ناڈائن گورڈیمر

ناڈائن گورڈیمر

پناہ گزیں

    ترجمہ : خاقان ساجد

    ہماری ماں اسی شب بازار گئی تو پھر واپس نہ لوٹی۔ اس کے ساتھ کیا ہوا ، ہمیں علم نہیں۔ میرے باپ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ پیش آیا تھا، مگر وہ تو جنگ لڑنے والوں میں تھا۔ ہم بھی حالت جنگ ہی میں تھے مگر ہم ابھی بچے تھے اور اپنے دادا دادی کی طرح نہتے۔ حکومت ڈاکوؤں کے خلاف برسرپیکار تھی۔ انہوں نے ہر جگہ لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا تھا۔ان سے بچنے کے لیے ہم یوں خائف ہو کر بھاگتے جیسے مرغیاں کتوں سے جان بچانے کو بھاگتی ہیں۔ ہماری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کہاں جائیں۔ ہماری ماں اس لیے بازار گئی تھی کہ اسے کسی نے بتایا تھا، بازار میں کھانے کا تیل مل رہا ہے۔ ہم اس بات سے بہت خوش تھے کیونکہ ہم نے بہت دن سے تیل چکھا تک نہیں تھا۔ ماں کو شاید تیل مل گیا تھا اسی لیے کسی نے اندھیرے میں اسے قتل کر دیا اور اس سے تیل چھین لیا یا شاید اس کی ڈاکوؤں سے مڈبھیڑ ہو گئی ہو گی۔ اگر آپ کا بھی کبھی ڈاکوؤں سے سامنا ہو تو وہ آپ کو بھی ما ر ڈالیں گے۔

    وہ دوبار ہمارے گاؤں میں آئے، ہم بھاگ کر جھاڑیوں میں چھپ گئے۔ جب وہ چلے گئے تب ہم جھاڑیوں سے نکل کر گھروں میں آئے۔ ہم نے دیکھا کہ وہ ہر چیز کا صفایا کر چکے ہیں۔

    لیکن تیسری دفعہ انہیں گھر میں کوئی چیز نہیں ملی، نہ تیل، نہ کوئی اور کھانے کی چیز۔ انہوں نے گھر کی چھپر اور پرال کو آگ لگا دی جس کی وجہ سے ہمارے گھر کی چھت زمین پر آ رہی۔ میری ماں ٹین کی چادروں کے کچھ ٹکڑے لے کر آئی تھی جن سے گھر کا کچھ حصہ ڈھک دیا گیا تھا۔ اس رات ہم اسی چھت کے نیچے بیٹھے اپنی ماں کی واپسی کا انتظار کر تے رہے۔

    ہم کام کاج کے سلسلے میں بھی باہر نکلنے سے ڈرتے تھے کیونکہ ڈاکو واقعی پھر آگئے تھے۔ ہمارے گھر میں تو خیر نہیں آئے، بے چھت کا گھر انہیں سامان اور انسانوں سے خالی نظر آیا مگر پورے گاؤں میں وہ ڈھٹائی سے دندناتے پھرے۔ ہمیں لوگوں کی چیخ پکار اور بھگدڑ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔ ہم تو اپنی ماں کی ہدایت کے بغیر بھاگنے سے بھی ڈرتے تھے۔ میں اپنے بہن بھائیوں سے منجھلی تھی۔ میرا چھوٹا بھائی میرے پیٹ سے ایسا چمٹا ہوا تھا جیسے بندریا کا بچہ اس کے پیٹ سے چمٹا ہوتا ہے۔ اس کے دونوں بازو میری گردن کے گرد تھے اور ٹانگیں میری کمر کے ساتھ لپٹی ہوئی تھیں۔ پوری رات میرا بڑا بھائی گھر کے جلے ہوئے شہتیروں میں سے لکڑی کا ایک ٹکڑا اپنے ہاتھوں میں تھامے رہا تاکہ اگر ڈاکو اسے دیکھ لیں تو وہ خود کو ان سے بچا سکے۔

    ہم پورے دن اپنی ماں کا انتظار کرتے رہے۔ مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ دن کون سا ہے۔ گاؤں میں نہ تو کوئی سکول باقی بچا تھا نہ کوئی گرجا گھر، اس لیےیہ معلوم ہی نہیں ہوتا تھا کہ کب اتوار ہے، کب سوموار۔

    سورج غروب ہوتے وقت دادی اور دادا آگئے۔ کسی نے انہیں اطلاع دے دی تھی کہ ہم بچے گھر میں اکیلے ہیں۔ ماں واپس نہیں آئی۔ میں ہمیشہ دادا سے پہلے دادی کا ذکر کرتی ہوں، کیونکہ یہ ترتیب اسی طرح ہے۔ دادی لحیم شحیم اور قد کاٹھ والی عورت ہے ، وہ ابھی زیادہ بوڑھی بھی نہیں ہوئی ہے۔ دادا بے حد چھوٹا ہے۔ سوچ ہی نہیں سکتے کہ وہ اپنی ڈھیلی ڈھالی پتلون کے کس کونے میں ہے۔ وہ خواہ مخواہ مسکرانے لگتا ہے، یہ سمجھے بغیر کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ اس کے بال ایسے دکھائی دیتے ہیں جیسے انہیں صابن کے جھاگ سے بھرا ہوا چھوڑ دیا گیا ہو۔ دادی ہمیں اپنے مکان میں لے گئیں، یعنی مجھے، چھوٹے بھائی، بڑے بھائی اور دادا کو۔ ہم بہت ڈرے ہوئے رہے، میرے چھوٹے بھائی کے سوا جو دادی کی پیٹھ پر سو رہا تھا۔ ہمیں ڈر تھا کہ کہیں راستے میں ڈاکوؤں سے مڈبھیڑ نہ ہو جائے۔

    بہت دن تک ہم دادی کے مکان میں ماں کا انتظار کرتے رہے، شاید ایک مہینے تک۔ ہم بھوکے رہتے تھے، ہماری ماں بھی نہیں آئی تھی، ہمیں انتظار تھا کہ وہ آ کر ہمیں یہاں سے لے جائے، اس دوران دادی کے پاس ہماے لیے کھانے کی   کوئی چیز نہ تھی، نہ دادا کے لیے، نہ خود اپنے لیے۔ ایک عورت نے جس کی چھاتیوں میں دودھ تھا، اپنا تھوڑا سا دودھ میرے چھوٹے بھائی کو دیا۔ اپنے گھر میں تو وہ ہماری طرح دلیا ہی کھاتا تھا۔ دادی کئی بار ہمیں اپنے ساتھ لے کر جنگلی ساگ کی تلاش میں نکلی لیکن گاؤں کا ہر فرد اسی کی تلاش میں تھا اس لیے ساگ کا ایک پتا بھی کہیں باقی نہ بچا تھا۔

    دادا چند نوجوانوں کے پیچھے پیچھے چلتا ہوا ہماری ماں کی تلاش میں گیا مگر وہ اسے نہ مل سکی۔ دادی مایوسی سے دوسری عورتوں کے ساتھ مل کر بین کرنے لگی۔ میں بھی بین میں شامل ہو گئی۔ ایک دفعہ کچھ لوگ تھوڑی سی پھلیاں وغیرہ کھانے کے لیے لے آئے تھے مگر دو دن بعد پھر وہی فاقہ۔ دادا کے پاس پہلے تین بھیڑیں، ایک گائے اور ترکاریوں کا ایک باغیچہ تھا۔ بھیڑیں اور گائے بہت دن ہوئے ڈاکو لے گئے تھے، وہ بھی تو آخر بھوکے تھے۔ بوائی کا وقت آیا تو کسی کے پاس بیج ہی نہیں تھے۔

    آخر ان دونوں نے طے کر لیا ، بلکہ دادی نے طے کیا کہ ہمیں یہاں سے چلے جانا چاہیے۔ دادا لاکھ چیخا چلایا اور ادھر ادھر پھرا لیکن دادی نے ذرا پروا نہ کی۔ ہم بچے بہت خوش تھے۔ ہم ایسی جگہ سے واقعی چلے جانا چاہتے تھے جہاں نہ ماں تھی، نہ کھانا تھا۔ وہاں جانا چاہتے تھے جہاں ڈاکو نہ ہوں، کھانا ہو۔ ہم یہ سوچ کر خوش تھے کہ کہیں بہت دور کوئی ایسی جگہ بھی ہے۔

    دادی نے گرجا گھر میں حاضری کے لیے اپنی مخصوص پوشاک کے بدلے مکئی کے خشک دانے لے لیے اور انہیں ابال کر ایک پرانے کپڑے میں باندھ لیا۔ ہم وہاں سے روانہ ہوئے تو دانے ہمارے پاس تھے۔ دادی کا خیال تھا کہ راستے میں دریا کا پانی مل جائے گا لیکن کوئی دریا وریا نہیں ملا۔ ہمیں اتنی سخت پیاس لگی کہ واپس مڑنا پڑا لیکن مڑ کر ہم دادی کے گھر نہیں آئے بلکہ ایک ایسے گاؤں میں رک گئے جہاں پانی کا بمبا تھا۔

    دادی نے اپنی ٹوکری کھولی جس میں اس نے کپڑے اور مکئی کے دانے ٹھونس رکھے تھے پھر اس نے اپنے جوتے بیچ کر پانی کے لیے پلاسٹک کا ایک بڑا ڈرم خرید لیا۔ میں نے پوچھا ’’دادی ! تم جوتوں کے بغیر گرجا کیسے جاؤ گی؟‘‘

    اس نے جواب میں صرف یہ کہا۔ ’’سفر لمبا ہے۔ ہم زیادہ سامان نہیں اٹھا سکتے۔‘‘

    اس گاؤں میں ہمیں اور لوگ بھی ملے جو نقل مکانی کر رہے تھے۔ ہم بھی ان کے ساتھ مل گئے۔ وہ ہمارے مقابلے میں منزل سے زیادہ واقف دکھائی دیتے تھے۔

    منزل تک پہنچنے کے لیے ہمیں کروگر پارک سے گزرنا تھا۔ ہم کروگرپارک کے بارے میں پہلے سے جانتے تھے۔ وہ ایک طرح پوری کی پوری حیوانوں کی مملکت تھی۔ ہاتھی، شیر، گیدڑ، لگڑبھگے، تیندوے، مگرمچھ، غرض ہر قسم کے جانور تھے وہاں۔ ان میں سے کچھ تو ہمارے علاقے میں بھی تھے، خاص طور پر لڑائی سے پہلے۔ دادا کو یاد ہے، ہم بچے تو اس وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ اب ڈاکوؤں نے سارے ہاتھی مار ڈالے تھے اور ان کے دانت بیچ دیے تھے۔ ڈاکوؤں اور ہمارے سپاہیوں نے سارے ہرن بھی کھا لیے تھے۔ ہمارے گاؤں میں ایک آدمی دونوں ٹانگوں سے معذور تھا،اس کی ٹانگیں دریا میں رہنے والے ایک مگرمچھ نے کھا لی تھیں۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود ہمارا ملک انسانوں کا ملک ہے، جانوروں کا نہیں۔ ہمیں کروگر پارک کے متعلق بہت کچھ معلوم تھا کیونکہ ہمارے بعض لوگ اپنے گھروں سے نکل کر ایسی جگہوں پر کام کرنے جاتے تھے جہاں گورے لوگ جانور دیکھنے کے لیے آ کر ٹھہرتے تھے۔

    ہم نے پھر سفر شروع کیا۔ قافلے میں کچھ عورتیں تھیں اور کچھ میری طرح کے بچے۔ عورتیں تھک کے بیٹھتیں تو چھوٹے بچے ان کی پیٹھ پر سوار ہو جاتے۔ ایک آدمی ہم سب کو کروگر پارک کی طرف لے کر چلا۔ ’’کیا پارک آگیا؟ کیا پارک آگیا؟‘‘ میں دادی سے بار بار پوچھ رہی تھی۔ دادی نے جواب نہیں دیا، اس آدمی نے بتایا کہ ابھی نہیں آیا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ باڑھ کے گرد سے گھوم کر جانے میں بہت لمبا راستہ طے کرنا پڑے گا۔ باڑھ کے بارے میں اس نے یہ بھی کہا کہ اسے ہاتھ لگاتے ہی تم مر جاؤ گے، اسے چھوتے ہی تمہاری کھال جل بھن کر کباب ہو جائے گی، بالکل اس طرح جیسے شہروں میں بجلی کے کھمبوں کے اوپر تنے ہوئے تار چھونے سے ہوتا ہے۔ میں نے مشن ہسپتال میں لوہے کے ایک ڈبے پر سر کا وہ نشان بنا ہوا دیکھا تھا، جس پر نہ آنکھیں تھیں، نہ کھال، نہ بال۔ بعد میں مشن ہسپتال بھی دھماکے سے اڑ گیا۔

    چلتے چلتے نہ معلوم کتنا وقت گزر گیا۔ جب میں نے راستے میں پھر پوچھا کہ کیا پارک آگیا؟ پتہ چلا کہ ہاں، پارک آگیا اور ہم ایک گھنٹے سے کروگر پارک کے اندر ہی چل رہے ہیں۔ مگر یہ تو دیکھنے میں انہی جھاڑیوں کی طرح لگتا تھا جس میں ہم دن بھر چلتے رہے تھے۔ یہاں ہمیں کوئی جانور بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ بس بندر تھے اور چڑیاں تھیں، جیسی ہمارے گھر کے آس پاس بھی ہوتی تھیں۔ ہمیں ایک کچھوا ملا جو بھاگ کر ہم سے دور نہیں جا سکا۔ میرا بڑا بھائی اور دوسرے لڑکے کچھوا اس آدمی کے پاس لے گئے تاکہ اسے مار کر پکایا اور کھایا جا سکے۔ آدمی نے کھچوا چھوڑ دیا کیونکہ اس کا کہنا تھا کہ یہاں آگ نہیں جلائی جا سکتی۔ جب تک ہم پارک میں تھے، آگ نہیں جلا سکتے تھے۔ ورنہ دھوئیں سے ہمارا کھوج لگ جاتا۔ پولیس اور پہرے دار آ کر ہمیں وہیں بھیج دیتے جہاں سے ہم چلے تھے۔ اس آدمی نے کہا کہ ہمیں جانوروں کے درمیان جانوروں کی طرح چلنا ہو گا۔ یعنی سڑک سے اور گورے لوگوں کے خیموں سے دور دور۔

    مجھے ایک آواز سنائی دی، مجھے یقین ہے کہ یہ آواز سب سے پہلے میں نے سنی۔ ایسا لگا جیسے ٹہنیاں چٹخ رہی ہوں اور کوئی گھاس روندتا ہوا چلا آرہا ہو۔ قریب قریب میری چیخ نکل گئی کیونکہ میں نے سوچا، شاید پولیس اور پہرے دار ہیں اور انہوں نے ہمیں دیکھ لیا ہے، جن سے وہ آدمی ہمیں چوکنا رہنے کو کہہ رہا تھا۔ مگر وہ تو ہاتھی نکلا۔ اس کے پیچھے دوسرا ہاتھی اور اس کے پیچھے بہت سارے ہاتھی، جیسے پیڑوں کے درمیان بڑے بڑے کالے دھبے ہر طرف چل پھر رہے ہوں۔ وہ اپنی سونڈوں میں موپین درخت کی لال پتیاں لپیٹ کر منہ میں ٹھونس رہے تھے۔ ہاتھیوں کے بچے اپنی ماؤں سے چمٹے ہوئے چل رہے تھے۔ کچھ بڑے بچے آپس میں اس طرح دھینگا مشتی کر رہے تھے جیسے میرا بڑا بھائی اور اس کا دوست کرتے تھے، فرق یہ تھا کہ وہ ہاتھوں کے بجائے سونڈوں سے لڑ رہے تھے۔ مجھے اتنا مزہ آرہا تھا کہ ڈرنا یاد نہیں رہا۔ اس آدمی نے کہا کہ جب تک ہاتھی گزر نہیں جاتے، ہم خاموش دم سادھے کھڑے رہیں۔ ہاتھی آہستہ آہستہ مزے مزے سے گزر رہے تھے۔ وہ اتنے لحیم شحیم ہوتے ہیں کہ انہیں کسی سے ڈر کر بھاگنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔

    ہرن ہم سے ڈر کر ادھر ادھر بھاگتے تھے۔ وہ ہوا میں اتنی اونچی قلانچیں بھرتے ، جیسے اڑ رہے ہوں۔ جنگلی سور ہماری آہٹ سنتے ہی بالکل ساکت ہو گئے۔ پھر یوں لہرے بناتے ہوئے بھاگے جیسے ہمارے گاؤں میں ایک لڑکا اپنی سائیکل چلاتا تھا جو اس کے باپ نے اسے لا کر دی تھی۔ ہم جانوروں کے پیچھے پیچھے ان کی پانی پینے کی جگہ تک جاتے اور جانور جانے کے بعد قریب جا کر پانی پیتے۔ ہمیں کبھی پیاسا نہیں رہنا پڑا، لیکن جانور ہر وقت کچھ نہ کچھ کھاتے رہتے تھے۔ جب دیکھو کبھی گھاس پھوس، کبھی پیڑ پودے، کبھی پیڑوں کی جڑیں اور چھال۔ ادھر ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا۔ مکئی کے دانے بھی ختم ہو چکے تھے۔ اگر ہمارےلیے کھانے کو کچھ تھا تو بس لنگوروں کی غذا یعنی چھوٹے چھوٹے اور چیونٹیوں سے بھرے انجیر جو دریا کے کنارے پیڑوں کی شاخوں پر لٹکے ہوئے تھے۔ سچ مچ جانوروں کی طرح ہونا بہت مشکل ہے۔

    دن میں جب بہت زیادہ گرمی ہوتی، شیر سوتے ہوئے ملتے۔ ان کا رنگ گھاس کے رنگ سے ملتا جلتا تھا، پہلے پہل ہمیں وہ دکھائی ہی نہیں دیے لیکن اس آدمی کو نظر آگئے اور وہ ہمیں اس جگہ سےجہاں شیر سو رہے تھے، بہت دور دوسری طرف واپس لے گیا۔ میرا بھی شیروں کی طرح سونے کو بہت جی چاہتا تھا۔

    میرا بھائی برابر دبلا ہو رہا تھا لیکن بھاری ویسا ہی تھا۔ جب دادی اسے میری پیٹھ پر لادنے کے لیے میری طرف دیکھتی تو میں کوشش کرتی کہ اس کی طرف نہ دیکھوں۔ میرے بڑے بھائی نے بھی بولنا بند کر دیا تھا۔ جب ہم پڑاؤ کرتے اور آرام کے لیے لیٹتے تو اسے ہلا ہلا کر جگانا پڑتا جیسے دادا کی طرح اسے بھی کچھ سنائی نہ دیتا ہو۔ ایک بار میں نے دادی کے منہ پر مکھیاں رینگتی دیکھیں جنہیں وہ اڑا   نہیں رہی تھی۔ مجھے بہت ڈر لگا ، میں نے پام کی ایک شاخ سے انہیں اڑایا۔

    ہم دن کو بھی چلتے، رات کو بھی۔ اب ہمیں گوروں کے خیمے دکھائی دینے لگے تھے، وہاں آگ جل رہی تھی اور کھانا بھی پک رہا تھا۔ ہمیں دھوئیں اور گوشت دونوں کی خوشبو آ رہی تھی۔ ہم نے لگڑبگھے جھاڑیوں سے خوشبو کے پیچھے بھاگتے دیکھے۔ ان کی کمریں اس طرح جھکی ہوئی تھیں جیسے وہ کسی بات پر شرمندہ ہوں۔ کوئی لگڑ بگھا اپنی گردن موڑتا تو ا س کی آنکھیں ایسی لگتیں جیسی ہماری آنکھیں رات کے اندھیرے میں ایک دوسرے کو دیکھی ہوئی لگتی ہیں۔ہوا کے ساتھ ساتھ باڑھ سے گھرے ہوئے احاطوں سے ہماری زبان میں بولنے چالنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ وہاں کیمپوں میں کام کرنے والے رہتے تھے۔ رات کے وقت ہم میں سے ایک عورت مدد مانگنے ان کے پاس جانا چاہتی تھی۔ اس نے کہا کہ وہ ہمیں کچرے کے ڈرم سے بھی کھانے کی کوئی چیز دے سکتے ہیں۔ اس نے رونا شروع کر دیا، دادی کو اسے سنبھالنا بھی پڑا اور اس کا منہ اپنے ہاتھ سے بند بھی کرنا پڑا۔ اس آدمی نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ ہمیں کروگر پارک میں کام کرنے والے اپنے لوگوں سے دور رہنا ہو گا۔ اگر وہ ہماری کوئی مدد کرتے تو اپنی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھتے۔ ان کی نظر ہم پر پڑ جاتی تو وہ اتنا کر سکتے تھے کہ یہ ظاہر کریں، ہم وہاں ہیں ہی نہیں، انہوں نے خالی جانور دیکھے تھے۔

    کبھی کبھی رات کو ہم سونے کے لیے تھوڑی دیر رک جاتے۔ہم ایک دوسرے سے چپک کر سوتے۔ معلوم نہیں کون سی رات تھی، ہم ہر وقت چلتے چلتے جا رہے تھے۔ اس رات ہم نے کہیں بہت قریب سے شیروں کی آواز سنی۔ ایسی آواز یں جیسی شیر دور سے دھاڑ رہے ہوں بلکہ کچھ اس طرح جیسے سانس پھولنے کی آواز ہوتی ہے۔ بالکل ایسی جیسے دوڑنے کے بعد ہمارے منہ سے نکلتی ہے۔ لیکن یہ ہانپنے کی آواز کچھ مختلف تھی کیونکہ وہ دوڑ نہیں رہے تھے، کہیں نزدیک ہی کسی کے انتطار میں کھڑے تھے۔ ہم کھسک کر ایک دوسرے کے اور قریب ہو گئے۔ جو کناروں پر تھے، ان کی کوشش تھی کہ اندر گھس کر درمیان میں پہنچ جائیں۔ میں بالکل ایک عورت سے لگ کر کھڑی تھی جس کے بدن سے بدبو آ رہی تھی۔ وہ ڈر رہی تھی لیکن میں خوشی سے اس کے ساتھ چمٹ کر کھڑی ہو گئی۔ میں نے خدا سے دعا مانگی کہ شیر کنارے پر کھڑے ہوئے کسی ایک کو لے لیں اور یہاں سے چلے جائیں۔ میں نے آنکھیں بند کر لیں تاکہ وہ درخت نہ دیکھوں جہاں سے کوئی شیر کود کر ہمارے درمیان آسکتا تھا، بالکل بیچ میں جہاں میں کھڑی تھی۔

    وہ آدمی اچھل کر کھڑا ہو گیا اور ایک سوکھی ٹہنی پیڑ پر زور زور سے مارنے لگا۔ ہم سے تو اس نے کوئی آواز نہ نکالنے کو کہا تھا اور خود چیخ رہا تھا۔ وہ شیروں پر ایسے چیخ رہا تھا جیسے ہمارے گاؤں میں ایک دیوانہ ہوا میں منہ اٹھا کر چیختا تھا۔ شیر چلے گئے۔ ہم نے دور سے ان کی دھاڑیں سنیں۔

    ہم تھک گئے تھے، بہت زیادہ تھک گئے تھے۔ راستے میں ہم کوئی دریا پار کرتے تو میرا بڑا بھائی اور ایک اور آدمی دادا کو اٹھا کر ایک پھر دوسرے پتھر تک لے جاتے۔ میری دادی بہت طاقتور ہے لیکن اس کے پیروں سے خون بہہ رہا تھا۔ ہم اتنے تھک گے تھے کہ سر پر ٹوکری بھی اٹھا کر نہیں چل سکے تھے۔ کچھ بھی اٹھانا مشکل تھا، چھوٹے بھائی کے سوا، چنانچہ ہم نے اپنی ساری چیزیں ایک جھاڑی کے نیچے چھوڑ دیں۔ ’’ہم خود ہی وہاں پہنچ جائیں تو بہت ہے۔‘‘ دادی نے کہا۔

    ہم نے بھوک کے مارے کچھ جنگلی پھل کھا لیے جو ہمارے گھر کے آس پاس نہیں ہوتے تھے، نتیجے میں ہم سب کے پیٹ خراب ہو گئے اور دست آنے لگے۔ اس وقت ہم ایسی گھاٹی میں سے گزر رہے تھے جو ہاتھی گھس کہلاتی تھی اور تھی بھی ہاتھی جتنی اونچی۔

    ہمارے پیٹوں میں مروڑ شروع ہو گئے، دادا تو میرے چھوٹے بھائی کی طرح سب کے سامنے بیٹھ کر فارغ بھی نہیں ہو سکتا تھا، اس لیے وہ فارغ ہونے   گھاس کے اندر چلا گیا۔ چلتے رہو، چلتے رہو، وہ آدمی ہم سے برابر کہتا رہتا تھا، لیکن ہم نے اس سے دادا کا انتظار کرنے کوکہا۔ ہر شخص دادا کا انتظار کرنے لگا لیکن وہ اب آیا نہ تب۔ دوپہر کا وقت تھا، ہمارے کانوں میں کیڑے مکوڑے بھن بھنانے کی آوازیں آ رہی تھیں اور ہم گھاس کی سرسراہٹ نہیں سن سکے تھے جس سے اندازہ ہوا تھا کہ وہ واپس آرہا تھا۔ ہم اسے دیکھ بھی نہیں سکتے تھے کیونکہ گھاس بہت اونچی تھی۔ اور دادا بہت چھوٹا۔

    ہم اس کی تلاش میں نکلے، لیکن چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں مبادا گھاس میں کہیں ہم بھی ایک دوسرے کی نظروں سے اوجھل نہ ہو جائیں۔ گھاس ہماری ناک اور آنکھوں میں گھسی جا رہی تھی۔ ہم دبی دبی آواز میں دادا کو پکاررہے تھے لیکن اس کے کانوں میں جو جگہ سماعت کے لیے بچی تھی وہ شاید کیڑوں کی بھن بھناہٹ نے پر کر دی تھی۔ ہم اسے ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گئے لیکن وہ نہ ملا۔

    میری آنکھ کھلی تب بھی اس کا کہیں پتہ نہ تھا۔ہم نے پھر اس کی تلاش شروع کی۔ ہم نے گھاس پر چل چل کر راستے بنا دیے تھے ، تاکہ اگر ہم اسے نہ ڈھونڈ سکیں تو وہ آسانی سے ہمیں تلاش کر لے۔ پورے دن ہم اس کا انتظار کرتے رہے، سورج سر پر ہو تو ہر طرف خاموشی چھا جاتی ہے، شعاعیں سر میں گھسی جاتی ہیں، چاہے آدمی جانوروں کی طرح پیڑ کے نیچے لیٹا ہو۔ میں چت لیٹی ہوئی مڑی ہوئی چونچوں اور عنابی ننگی گردنوں والے دو بدصورت پرندے دیکھ رہی تھی جو ہمارے اوپر چاروں طرف اڑ رہے تھے۔ ہم انہیں اس وقت بھی دیکھتے ہوئے گزرے تھے جب وہ مردہ جانوروں کی ہڈیاں کرید رہے تھے، ان ہڈیوں میں ہمارے کھانے کے لیے کچھ نہیں بچا تھا۔ وہ اوپر گول گول چکر لگا رہے تھے، کبھی نیچے آ کر اڑنے لگتے ، کبھی اوپر چلے جاتے۔ میں نے دیکھا کہ ان کی پروں سے محروم گردنیں کبھی ایک طرف، کبھی دوسری طرف مڑ جاتیں۔ وہ اڑتے ہوئے مسلسل چکر لگا رہے تھے۔ میں نے دادی کو دیکھا، وہ میرے چھوٹے بھائی کو گود میں لیے بیٹھی تھی اور پرندے دیکھ رہی تھی۔

    شام کے وقت وہ آدمی دادی کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ باقی لوگوں کو اب روانہ ہو جانا چاہیے۔ اس نے کہا کہ اگر ان کے بچوں کو کھانے کو کچھ نہ ملا تو وہ بہت جلد مر جائیں گے۔ دادی کچھ نہ بولی۔

    آدمی نے کہا۔ ’’میں جانے سے پہلے تمہیں کچھ پانی لا دوں گا۔‘‘

    دادی نے میری طرف، میرے بڑے بھائی کی طرف اور اپنی گود میں لیٹے ہوئے میرے چھوٹے بھائی کی طرف دیکھا۔ ہم سب لوگوں کو جانے کے لیے کھڑے ہوتے دیکھ رہے تھے۔ مجھے یقین نہیں آیا کہ ہمارے ارد گرد کی وہ گھاس خالی ہوجائے گی جہاں سب لوگ تھے اور ہم اس جگہ یعنی کروگرپارک میں اکیلے رہ جائیں گے، پھر پولیس یا درندے ہمیں کھوج نکالیں گے۔ آنسو میری آنکھوں سے بہہ بہہ کر ناک سے گزر کے ہاتھوں پر ٹپکنے لگے لیکن دادی نے کوئی توجہ نہ دی۔ پھر ایک دم وہ اٹھی اور اس نے اپنی ٹانگیں یوں پھیلا لیں جیسے جلانے والی لکڑیاں اٹھاتے وقت پھیلاتی تھی۔ اس نے ایک جھٹکے سے میرے بھائی کو پیٹھ پر لادا اور ایک کپڑے سے اسے اپنے اوپر کس کر باندھ لیا۔ اس کے کپڑے پھٹ چکے تھے اور اس کی بڑی بڑی چھاتیاں نظر آرہی تھیں جن میں میرے بھائی کے لیے کچھ بھی نہ تھا، دادی نے کہا۔ ’’چلو‘‘۔

    ہم اونچی گھاس والی جگہ چھوڑ کر روانہ ہوئے، وہ جگہ پیچھے رہ گئی۔ ہم ا س آدمی اور باقی سب لوگوں کے ساتھ دوبارہ چلنے لگے۔

    ایک بڑا سا خیمہ زمین میں گڑا ہے، کسی گرجا سکول سے بھی بڑا۔ ہم بہت زیادہ چلنے کے بعد یہاں پہنچے تو میری سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ وہ جگہ ہو گی۔ اس قسم کی جگہ ہم نے اس وقت بھی دیکھی تھی جب ہماری ماں ہمیں شہر لے گئی تھی کیونکہ اس نے سنا تھا کہ ہمارے فوجی وہاں آئے ہوئے ہیں۔ وہ ان سے ہمارے باپ کا اتا پتہ پوچھنا چاہتی تھی۔ اس خیمے   میں لوگ دعا مانگ رہے تھے اور گارہے تھے۔ یہ خیمہ بھی اس خیمے کی طرح نیلا اور سفید ہے۔ لیکن یہ دعا مانگنےیا گانے کے لیے نہیں ہے۔

    ہم یہاں ان دوسرے لوگوں کے ساتھ رہتے ہیں جو ہمارے ملک سے آئے ہیں۔ مطب کی نرسیں کہتی ہیں کہ چھوٹے بچے چھوڑ کر ہم کل دو سو افراد ہیں۔ کچھ نئے پیدا ہونے والے بچے بھی ہیں جو اس وقت پیدا ہوئے جب ہم کروگرپارک سے گزر رہے تھے۔ دن کے وقت بھی جب سورج چمک رہا ہوتا ہے، خیمے کے اندر اندھیرا رہتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے پورا گاؤں یہیں آبسا ہو۔ اندر مکانوں کے بجائے ہر خاندان نے اپنے رہنے کی جگہ بوریاں یا گتے کے بکسوں سے، جو کچھ بھی ہاتھ لگا، گھیر لی تاکہ دوسرے خاندان کو جتا سکیں کہ یہ ان کی جگہ ہے، یہاں کوئی اور داخل نہ ہو۔ حالانکہ یہاں نہ دروازہ ہے نہ کھڑکی، نہ چھپر۔ کوئی بڑا ہو کر دیکھے تو ہر ایک کے گھر کے اندر جھانک سکتا ہے۔ کچھ لوگوں نے پتھر پیس کر رنگ بھی گھول لیا اور بوریوں پر تصویریں بنا لیں۔

    ویسے چھت یہاں ضرور ہے اوپر، بہت دور، خیمے کا سائبان، بالکل آسمان کی طرح۔ کسی بڑے سے پہاڑ کی طرح جس میں ہم رہ رہے ہوں۔ خیمے کی دراڑوں سے گرد کے راستے نیچے کی طرف آتے دکھائی دیتے ہیں، جو اتنے چوڑے ہیں کہ لگتا ہے، ہم ان پر چڑھ سکتے ہیں۔ خیمے کی چھت اوپر سے بارش کا پانی روک لیتی ہے لیکن پانی نیچے سے بہہ بہہ کر اندر آجاتا ہے اور ہمارے اپنے بنائے ہوئے مکانوں کی گلیوں میں پھیل جاتا ہے۔ یہ گلیاں اتنی تنگ ہیں کہ ایک وقت میں ایک ہی آدمی چل کر جا سکتا ہے۔

    میرا چھوٹا بھائی نہیں کھیلتا۔ دادی اسے ہر سوموار کو ، جب ڈاکٹر آتا ہے ، مطب لے جاتی ہے۔ نرس بتاتی ہے کہ اس کے سر میں کچھ خرابی ہے، اس کا خیال ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم جہاں سے آئے ہیں، وہاں ہمیں کم خوراک ملتی تھی، جنگ کی وجہ سے یا شاید اس وجہ سے کہ ہمارا باپ وہاں نہیں تھا یا پھر شاید اس وجہ سے کہ وہ کروگر پارک سے گزرنے کے دوران بھوکا رہا تھا۔ اسے تو بس دن بھر دادی کے پیٹ پر یا گود میں پڑے رہنا، یا اس سے ٹیک لگائے بیٹھے رہنا اچھا لگتا ہے۔ وہ ہمیں تکتا رہتا ہے، کچھ پوچھنا چاہتا ہے مگر اس سے بولا نہیں جاتا۔ میں اسے گدگدی کرتی ہوں تو وہ صرف مسکرا دیتا ہے۔ مطب سے اسے کھلانے کے لیے ایک   سفوف ملا ہے جسے گھول کر اس کے لیے دلیا بنایا جاتا ہے۔ شاید ایک دن وہ ٹھیک ہو جائے۔

    جب ہم یہاں پہنچے تب ہماری ، میری اور میرے بڑے بھائی کی حالت بھی بالکل اسی کی طرح تھی۔ مجھے کچھ زیادہ یاد نہیں۔ خیمے کے پاس گاؤں میں رہنے والے لوگ ہمیں مطب لے گئے تھے۔ یہاں آنے والوں کو وہیں جا کر اپنا نام لکھوانا پڑتا ہے کہ ہم وہاں سے نکل آئے ہیں، کروگر پارک کے راستے۔ ہم گھاس پر بیٹھ گئے۔ ہر چیز گڈمڈ لگ رہی تھی۔ ایک نرس اپنے سیدھے بنے ہوئے بالوں اور اونچی ایڑی کے خوش نما سینڈلوں کی وجہ سے بہت پیاری معلوم ہو رہی تھی۔ وہ ہمارے لیے یہی خاص سفوف لے کر آئی اور کہا کہ ہم اسے پانی میں گھول کر آہستہ آہستہ پئیں۔ ہم نے پیکٹ دانتوں سے پھاڑا اور سفوف منہ میں ڈال لیا، وہ منہ کے اندر چپک گیا۔ میں نے ہونٹوں اور انگلیوں پر لگا ہوا سفوف چوس لیا۔ کچھ دوسرے بچے جو ہمارے ساتھ آئے تھے، الٹیاں کرنے لگے۔ مجھے بھی اپنے پیٹ میں حرکت سی محسوس ہوئی۔ سفوف سانپ کی طرح رینگتا ہوا اندر جاتا محسوس ہو رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد مجھے ہچکیاں آنا شروع ہو گئیں اور میرا برا حال ہو گیا۔ دوسری نرس نے ہمیں مطب کے برآمدے میں قطار بنا کر کھڑے ہونے کےلیے کہا مگر ہم کھڑے نہ ہو سکے۔ ہم ادھر ادھر ایک دوسرے پر گرے ہوئے بیٹھے تھے۔ نرسوں نے ایک ایک کو سہارا دے کر کھڑا کیا اور بازو میں سوئیاں لگائیں۔ دوسری سوئیوں سے ہمارا خون لے کر چھوٹی چھوٹی شیشیوں میں ڈالا۔ یہ سب بیماری کی روک تھام کے لیے کیا جا رہا تھا مگر میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔ جب بھی میری آنکھ لگتی مجھے ایسا محسوس ہوتا کہ میں لمبی گھاس میں چلی جا رہی ہوں۔ مجھے ہاتھی بھی دکھائی دیتے۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ ہم منزل پر پہنچ گئے ہیں۔

    دادی اب بھی طاقتور تھی۔ وہ کھڑی بھی ہو سکتی تھی اور اسے لکھنا بھی آتا تھا۔ اس نے ہمارے لیے بھی دستخط کیے۔ دادی نے خیمے کی ایک دیوار کے بالکل ساتھ یہ جگہ لی، یہ خیمے کی بہترین جگہ ہے۔ یہاں بارش کا پانی تو بے شک اندر آتا ہے مگر جب موسم اچھا ہو تو ہم پردہ اٹھا سکتے ہیں، سورج ہمارے سامنے ہوتا ہے اور سیلن کی بو جلد ہی ختم ہو جاتی ہے۔ دادی ایک عورت کو جانتی تھی۔ اس نے بتایا کہ سونے کی چٹائی بنانے کے لیے عمدہ گھاس کہاں سے لی جائے۔ دادی نے ہمارے لیے چٹائیاں بنا دیں۔

    مہینے میں ایک بار کھانے کی چیزوں سے بھرا ہوا ٹرک مطب میں آتا ہے۔ دادی اپنا دستخط کیا ہوا کارڈ لے کر وہاں جاتی ہے اور اس کے کارڈ میں چھید ہونے کے بعد ہمیں مکئی کے دانوں کی ایک بوری مل جاتی ہے۔ بوریاں خیمے تک لانے کے لیے ایک پہیے والی ریڑھیاں ہیں۔ میرا بڑا بھائی بوری اس پر رکھ کر لے آتا ہے۔ واپسی میں وہ اور دوسرے لڑکے خالی ریڑھیاں دھکیلتے ہوئے مطب کی طرف دوڑ لگاتے ہیں۔ کبھی بھی خوش قسمتی سے اسے کوئی ایسا شخص مل جاتا ہے جس نے گاؤں سے بیئر کی بوتلیں خریدی ہوں۔ بوتلیں پہنچانے کے کچھ پیسے مل جاتے ہیں۔ ویسے اس کی اجازت نہیں ہے۔ ریڑھیاں سیدھی نرسوں کے پاس واپس پہنچانی ہوتی ہیں۔ میرا بھائی ان پیسوں سے شربت خریدتا ہے اور میرے مانگنے پر تھوڑا سا شربت مجھے بھی دے دیتا ہے۔

    مہینے میں ایک اور دن گرجا سے کپڑوں کا ایک گٹھڑ مطب کے صحن میں آتا ہے۔ دادی کے پاس ایک اور کارڈ ہے۔ جس میں چھید کروانے کے بعد ہم وہاں سے اپنی پسند کا کوئی لباس لے سکتے ہیں۔ میرے پاس دو جوڑے، دو پتلون اور ایک جرسی ہو گئی ہے اور اب میں سکول جاتی ہوں۔

    گاؤں والوں نے ہمیں اپنے سکول میں داخلہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ وہ ہماری ہی زبان بولتے ہیں۔ دادی کہتی ہے، شاید اسی وجہ سے انہوں نے ہمیں اپنے علاقے میں رہنے دیا ہے۔ بہت دن پہلے، ہمارے آباؤ اجداد کے وقتوں میں، ایسی کوئی باڑھ نہیں تھی جسے چھونے سے لوگ مر جاتے ہیں۔ نہ ان کے اورہمارے درمیان کوئی کروگر پارک تھا۔ ہم سب ایک تھے، اپنے گاؤں سے لے کر یہاں تک، اور ہمارا ایک ہی بادشاہ تھا۔

    ہمیں خیمے میں رہتے ہوئے بہت دن ہو گئے ہیں۔ اب میں گیارہ سال کی ہوں اور میرا چھوٹا بھائی لگ بھگ تین سال کا ہے، حالانکہ وہ بہت چھوٹا سا ہے، صرف اس کا سر بہت بڑا ہے۔ وہ ابھی تک پوری طرح ٹھیک نہیں ہوا۔ اب کچھ لوگوں نے خیمے کے اردگرد کی خالی زمین کھود کر وہاں مکئی اور سبزی بودی ہے۔ بوڑھے لوگوں نے شاخیں جوڑ جوڑ کر اپنی کیاریوں کے گرد باڑھیں لگا لی ہیں۔ کسی کو شہر میں جا کر کام کرنے کی اجازت نہیں لیکن کچھ عورتوں نے گاؤں میں ہی کام تلاش کر لیا ہے اور اب وہ کچھ خریداری بھی کر سکتی ہیں۔ دادی اب بھی طاقتور ہے اس لیے وہ بھی کسی ایسی جگہ کام ڈھونڈ لیتی ہے جہاں لوگ مکان بنا رہے ہوں۔ اس گاؤں میں لوگ اینٹوں اور سیمنٹ سے بہت اچھے مکان بناتے ہیں، ہمارے گاؤں کی طرح مٹی اور گارے سے نہیں بناتے۔ دادی لوگوں کے لیے اینٹیں اور پتھروں کی ٹوکریاں سر پر ڈھو کر لے جاتی ہے۔ اب اس کے پاس شکر، چائے ، دودھ اور صابن تک خریدنے کے لیے پیسے ہوتے ہیں۔ سٹور والوں نے اسے ایک کیلنڈر بھی دیا ہے جو اس نے خیمے میں ہمارے قریبی پردے پر ٹانگ دیا ہے۔

    میں سکول میں بہت تیز ہوں۔ دادی نے لوگوں کے پھینکے ہوئے اشتہاروں کے صفحے جمع کرکے میری کتابوں پر چڑھا دیے ہیں۔ وہ ہر سہ پہر مجھے اور بڑے بھائی کو سکول کا کام پورا کرنے کے لیے بٹھا دیتی ہے، اس سے پہلے کہ اندھیرا ہو جائے۔ خیمے میں صرف سمٹ کر لیٹنے کی جگہ ہے، جیسے ہم کروگرپارک سے گزرتے ہوئے لیٹا کرتے تھے اور موم بتیاں بہت مہنگی ہیں۔

    دادی ابھی تک اپنے لیے جوتے نہیں خرید سکی جنہیں پہن کر گرجا جا سکے، لیکن اس نے میرے اور بڑے بھائی کے لیے سکول کے کالے جوتے اور انہیں چمکانے کے لیے پالش خرید لی ہے۔ ہر صبح جب خیمے میں لوگ بیدار ہو رہےہوتے ہیں ،بچے روتے چلاتے ہیں۔ لوگ باہر کے نلکے پر ایک دوسرے کو دھکے دیتے ہیں اور کچھ بچے پتیلیوں میں سے رات کا بچا ہوا دلیا کھرچ کھرچ کر کھا رہے ہوتے ہیں۔ میں اور میرا بڑا بھائی اپنے جوتے پالش کرتے ہیں۔ دادی ہمیں ٹانگیں سیدھی کرکے چٹائی پر بٹھا دیتی ہے اور ہمارے جوتوں کا غور سے معائنہ کرتی ہے کہ ہم نے ٹھیک پالش کیے ہیں یا نہیں۔ خیمے میں اور کسی بچے کے پاس سکول کے سچ مچ کے جوتے نہیں ہیں۔ جب ہم تینوں یہ جوتے دیکھتے ہیں تو لگتا ہے ہم اپنے گھر میں ہیں، کہیں بھی جنگ نہیں ہو رہی ہے اور نہ ہم کہیں اور گئے ہیں۔

    کچھ گورے لوگ خیمے میں رہنے والوں کی تصویریں اتارنے آئے۔ وہ کہتے تھے کہ وہ فلم بنا رہے ہیں۔ میں نے کبھی فلم نہیں دیکھی مگر اس کے بارے میں جانتی ہوں۔ ایک گوری عورت ہماری جگہ میں گھس آئی اور دادی سے سوالات کرنے لگی۔ ایک آدمی اس عورت کی زبان سمجھتا تھا، وہ سوالات ہماری زبان میں دہراتا۔ ’’تم یہاں کب سے اس طرح رہ رہی ہو؟‘‘

    ’’کیا مطلب؟ یہاں؟‘‘ دادی نے کہا۔ ’’اس خیمے میں؟ دو سال اور ایک ماہ سے۔‘‘

    ’’اور مستقبل کے بارے میں تمہاری کیا امیدیں ہیں؟‘‘

    ’’کچھ بھی نہیں۔ میں بس یہیں ہوں۔‘‘

    ’’لیکن تمہارے بچے؟‘‘

    ’’میں چاہتی ہوں یہ پڑھ لکھ جائیں تاکہ انہیں اچھی نوکری اور اچھے پیسے مل سکیں۔‘‘

    ’’کیا تمہیں امید ہے کہ تم اپنے ملک واپس جا سکو گی؟‘‘

    ’’میں واپس نہیں جاؤں گی۔‘‘

    ’’لیکن آخر جب جنگ ختم ہو جائے گی تو تمہیں یہاں رہنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ کیا تم اپنے گھر واپس نہیں جانا چاہتیں؟‘‘

    میرا خیال تھا کہ اب دادی مزید کچھ بھی نہیں کہنا چاہتی اور وہ انگریز عورت کے کسی سوال کا جواب شاید ہی دے۔ انگریز عورت نے پلٹ کر ہمیں دیکھا اور مسکرانے لگی۔ دادی نے رخ پھیر لیا اور دھیرے سے کہا۔ ’’اب کچھ باقی نہیں۔ کوئی گھر ٹھکانہ نہیں۔‘‘

    نہ جانے دادی نے یہ کیوں کہا تھا؟ میں تو واپس جانا چاہتی ہوں۔ ضرور جاؤں گی۔ اسی کروگر پارک سے گزر کر۔ اگر سب ڈاکوؤں کا صفایا کر دیا گیا اور جنگ ختم ہو گئی تو ماں وہاں ہماری منتظر ہو گی۔ ممکن ہے دادا نے بھی جسے ہم پیچھے چھوڑ آئے تھے، راستہ تلاش کر لیا ہو او رہولے ہولے   چلتا ہوا گھر واپس پہنچ چکا ہو۔ وہ سب گھر میں انتظار کر رہے ہوں۔ مجھے انہیں یاد رکھنا ہے۔