئے تھے، جن میں ایک خوبصورت خاتون ایک ہاتھ میں تیل کی بوتل لیے غزال کی طرح چوکڑیاں بھرتی دوڑ رہی تھی اور اس کے بال نرم و ملائم ریشم کی طرح ہوا کے دوش پر اڑ رہے تھے۔ اسے اس وقت بے انتہا خوشی ہوئی جب اس نے دیکھا کہ بوتل میں ایک چوتھائی تیل موجود ہے، اور اس پر بورڈ والی خاتون کی تصویر اس انداز سے بنی ہوئی ہے۔ اسے یہ خاتون پانچویں منزل کی خاتون لگی۔ جس کے بال اسی طرح نرم اور ہوا میں اڑتے رہتے تھے۔

    اس نے بڑی احتیاط کے ساتھ بوتل ٹوکرے میں رکھی اور جھاڑو لگانے کے بعد باہر آگئی۔ ٹوکرے کو گدھا گاڑی میں انڈیلتے ہوئے بوتل نکال لی، دونوں بہنیں گاڑی کے اگلے حصے میں بیٹھ گئیں اور کمیٹی کے ڈسٹ بن کی طرف روانہ ہو ئیں، جہاں انہیں گاڑی کا سارا کوڑا انڈیلنا تھا۔

    گاڑی خالی کرنے کے بعد اس نے اطمینان کا سانس لیا اور بوتل کو نکال کر دیکھنے لگی۔ اسے محسوس ہوا، اگر یہ تیل سر میں لگا لے گی تو اس کے سر کے بال بھی نرم و ملائم ہو کر ہوا میں لہرانے لگیں گے۔ اس نے بوتل کا ڈھکن کھولا، خوشبو کی ایک لہر اس کے نتھنوں سے ہوتی ہوئی  اس کی روح میں اترنے لگی۔ زندگی میں پہلی بار اس میں ایک عجیب سا احساس پیدا ہوا۔ اسے یوں لگا جیسے اس کے اندر رقص ہونے لگا ہو، اس نے کمال سرشاری کے عالم میں تیل کو اپنی ہتھیلی پر انڈیلا اور دونوں ہاتھ پر مل کر سر پر لگا لیا۔معاً اس میں احساس پیدا ہوا جیسے اس کے بال لمبے اور ملائم ہو گئے ہیں وہ گاڑی میں سوار ہوئی اور گدھا دوڑنے لگا، ایسے یوں لگا جیسے اس کے بال ہوا میں اڑنے لگے ہوں۔ اس نے اچانک گاڑی روک دی، باگیں کریمہ کے ہاتھ میں دیں خود گاڑی سے اتری اور فٹ پاتھ پر دوڑنے لگی۔گدھا گاڑی اس کے ساتھ ساتھ دوڑ رہی تھی، کریمہ اسے تیز دوڑانے کی کوشش کر رہی تھی اور نرگس اس سے آگے نکلنے کی کوشش میں تھی۔ اس نے محسوس کیا جیسے اس کے پاؤں زمین کی بجائے ہوا کے وجود پر تھے اسے دور سے دوسری منزل کی چیچک زدہ خاتون کا خوبرو خاوند آتا نظر آیا۔ اس کی رفتار سست پڑنے لگی، جب اس کے قریب پہنچی تو اس کے قدم خود بخود رک گئے۔ وہ حیرت سے نرگس کو دیکھ رہا تھا، جونہی وہ اس کے پاس پہنچا اس کی آنکھوں میں حیرت اور گہری ہو گئی۔ وہ ایک ساعت کے لیے رکا پھر تیزی سے چل پڑا۔ معاً نرگس کو محسوس ہوا جیسے اس نے رکتے ہوئے اپنی ناک بند کر لی ہو۔ دھڑام سے اس کے دونوں پیر زمین پر آن پڑے ۔ ہوا رک گئی۔ اس کے ہاتھ پاؤں من من کے ہو گئے۔ کریمہ اس سے بہت آگے نکل گئی تھی۔ اس کے قہقہوں کی آوازیں نرگس کے کانوں میں اتر رہی تھیں۔ قدموں نے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا۔ وہ خاموش تھی، ساری فضا خاموش تھی، مگر اس کے اردگرد لاکھوں چیخیں پھیل گئی تھیں ...... چپ کی چیخیں۔