آئزک بشواس سنگر

آئزک بشواس سنگر

آس اور آسا

    ترجمہ: ناز سرحدی

     

    ایک جنگل گھنا گھنا سا تھا

    سارا منظر ہرا ہرا سا تھا

    سبز رنگوں کے تھام کر گہنے

    نرم پتوں کی وردیاں پہنے

    ہر شجر خوشگوار لگتا تھا

    مطمئن ہر چنار لگتا تھا

    ختم ہو تے ہی ماہ اکتوبر

    جال بن کر زمین کے اوپر

    ہر طرف برف گرنے لگتی تھی

    سردی ہر لحظہ بڑھنے لگتی تھی

    قرمزی، لال، زرد رو پتے

    گر گئے تھے چہار سو پتے

    کچھ کہ طوفاں کی زد میں آئے تھے

    کچھ کہ باراں کی زد میں آئے تھے

    جل گئے دن کی روشنی میں کچھ

    بجھ گئے شب کی تیرگی میں کچھ

    بچھ گئے تھے زمین پر پتے

    مثل قالین، بے ضرر پتے

    بکھرے بکھرے سے خشک تھے پتے

    اور محروم مشک تھے پتے

    ننگی شاخوں سے جھانکتا سورج

    روشنی اپنی تانتا سورج

    خشک پیڑوں پہ رینگتے کیڑے

    نرم پتوں پہ رینگتے کیڑے

    زرد پتوں سے بھال کر چوہے

    دیکھتے سر نکال کر چوہے

    ہر شجر گو لباس کھو بیٹھا

    سبز جامے کی آس کھو بیٹھا

    ٭

    شام کا وقت تھا اداسی تھی

    روشنی شاخ پر ذرا سی تھی

    شاخ پر زندگی جو باقی تھی

    ایک پتا تھا ایک پتی تھی

    سہتے سہتے ہواؤں کے جھٹکے

    پیڑ کی شاخ پر رہے اٹکے

    گو کہ طوفان میں کوئی پتا

    دوسرے کو بچا نہیں سکتا

    تھامے ہاتھوں میں ہجر کا کاسہ

    تھے سر شاخ ’’آس‘‘ اور   ’’آسا‘‘

    آس دکھ میں بھی مستقل رہتا

    اپنی آسا سے وہ یہی کہتا

    آسا پیوستہ رہ شجر سے تو

    ہارنا حوصلہ نہ ڈر سے تو

    استعاروں ہی استعاروں میں

    آسا کہنے لگی اشاروں میں

    کتنی سنگیں، طویل رات ہے یہ

    آخری گویا   ملاقات ہے یہ

    آس اب میرا وقت آ پہنچا

    اب نگہبان ہو خدا تیرا

    اب تو جینے سے خوف آتا ہے

    دل مرا ڈوب ڈوب جاتا ہے

    یہ نومبر عذاب لگتا ہے

    آفتوں کا نصاب لگتا ہے

    آس بولا خیال کر آسا

    اپنی قوت بحال کر آسا

    اپنے وعدوں سے تو نہ پھر جانا

    ہے مری موت تیرا گر جانا

    تو گرے گی تو مر نہ جاؤں گا؟

    کیا تیرے بن سکون پاؤں گا؟

    شاخ پر کانپتی ہوئی آسا

    آس سے ملتجی ہوئی آسا

    میری ہمت بندھائی ہے تو نے

    بات گر کی بتائی ہے تو نے

    زندگی کا ہے راز سربستہ

    آس رہناشجر سے پیوستہ

    تیری ہمت بھی کم نہیں آسا

    آس بولا کہ آفریں آسا

    تو اگر میرے پاس رہ جائے

    زندہ رہنے کی آس رہ جائے

    دن کو دیکھوں میں بانکپن تیرا

    شب کو خوشبو بھرا بدن تیرا

    میں اکیلا رہوں نہیں ممکن

    میں اکیلا جیوں نہیں ممکن

    بولی آسا یہ جانتے ہو تم

    زرد رو ہوں یہ مانتے ہو تم

    ہاں مگر ایک چیز باقی ہے

    چاہ کی بس تمیز باقی ہے

    بارشوں میں بھی ہم نہ بچھڑیں گے

    آندھیوں میں بھی ہم نہ بچھڑیں گے

    ٭

    دیکھتےدیکھتے اٹھا طوفاں

    آس کو ساتھ لے اڑا طوفاں

    ڈر سے تب کانپنے لگی آسا

    تھک کے پھر ہانپنے لگی آسا

    اپنے ساتھی کو ہار کر بولی

    آس کو وہ پکار کر بولی

    کیوں نظر سے ہوا ہے تو اوجھل

    تیری آسا کا دل ہوا بوجھل

    بات یہ کہہ کے کھو گئی آسا

    غم کے پہلو میں سو گئی آسا

    انجمن تھی نہ محفل آرائی

    اب تو آسا تھی اور تنہائی

    ٭

    دن نکلتا تو روشنی چبھتی

    رات ہوتی تو تیرگی چبھتی

    دن کو طوفاں تو شب کی بارش تھی

    داستاں آفتوں کی چل نکلی

    تیز بارش نے شب کو آگھیرا

    کتنی لرزاں تھی شاخ پر آسا

    وہ کہ جنگل کی عام سی شب تھی

    کس قدر تشنہ کام سی شب تھی

    آسا اپنے حواس کھو بیٹھی

    زندگانی کی آس کھو بیٹھی

    ٭

    صبح کے وقت ہوش میں آئی

    خو دکو دیکھا تو قدرے گھبرائی

    ہو گیا ختم شاخ کا قصہ

    اب تھی وہ کائنات کا حصہ

    کاٹ کر ایک آدھ چکر سا

    آرہی پھر زمین پر آسا

    ٭

    اس نے دیکھا کہ پاس بیٹھا تھا

    آس تنہا اداس بیٹھا تھا

    پہلے روئے وہ دونوں مل مل کر

    بعد میں پھر ہنسے وہ کھل کھل کر

    آئی ٹھنڈی ہوا، چلا جھونکا

    آس آسا کو لے اڑا جھونکا

    اب تو وہ ساتھ ساتھ تھے دونوں

    عشق کی کائنات تھے دونوں