سکہ بدل گیا
اردو ترجمہ: ڈاکٹر گُل جبین اختر انصاری (اترپردیش، انڈیا)
کھدر کی چادر اوڑھے،ہاتھ میں مالا لیے شاہنی جب دریا کے کنارے پہنچی تو صبح ہونے والی تھی۔دور تلک آسمان کے پردے پر سرخی پھیل رہی تھی، شاہنی نے کپڑے اتار کر ایک طرف رکھے اور شری رام۔ شری رام کرتی ہوئی پانی میں اتر گئی، ہتھیلیوں میں پانی بھر کر سورج دیوتا کو نمسکار کیا، اپنی خوابیدہ آنکھوں پر پانی کے چھینٹے دیے اور پانی میں تیر گئی۔
چناب کا پانی آج بھی پہلے کی ہی طرح سرد تھا، لہریں لہروں کو چوم رہی تھیں۔ دور سامنے کشمیر کی پہاڑیوں سے برف پگھل رہی تھی۔ اچھل اچھل کر آتی ہوئی پانی کی لہروں سے ٹکرا کر کنارے گررہے تھے، لیکن دور دور تک پھیلی ریت آج نہ معلوم کیوں خاموش لگ رہی تھی۔ شاہنی نے کپڑے پہنے، اردگرد دیکھا،کہیں کوئی سایہ تک نہ تھا، لیکن نیچے ریت میں اَن گنت قدموں کے نشان دیکھ کر وہ کچھ سہم گئی۔
آج صبح کی سکون بخش خاموشی کچھ خوفزدہ معلوم ہو رہی ہے۔ گزشتہ پچاس سالوں سے وہ یہاں نہاتی آ رہی ہے۔کتنا طویل عرصہ ہے،شاہنی سوچتی ہے ایک دن اسی دریا کے کنارے وہ دلہن بن کر اتری تھی اور آج ......آج شاہ جی نہیں، اس کا وہ پڑھا لکھا لڑکا نہیں، آج وہ اکیلی ہے، شاہ جی کی لمبی چوڑی حویلی میں بالکل اکیلی، مگر نہیں وہ یہ کیا سوچ رہی ہے سویرے سویرے، اب بھی دنیا داری سے دل نہیں بھرا اس کا؟ شاہنی نے لمبی سانس لی اور شری رام شری رام کرتی باجرے کے کھیتوں سے ہوتی ہوئی گھر کی طرف چل دی۔کہیں کہیں لپے پتے آنگن میں سے دھواں نکل رہا تھا، ٹن ٹن بیلوں کی گھنٹیاں بجنے لگی تھیں، پھر بھی...... پھر بھی کچھ بندھا بندھا سا لگ رہا ہے۔ جمی والا کنواں بھی آج نہیں چل رہا، یہ شاہ جی کی ہی اسامی ہیں،شاہنی نے نظر اٹھائی، یہ میلوں تک پھیلے کھیت اپنے ہی ہیں، لہلہاتی کاشت دیکھ کر شاہنی اپنائیت کے جذبے سے بھیگ گئی یہ سب شاہ جی کی برکتیں ہیں، دور دراز گاؤں تک پھیلی ہوئی زمینیں، زمینوں میں کنویں سب اپنے ہیں۔ سال میں تین کاشت، زمین تو سونا اُگلتی ہے۔ شاہنی کنویں کی طرف بڑھی اور آواز لگائی، ’’شیرے۔شیرے۔ حسینا۔ حسینا‘‘۔
شیرا شاہنی کی آواز پہچانتا ہے اور کیوں نہیں پہچانے گا، اپنی ماں جینا کی موت کے بعد وہ شاہنی کے پاس ہی پل کر بڑا ہوا ہے۔اس نے پاس میں پڑا گنڈاسا شٹالے کے ڈھیر کے نیچے کھسکا دیا اور ہاتھ میں حقہ پکڑ کر بولا، ’’ اے حسینا۔حسینا‘‘۔ شاہنی کی آواز اسے کس طرح ہلا گئی تھی۔ کہاں تو ابھی وہ سوچ رہا تھا کہ اس شاہنی کی اونچی حویلی کی تاریک کوٹھری میں پڑی سونے چاندی کی صندوقچیاں اٹھا کر....... کہ تبھی’ شیرے شیرے‘۔شیرا غصے سے تلملا گیا، کس پر نکالے اپنا غصہ؟ شاہنی پر۔ چیخ کر بولا، ’’ اے مر گئی ایں، رب تینو موت دے۔‘‘ حسینا آٹے والا کنستر ایک طرف رکھ کر جلدی سے باہر نکل کر آئی،’’ اے آئی آں، کیوں جھاولے ( صبح صبح) تڑپنا ایں؟‘‘ اب تک شاہنی نزدیک پہنچ چکی تھی اور شیرے کی تیزی سن چکی تھی، پیار سے بولی، ’’ حسینا، یہ وقت لڑنے کا ہے؟ وہ تو پاگل ہے تو ہی حوصلہ رکھ لیا کر۔‘‘
’’حوصلہ‘‘ حسینا نے فخریہ لہجے میں کہا،’’شاہنی، بیٹا آخر بیٹا ہی ہے، کبھی شیرا سے بھی پوچھا ہے کہ صبح ہوتے ہی کیوں گالیاں برسائی ہیں اس نے ؟‘‘ شاہنی نے شفقت سے حسینا کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور مسکرا کر بولی’’پگلی مجھے بیٹے سے بہو پیاری ہے۔‘‘
’’شیرے‘‘
’’ہاں شاہنی‘‘
’’معلوم ہوتا ہے کہ رات کو کلو وال کے لوگ آئے ہیں یہاں؟‘‘ شاہنی نے سنجیدہ ہو کر کہا۔
شیرا نے رک کر گھبرا تے ہوئے کہا’’نہیں شاہنی‘‘
شیرے کے جواب کو ان سناکر کے شاہنی کچھ پریشان لہجے میں بولی’’جو کچھ بھی ہو رہا ہے اچھا نہیں ہے شیرے، آج شاہ جی ہوتے تو شاید کچھ بیچ بچاؤ کرتے، مگر......’’ شاہنی کہتے کہتے رک گئی۔ آج کیا ہو رہا ہے، شاہنی کو لگا جیسے بار ہا دل بھر آ رہا ہے۔ شاہ جی کو بچھڑے کئی سال گزر چکے تھے مگر آج کچھ پگھل رہا ہے شایدماضی کی یادیں...... آنسوؤں کو روکنے کی کوشش میں اس نے حسینا کی طرف دیکھا اور ہلکے سے مسکرائی، شیرا سوچ ہی رہا ہے کہ کیا کہہ رہی ہے شاہنی آج؟ شاہنی کیا آج کوئی بھی کچھ نہیں کر سکتا ہے، یہ ہو کر رہے گا اور کیوں نہ ہو؟ ہمارے ہی بھائی بند سے بیاج لے لے کر شاہ جی سونے کی بوریاں تولا کرتے تھے۔ بدلے کی آگ شیرا کی آنکھوں میں اتر آئی، گنڈاسے کی یاد آ گئی، شاہنی کی طرف دیکھا، نہیں...... نہیں ......شیرا پچھلے کچھ دنوں میں تیس چالیس قتل کر چکا ہے مگر وہ ایسا گرا ہوا نہیں ہے کہ سامنے بیٹھی شاہنی ......نہیں......شاہنی کے ہاتھوں کا لمس اس کی آنکھوں میں تیر گیا۔ جاڑوں کی راتوں میں کبھی کبھی شاہ جی کی ڈانٹ کھا کر وہ حویلی میں پڑا رہتا تھا اور پھر لالٹین کی روشنی میں وہ شاہنی کے ممتا بھرے ہاتھوں میں دودھ کا پیالہ پکڑے ہوئے دیکھتا ہے،’شیرے شیرے،اٹھ، پی لے‘۔ شیرے نے شاہنی کے جھریاں پڑے ہوئے چہرے کی طرف دیکھاتو شاہنی دھیرے سے مسکرا رہی تھی، شیرا بے چین ہو گیا، ’آخر شاہنی نے کیا بگاڑا ہے ہمارا؟ شاہ جی کی بات شاہ جی کے ساتھ گئی، وہ شاہنی کو ضرور بچائے گا، لیکن رات والا مشورہ، وہ کیسے مان گیا تھا فیروز کی بات، سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، سامان بانٹ لیا جائے گا۔ ‘
’’شاہنی چلو تمہیں گھر تک چھوڑ آؤں۔‘‘
شاہنی کھڑی ہو گئی،کسی گہری سوچ میں چلتی ہوئی شاہنی کے پیچھے پیچھے مضبوط قدموں سے شیرا چل رہا ہے، ڈرا ہوا، ارد گرد دیکھتا ہوا، اپنے ساتھیوں کی باتیں اس کے کانوں میں گونج رہی ہیں، لیکن کیا ہوگا شاہنی کو مار کر؟
’’شاہنی‘‘
’’ہاں شیرے‘‘
شیرا چاہتا ہے کہ سر پرمنڈلا رہے خطرے سے وہ شاہنی کو آگاہ کر دے، مگر کیسے؟
’’شاہنی‘‘
شاہنی نے سر بلند کیا آسمان دھوئیں سے بھر گیا تھا۔
’’شیرے‘‘
شیرا جانتا ہے یہ آگ ہے، جبل پور میں آج آگ لگنی تھی لگ گئی، شاہنی کچھ نہیں کہہ سکی، اس کے رشتے ناتے دار سب وہیں ہیں۔ حویلی آ گئی۔ شاہنی نے خالی ذہن سے ڈیوڑھی میں قدم رکھا۔ شیرا کب واپس چلا گیا اسے کچھ معلوم نہیں۔کمزور جسم اور وہ تنہا، بغیر کسی سہارے کے، نہ معلوم کب تک وہیں پڑی رہی شاہنی،دوپہر آئی اور چلی گئی۔حویلی کھلی پڑی رہی، آج شاہنی اٹھ نہیں پا رہی جیسے اس کا حق آج خود بہ خود اس سے چھوٹ رہا ہے، شاہ جی کے گھر کی مالکن...... مگر نہیں......آج چاہ نہیں چھوٹ رہی ہے، مانو وہ پتھرکی ہو گئی ہو، پڑے پڑے شام ہو گئی، لیکن اٹھنے کی بات پھر بھی نہیں سوچ پا رہی۔ اچانک رسولی کی آواز سن کر چونک گئی۔
’’شاہنی۔ شاہنی سنو، لاریاں آتی ہیں لینے‘‘
’’لاریاں؟‘‘ شاہنی اس کے علاوہ کچھ نہیں کہہ پائی، ہاتھوں نے ایک دوسرے کو تھام لیا، بات ہی بات میں یہ خبر پورے گاؤں میں پھیل گئی، بی بی نے اپنی ترش آواز میں کہا، ’’شاہنی آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا اور نہ کبھی سنا، غضب ہو گیا، اندھیر مچ گئی۔‘‘ شاہنی مجسمہ بنی وہیں کھڑی رہی، نواب بی بی نے اپنائیت بھری اداسی سے کہا، ’’شاہنی ہم نے تو کبھی نہیں سوچا تھا۔‘‘ شاہنی کیا کہے کہ اس نے ایسا سوچا تھا۔ نیچے سے پٹواری بیگو اور جیلدار کی گفتگو سن کر شاہنی سمجھ گئی کہ وقت آگیا ہے۔ مشین کی مانند نیچے اتری مگر ڈیوڑھی پار نہ کر سکی۔ کسی گہری، بہت گہری آواز میں پوچھا، ’’کون، کون ہے وہاں؟‘‘
کون نہیں ہے آج وہاں؟ سارا گاؤں ہے، جو کبھی اس کے اشارے پر ناچتا تھا، یہ اس کی اسامی ہیں جنہیں اس نے اپنے ناتے رشتوں سے کم نہیں سمجھا، لیکن نہیں، آج اس کا کوئی نہیں، آج وہ اکیلی ہے، غول کے غول، ان میں کلووال کے جاٹ، کیا یہ سب وہ صبح ہی نہیں سمجھ گئی تھی؟
بیگو پٹواری اور مسجد کے ملا اسماعیل نہ جانے کیا سوچ کر شاہنی کے نزدیک آکر کھڑے ہو گئے، بیگو آج شاہنی سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا، دھیرے سے گلا صاف کرتے ہوئے بولا ’’شاہنی رب نواے ہی منظور سی۔‘‘ شاہنی کے قدم ڈگمگاگئے۔ چکر آکر وہ دیوار کے سہارے لگ گئی، اسی دن کے لیے چھوڑ گئے تھے شاہ جی اسے؟ بے جان شاہنی کی طرف دیکھ کر بیگو سوچتا ہے کہ کیا گزر رہی ہے شاہنی پر، مگر کیا ہو سکتا ہے، سکہ بدل گیا ہے ......
شاہنی کا گھر سے نکلنا کوئی چھوٹی بات نہیں، گاؤں کا گاؤں کھڑا ہے حویلی کے دروازے سے لے کر اس دروازے تک جسے شاہ جی نے اپنے بیٹے کی شادی میں بنوایا تھا، تب سے لے کر آج تک سب فیصلے اور مشورے یہیں ہوتے رہے ہیں، اس بڑی حویلی کو لوٹ لینے کی بات بھی یہیں سوچی گئی تھی، ایسا نہیں تھا کہ شاہنی کچھ جانتی نہیں تھی وہ جان کر بھی انجان بنی رہی، اس نے کبھی بغض نہیں رکھا، کسی کا برا نہیں کیا، لیکن بوڑھی شاہنی یہ نہیں جانتی تھی کہ سکہ بدل گیا ہے......
دیر ہو رہی تھی۔ تھانیدار داؤد خاں ذرا اکڑ کر آگے آیا اور دہلیز پر کھڑے بے جان سائے کو دیکھ کر رک گیا، یہ وہ شاہنی ہے جس کے شاہ جی اس کے لیے دریا کے کنارے خیمے لگوا دیا کرتے تھے، یہ تو وہی شاہنی ہے جس نے اس کی منگیتر کو منہ دکھائی میں سونے کے کان کے پھول دیے تھے، ابھی اسی دن جب وہ لیگ کے سلسلے میں آیا تھا اور سرکشی سے کہا تھا، ’شاہنی بھاگووال مسجد بنے گی تین سو روپے دینا پڑے گا‘ اور شاہنی نے اپنی اسی سادہ مزاجی سے تین سو روپے دے دیے تھے اور آج؟
’’شاہنی‘‘ ڈیوڑھی کے نزدیک جا کر بولا، ’’ دیر ہو رہی ہے شاہنی (دھیرے سے) کچھ ساتھ رکھنا ہو تو رکھ لو، کچھ ساتھ باندھ لیا ہے، سونا چاندی؟‘‘
شاہنی بدبائی، ’’سونا چاندی‘‘ اور تھوڑا رک کر سادگی سے بولی، ’’بچہ وہ سب تم لوگوں کے لیے ہے، میرا سونا تو ایک ایک زمین میں بچھا ہے۔‘‘
داؤد خان شرمندہ ہو گا، ’’شاہنی تم اکیلی ہو،اپنے پاس کچھ ہونا ضروری ہے، کچھ نقدی ہی رکھ لو، وقت کا کوئی ٹھکانہ نہیں۔‘‘
’’وقت؟‘‘ شاہنی اپنی نم آنکھوں سے ہنس پڑی۔ ’’داؤد خاں، اس سے اچھا وقت دیکھنے کے لیے کیا بھلا میں زندہ رہوں گی؟‘‘ شاہنی نے ایک گہری ٹیس اور حقارت بھرے لہجے میں کہا۔ داؤد خان ششدر رہ گیا، پھر ہمت کرکے بولا، ’’شاہنی کچھ نقدی ضروری ہے۔‘‘
’’نہیں بچہ، مجھے اس گھر سے ‘‘ شاہنی کا گلا بھر آیا، ’’نقدی پیاری نہیں، یہاں کی نقدی یہیں رہے گی۔‘‘ شیرا جان گیا کہ ہو نہ ہو کچھ مار رہا ہے شاہنی کو۔’’خاں صاحب دیر ہو رہی ہے۔‘‘
شاہنی چونک گئی۔ دیر؟میرے گھر میں مجھے دیر؟ آنسوؤں کے گرداب میں نہ معلوم کہاں سے بغاوت امڈنے لگی، پرکھے کے اس بڑے گھر کی رانی اور یہ میرے ہی کھلائے ہوئے ......نہیں، یہ سب کچھ ٹھیک نہیں۔ ٹھیک ہے دیر ہو رہی ہے مگر نہیں، شاہنی رو کر نہیں شان سے نکلے گی اس پشتینی گھر سے، عزت سے پار کرے گی یہ دہلیز جس پر ایک دن وہ رانی بن کر آئی تھی، اپنے ڈگمگاتے قدموں کو سنبھال کر شاہنی نے آنچل سے آنکھیں پونچھیں اور دہلیز سے باہر آگئی۔ بڑی بوڑھیاں رو پڑیں، کس کی برابری ہو سکتی ہے بھلا اس کے ساتھ، خدا نے سب کچھ دیا تھا مگر دن بدلے، وقت بدلے ......
شاہنی نے دوپٹہ سے سر کو ڈھانک کر اپنی دھندلی آنکھوں سے حویلی کو آخری بار دیکھا، شاہ جی کے مرنے کے بعد بھی جس خاندان کی امانت کو اس نے سمیٹ کر رکھا آج وہ اسے دھوکا دے گئی، شاہنی نے دونوں ہاتھ جوڑ لیے، یہ آخری دیدار تھا اور آخری سلام۔ شاہنی کی آنکھیں پھر کبھی اس بلند حویلی کو نہیں دیکھ پائیں گی۔ لگاوٹ نے زور مارا سوچا ایک بار گھوم کر پورا گھر کیوں نہیں دیکھ لیا میں نے؟دل مسوس کر رہ گئی، مگر جن کے سامنے ہمیشہ بڑی بنی رہی ہے اب ان کے سامنے چھوٹی نہیں بنے گی، اتنا ہی کافی ہے، بس ہو چکا، سر جھکایا۔ ڈیوڑھی کے سامنے خاندان کی بہو کی آنکھوں سے کچھ قطرے نکل کر نیچے گر گئے۔ شاہنی چل دی، بلند عمارت پیچھے کھڑی رہ گئی۔ داؤد خاں، شیرا، پٹواری، جیل دار اور چھوٹے بڑے بچے، بوڑھے، مرد عورتیں سب پیچھے پیچھے۔
لاریاں اب تک بھر چکی تھیں، شاہنی خود کو کھینچ رہی تھی، گاؤں والوں کے گلے میں جیسے دھواں اٹھ رہا ہے۔ شیرے، خونی شیرے کا دل ٹوٹ رہا ہے، داؤد خاں نے آگے بڑھ کر لاری کا دروازہ کھولا، شاہنی بڑھی، اسماعیل نے آگے بڑھ کر بھاری آواز سے کہا، ’’شاہنی کچھ کہہ جاؤ، تمہارے منہ سے نکلی دعا جھوٹی نہیں ہو سکتی۔‘‘ اور اس نے اپنے صافے سے آنکھوں کا پانی پونچھ لیا۔ شاہنی نے آتی ہوئی ہچکی کو روک کر بھیگے لہجے سے کہا، ’’رب تینو سلامت رکھے بچہ، خوشیاں بخشے۔‘‘
وہ چھوٹا سا مجمع رو دیا۔ شاہنی کے دل میں ذرا بھی کدورت نہیں، مگر ہم ؟ ہم شاہنی کو نہیں رکھ سکے، شیرے نے بڑھ کر شاہنی کے پیر چھوئے، ’’شاہنی کوئی کچھ نہیں کر سکا، تختہ بھی پلٹ گیا۔‘‘ شاہنی نے لرزتا ہاتھ شیرے کے سر پر رکھا اور رک رک کر بولی، ’’تینو بھاگ جگن چنا (او چاند تیری قسمت جاگے)‘‘ داؤد خاں نے ہاتھ سے اشارہ کیا، کچھ بڑی بوڑھیاںشاہنی کے گلے لگیں اور لاری چل پڑی۔
دانا پانی اٹھ گیا، وہ حویلی، نئی بیٹھک، اونچا چوبارہ، بڑا آنگن ایک ایک کرکے شاہنی کی آنکھوں میں گھومنے لگے، کچھ پتہ نہیں لاری چل دی ہے یا وہ خود چل رہی ہے، آنکھیں برس رہی ہیں۔ داؤد خاں بے چین ہو کر بوڑھی شاہنی کو دیکھ کر سوچتا ہے کہ کہاں جائے گی اب وہ؟‘‘شاہنی دل میں ملامت مت رکھنا، کچھ کر سکتے تو کسر اٹھا نہ رکھتے، وقت ہی ایسا ہے، راج بدل گیا ہے، سکہ بدل گیا ہے ......‘‘
رات کو شاہنی جب کیمپ میں پہنچ کر زمین پر لیٹی تو اس نے مجروح دل سے سوچا ’’حکومت بدل گئی ہے ......سکہ کیا بدلے گا؟ وہ تو میں وہیں چھوڑ آئی۔‘‘ او رشاہ جی کی شاہنی کی آنکھیں اور بھی نم ہو گئیں۔
آس پاس کے ہرے ہرے کھیتوں سے گھرے گاؤں میں رات خون کی ہولی کھیل رہی تھی شاید حکومت پلٹا بھی کھا رہی تھی اور سکہ بدل رہا تھا ......