فوارہ، خواب اور کبوتر
ترجمہ: ڈاکٹر اعجاز راہی
حسن سورج کے ساتھ ہی گھر سے نکل کر المتاف سکوائر پہنچ جاتا ہے۔ کبھی کبھی تو سورج کے طلوع ہونے سے قبل ہی گھر سے نکل کھڑا ہوتا۔ وہ ان پرندوں کی طرح تھا، جو نیند کی دیوی کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالتے، وہ بھی بہت سویرے اٹھنے کا عادی تھا۔ زمین پر بچھے اپنے بستر کو چھوڑنے سے پہلے ایک نظر اپنی ماں پر ڈالتا، جو کمرے کے وسط میں ایک سیاہ رنگ کی چادر اوڑھے سوئی ہوتی، پھر اپنے بھائی کی طرف دیکھتا جو ایک کونے میں اپنے خوابوں کی دنیا میں ڈوبا ہوا دکھائی دیتا اور پھر کمرے سے نکل جاتا۔ گرمیوں کے طویل دن اور شامیں آوارہ گردی کی نذر کرنے کے بعد رات گئے وہ چپ چاپ آ کر اپنے بستر پر لیٹ جاتا ۔
وہ پتھر کی سیڑھیوں سے اتر کر آنگن میں آجاتا، جہاں سے گزر کر اس کمرے میں آتا، جس کے دروازے پر بھاری پردے پڑے ہوتے، ایک ڈربے سے اپنا کبوتر نکالتا اور پھر پسندیدہ علاقے المتاف کے لیے تیار ہو جاتا جہاں وہ طلوع سحر سےرات کی تاریکی میں سڑکیں، گلیاں، عمارتیں اور لوگوں کی آوازوں کے ڈوب جانے تک گھومتا رہتا۔
حسن کے لیے المتاف کا سب سے خوبصورت منظر، جو اس کی روح اور جسم کے پور پورمیں احساس طمانیت کو بھر دیتا تھا، وہ میوزیم کے سامنے والے فوارے کے قریب بیٹھ کر طلوع ہوتے سورج کا نظارہ تھا۔ وہ ریلوے اسٹیشن کی چار دیواری کے پاس والے کیفے کی باہر پڑی بنچوں میں سے ایک کا انتخاب کرتا اور سورج کے طلوع ہونے ، کیفے کے کھلنے، چائے والے لڑکے کو چینی کیتلیوں میں چولہے پر چائے رکھتے اور ان بنچوں کو جن کے روغن وقت کے ہاتھوں کھرچ چکےتھے، ایک ترتیب سے رکھتے ہوئے دیکھتا رہتا۔
حسن ہمیشہ ایک ہی بنچ پر بیٹھتا، جو فوارے کے قریب سڑک کے کنارے اور میوزیم کی چار دیواری کے رخ پر تھا، چنانچہ فوارے اور میوزیم کے اوپر سے گرمیوں کی صبح کی لطیف اور خنک ہوا میں سورج کو آہستہ آہستہ اوپر اٹھتے ہوئے دیکھتا رہتا ۔ وہ اس وقت اور بھی زیادہ مسرت محسوس کرتا، جب کبوتر اس کے ہاتھ میں ہوتا۔
رفتہ رفتہ میلے کچیلے کپڑوں اور پیوند لگی پتلونوں والے مزدور دور دراز علاقوں میں اپنے اپنے کاموں پر جاتے گولی کی سی تیزی کے ساتھ اس کے سامنے سے گزرتے نظر آتے۔ پھر سڑک کے دونوں طرف قطار باندھ کر کھڑے وہ مزدور جمع ہو جاتے جو روزانہ اجرت پر تعمیراتی کاموں کے کسی ٹھیکیدار یا مکان بنانے والے کے منتظر ہوتے اور چلچلاتی دھوپ میں اینٹیں، گارا اور روڑی اٹھاتے ہوئے شام کو بچوں کے لیے چند روپے حاصل کرنے کے ضرورت مند ہوتے۔ سڑک پر آہستہ آہستہ شور بڑھنے لگتا۔ اس کے سامنے سے فوجی گزرتے ان گاڑیوں کی آوازیں بڑھ جاتیں، پھر وہ ڈرائیور جو دور دراز کے دیہاتوں سے اپنی ڈیوٹی پر آتے ہوئے ہاتھوں میں سبزی، فروٹ یا پنیر کے تھیلے اٹھائے ہوتے۔
حسن اس سارے منظر سے آشنا تھا۔ وہ ان کے صحیح وقت سے بھی واقف تھا ، کہ کس وقت کون اس کے سامنے سے گزرے گا۔ وہ بڑی بے چینی کے ساتھ انتظار کرتا ، کہ کب سورج طلوع ہو اور کب سڑک کے دونوں طرف بے ڈول قدموں کے نشان ابھریں اور زمین اور فضا کی ہر چیز آوازیں دینے لگے۔ زندگی بھری آوازوں کی خواہش کے باوجود وہ ان سب سے الگ تھلگ تھا۔ اس کے خواب تو المتاف سکوائر کے بیچوں بیچ نصب فوارے سے پھوٹتے تھے۔ اس کے اندر اس وقت خوشی اور انبساط کی ایک لہر دوڑ جاتی، جب دور سے آتے ہوئے اسے ابو شاکر نظر آتا۔ (جو المتاف سکوائر کے باغ اور فوارے کا انچارج تھا)۔ ابوشاکر جب فوارے کا نلکہ کھولتا اور پانی تیزی کے ساتھ اوپر اٹھتا چھتری بن جاتا، تو اس کے وجود میں طمانیت کی ٹھنڈک بھر جاتی۔ اور جب فوارہ ٹھنڈے پانی کو اوپر اٹھا کر فضا سے واپس لوٹاتا، تو وہ پانی گرتے ہوئے دیکھتا تو اسے اس کی آوازیں کسی خوبصورت ساز سے ابھرتی موسیقی کی طرح سنائی دیتیں۔ اس نے بیٹھنے کے لیے اسی غرض سے اس جگہ کا انتخاب کیا تھا، کہ وہ اپنے خواب فوارے سے پھوٹتے ہوئے دیکھتا رہے۔ اس وقت کبوتر اس کے ہاتھ میں ہوتا۔
دن دوسرے دنوں کی طرح گزر جاتا۔ وہ جو کچھ دیکھتا، اسے اپنے ذہن میں محفوظ کر لیتا۔وہ کہتا، ’’میں ان تمام چیزوں کو پہچانتا ہوں۔‘‘ وہ المتاف سکوائر سے گزرتے ہزاروں چہروں کی شناخت رکھتا تھا وہ تمام افتادگان خاک کو ایک چہرہ تصور کرتا۔ لوگ گزرتے رہتے اور حسن ان کے لیے خواب، فوارہ اور کبوتر، کی تثلیث میں ان المیہ گیتوں کو سنتا رہتا، جو لوک ریت کا حصہ تھے اور کیفے کے بڑے سپیکر سے المتاف سکوائر کے شور پر غالب آنے کی کوشش کرتے۔
حسن کے دوست خوانچہ فروش تھے، جو ہتھ گاڑیوں پر فروٹ بیچتے۔ وہ دکاندار تھے جو سفید چغہ پہنے ہوتے، یا وہ لڑکے جو گلے میں دکان لٹکائے اسٹیشن کے دونوں طرف آوازیں دیتے نظر آتے۔ پولیس کے کئی سپاہی بھی اس کے جاننے والے تھے، جو المتاف سکوائر میں گشت کرتے نظر آتے۔
٢
ایک دن میرا بھائی ماں پر خوب برسا۔ وہ کتے کی طرح ہانپ رہا تھا۔ بھائی ایک سرکاری ادارے میں بہت کم تنخواہ پر ملازم تھا۔ میں کوشش کے باوجود اب تک کوئی ملازمت حاصل نہ کر سکا تھا۔
خدا اس گھر کو غارت کرے۔ دیکھنا ایک دن تم اس بیٹے کے ساتھ ہی مر جاؤ گی۔ میں تم دونوں سے تنگ آگیا ہوں۔ میری تھوڑی سی تنخواہ تم دونوں کی ضروریات پوری نہیں کر سکتی۔ خدا تمھیں غرق کرے ......‘‘ میرا بھائی چیختا رہتا تھا۔
ایک دن غصے میں آ کر اس نے مجھے بھی پیٹ ڈالا۔ کیونکہ میں اس کے اور ماں کے درمیان آگیا تھا۔ چنانچہ اس روز اس نے میرا غصہ جو ہمیشہ ماں پر اتارا کرتا تھا اس دن خود مجھ پر اتار دیا۔ وہ بھی سچا تھا۔ میرے پاس ملازمت تھی نہ پیسے مگر میں بھائی کا بوجھ کم کرنے کے لیے مسلسل ملازمت کی تلاش میں تھا۔ بالآخر میری کوششیں بار آور ثابت ہوئیں اور میں ایک ادارے میں ملازم ہو گیا۔ میری ملازمت گلیوں میں لگے سرکاری کھمبوں پر نصب لیمپ پوسٹوں کے بلب تبدیل کرنے کی تھی۔ جب میں نے پہلی تنخواہ ماں کو دیتے ہوئے کچھ رقم اپنے پاس رکھ لی ، اور اس شام ایک ٹوکری خوبانیوں کی خرید کر گھر آیا جن کی خوشبو ہمیشہ میرے اندر طمانیت پیدا کر دیا کرتی تھی۔ میں نے ماں کے ساتھ بیٹھ کر مزے لے لے کر خوبانیاں کھائیں۔
ان ہی دنوں میری ملاقات اپنے ادارے کے کچھ لوگوں سے ہوئی جنہوں نے مجھے یونین میں شامل ہونے کی دعوت دی اور کہا کہ اگر میں ان کے ساتھ شامل ہوا ، تو وہ مجھے ٹیکنیشن بنوا دیں گے۔ یونین کی رکنیت مجھے اچھی لگی اور میں یونین میں سرگرم ہو گیا۔ اب میں ہر چیز کو واضح شعور کے ساتھ محسوس کرنے لگا تھا۔ میں اپنی فکر کے مطابق لوگوں کو جمع کرتا اور انھیں معاشرے میں طبقاتی نفرتوں اور تضادات کا شعور دلاتا۔ لوگ میرے گرد جمع ہونے لگے۔ کبھی کبھی ہم گلیوں سے باہر نکل آتے اور اس بات کا اعادہ کرتے کہ ایک روز ایسا ضرور آئے گا جب انسان بھوک اور ذلت سے نجات پا جائے گا۔
اس دن، جو میری یادوں میں اپنی پوری اذیت ناکیوں سمیت آج بھی موجود ہے، ہم رائفلوں اور مشین گنوں کی زد پر تھے۔ ہم طویل گلی میں دو طرفہ اونچی عمارتوں کے درمیان کھڑے تھے۔ یہ ایک بڑا جلوس تھا، اسی لمحے ہمارے ایک ساتھی نے آ کر خبر دی کہ اگرہم نے فوری طورپر عمارتوں میں پناہ نہ لی تو ہم سب مارے جائیں گے۔ لیکن اس سے قبل کہ کوئی فیصلہ ہوتا، ہم مسلح سپاہیوں کے بالکل آمنے سامنے آ چکے تھے۔ یہ کبھی نہ بھولنے والے لمحات تھے۔ اسی لمحے پہلی گولی چلی اور میری کھوپڑی کو چیرتی ہوئی وہیں کہیں آ کر رک گئی۔ پہلی چیخ بلند ہوئی، لیکن یہ مسلسل چلنے والی گولیوں کی آوازوں میں دب کر رہ گئی۔ میں چیختا رہا، لیکن موت مجھ سے دور کھڑی مسکراتی رہی۔ مجھے شدید گرمی لگ رہی تھی۔ میں پیاسا تھا۔ مجھے پانی کی طلب تھی۔ میں چند قطرے پانی کی خواہش میں موت کے دروازے پر کھڑا تھا۔
گولی میرے سر میں تھی۔
اور پیاس میرے ذہن میں۔
اگرچہ موت میرے قریب تر آ چکی تھی لیکن پانی کی طلب بھی اسی قدر شدت آمیز تھی۔ مگر میں مرا نہیں۔ گولی میرے دماغ سے نکال لی گئی۔ ڈاکٹروں کو میرے بچ جانے پر حیرت تھی۔ گولی میرے سر سے نکال لی گئی تھی تھی لیکن پانی کی طلب ذہن سے نہیں نکل سکی اور آئے سالوں میں پانی میرا خواب بن گیا۔ میں ہر چیز سے بہتے ہوئے پانی کے چشموں کی طلب میں تھا۔
پانی میرے ان لمحوں کی یافت تھا جب میں زندگی اور موت کے درمیان کھڑا پیاس محسوس کررہا تھا۔ کوئی چیز بھی پانی کی طرح بہتی ہوئی نظر آتی میرے اندر روشنی پھیل جاتی۔
جب ڈاکٹروں نے مجھے ہسپتال سے اس امید کے ساتھ فارغ کیا کہ اب باقی زندگی میں ایک معذور شخص رہوں گا۔ میں گھر آگیا، جہاں میری ماں اسی طرح مجھے پیار سے ملی جس طرح وہ الیکٹرک سٹی کے ادارے میں میری ملازمت سے پہلے ملا کرتی تھی۔ میرا بڑا بھائی ماں پر پھر اسی طرح چیخنے دھاڑنے لگا، کیونکہ اب پھر میرے پاس ملازمت نہیں تھی۔ میری ملازمت ان لمحوں سے مشروط ہو چکی تھی۔ جب ہر کونے، ہر پہاڑ، ہر چٹان سے پانی کے چشمے ابلنے لگیں گے۔
میں اب قلیوں، چھوٹے پیشہ وروں اور مزدوروں کا ساتھی تھا۔ المتاف سکوائر میں اب میرے بہت سے دوست تھے۔ کبوتر میرا دوست بن گیا تھا، جس کے سفید پر مجھے بہت اچھے لگتے تھے۔ میں صرف امن اور سکون کو پسند کرتا تھا اور کبوتر ان دونوں کو عملاً پیش کرتا تھا اور یہی چیز ہم دونوں میں مشترک تھی۔
میرا بڑا بھائی اکثر یہاں تک میرے پیچھے آجاتا، مجھ پر بگڑتا اور مجھے احمق کہتا۔ لیکن اس کے جواب میں میرے چہرے پر ایک دوستانہ مسکراہٹ چھا جاتی اور میں اپنے ساتھی کبوتر کے ساتھ آگے بڑھ جاتا۔ میں نے اپنی زندگی کو سکوائر کے ہنگاموں میں پوری طرح بھگو لیا تھا۔ جو آہستہ آہستہ میرے لیے ایک ایسی دنیا بنتا گیا۔ جس کی کوئی سرحد نہیں تھی۔
ایک دن میں نے دیکھا ایک شخص المتاف سکوائر کے بیچوں بیچ کچھ نشان لگا رہا تھا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہاں ایک فوارہ بننے لگا اور پھر ایک روز پانی کی سفید چھتری اس سے ابھرنے لگی تھی۔
میں بے اختیار اٹھا اور کیفے کے سامنے رقص کرنے لگا۔ ابوشاکر اس طرح مست ہو کر میرے ناچنے پر بے اختیار قہقہے لگارہا تھا۔ یہ ایک خواب تھا۔ تمام سکوائر فو ارے کے پانی سے گیلا ہو چکا تھا۔ مسرت کا ایک لمحہ میرے لیے یہ بھی تھا کہ گرمیوں کی تپتی اور جلتی دوپہر میں میں پانی میں بھیگ سکتا ہوں۔ اور یہی میرا خواب تھا کہ میں پانی کے ابلنے کی آوازیں اور وہ المیہ گیت سنتا رہوں، جو کیفے کے ریڈیو سے ابھر کر چاروں طرف پھیل جاتے تھے۔
٣
اچانک کبوتر حسن کے ہاتھوں سے نکلا، اور فضا میں اڑنے لگا۔ اس نے چاروں طرف ہوا کو تیزی سے چلتا محسوس کیا۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھا جست لگائی تاکہ وہ اسے پکڑ سکے، لیکن ناکام رہا۔ اس نے پریشان نظروں سے کبوتر کو دیکھا۔ کبوتر فضا میں اوپر اٹھتا چلا گیا۔ حسن اور آگے بڑھا تاکہ کبوتر پر نظریں جما سکے۔ کیفے میں کام کرنے والے چند لڑکے احمقانہ انداز میں اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔
’’تم نے اسے آزاد ہی کیوں کیا تھا۔ حسن‘‘
’’وہ میرا کبوتر ہے۔ وہ چلا جائے گا ......‘‘
’’حسن ٹھہرو ...... ٹھہرو...... کچھ دیر انتظار کر لو۔‘‘
وہ گرمیوں کی اس دوپہر میں چمکتے ہوئے سورج کے نیچے نظروں سے اس کا تعاقب کرتا رہا۔ کبوتر نیچے آیا اور فوارے کی چھتری پر بیٹھنے کی کوشش کی، لیکن پانی کی تیز دھاروں نے اسے پیچھے دھکیل دیا۔ اس نے اپنے پر جھاڑے اور اوپر، اڑنے لگا۔ اسی لمحے کیفے کا مالک باہر نکلا اور اس کے کاندھے پر حسرت سے ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔
’’فکر نہ کرو ...... میں تمہیں ایک دوسرا لے دوں گا۔‘‘
’’مگر یہ کہاں جا رہا ہے ۔‘‘
’’چھوڑو ......ممکن ہے یہ اب کسی دوسرے دوست کی تلاش میں نکلا ہو ......‘‘
’’وہ میرا ہے۔ وہ میرا کبوتر ہے۔‘‘
’’وہ تمہیں نہیں بھول سکتا۔ وہ آزادی کی فضاؤں میں تمہیں ہمیشہ یاد رکھے گا۔‘‘
’’وہ گم ہوجائے گا۔ وہ پیاسا ہے، اسے پانی کی ضرورت ہے۔ اسے پانی نہیں مل سکے گا۔ اوہ میرے پیارے کبوتر۔‘‘
’’وہ کہیں نہ کہیں پانی تلاش ہی کر لے گا تم فکر نہ کرو۔‘‘
حسن حیران و ششدر دوبارہ لکڑی کے بنچ پر بیٹھ گیا۔ اس نے اپنی آنکھیں کھولیں اور دوبارہ ابلتے ہوئے فوارے کو دیکھنے لگا۔ کبوتر آہستہ آہستہ فوارے کے بہتے ہوئے پانی کے پاس آیا۔ کیا اسے پانی مل جائے گا؟ ہو سکتا ہے کہ وہ پانی حاصل کرنے سے قبل ہی پانی کی تیز دھاروں کی زد میں آ کر جان دے دے۔ اس کے سفید دودھیا پر بکھر جائیں اور مرنے سے پہلے ہی ا س کی آنکھیں ٹوٹ جائیں؟ یا ہو سکتا ہے کہ پانی حاصل کر ہی لے؟
٤
حسن نے باقی دن یہیں بیٹھے ہوئے گزار دیا ......پانی کی موسیقیت اس کے ذہن میں تازگی بھرتی رہی۔ ابوشاکر آیا اور ساڑھے نو بجے کے قریب اس نے فوارہ بند کر دیا۔ حسن کو یاد آیا کہ اس کی ماں اس کے انتظار میں بیٹھی ہو گی۔ لیکن وہ ان لوگوں کے درمیان بیٹھا رہا، جو سستا اور ناقص کھانا ریلوے اسٹیشن پر فروخت کرتے تھے۔
حسن نے سڑک کے کنارے بنچ پر بیٹھے ہوئے سوکھے ہوئے کیک کا ایک ٹکڑا اور چائے کا ایک کپ پیا۔ جب رات ڈوبنے لگی تو سکوائر پر کام کرنے والے باقی لوگ بھی رفتہ رفتہ اپنےگھروں کو جانے لگے۔
وہ فوارے کے قریب آیا اور بند فوارے کو دیکھنے لگا۔ فوارہ بہت بڑا تھا اسے فوارے کی جسامت سے خوف محسوس ہوا۔ وہ اکیلا تھا اب اس کا پیارا کبوتر بھی اس کا ساتھ چھوڑ گیا تھا۔ ٹمٹماتی ہوئی بتیوں کے سوا اب سکوائر خالی ہو چکا تھا۔
اس نے اپنے کبوتر ’’خواب‘‘ پانی اور سر میں دھنسی ہوئی گولی والے دن کو یاد کیا۔ وہ رفتہ رفتہ خواب سے حقیقت کی طرف لوٹ رہا تھا۔
حسن نلکے کی طرف بڑھا۔ ٹوٹی گھمائی ...... پانی کا فوارہ ابلنے لگا۔ وہ آہستہ آہستہ پانی کے فوارے کی طرف بڑھا۔ اس نے محسوس کیا، پانی کپڑوں اور جسم کی دیواروں کو چیر کر روح میں اتر رہا ہے۔ وہ سرد پانی کے فوارے میں خوشی اور تازگی کا احساس اپنے اندر بھرتا ہوا آہستہ آہستہ فوارے سے باہر نکل آیا۔