گاؤ دی گمپیل
ترجمہ :نجم الدین احمد
میں ہوں گاؤدی گمپیل۔ میں اپنے آپ کو گاؤدی نہیں سمجھتا۔ بلکہ اس کے الٹ سمجھتا ہوں۔ البتہ لوگ مجھے یہی کہہ کر پکارتے ہیں۔ انہوں نے مجھے یہ نام تبھی دے دیا تھا جب میں ابھی سکول میں تھا۔ میرے کل سات نام تھے: ہونق، گدھا، بے وقوف، قودن، گنوار اور گاؤدی۔ آخری نام مجھ سے چپک کر رہ گیا۔ میرا گاؤدی پن کس چیز پر مشتمل تھا۔ میں آسانی سے دھوکا کھا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا ’’گمپیل، تمہیں پتا ہے کہ حبر کی بیوی کو زچگی ہوئی ہے؟‘‘ پس میں سکول سے کھسک آیا۔ خوب، تو یہ بات جھوٹی نکلی۔ مجھے اس کا کیسے پتا ہو سکتا تھا؟ اس کا پیٹ بڑھا نہیں تھا۔ لیکن میں نے کبھی اس کے پیٹ کی طرف دھیان ہی نہیں دیا تھا۔ کیا یہ واقعی بے حد ہونق پن تھا؟ جتھے نے قہقہے لگائے، ہاہاکار مچائی، پیر تھپتھپاتے ہوئے چلے، ناچے اور گاتے ہوئے شب بخیری کے دعائیہ کلمات کہے۔ اور جب ایک عورت بچہ جنمے تو اسے کشمش دی جاتی ہے، اس کے بجائے انہوں نے میری مٹھی میں مینگنیاں بھر دیں۔ میں کوئی ناتواں نہیں تھا، اگر میں کسی کو ایک تھپڑ بھی جڑ دیتا تو اسے تمام راستے کراکو دکھائی دیتا رہتا۔ لیکن دراصل میں فطرتاً مار کٹائی کرنے والا نہیں ہوں۔ میں اپنے تئیں سوچتا ہوں: دفع کرو۔ پس وہ فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔
میں سکول سے آ رہا تھا کہ میں نے آوارہ کتے کے بھونکنے کی آواز سنی۔ میں کتوں سے نہیں ڈرتا لیکن بلاشبہ ان سے خواہ مخواہ پنگا بھی نہیں لیتا۔ ان میں سے کوئی جنونی بھی ہو سکتا ہے۔ اگر وہ مجھے کاٹ لے تو دنیا کا کوئی تاتاری میری مدد نہیں کر سکتا۔ پس میں نے اپنا راستہ بدل لیا۔ پھر میں نے آس پاس نگاہیں دوڑائیں تو تمام مارکیٹ وحشیانہ قہقہوں سے بھر گئی۔ وہاں کوئی کتا نہیں تھا بلکہ وولف۔ لیب دی تھیف (Wolf - Leib the Thief) تھا۔مجھے کیسے پتا چل سکتا تھا کہ یہ وہ ہے؟ آواز ہی ایک غراتی ہوئی کتیا جیسی آئی تھی۔
جب شوخوں اور قودن بنانے والے چاپلوسوں نے دیکھا کہ مجھے بے وقوف بنانا سہل ہے تو سب نے مجھ پر اپنا اپنا زور آزمایا۔ ’’گمپیل، فرامپول میں زار آرہا ہے، گمپیل، چاند سمند رمیں گر گیا ہے، گمپیل، ننھے ہوڈل فرپیس کو اپنے غسل خانے کے عقب میں خزانہ ملا ہے۔‘‘ اور میں ٹھیرا سادہ لوح، سب پر یقین کر لیتا۔ پہلی بات تو یہ کہ ، جیسا کہ دانش آباء (Wisdom of Fathers) میں لکھا ہے کہ ہر چیز ممکن ہے۔ میں نے یہ بھلا دیا کہ کیسے ممکن ہے۔ دوسری بات، جب سارا گاؤں ہی مجھے غصہ دکھاتا تو مجھے یقین کرنا ہی پڑتا تھا۔ اگر کبھی میں نے یہ کہنے کی جرأت بھی کی۔ ’’اے، بے وقوف بنا رہے ہو!‘‘ تو مصیبت کھڑی ہو گئی۔ میں کیاکرتا؟ میں ان پر یقین کر لیتا تھا اور مجھے امید ہے کہ بالآخر اس میں سے بھی کچھ اچھائی نکلتی تھی۔
میں ایک یتیم تھا۔ مجھے پالنے پوسنے والا میرا دادا بھی قبر میں ٹانگیں لٹکائے بیٹھا تھا۔ پس مجھے ایک پکائی والے کے حوالے کر دیا گیا اور وہ بھی کیا وقت تھا جب مجھے اسے دیا گیا! ست نجادلیا پکوانے کے لیے آنے والی ہر عورت یا لڑکی کم از کم مجھے ایک بار احمق ضرور بناتی۔ ’’گمپیل، جنت میں میلا لگا ہے، گمپیل، حبر نے ساتویں مہینے بچھڑے کو جنم دیا ہے، گمپیل، ایک گائے نے چھت پر چڑھ کر پیتل کے انڈے دیے ہیں۔‘‘ ایک مرتبہ یشیوا سے ایک طالب علم رول خریدنے آیا اور بولا: ’’گمپیل، تم یہاں کھڑے پکائی والے کے بیلچے سے کچرا صاف کر رہے ہو، مسیح ؑآئے ہیں، مردے زندہ ہو گئے ہیں۔ ‘‘ ’’کیا مطلب ہے تمہارا؟‘‘ میں نے کہا۔ ’’میں نے تو کسی کے صور پھونکنے کی آواز نہیں سنی!‘‘ وہ بولا ’’کیا تم بہرے ہو؟‘‘ اور سب چلانے لگے۔ ’’ہم نے سنی ہے، ہم نے سنی ہے!‘‘ پھر موم بتیوں والا رتزے آگے بڑھا اور اپنی کرخت آواز میں پکارا: ’’گمپیل، تمہارے ماں باپ اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ وہ تمہیں ڈھونڈ رہے ہیں۔‘‘
سچ بات تو یہ ہے کہ مجھے پتا تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا، لیکن اس کے ساتھ ہی، جیسا کہ وہ تمام لوگ کہہ رہے تھے، میں نے اپنی اُونی صدری پہنی اور روانہ ہو گیا۔ شاید ایسا ہو ہی گیا ہو۔ دیکھ لینے میں حرج ہی کیا تھا؟ خوب، کیسی بلی کی میاؤں میاؤں جیسی موسیقی اُبھری تھی! اور پھر میں نے تہیہ کیا کہ میں آئندہ کسی کی بات پر اعتبار نہیں کروں گا۔ لیکن اِس پر عمل نہ ہوا۔ وہ مجھے اِس قدر بدحواس کر دیتے کہ میں چھوٹی سی بات کے بڑے انجام سے بے خبر رہتا۔
میں حبر کے پاس صلاح کے لیے گیا۔ وہ بولا: ’’یہ لکھا ہے کہ شیطنیت کی گھنٹا بھر کی زندگی سے عمر بھر احمق بنے رہنا بہتر ہے۔ تم گاؤدی نہیں ہو۔ وہ بے وقوف ہیں۔ کیونکہ جو کوئی اپنے ہمسائے کو شرمسار کرتا ہے وہ جنّت کو اپنے ہاتھوں خود گنوا بیٹھتا ہے۔‘‘اس کے علاوہ، حبر کی بیٹی جو مجھے اندر لے گئی تھی، جوں ہی میں حبر کے حجرے سے نکلا تو وہ بولی: ’’کیا تم نے اب دیوار کا بوسہ لیا ہے؟‘‘ میں نے کہا ’’نہیں، کس لیے؟‘‘ اُس نے جواب دیا ’’یہ ضابطہ ہے؛ یہ کام ہر بار آنے پر کرنا پڑتا ہے۔‘‘ خوب، بظاہر اس میں کوئی نقصان دکھائی نہیں دیتا تھا۔ اور وہ فلک شگاف قہقہے لگانے لگی۔ یہ ایک عمدہ چال تھی جو اس نے مجھ پر چلی تھی۔
میں کسی اَور شہر میں چلا جانا چاہتا تھا لیکن اسی وقت سبھی اپنا اپنا جوڑا منتخب کرنے میں لگ گئے تھے اور تمام گاؤں والے میرے پیچھے اتنا پڑے کہ انہوں نے میرا کوٹ تک پھاڑ ڈالا۔ وہ مجھے دلائل دیتے رہے، دلائل دیتے رہے یہاں تک کہ میرے کان پک گئے۔ وہ کوئی پاکباز دوشیزہ نہیں تھی، لیکن اُنہوں نے مجھے بتایا کہ وہ خالصتاً باکرہ ہے۔ وہ لنگڑا کر چلتی تھی، لیکن اُنہوں نے کہا کہ یہ نازوادا کی وجہ سے دانستہ حرکت ہے۔ اس کا ایک حرامی بچّہ تھا، لیکن انہوں نے بتایا کہ وہ اس کا چھوٹا بھائی ہے۔ میں چلایا: ’’تم اپنا وقت برباد کر رہے ہو۔ میں اس فاحشہ سے شادی نہیں کروں گا۔‘‘لیکن وہ ناراضی سے بولے:’’تم کس طرح بات کر رہے ہو! تمہیں خود کوئی حیا شرم نہیں آتی! ہم تمہیں حبر کے پاس لے جا کر اسے گالی دینے کے الزام میں جرمانہ کروا سکتے ہیں۔‘‘تو میں نے دیکھا کہ میں ان سے آسانی سے جان نہیں چھڑوا سکتا اور میں نے سوچا: وہ مجھے اپنا ہدف بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ لیکن شادی ہونے کے بعد شوہر ہی مالک و مختار ہوتا ہے اور اگر اس کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہو جائے تو مجھے قبول ہے۔ اس کے علاوہ، زندگی بلا نقصان کے تو نہیں گزاری جا سکتی اور نہ اس کی توقع کی جا سکتی ہے۔
میں اس کے گارے سے بنے ہوئے گھر میں گیا، جو ایک ٹیلے پر تھا اور سارے کا سارا جتھا غل غپاڑہ کرتا اور گانے گاتا ہوا میرے پیچھے آیا۔ وہ ریچھ کو ہانکا کرنے والوں کا کام کر رہے تھے۔ جب ہم کنویں پر پہنچے تو وہ سب وہیں رک گئے۔ وہ ایلکا سے بات کا آغاز کرنے سے ڈر رہے تھے۔ وہ منہ پھٹ تھی اور اس کی زبان آگ اگلتی تھی۔ میں گھر میں داخل ہو گیا۔ تاروں پر سوکھتے ہوئے کپڑوں کی قطاریں لگی ہوئی تھیں۔ وہ ٹب کے پاس ننگے پاؤں کھڑی کپڑے دھو رہی تھی۔ اس نے اطلس کی ایک اترن در اترن والی عبا پہن رکھی تھی۔ اس کے بال چوٹیوں میں گندھے ہوئے تھے اور اس نے پورے سر پر سوئیاں ہی سوئیاں لگا رکھی تھیں۔ ان تمام کی بدبو کی وجہ سے مجھے سانس لینا محال ہو رہا تھا۔
وہ مجھے اچھی طرح جانتی تھی۔ اس نے مجھ پر ایک نظر ڈالی اور بولی : ’’دیکھو، کون آیا ہے! وہ گھر آگیا ہے، بے ضرر انسان۔ بیٹھ جاؤ۔‘‘
میں نے اسے سب کچھ بتا دیا؛ کسی بات سے انکار نہیں کیا۔’’مجھے سچ سچ بتاؤ۔‘‘ میں بولا: ’’کیا تم واقعی باکرہ ہو اور کیا وہ شیطونگڑہ ییچیل (Yechiel) واقعی تمہارا چھوٹا بھائی ہے؟ میرے ساتھ چھل مت کھیلنا کیوں کہ میں یتیم ہوں۔‘‘
’’میں خود بھی یتیم ہوں۔‘‘اُس نے جواب دیا۔ ’’اور جو کوئی تمہیں دھوکا دینے کی کوشش کرے، خدا کرے، وہ خود ذلیل و رسوا ہو۔ لیکن انہیں یہ مت سوچنے دو کہ وہ میرا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ مجھے پچاس گلڈر کا جہیز درکار ہے اور انہیں وہ جمع کرنے دو۔ بصورت دیگر وہ میرے اس کا بھی بوسہ نہیں لے سکتے۔ تمہیں پتا ہے کس کا!‘‘ وہ بے حد راست گو، بنا لگی لپٹی رکھنے والی تھی۔ میں نے کہا: ’’دلہنیں جہیز لاتی ہیں، دلہا جہیز نہیں دیتا۔‘‘تب اُس نے کہا: ’’میرے ساتھ سودے بازی مت کرو۔ سیدھا ’’ہاں‘‘ یا سیدھی’’ناں‘‘...... جہاں سے آئے ہو وہیں لوٹ جاؤ۔‘‘
میں نے سوچا: اس پیڑے سے کبھی کوئی روٹی نہیں بنے گی۔ لیکن ہمارا گاؤں مفلس نہیں ہے۔ گاؤں والوں نے ہر چیز فراہم کی اور بیاہ کی تیاری ہونے لگی۔ پھر یہ ہوا کہ وہاں پیچش کی وبا پھیل گئی۔ تقریب کا اہتمام قبرستان کے دروازے پر، میت کو غسل دینے والے حجرے کے قریب ہوا۔ شرکاء شراب کے نشے میں دھت ہو گئے۔ جب شادی کا معاہدہ ضبط تحریر میں لایا جا رہا تھا تو میں نے نہایت ہی دین دار حبر کو یہ دریافت کرتے ہوئے سنا: ’’دلہن بیوہ ہے یا مطلقہ۔‘‘ تو صومعہ کے مدد گار کی بیوی نے جواب دیا: ’’بیوہ اور مطلقہ دونوں۔‘‘ وہ میرے لیے تاریک لمحہ تھا۔ لیکن میں کیا کرتا؟ کیا بیاہ کے تنبو سے بھاگ نکلتا؟
وہاں ناچ گانا ہو رہا تھا۔ ایک ضعیف العمر امّاں میرے سامنے رقص کرتے ہوئے ایک سفید چوٹیوں والی رقاصہ سے بغل گیر تھی۔ طائفے کا سربراہ دلہن کے والدین کی یاد میں’’رحمت خداوندی‘‘ گا رہا تھا۔ سکول کے لڑکے تشے بی ایو کے روزے والے دن کے مانند غرارے کر رہے تھے۔ خطبے کے بعد بہت سے تحائف ملے: نوڈل بنانے والا تختہ، آٹا گوندھنے کے کونڈا، ایک ٹوکری، کئی جھاڑو، ڈوئیاں، بہت سا گھریلو سازو سامان۔ پھر میں نے دیکھا کہ دو تنو مند نوجوان نوزائیدوں والی ایک پلنگڑی اُٹھا کر لائے۔ ’’ہمیں اس کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ میں نے دریافت کیا۔ تو انہوں نے کہا:’’اِس کے بارے میں اپنے دماغ کو زحمت مت دو۔ یہ بالکل ٹھیک ہے۔ یہ کام آئے گی۔‘‘ مجھے لگا جیسے مجھے دھوکا دیا جا رہا ہو۔ اسے دوسرے رخ سے دیکھتا تو میں نے کیا کھویا تھا؟ میں نے سوچا: دیکھوں گا کہ یہ کس کام آتی ہے۔ سارے کا سارا گاؤں تو بہ یک وقت پاگل نہیں ہو سکتا۔
رات کو میں اس جگہ گیا جہاں وہ لیٹی ہوئی تھی لیکن اس نے مجھے اندر داخل ہونے نہیں دیا۔ ’’یہ بتاؤ، ادھر دیکھو، کیا گاؤں والوں نے اسی لیے ہمارا بیاہ کیا ہے؟‘‘ میں نے کہا اور وہ بولی: ’’مجھے ماہواری آگئی ہے۔‘‘’’لیکن گزشتہ کل ہی تو انہوں نے تمھیں رسم کے مطابق غسل دیا ہے اور اس کے بعد اس کا جواز نہیں ہے۔‘‘ ’’آج گزشتہ کل نہیں ہے۔‘‘ وہ بولی۔’’گزشتہ کل آج نہیں تھا۔ اگر تمہیں یہ پسند نہیں تو تم اسے مار سکتے ہو۔‘‘ قصہ مختصر، میں نے انتظار کیا۔
چار ماہ سے بھی کم عرصے میں وہ زچگی میں چلی گئی۔ گاؤں والے منہ پر انگلی رکھ کر اپنی ہنسی چھپاتے۔ لیکن میں کیا کر سکتا تھا؟ اسے ناقابل برداشت درد ہوئے اور اس نے دیوار میں اپنے پنجے گاڑ دیے۔ گمپیل‘‘ وہ چلائی۔ ’’میں جا رہی ہوں۔ مجھے معاف کر دو!‘‘ گھر عورتوں سے بھر گیا۔ وہ پانی کی دیگچیاں ابال رہی تھیں۔ چیخیں آسمان تک پہنچیں۔
کرنے والا کام بس یہ تھا کہ کنیسہ جا کر زبور کی حمدیں پڑھتا رہوں اور میں نے یہی کیا۔
گاؤں والوں نے اس بات کو پسند کیا، بجا۔ میں ایک کونے میں کھڑا ہو کر زبور پڑھتا اور عبادت کرتا رہا اور وہ مجھے سرموڑ موڑ کر دیکھتے رہے۔ ’’عبادت کرو، عبادت کرو!‘‘ انہوں نے مجھے بتایا۔ ’’عبادت سے کبھی کوئی عورت حاملہ نہیں ہوئی۔‘‘ ایک عابد نے میرے منہ میں تنکا ڈالا اور کہنے لگا: ’’گایوں کے لیے گھاس۔‘‘ خدا کی قسم! اس میں بھی کچھ تھا۔
اس نے ایک لڑکے کو جنم دیا۔ کینسہ میں جمعے کے روز مددگار نے تابوت یہودا کے سامنے کھڑا ہو کر مطالعے کی میز پر مکا مارتے ہوئے اعلان کیا: ’’بیٹے کی پیدائش کی خوشی میں سخی دل گمپیل تمام عبادت گزاروں کو دعوت پر بلا رہے ہیں۔‘‘ سارا صومعہ قہقہوں سے گونج اٹھا۔ میرا چہرہ دہکنے لگا۔ لیکن میں لاچار تھا۔ آخرش، ختنے اور دیگر رسوم میری ہی تو ذمہ داری تھی۔
آدھا گاؤں دوڑا چلا آیا۔ تل دھرنے کی جگہ نہ بچی۔ عورتیں مرچیلی پھلیاں لائیں اور مے خانے سے بیئر کا بیرل آگیا۔ میں خوب کھایا پیا اور انہوں نے مجھے مبارک باد دی۔ پھرختنہ ہوا اور میں نےاپنے باپ کے نام پر لڑکے کا نام رکھا، خدا انہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے۔ جب سب چلے گئے اور میں اپنی بیوی کے پاس اکیلا رہ گیا تو اس نے پلنگ کے پردے میں سے اپنا سر باہر نکالا اور مجھے پکار کر اپنے پاس بلایا۔
’’گمپیل۔‘‘ وہ بولی’’تم چپ کیوں ہو؟ کیا تمہارا بحری بیڑا ڈوب کر تباہ ہو گیا ہے؟‘‘
’’میں کیا کہوں؟‘‘ میں نے جواب دیا۔ ’’تم نے میرے ساتھ بہت اچھا کیا ہے! اگر میری ماں کو پتا چل جائے تو وہ دوبارہ مر جائے۔‘‘
وہ بولی: ’’تم پاگل ہو، یا کچھ اور؟‘‘
’’تم اتنا بے وقوف کیسے بنا سکتی ہو کہ‘‘ میں نے کہا: ’’کسے مالک و آقا ہونا چاہیے؟‘‘
’’تمہارے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟‘‘ وہ بولی: ’’تم اپنے دماغ میں کیا سوچ لیے پھر رہے ہو؟‘‘
میں نے دیکھا کہ مجھے سیدھے سبھاؤ انداز میں کھول کر بات کرنا چاہیے۔ ’’کیا تمہارے خیال میں ایک یتیم کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرنا چاہیے؟‘‘ میں بولا۔ ’’تم نے ایک حرامی کو جنم دیا ہے۔‘‘
’’اس نے جواب دیا۔ ’’اپنے دماغ سے یہ حماقت نکال دو۔ یہ بچہ تمہارا ہے۔‘‘
’’یہ میرا کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘ میں نے بحث کی۔ ’’یہ شادی کے سترہ ہفتوں کے بعد ہی پیدا ہو گیا ہے۔‘‘
اس پر اس نے مجھے بتایا کہ وہ قبل از وقت پیدا ہو گیا تھا۔ میں نے کہا:’’کیا یہ کچھ زیادہ ہی قبل از وقت پیدائش نہیں ہے؟‘‘ اس نے بتایا کہ اس کی ایک نانی ہوا کرتی تھی جس نے اس سے بھی کم وقت لیا تھا۔ اور اس معاملے میں وہ اپنی اس نانی جیسی تھی کیونکہ پانی کا ایک قطرہ دوسرے قطرے جیسا ہوتا ہے۔ اس نے اس بات کی اتنی قسمیں کھائیں کہ اگر میلے پر کسی گنوار نے بھی کھائی ہوتیں تو یقین کرنا ہی پڑتا۔ سچی بات یہ ہے کہ مجھے اس پر ذرا بھی یقین نہیں آیا تھا۔ لیکن اگلے روز میں نے اس بات کا ذکر سکول ماسٹر سے کیا تو اس نے مجھے بتایا کہ بالکل یہی واقعہ آدم و حوا کے ساتھ پیش آیا تھا۔ پلنگ پر وہ دو گئے تھے لیکن پلنگ سے وہ چار اترے تھے۔
’’دنیا میں ایسی کوئی عورت نہیں جو حوا کی نواسی نہ ہو‘‘ اس نے کہا۔
تو یہ معاملہ اس طرح ہوا ؛ انہوں نے دلائل دے دے کر میری بولتی بند کر دی۔ لیکن تب کون جانتا تھا کہ دراصل ایسی چیزیں کیا ہیں؟
میں اپنا غم بھلانے لگا۔ میں بچے سے مجنونانہ محبت اور وہ بھی مجھ سے محبت کرنے لگا۔ وہ جوں ہی مجھے دیکھتا اپنا ننھا سا ہاتھ ہلانے لگتا اور چاہتا کہ میں اسے اٹھا لوں اور جب وہ مروڑوں سے چڑچڑا ہوا تو میرے علاوہ کسی سے نہیں سنبھلا۔ میں اس کے دانت نکالنے کے لیے ایک چھوٹی سی ہڈی اور ایک سنہری ٹوپی خرید لایا تھا۔ اسے ہمیشہ کسی نہ کسی کی نظر لگی رہتی اور اس کی نظر اتارنے کے لیےمیں دوڑا دوڑا فضول قسم کی چیزیں لاتا رہتا۔ میں بیل کے مانند کام کرتا تھا۔ تمہیں تو پتا ہی ہے کہ جب گھر میں ایک شیرخوار ہوخرچ کتنا بڑھ جاتا ہے۔ میں اس کے بارے میں بالکل جھوٹ نہیں بولنا چاہتا ؛میں ایلکا کو اس معاملے کی وجہ سے نا پسند نہیں کرتا تھا۔ اس نے میری قسمیں کھائیں اور مجھے گالیاں بکیں لیکن میں اس کا عشر عشیر بھی نہیں کر پایا۔ اس میں کتنی طاقت تھی! اس کی ایک نگاہ ہی بندے کی قوتِ گویائی سلب کر لیتی تھی اور اس کا کلام ! تیکھا اور آتشیں، ان سے بھرا ہوا اور کسی نامعلوم کشش بھی لبالب۔ میں نے اس کے ہر لفظ سے عشق کیا۔ اس نے مجھے گہرے زخم عنایت کیے۔
میں رات کو اس کے لیے ایک سفید اور ایک گہرے رنگ کی روٹی لے جاتا اور تلوں والے رول بھی جنہیں میں اپنے ہاتھ سے خود پکاتا تھا۔ میں اس کی خاطر چوری کرتا اور جو چیز بھی ہاتھ لگتی اس کا صفایا کر ڈالتا: مٹھائی، کشمش، بادام، کیک۔ مجھے امید ہے کہ مجھے بیکری والے کے تنور میں عورتوں کے ہفتے کے روز گرم کرنے کے لیے رکھے ہوئے برتنوں سے چوری کرنے پر معاف کر دیا جائے گا۔ میں گوشت کی بوٹیاں، پڈنگ کا ٹکڑا، مرغ کی ٹانگ یا سری، اوجھڑی کا ایک آدھ ٹکڑا، ہر وہ چیز جسے جلد سے جلد دبا سکتا۔ وہ کھا کھا کر فربہ اور حسین ہو گئی۔
مجھے ہفتہ بھر گھر سے دور بیکری میں سونا پڑتا تھا۔ جمعے کی رات جب میں گھر پہنچتا تو وہ ہمیشہ کوئی نہ کوئی حیلہ بہانہ تراش لیتی۔ اس کے سینے میں جلن ہو رہی ہوتی یا پھر پہلو میں درد یا سانس لینے میں دشواری یا پھر سر میں درد ہو رہا ہوتا۔ تمہیں پتا تو ہے عورتوں کی کیا کیا بہانے بازیاں ہوتی ہیں۔ مجھے برے وقت کا سامنا تھا۔ وہ مناسب نہیں تھا۔ مزید یہ کہ اس کا چھوٹا بھائی، وہ حرامی، بڑا ہوتا جا رہا تھا۔ وہ مجھ پر کوئی نہ کوئی شے دے مارتا اور جب میں جواباً پیٹنا چاہتا تو وہ اپنا منہ پھاڑتی اور چلا چلا کر مجھے اتنی گالیاں بکتی کہ میری نگاہوں کے سامنے سبز دھند چھا جاتی۔ وہ دن میں دس مرتبہ طلاق کی دھمکی دیتی۔ میرے ساتھ کام کرنے والا ایک شخص بلا اطلاع چھٹی پر جا کے غائب ہو گیا۔ لیکن میں اس قسم کا شخص ہوں جو ایسی باتیں چپ چاپ برداشت کر لیتا ہے۔ کوئی کرے بھی تو کیا؟ کندھے خدا کے دیے ہوئے ہیں اور بوجھ بھی۔
ایک رات بیکری میں ایک حادثہ ہو گیا؛ تنور پھٹ گیا اور آگ کافی پھیل گئی۔ گھر جانے کے سوا چارہ نہ بچا، پس میں گھر چلا گیا۔ میں نے سوچا کہ اس سے مجھے بھی ہفتے کے وسط میں بستر میں سونے کا لطف اٹھانے کا موقع مل گیا ہے۔ میں نے سوئے ہوؤں کو جگانا مناسب نہیں سمجھا اورزقند بھر کر گھر میں داخل ہو گیا۔ اندر پہنچتے ہی مجھے لگا کہ میں ایک کے خراٹے نہیں سن رہا بلکہ ایسا تھا کہ دو طرح کے خراٹے آرہے تھے، ایک بے حد ہلکے اور دوسرے اس طرح جیسے ذبح ہوتے ہوئے بیل خرخراتا ہے۔ اوہ، مجھے وہ پسند نہیں آیا، بالکل بھی پسند نہیں آیا۔ میں پلنگ پر چڑھ گیا اور یکایک ہی میری دنیا اندھیر ہو گئی۔ ایلکا کے ساتھ کوئی مرد لیٹا ہوا تھا۔ میری جگہ کوئی اور شخص پڑا ہوا چنگھاڑ رہا تھا، اتنا شور پیدا کر رہا تھا جوگاؤں بھر کو جگانے کے لیے کافی تھا، لیکن مجھے خیال آیا کہ میں بچے کو جگا دوں۔ اس ننھے منے کو ...... اس ننھے پرندے کو کیوں دہلاؤں، میں نے سوچا۔ درست، پھر میں بیکری کو پلٹ گیا اور آٹے کی بوری پر لیٹ گیا لیکن میں نے ساری رات پلک تک نہیں جھپکی۔ میں یوں کانپتا رہا جیسے مجھے ملیریا ہو گیا ہو۔’’بہت گدھا بن چکا۔‘‘ میں نے اپنے آپ سے کہا۔ ’’گمپیل عمر بھر دھوکا نہیں کھائے گا۔ گمپیل جیسے احمق کی حماقت کی بھی ایک حد ہے!‘‘
صبح ہوتے ہی صلاح لینے حبر کے پاس پہنچ گیا اور اس سے بستی میں خاصی افراتفری پھیل گئی۔ انہوں نے فوراً ایک چھوٹے اہلکار کو ایلکا کی طرف بھجوایا۔ وہ بچہ اٹھائے آئی۔ اور کیا تم سوچ سکتے ہو کہ اس نے کیا کیا؟ اس نے اس سے انکار کر دیا، ہر چیز سے مکر گئی، بالکل صاف!’’ اس کا دماغ چل گیا ہے۔ ‘‘ وہ بولی۔’’ مجھے خوابوں اور الہاموں کے بارے میں کچھ نہیں پتا۔‘‘ وہ اس پر برسے، انہوں نے اسے تنبیہ کی، میز پر ہتھوڑے مارے، لیکن وہ اپنے موقف سے ذرا نہ پیچھے ہٹی۔ اس نے کہا کہ یہ جھوٹا الزام ہے۔
قصابوں اور گھوڑوں کے تاجروں نے اس کا ساتھ دیا۔ مذبح خانے کا ایک نوجوان قریب آیا اور مجھ سے کہنے لگا: ’’ہم نے تم پر اپنی نظر رکھ لی ہے، اب تم نشان زدہ شخص ہو۔‘‘لڑکا زور لگانے لگا اور اس نے اپنے آپ کو غلاظت سے بھر لیا۔ حبر کی عدالت میں یہودا کا تابوت تھا وہ اس کی اجازت نہیں دے سکتے تھے، پس انہوں نے ایلکا کو بھیج دیا۔
میں نے حبر سے کہا: ’’میں کیا کروں؟‘‘
’’تم اسے فوراً طلاق دے دو‘‘ اس نے کہا۔
’’اور اگر اس نے انکار کر دیا تو؟‘‘ میں مستفسار ہوا۔
وہ بولا ’’تم طلاق بھیج دو، تمہیں بس یہی کرنا ہے۔‘‘
میں نے کہا ’’اچھا، ٹھیک ہے۔ حبر، مجھے اس کے بارے میں سوچنے دیں۔‘‘
’’اس میں سوچنے والی کوئی بات نہیں ہے‘‘ وہ بولا۔ ’’تمہیں اس کے ساتھ ایک چھت تلے نہیں رہنا چاہیے۔‘‘
’’اور اگر میں بچے سے ملنا چاہوں تو؟‘‘ میں نے دریافت کیا۔
’’دفع کرو اسے، اس طوائف کو بھی‘‘اس نے کہا۔ ’’اور اس کے حرامی بچوں کو بھی۔‘‘
اس نے مجھے فیصلہ سنایا کہ میں اس کی دہلیز پار نہ کروں ...... کبھی نہیں، زندگی بھر نہیں۔
دن کے وقت تو مجھے اس چیز نے زیادہ نہیں ستایا۔ میں نے سوچا: یہ تو ہونا ہی تھا، ناسور کو پھٹنا ہی تھا۔ لیکن جب میں رات کے وقت بوریوں پر لیٹا تو مجھے یہ سب بہت برا لگا۔ مجھ پر اس کی اور بچے کی محبت غالب آگئی۔ میں ناراض ہونا چاہتا تھا لیکن درحقیقت مجھ میں یہی خامی تھی کہ میرے خمیر میں نہیں تھا کہ میں حقیقتاً رنجش رکھ پتا۔ پہلی بات تو یہ ...... اس طرح خیالات کی رو بہنے لگی تھی ...... کوئی بھی بہک سکتا ہے۔ کوئی بھی عن الخطا نہیں ہے۔ غالب امکان ہے کہ اس کے ساتھ لیٹے ہوئے نوجوان نے اسے ورغلایا ہو اور تحائف دیے ہوں اور نجانے کیا کچھ دیا ہو، اور عورتیں تو اکثر لمبی چوٹی اور عقل چھوٹی والی ہوتی ہیں اور اس طرح اس نے اس کا قرب پا لیا ہو۔ اور پھر جب وہ اس سے انکار کر رہی ہے تو شاید مجھے ہی مغالطہ لگا ہو؟ فریب خیال و قوع پذیر ہوتے ہیں۔ تم کوئی جسم یا شبیہہ دیکھتے ہو، لیکن جب تم قریب جاتے ہو تو وہاں کچھ نہیں ہوتا، کوئی شے نہیں ہوتی۔ اور اگر ایسی بات ہے تو میں اس کے ساتھ ناانصافی کر رہا ہوں۔ اور جب میں اپنے خیالات میں اتنا دور چلا گیا تو میں رونے لگا۔ میں نے اتنی سسکیاں بھریں کہ میں جس جگہ لیٹا ہوا تھا وہاں سارا آٹا گیلا ہو گیا۔ اگلی صبح ہونے پر میں حبر کے پاس گیا اور میں نے اسے بتایا کہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔ حبر نے اپنے پر والے قلم سے لکھا اور بولا کہ اگر یہ بات ہے تو وہ تمام مقدمے پر ازسرنو غوروخوض کرے گا۔ جب تک وہ اپنا کام ختم نہ کر لے میں اپنی بیوی کے قریب نہیں جا سکتا البتہ میں کسی قاصد کے ہاتھ اسے خوراک اور رقم بھیج سکتا ہوں۔
( ٣ )
تمام حبروں کو متفق ہونے میں نو ماہ لگ گئے۔ چٹھیاں جاتی آتی رہیں۔ مجھے قیاس تک نہیں تھا کہ اس معاملے میں اتنے زیادہ فضل و علمیت کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
اس دوران میں ایلکا نے ایک اور بچے کو جنم دیا، اس بار لڑکی پیدا ہوئی۔ ہفتے کے روز میں کنیسہ گیا اور میں نے اس کے لیے دعا کی۔ انہوں نے مجھے خمسۂ موسوی پر بلایا اور میں نے بچے کا نام اپنی ساس کے نام پر رکھا ...... خدا اس پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔بیکری میں آنے جانے والے بدتہذیب اور منہ پھٹ لوگوں نے مجھے نظرثانی کرنے کے لیے کہا۔ سارے فرامپول نے میری مصیبت اور رنج کے پیش نظر اپنے خیالات تازہ کیے۔ البتہ میں تہیہ کیے ہوئے تھا کہ مجھے جو بتایا جائے گا اس پر یقین رکھوں گا۔ اعتبار نہ کرنے کا فائدہ بھی کیا تھا؟ آج تم اپنی بیوی پر اعتبار نہیں کرتے؛ کل تم خدا کو خاطر میں نہیں لاؤ گے۔
میں نے ایک مددگار کے ہاتھ، جو اس کا پڑوسی تھا، اس کے لیے روزانہ مکئی یا گندم کے آٹے کی روٹی، یا پیسٹری، رول یا چھلے دار چپاتی، یا شادی بیاہ والا میوہ جات سے بھرا ہوا کیک ...... جو چیز بھی میرے ہاتھ لگتی ...... بھیجنے لگے۔ مددگار ایک اچھے دل کا لڑکا تھا اور کئی مرتبہ وہ اپنے سے بھی کوئی چیز شامل کر لیتا۔ اس سے قبل اس نے مجھے بے حد دق کیا تھا، میری ناک کھینچ کر یا میری پسلیوں میں ٹہوکے مار کر لیکن جب سے وہ میرے گھر جانے لگا تھا مہربان اور دوست ہو گیا تھا۔ ’’اے گمپیل‘‘ اس نے مجھے کہا: ’’تمہاری چھوٹی سی بیوی نہایت عمدہ اور دو پیارے بچے ہیں۔ تم ان کے حق دار نہیں ہو۔‘‘
’’لیکن لوگ ان کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں۔‘‘ میں بولا:
’’بجا، ان کی زبانیں بہت لمبی ہیں۔‘‘ وہ بولا: ’’انہیں بک بک کرنے کے سوا کچھ نہیں آتا۔ انہیں اسی طرح نظرانداز کر دو جیسے تم گزشتہ سرما کی سردی نظرانداز کر دیتے ہو۔‘‘
ایک روز ربی نے مجھے بلا بھیجا اور کہا: ’’گمپیل، کیا تمہیں یقین ہے کہ تم اپنی بیوی کے بارے میں غلطی پر تھے؟‘‘
میں بولا: ’’مجھے یقین ہے۔‘‘
’’کیوں، دیکھو! تم نے خود دیکھا تھا۔‘‘
’’شاید کوئی سایہ ہو گا‘‘ میں نے کہا۔
’’کس کا سایہ؟‘‘
’’شاید کسی ستون کا سایہ، میرا خیال ہے۔‘‘
’’تب تم گھر جا سکتے ہو۔ تمہیں حبریانوور کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ انہیں مائمونیڈس کی شرح میں ایک مبہم حوالہ ملا جو تمہاری حمایت میں جاتا ہے۔‘‘
میں نے گرم جوشی سے ربی کے ہاتھ کو تھام کر بوسہ دیا۔
میں اڑ کر گھر پہنچنا چاہتا تھا۔ ایک طویل عرصے تک بیوی بچوں سے دور رہنا کوئی چھوٹی بات نہیں تھی۔ پھر مجھے خیال آیا: میرے لیے یہی بہتر ہے کہ ابھی کام پر لوٹوں اور رات کو گھر جاؤں۔ میں نے کسی کو کچھ نہیں بتایا حالانکہ میرا دل احساس تشکر سے لبالب بھرا ہوا تھا۔ عورتوں نے روز کی طرح مجھے ستایا اور چبھتی ہوئی باتیں کیں، لیکن میری سوچ یہ تھی : اپنی بکوس کرتی رہو۔ سچائی اسی طرح سامنے آئے گی جیسے پانی کے اوپر تیل آجاتا ہے۔ مائمونیڈس اسے درست کہتا ہے تو پھر یہ درست ہے!
رات کے وقت میں نے گندھے ہوئے آٹے کو خمیر آنے کے لیے چھوڑا، روٹی میں سے اپنا حصہ اور آٹے کی ایک چھوٹی بوری اٹھا کر گھر کی راہ لی۔ چاند کامل تھا اور ستارے دمک رہے تھے، کوئی ایسی چیز تھی جو میرے دل کو دہلا رہی تھی۔ میں نے تیز تیز ڈگ بھرے تو میرے آگے آگے ایک لمبا سایہ چلنے لگا۔ موسم سرما تھا، تازہ تازہ برف باری ہوئی تھی۔ میرا دل گانے کو چاہ رہا تھا لیکن رات گہری ہو گئی تھی اور میں لوگوں کو جگانا نہیں چاہتا تھا۔ پھر مجھے سیٹی بجانے کی خواہش ہوئی لیکن مجھے یاد آیا کہ رات کو سیٹی نہیں بجانا چاہیے کیونکہ اس سے بھوت نکل آتے ہیں۔ پس میں جس قدر سریع رفتاری سے چل سکتا تھا چپ چاپ چلتا رہا۔
میرے قریب سے گزرنے پر عیسائیوں کے باڑوں سے کتے مجھ پر بھونکے لیکن میں نے سوچا : بھونکتے رہو! تم معمولی کتوں کے سوا ہو ہی کیا؟ جبکہ میں انسان ہوں، ایک عمدہ عورت کا شوہر اور شان دار بچوں کا باپ۔
جوں ہی میں گھر پہنچا تو میرا دل اچھلنے لگا جیسے کسی مجرم کا دل کودتا ہے۔ مجھے کوئی خوف محسوس نہیں ہو رہا تھا البتہ میرے دل کا کودنا جاری رہا! خوب، پسپائی ممکن نہیں تھا۔ میں نے بیرونی کنڈا ہٹایا اور اندر داخل ہو گیا۔ ایلکا سو رہی تھی۔ میں نے شیرخوار کی پلنگڑی کو دیکھا۔ گو دروازہ بند تھا لیکن درزوں سے چاندنی اندر داخل ہو رہی تھی۔ میں نے نوزائیدہ بچے کا چہرہ دیکھا اور اس پر نظر پڑے ہی مجھے اس سے محبت ہو گئی ...... آناً فاناً...... اس کے انگ انگ سے۔
پھر میں بستر کے قریب گیا۔ اور میں نے کیا دیکھا کہ مددگار ایلکا کے ساتھ لیٹا ہوا تھا۔ یکلخت ہی چاندنی غائب ہو گئی۔ کامل تاریکی چھا گئی اور میں کانپ اٹھا۔ میرے دانت کٹکٹانے لگے۔ روٹی میرے ہاتھوں سے گر گئی اور میری بیوی جاگ اٹھی اور بولی: ’’کون ہے، ہیں؟‘‘
میں بڑبڑایا ’’میں ہوں۔‘‘
’’گمپیل؟‘‘ اس نے پوچھا۔ ’’تم یہاں کیسے آگئے؟ میرا خیال ہے کہ اس کی مناہی تھی۔‘‘
’’ربی نے کہا ہے ‘‘ میں نے جواب دیا اور یوں کپکپایا جیسے مجھے بخار چڑھ گیا ہو۔
’’میری بات سنو، گمپیل۔ باہر چھپر میں جاؤ اور دیکھو بکری ٹھیک ہے۔ وہ بیمار لگ رہی تھی۔‘‘ میں یہ بتانا بھول گیا ہوں کہ ہمارے پاس ایک بکری تھی۔ جوں ہی میں نے یہ سنا کہ وہ بیمار ہے میں صحن میں چلا گیا۔ بکری پیاری تھی۔ میرے دل میں اس کے لیے کم و بیش انسانی جذبات تھے۔
جھجکتے ہوئے قدموں کے ساتھ میں چھپر کی طرف بڑھا اور میں نے دروازہ کھولا۔ بکری اپنے چاروں پیروں پر کھڑی تھی۔ میں نے اس کے جسم کے ہر حصے کو چھو کر دیکھا، سینگوں سے پکڑ کر اسے چلایا، تھنوں کا معائنہ کیا اور مجھے کچھ بھی غلط نہیں ملا۔ غالباً اس نے چارہ بہت زیادہ کھا لیا تھا۔ ’’شب بخیر، ننھی بکری۔‘‘ میں بولا۔ ’’تندرست رہو۔‘‘ اور اس چھوٹے جانور نے ’’میں‘‘ کے ساتھ جواب دیا گویا میری بھلائی کے جواب میں میرا شکریہ ادا کر رہی ہو۔
میں واپس آگیا۔ مددگار غائب ہو چکا تھا۔
’’کہاں ہے؟‘‘ میں نے دریافت کیا۔ ’’وہ نوجوان ؟‘‘
’’کون سا نوجوان؟‘‘ میری بیوی نے جواب دیا۔
’’کیا مطلب ہے تمہارا؟‘‘ میں بولا۔ ’’مددگار۔ تم اس کے ساتھ سو رہی تھیں۔‘‘
’’میں نے آج رات اور پچھلی راتوں کے دوران جو کچھ دیکھا ہے‘‘ وہ کہنے لگی۔ ’’خدا کرے وہ سچ ثابت ہو اور تمہیں نیچا دکھائے، تمہارا جسم اور روح! تمہارے اندر کوئی بدروح گھس گئی ہے اور رات کے وقت تمہاری نظر دھندلا جاتی ہے۔‘‘ وہ چلائی۔ ’’تم قابل نفرین شخص ہو! احمق شخص! پاگل! بدذ وق شخص! نکلو باہر ورنہ میں چیخ چیخ کر فرامپول کے سارے لوگوں کو ان کے بستروں سے نکال لوں گی۔‘‘
اس سے پہلے کہ میں حرکت کرتا اس کے بھائی نے چولہے کے عقب سے نکل کر میرے سر کی پشت پر کوئی شے دے ماری۔ میرا خیال تھا کہ اس نے میری گردن توڑ ڈالی ہے۔ میں نے اپنے بارے میں محسوس کیا کہ مجھ میں ہی کچھ غلط ہے اور میں بولا ’’ہنگامہ مت کھڑا کرو! اب بس یہی باقی رہ گیا ہے کہ لوگ مجھ پر بھوتوں اور بدروحوں کو جگانے کا الزام دھریں۔‘‘ کیونکہ اس کی منشا یہی تھی۔ ’’کوئی بھی میری پکائی ہوئی روٹی کو چھوئے تک گا نہیں۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ وہ بولی۔ ’’لیٹو اور مر جاؤ۔‘‘
اگلی صبح میں نے مددگار کو ایک طرف بلایا۔ ’’سنو، بھائی!‘‘ میں نے کہا۔ اور اسی طرح کی باتیں کیں۔ ’’تم کیا کہتے ہو؟‘‘ اس نے مجھے یوں گھورا جیسے میں چھت یا کسی اور چیز پر سے گر گیا ہوں۔
’’میں قسم اٹھاتا ہوں‘‘ وہ بولا: ’’تمہیں کسی حکیم یا طبیب کے پاس جانا چاہیے۔ مجھے ڈر ہے کہ تمہارا کوئی پیچ ڈھیلا ہے البتہ میں تمہاری اس خامی پر پردہ ڈالے رکھوں گا۔‘‘ اور اس طرح معاملہ اپنی جگہ جوں کا توں موجود رہا۔
قصے کو مختصر کرتا ہوں۔ میں اپنی بیوی کے ہمراہ تئیس برس تک رہا۔ اس نے میرے چھ بچوں کو جنم دیا،چار بیٹیاں اور دو بیٹے۔ ہمہ نوع واقعات وقوع پذیر ہوئے، لیکن میں نے کچھ دیکھا نہ سنا۔ میں نے یقین کیا، اور بس۔ حبر نے حال ہی میں مجھ سے کہا تھا ’’یقین اپنے تئیں مفید ہے۔ یہ لکھا ہوا ہے کہ اچھا شخص اپنے ایمان پر جیتا ہے۔‘‘
اچانک میری بیوی بیمار پڑ گئی۔ اس کی بیماری کا آغاز پستان پر ایک معمولی اور چھوٹی سی رسولی سے ہوا۔ لیکن اب اس کی زیادہ زندگی باقی نہیں رہی تھی؛ اس کے پاس سال ہا سال نہیں بچے تھے۔ میں نے اس پر خطیر رقم خرچ کی۔ اس بار میں یہ بتانا بھول گیا ہوں کہ اس وقت تک میری اپنی بیکری قائم ہو گئی تھی اور فرامپول میں مجھے کسی قدر صاحب حیثیت سمجھا جاتا تھا۔ ہر روز طبیب آتا اور علاقے میں موجود ہر تعویذ گنڈے کرنے والے کو لایا جاتا۔ انہوں نے جونکوں کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کے بعد پیالوں کے ذریعے خون نکالنے کی کوشش کی۔ یہاں تک کہ انہوں نے لبلن سے ایک ڈاکٹر کو بھی بلایا لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ مرنے سے پہلے اس نے مجھے اپنے بستر کے قریب بلایا اور بولی: ’’مجھے معاف کر دو، گمپیل۔‘‘
میں نے کہا : ’’کس بات کی معافی؟ تم ایک اچھی اور وفادار بیوی رہی ہو۔‘‘
’’خدایا، گمپیل!‘‘ وہ بولی: ’’عمر بھر تمہیں دھوکا دینا کس قدر گھناؤنا کام تھا۔ میں اپنے خالق کے پاس صاف ستھری جانا چاہتی ہوں اور اس کے لیے تمہیں بتا دوں کہ بچے تمہارے نہیں ہیں۔‘‘
اگر میرے سر پر چوبی میخ ٹھونک دی جاتی تو وہ بھی میرے لیے اتنا متحیر کن امر نہ ہوتا۔
’’کس کے ہیں؟‘‘ میں نے دریافت کیا۔
’’مجھے نہیں پتا۔‘‘ اس نے کہا: ’’بہت سارے لوگ تھے ...... لیکن وہ تمہارے نہیں ہیں۔‘‘ بولتے بولتے اس کا سر ایک طرف ڈھلک گیا، دیدے زندگی کی چمک سے محروم ہو گئے اور ایلکا کا انجام ہو گیا۔ اس کے سفید ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔
میں نے تصور کیا کہ مردہ ہو جانے کے باوجود وہ کہہ رہی تھی: ’’میں نے گمپیل کو فریب دیا۔میری مختصر زندگی کا یہی مفہوم تھا۔‘‘
( ٤)
ایک رات، جب سوگ کے دن بیت چکے تھے، میں آٹے کی بوریوں پر لیٹا ہوا تھا کہ شیطان کا ایک چیلا میرے پاس آیا اور مجھے کہنے لگا۔ ’’گمپیل، تم سو کیوں رہے ہو؟‘‘
’’تو کیا کروں؟ قیمہ پنیر بھرے سموسے کھاؤں؟‘‘
’’ساری دنیا تمہیں چھل دیتی ہے۔‘‘ وہ بولا: ’’اور تمہیں چاہیے کہ تم دنیا کو فریب دو۔‘‘
’’میں دنیا کو کیسے فریب دے سکتا ہوں؟‘‘ میں نے اس سے دریافت کیا۔
اس نے جواب دیا۔ ’’تم ہر روز پیشاب کی ایک بالٹی بھر کر رات کو اس سے آٹا گوندھو۔ فرامپول کے دانشوروں کو غلاظت کھلاؤ۔‘‘
’’اگلے جہان میں میرے لیے کیا فیصلہ ہو گا؟‘‘ میں نے کہا۔
’’کوئی اگلا جہان نہیں ہے‘‘ اس نے کہا: ’’انہوں نے تمہیں نیکیوں کا ایک پرچہ فروخت کرکے تم سے کہہ دیا ہے کہ اس پر یقین کرو کہ تمہارے پیٹ میں ایک بلی ہے۔ کیسی احمقانہ بات ہے!‘‘
’’بجا، پھر۔‘‘ میں بولا۔ ’’کیا خدا ہے؟‘‘
اس نے جواب دیا’’کوئی خدا بھی نہیں ہے۔‘‘
’’پھر‘‘ میں نے کہا: ’’وہاں کیا ہے؟‘‘
’’ایک گہری دلدل۔‘‘
وہ میری آنکھوں کے سامنے بکرے جیسی داڑھی اور سینگ، لمبے دانت اور دم لیے کھڑا تھا۔ اس قسم کی باتیں سننے کے بعد میرا دل چاہ رہا تھا کہ اس کی داڑھی نوچ لوں۔ لیکن میں بوریوں کے اوپر سےلڑکھڑایا اور اپنی پسلی لگ بھگ تڑوا ہی بیٹھا۔ پھر یہ ہوا کہ مجھے حاجت محسوس ہوئی اور چلتے چلتے میں نے خمیر زدہ آٹا دیکھا جو یوں لگا جیسے مجھ سے کہہ رہا ہو۔ ’’کردو!‘‘ المختصر، میں نے اپنے آپ کو اس کام پر تیار پایا۔
صبح ہونے پر مددگار آیا۔ ہم نے روٹیاں گھڑیں، ان پر زیرۂ سیاہ کے بیج چھڑکے اور انہیں پکنے کے لیے ڈال دیا۔ پھر مددگار چلا گیا اور میں بھٹی کے قریب گڑھے میں گدڑیوں کے ڈھیر پر بیٹھا رہا۔ خوب گمپیل، میں نے سوچا، تم نے ان تمام سے بدلہ لے لیا جنہوں نے تمہیں شرمندگی سے دوچار کیا۔ باہر برف چمک رہی تھی لیکن بھٹی کے قریب حدت تھی۔ شعلے میرا چہرہ گرما رہے تھے۔ میں نے سر جھکا لیا اور اونگھنے لگا۔
یکایک میں نے خوب میں ایلکا کو اس کے لمبے کفن میں دیکھا۔ وہ مجھ سے بولی: ’’یہ تم نے کیا کیا، گمپیل؟‘‘
میں نے اس سے کہا: ’’یہ سب تمھارا قصور ہے۔‘‘ اور رونے لگا۔
’’تم گاؤدی ہو!‘‘ وہ بولی: ’’نرے گاؤ دی! اگر میں غلط تھی تو کیا ہر چیز غلط ہے؟ میں نے اپنے آپ کے علاوہ کسی کو دھوکا نہیں دیا۔ میں اس سب کا خمیازہ بھگت رہی ہوں، گمپیل۔ یہاں کسی کو معافی نہیں ملتی۔‘‘
میں نے اس کا چہرہ دیکھا جو سیاہ پڑا ہوا تھا؛میں حیران رہ گیا، میری آنکھ کھل گئی اور میں گنگ بیٹھا رہا۔ مجھے احساس ہوا کہ ہر شے توازن میں جھول رہی ہے۔ ایک غلط قدم میری اخروی زندگی برباد کر دے گا۔ لیکن خدا نے مجھ پر اپنی رحمت کی۔ میں نے لمبا پھاؤڑا دبوچا اور روٹیاں باہر نکالیں، انہیں صحن میں لے گیا اور منجمد زمین میں ایک گڑھا کھودنے لگا۔
جب میں یہ کام کر رہا تھا تو میرا مددگار لوٹ آیا۔ ’’مالک، آپ کیا کر رہے ہیں؟‘‘ اس نے پوچھا اور ایک لاش کے مانند سفید پڑ گیا۔
’’مجھے معلوم ہے کہ میں کیا کر رہا ہوں۔‘‘ اور میں نے وہ تمام روٹیاں اس کی آنکھوں کے سامنے دفنا دیں۔
پھر میں گھر گیا، اپنی تمام جمع چونجی پوشیدہ مقام سے نکالی اور اسے بچوں میں تقسیم کر دیا۔ ’’میں نے آج تمہاری ماں کو دیکھا ہے۔‘‘ میں نے کہا۔ ’’وہ سیاہ پڑ رہی ہے، بے چاری۔‘‘
وہ بے حد حیرت زدہ تھے لیکن کچھ کہہ نہیں سکتے تھے۔
’’پھلو پھولو۔‘‘ میں بولا: ’’اور یہ بھول جاؤ کہ کبھی کوئی گمپیل بھی وجود رکھتا تھا۔‘‘ میں نے اپنے چھوٹا کوٹ اور جوتے پہنے اور ایک ہاتھ میں تھیلا لیا جس میں میری عبادت والا نمدہ تھا اور دوسرے ہاتھ میں میرا سامان، اور میں نے میزوزا کو بوسہ دیا۔
’’آپ کہاں جا رہے ہیں؟‘‘ وہ بولے۔
میں نے جواب دیا ’’دنیا میں۔‘‘ اور اس طرح میں نے فرامپول چھوڑ دیا۔
میں زمین پر گھومتا پھرتا رہا اور اچھے لوگوں نے مجھ سے صرفِ نظر نہیں کیا۔ کئی سالوں کے بعد میں بڈھا ہو گیا اور میرے بال سفید پڑ گئے۔ میں نے بہت کچھ سنا، بہت سے جھوٹ اور کذب بیانیاں، لیکن لمبی عمر بتانے کے بعد مجھے سمجھ آئی کہ اصل جھوٹ کوئی نہیں ہوتا۔ جو حقیقت میں نہیں ہوتا وہ رات کو خواب میں دکھائی دیتا ہے۔ اگر وہ بات ایک کے ساتھ پیش نہ آئے، دوسرے کو پیش آجاتی ہے، آج نہ ہو تو کل میں ہو جاتی ہے، اور اگلے ایک سال میں نہ ہو تو اگلی صدی میں ظہور پذیر ہو جاتی ہے۔کیا اس سے کوئی فرق پڑتا ہے؟ میں نے اکثر اس نوع کی کہانیاں سنیں جن میں کہا جاتا: ’’اب یہ چیز کبھی نہیں ہو سکتی۔‘‘
لیکن ایک برس گزرنے سے پہلے ہی مجھے پتا چلتا کہ وہ چیز کہیں نہ کہیں ہوگئی ہے۔
ایک مقام سے دوسرے کو جاتے ہوئے، اجنبی میزوں پر کھانے کھاتے ہوئے، اکثر میرے ساتھ یہ ہوتا کہ ویا میں قصے گھڑتا ہوں...... ایسے واقعا ت پر مبنی کہانیاں جو ناقابل ظہور ہوتے ہیں ...... شیاطین، جادوگروں، بادبانی چکیوں اور ایسی ہی قسم کے قصے۔ بچے پکارتے ہوئے میرے پیچھے لپکتے۔ ’’بابا ہمیں کہانی سناؤ۔‘‘ بعض اوقات وہ کسی خاص کہانی کی فرمائش کرتے اور میں انہیں خوش کرنے کی کوشش کرتا۔ ایک دفعہ ایک فربہ لڑکے نے مجھ سے کہا: ’’بابا، یہ کہانی تو آپ ہمیں پہلے بھی سنا چکے ہیں۔‘‘ وہ بدمعاش ٹھیک کہہ رہا تھا۔
پس یہ خواب میں ہوتا ہے۔ مجھے فرامپول چھوڑے ہوئے بہت برس بیت گئے، لیکن میں جوں ہی پلکیں موندتا ہوں دوبارہ وہاں پہنچ جاتا ہوں۔ اور تمہارا کیا خیال ہے میں کسے دیکھتا ہوں؟ ایلکا کو۔ وہ کپڑے دھونے والے ٹب کے پاس کھڑی ہے، ہماری پہلی ملاقات والے دن کی طرح، لیکن اس کا چہرہ دمک رہا ہے اور اس کی آنکھوں میں کسی درویش کی سی آنکھوں کی چمک ہے اور وہ مجھ سے غیر ارضی زبان میں باتیں کرتی ہے، عجیب و غریب باتیں۔ جب میں اٹھتا ہوں تو وہ سب باتیں بھول چکا ہوتا ہوں۔ لیکن جب خواب ختم ہوتا ہے تو میں پرسکون ہو چکا ہوتا ہوں۔ وہ میرے تمام سوالوں کے جواب دیتی ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ میں روتا ہوں اور اظہار کرتا ہوں۔ ’’مجھے اپنے پاس بلا لو۔‘‘ وہ مجھے تسلی دیتی ہے اور کہتی ہے کہ صبر کروں۔ اب زیادہ وقت نہیں رہا۔ بعض اوقات وہ مجھے نرمی سے چھوتی ہے، چومتی ہے اور میرے چہرے پر اپنا چہرہ رکھ کر روتی ہے۔ جب میں اٹھتا ہوں تو اس کے ہونٹوں کا ذائقہ اور آنسوؤں کی نمکینی محسوس کرتا ہوں۔
بلا شک و شبہ دنیا کاملاً ایک خیالی دنیا ہے لیکن اصل دنیا سے بدل جانے تک۔ میں جس کٹیا کے دروازے پر پڑا رہتا ہوں وہاں وہ گیلیاں کھڑی رہتی ہیں جن پر مردوں کو لے جایا جاتا ہے۔گورکن اپنا کدال تیار رکھتا ہے۔ قبر منتظر رہتی ہے اور حشرات بھوکے ہیں؛ کفن تیار ہے ...... میں نے اسے فقیروں والے جھولے میں رکھا ہوا ہے۔ ایک اور گداگر میرے یہاں والے بستر کے خالی ہونے کے انتظار میں ہے۔ جب وہ وقت آئے گا تو میں ہنسی خوشی چلا جاؤں گا۔ وہ جو کچھ بھی ہو گا لیکن حقیقی ہو گا، پیچیدگیوں کے بغیر، تمسخر کے بغیر، فریب کے بغیر۔ تمام تعریفیں خدا کے لیے؛ وہاں گمپیل کو چھل نہیں دیا جا سکتا۔