نیلا گلدستہ
ترجمہ: وجاہت مسعود
نیند سے جاگا تو میرا سارا جسم پسینے سے بھیگا ہوا تھا۔ سرخ اینٹوں کی روش سے، جس پر ابھی ابھی چھڑکاؤ کیا گیا تھا، گرم بھاپ اٹھ رہی تھی۔ سرمئی پرواں والی ایک تتلی زرد روشنی کے دائرے میں منڈلا رہی تھی۔ میں چھلانگ لگا کر بستر سے باہر نکلا اور اس احتیاط کے ساتھ ننگے پاؤں چلتے ہوئے کہ گرمی سے گھبرا کر اپنے بل سے باہر آنے والے کسی بچھو پر قدم نہ رکھ دوں، کھڑکی کے پاس جا کر کھلی فضا میں سانس لینے لگا۔ پہلی رات کو بھرپور ہوا میں نسایت کی خوشبو رچی تھی۔ کھڑکی سے ہٹ کر واپس کمرے میں آیا۔ صراحی کا سارا پانی جستی چلمچی میں انڈیلا اور تولیہ بھگو کر اپنی ٹانگوں اور چھاتی پر پھیرنے لگا۔ بدن ذرا خشک ہونے پر کپڑے پہنے مگر یہ دیکھنا نہیں بھولا کہ کہیں لباس کی تہوں میں کھٹمل نہ چھپے ہوں۔ یوں تیار ہو کر میں سیڑھیوں کی طرف بڑھا جن پر روغن کیا گیا تھا۔ مکان کے دروازے پر یک چشم مگر خاموش طبع مالک مکان کا سامنا ہو گیا، وہ بید کے سٹول پر بیٹھا اپنی واحد آنکھ سکیڑے، سگریٹ پی رہا تھا۔ بھاری آواز میں اس نے پوچھا: ’’کدھر جا رہے ہو؟‘‘
’’ذرا ٹہلنے جا رہا ہوں۔ کمرہ تو دوزخ کی طرح گرم ہو رہا ہے۔‘‘
’’ہوں ...... دکانیں تو سب بند ہو چکیں۔ سڑک پر روشنی بھی نہیں، بہتر تھا کہ کمرے میں ہی رہتے۔‘‘
میں نے شانے اچکائے اور ’’جلدی واپس آجاؤں گا‘‘ کہتے ہوئے اندھیرے میں گم ہو گیا۔شروع میں تو واقعی ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔ میں بجری کی سڑک پر لڑکھڑاتا ہوا آگے بڑھنے لگا۔ ایک دفعہ رک کر میں نے سگریٹ سلگایا۔ عین اسی وقت سیاہ بدلی کی اوٹ سے چاند نمودار ہو گیا اور سامنے ایک سفید دیوار کو روشن کرنے لگا جو جگہ جگہ سے تڑخی ہوئی تھی۔ اس دیوار کی تابناکی نے مجھے گویا مبہوت کرکے رکھ دیا۔ ہوا ہولے ہولے سیٹیاں بجا رہی تھی۔ میں املی کے درختوں سے ہوکر آتی ہوا میں سانس لیتا رہا۔ پتوں اور کیڑوں مکوڑوں کی آوازیں رات کی گنگناہٹ میں ڈھل رہی تھیں۔ لمبی گھاس میں جھینگر شور مچارہے تھے۔ میں نے سر اٹھا کر دیکھا۔ ستاروں نے بھی چھاؤنی ڈال رکھی تھی۔ مجھے لگا جیسے کائنات، علامتوں کا ایک وسیع نظام تھی جس کے ذریعے مافوق الفطرت قوتیں محو گفتگو تھیں۔ میرے افعال ، جھینگروں کے شور اور ستاروں کی ٹمٹماہٹ کی حیثیت، وقفوں، بے معنی آوازوں اور اس مکالمت کے بے ربط اجزا سے زیادہ نہیں تھی۔ مجھے خیال آیا کہ میں جس لفظ کا صوتی رکن تھا، وہ بذاتِ خود کیا تھا؟ بولنے والا کون تھا اور کس کی سماعت آسودہ ہوتی تھی؟ میں نے سگریٹ فٹ پاتھ کی طرف پھینکا۔ ایک روشن قوس بناتے ہوئے وہ جب زمین سے ٹکرایا تو کسی چھوٹے سے دمدار ستارے کی مانند ننھی ننھی چنگاریاں اڑیں اور اگلے ہی لمحے جل بجھیں۔
میں یونہی آہستہ آہستہ دیر تک چلتا رہا۔ کائنات کے خوش کلام ہونٹوں کے درمیان آزادی اور تحفظ کا عجیب سا احساس ہو رہا تھا۔ لگتا تھا رات ایک باغ ہے جس میں ان گنت آنکھیں اگی ہیں۔ گلی پار کرتے ہوئے پیچھے سے کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ میں نے مڑ کر دیکھا مگر اندھیرے میں کچھ سجھائی نہ دیا۔ میں تیزی سے چلنے لگا۔ چند ہی لمحوں بعد پتھر کی گرم سڑک پر ایک بار پھر بھاری جوتوں کی آواز سنائی دی۔ میں رکے بغیر چلتا رہا۔ تعاقب کرنے والے کا سایہ ہر قدم پر مجھ سے قریب ہو رہا تھا۔ میں نے دوڑنے کی کوشش کی مگر دوڑ نہ سکا۔ اچانک مجھے رکنا پڑا۔ اس سے پہلے کہ میں اپنا دفاع کر سکتا میں نے چاقو کی نوک اپنی پشت پر محسوس کی۔ کسی نے بے حد نرم لہجے میں کہا:’’مسٹر ہلنے کی کوشش مت کرنا ورنہ چاقو گھونپ دوں گا۔‘‘
میں نے مڑے بغیر پوچھا:’’کیا چاہتے ہو؟‘‘
’’تمہاری آنکھیں!‘‘ اسی تکلیف دہ حد تک نرم آواز نے جواب دیا۔
’’میری آنکھیں؟ مگر تم میری آنکھیں لے کر کیا کرو گے؟ دیکھو! میرے پاس کچھ رقم ہے ۔ بہت زیادہ تو نہیں مگر ایسی کم بھی نہیں۔ میرے پاس جو کچھ ہے لے لو اور مجھے جانے دو۔ مجھے قتل مت کرو۔‘‘
’’خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں، مسٹر! میں تمہیں ماروں گا نہیں، صرف تمہاری آنکھیں لوں گا۔‘‘
’’لیکن آخر تمہیں میری آنکھوں کی ایسی کیا ضرورت پڑ گئی ہے؟‘‘
’’میری دوست ضد کر رہی ہے کہ اسے نیلی آنکھوں کا گلدستہ پیش کیا جائے اور اس علاقے میں نیلی آنکھوں والے بہت کم ہیں۔‘‘
’’میری آنکھوں سے تمہاری مشکل آسان نہیں ہو گی۔ میری آنکھیں نیلی نہیں بھوری ہیں۔‘‘
’’مجھے بے وقوف بنانے کی کوشش نہ کرو۔ مجھے معلوم ہے تمہاری آنکھوں کا رنگ نیلا ہے۔‘‘
’’دیکھو اپنے جیسے ایک انسان کو آنکھوں سے محروم نہ کرو۔ کچھ اور مانگ لو۔‘‘
’’زیادہ پارسا بننے کی ضرورت نہیں۔‘‘ اس نے سختی سے کہا: ’’میری طرف مڑو۔‘‘
میں گھوم گیا۔ میرے سامنے ٹھگنے قد کا ایک منحنی سا شخص کھڑا تھا جس نے اپنا ہیٹ آدھے چہرے پر کھینچ رکھا تھا، اس کے دائیں ہاتھ میں چاقو تھا جس کا چوڑا پھل چاندنی میں چمک رہا تھا۔
’’مجھے اپنا چہرہ دیکھنے دو!‘‘ حکم ہوا۔
میں نے ماچس جلائی اور اسے اپنے چہرے کے قریب لے آیا۔ شعلے کی چمک سے میری آنکھیں چندھیا گئیں۔ اس نے اپنے مضبوط ہاتھوں سے میرے پپوٹے کھول کر دیکھنا چاہے مگر اچھی طرح سے دیکھ نہ سکا، وہ پنجوں کے بل کھڑا گھورتا رہا۔ شعلے سے میری انگلیاں جلنے لگیں۔ میں نے ماچس کی تیلی نیچے گرا دی، لمحہ بھر خاموشی رہی۔
’’اب تو تمہیں یقین آگیا ہو گا کہ میری آنکھوں کا رنگ نیلا نہیں۔‘‘
’’خاصے چالاک ہو۔‘‘ اس نے جواب دیا۔ ’’چلو ایک اور تیلی جلاؤ۔‘‘
میں نے ایک اور ماچس جلائی اور اسے اپنی آنکھوں کے قریب لے آیا۔
’’نیچے جھکو!‘‘ میری آستین کھینچتے ہوئے اس نے کہا۔ میں نیچے جھک گیا۔ اس نے ایک ہاتھ سے میرے بال پکڑ کر میرا سر پیچھے کیے رکھا اور مجھ پر جھک کر متجسس اور بے چین نظروں سے میری آنکھیں دیکھتا رہا۔ اس کا چاقو نیچا ہوتے ہوئے میری پلکوں کو چھو رہا تھا۔ میں نے آنکھیں بند کر لیں۔
’’آنکھیں کھلی رکھو!‘‘ اس نے حکم دیا۔
میں نے آنکھیں کھول دیں۔ شعلہ میری پلکیں جلاتا رہا۔ اچانک اس نے میرے بال چھوڑ دیے۔
’’ٹھیک ہے ! تمہاری آنکھیں نیلی نہیں ہیں۔ لعنت ہو۔‘‘ اور وہ اندھیرے میں غائب ہو گیا۔ میں نے اپنا سر تھام کر دیوار کا سہارا لے لیا۔ آخر میں نے خود کو سنبھالا اور گرتا پڑتا کھڑا ہو گیا۔ ایک گھنٹے تک میں اجاڑ قصبے میں دوڑتا رہا۔گھر پہنچا تو میں نے دیکھا کہ مالک مکان ابھی تک دروازے کے سامنے بیٹھا تھا۔ میں بغیر کچھ کہے اندر داخل ہو گیا۔ اگلے روز میں نے وہ قصبہ چھوڑ دیا۔