گدھ
ترجمہ: خاقان ساجد
دور افتادہ سرزمین میں کھلے سمندر کے کنارے مچھیروں کی ایک چھوٹی سی بستی ہے۔ بستی کیا ہے، ریت میں دھنسی ہوئی دس بارہ چوبی سیاہ جھونپڑیوں کا مجموعہ ہے۔ یہ جھونپڑیاں اس ریتلی چٹان پر قدرے پیچھے ہٹ کر واقع ہیں جس کے عمودی کٹاؤ کے ساتھ دم توڑتی ہو ئی لہریں آ کر ٹکراتی اور سفید جھاگ اڑاتی ہیں۔ گرمیوں کے خاموش اور سنسان دنوں میں تپتا ہوا سورج جھونپڑیوں کی سیاہ لکڑی کی گوند پگھلا دیتا ہے اور ریت گرم ہو کر قدموں تلے سلگنے اور دہکنے لگتی ہے۔ ایسے میں مچھیروں کی اس ساحلی بستی کا اکیلا پن سوا ہو جاتا ہے اور سمندر کا گہرا سبز پانی تاحد نظر پھیلی خاموشی اور تنہائی کو دیکھ کر اداسی کی چادر اوڑھ لیتا ہے۔ ساحل کی تپتی ریت یا اس چٹان کے اردگرد اس وقت کوئی بھی ذی روح دکھائی نہیں دیتا۔ البتہ ریتلی چٹان سے پرے گھاٹ پر لنگر انداز خالی کشتیاں یا پھر بانسوں پر جھولتے، ماہی گیروں کے گیلے جال دیکھنے والوں کو اپنی جانب ضرور متوجہ کرتے ہیں جنہیں خشک کرنے کی غرض سے ایک قطار میں پھیلا دیا گیا ہے۔ سورج ڈھلنے تک یہی منظر برقرار رہتا ہے۔ پھر جیسے ہی دھوپ کی تمازت کم ہوتی ہے نیم برہنہ بچوں کے گروہ شور مچاتے ساحل پر ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے نظر آتے ہیں اور ریتلی چٹان پر جا بجا گرمی میں جھلسی ہوئی رنگت والی عورتیں سیندھوری سکرٹ کے ساتھ باریک، مٹیالے اور پھول دار بلاؤزر پہنے آگ جلاتی نظر آتی ہیں تاکہ شام کے لیے موٹے چاول اور مچھلی پر مشتمل کھانا تیار کر سکیں ......مگر جب سال کے وہ مہینے آتے ہیں جب دن اور رات کا دورانیہ برابر ہو جاتا ہے اور سمندر کی شوریدہ سر لہریں اپنے جلو میں تیز ہوائیں اور طوفان لے کر آتی ہیں تو ا س بستی کے مچھیرے اپنی چوبی جھونپڑیاں اٹھا کر ریتلی چٹان سے بہت پیچھے لے جاتے ہیں۔ ان دنوں ریتلی چٹانوں سے سر ٹکرانے والی موجوں میں کسی اژدھے کی سی طاقت در آتی ہے۔ بپھرے ہوئے سمندر کا جھاگ پھوار بن کر ریتلی چٹان کی اوپری سطحوں پر تہہ در تہہ بچھ جاتا ہے۔ بسا اوقات کوئی جنونی لہر چٹان کو غسل دیتی ہوئی نشیب میں اتر جاتی ہے۔ ایسے میں ماہی گیری کم اور جھونپڑیوں کی مرمت زیادہ ہوتی ہے۔ کیا مرد اور کیا عورتیں سب کے سب تختوں کے درمیان موجود جھریوں اور سوراخوں کو بند کرنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں یا پھر چھتوں پر پتھر جماتے نظر آتے ہیں تاکہ جھونپڑیاں تیز ہوا میں کہیں سمندری بگلوں کے مانند اڑ ہی نہ جائیں۔ طوفان دم لیتا ہے تو مچھیروں کی بستی تھکاوٹ کے مارے نیند میں ڈوبی ہوئی نظر آتی ہے۔ تب کوئی شخص باہر نکل کر غضب ناک سمندر سے رزق مانگنے کی تاب نہیں رکھتا۔
ایسی ہی ایک اندھیری، سیاہ اور طوفانی رات کا ذکر ہے۔ بپھرے ہوئے سمندر سے مہیب آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔ شوریدہ سر لہریں ساحل سے سر پٹک رہی ہیں۔ طوفانی ہوا کے تھپیڑے، بے قابو لہروں کی معیت میں انتہائی طاقت اور شدت کے ساتھ پانی میں ابھری ہوئی چٹانوں سے ٹکراتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے کوئی دیوقامت پرندہ گھبراہٹ اور بدحواسی میں اڑتے ہوئے اپنے بڑے بڑے پر پھڑپھڑا رہا ہے۔
اس لمحے ماہی گیروں کی اس ساحلی بستی کے مکین، ساحل پر واقع ایک اونچے ریتلے ٹیلے پر ایک مدھم سی لالٹین کے گرد دائرہ بنا ئے بیٹھے ہیں۔ زرد روشنی میں ان کے چہروں پر بکھری ہوئی ناتراشیدہ اور الجھی ہوئی داڑھیاں انہیں مزید وحشی بنا رہی ہیں۔ انہوں نے گدھوں کے سے پرامید انداز میں اپنے سر اس طرح گھٹنوں میں دے رکھے ہیں جیسے غنودگی میں ہوں۔ سب کے سب مہر بہ لب ہیں۔ ان کے عقب میں یہاں، وہاں جھونپڑیوں کے کھلے دروازوں میں بکھرے بالوں والی نیم برہنہ عورتوں کے ہیولے دکھائی دے رہے ہیں۔
اچانک سمندر سے ایک مختلف آواز ابھرتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ہوا کی مخالف سمت کسی نے دروازہ کھولا ہے مگر وہ تیز طوفانی ہوا کے زور سے بند ہو گیا ہے۔ یہ مختلف آواز سنتے ہی دائرے میں بیٹھے اجڈ مردوں میں کوئی شخص رینگ کر ریتلی چٹان کے کنارے تک جاتا ہے اور ایک ہاتھ کان کے قریب لے جا کر اس آواز کو سننے کی کوشش کرتا ہے۔ کچھ دیر کے بعد ایک اور آدمی دائرے سے اٹھ کر وہاں پہنچ جاتا ہے اور اس کے ساتھ لیٹ کر یہی عمل دہراتا ہے۔ دونوں کے درمیان طویل خاموشی کو توڑ دینے والے چند غنودہ الفاظ کا تبادلہ ہوتا ہے۔ چند لمحوں بعد کھردرے کپڑوں میں ملبوس بڑھی ہوئی داڑھیوں اور چوڑے چکلے کندھوں والے درجن بھر مرد اندھیرے سے برآمد ہوتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں رسے، سیڑھیاں اور کشتیوں میں استعمال ہونے والے دھاتی اوزار ہیں۔ وہ ایک دوسرے سے کوئی بات کیے بغیر ریتلی چٹان کے نشیب میں اتر جاتے ہیں اور ایک منظم گروہ کی شکل میں مشرق کا رخ کرتے ہیں۔ جونہی وہ اندھیرے میں گم ہوتے ہیں، جھونپڑیوں کے نیم وا دروازوں میں کھڑی نیم برہنہ عورتیں جھونپڑیوں کے دروازے بند کر دیتی ہیں ...... اور ایک بار پھر چہار سو سمندر کا مہیب شور چھا جاتا ہے۔
چند ثانیے بعد سیاہ آسمان کے مشرقی کنارے پر واقع ریتلی چٹانوں پر ایک شعلہ بھڑکتا ہے۔ یہ گندے سیاہ تیل میں بھیگی ہوئی گیلی لکڑی کی مشعل ہے جو سرخ چنگاریاں پیدا کرتے ہوئے تڑ تڑ جل رہی ہے۔
کافی دیر اسی طرح گزر جاتی ہے۔
پھر سمندری طوفان میں ساحل سے قدرے فاصلے پر ملی جلی انسانی چیخیں سنائی دیتی ہیں۔ جیسے ہی یہ چیخیں ابھرتی ہیں، ریتلی چٹان کے عقب میں عین اس لمحے مشعل گل ہو جاتی ہے اور ہر طرف اندھیرا پھیل جاتا ہے۔
صاف ظاہر ہے کہ سمندر میں کسی جہاز کو حادثہ پیش آگیا ہے اور وہ بے رحم طوفان کی زد پر ہے۔ مشعل کی روشنی نے بدقسمت جہاز کو امید کی کرن دکھائی ہے مگر جہاز بھٹک کر چٹانوں سے ٹکرا گیا ہے اور آہستہ آہستہ نامہربان سمندر میں غرق ہو رہا ہے۔ جہاز کے عرشے پر چیخ پکار اور بھگدڑ مچی ہوئی ہے۔ کپتان کی گونج دار آواز اور نظم و ضبط قائم رکھنے کے احکام، بدحواس آوازوں، خوفزدہ چیخوں اور مایوسی بھری گالیوں میں دب کر رہ جاتے ہیں۔ ان آوازوں میں ایک آواز سب سے نمایاں ہے ...... اور وہ ہے ایک خوفزدہ عورت کی چیخیں۔
دائرے میں بیٹھے ہوئے مہر بہ لب، غنودہ سے ماہی گیروں پر ان آفت رسیدہ انسانوں کی چیخ و پکار کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا ہے۔ ڈوبتے جہاز کے ملاحوں کی جھلاہٹ بھری آواز اور طوفانی تھپیڑوں سے لڑنے کی بے سود کوششوں سے ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ہے۔ سہمی ہوئی عورت کی، وقفے وقفے سے بلند ہونے والی چیخیں سن کر وہ شرارت بھری نظروں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں اور ان کے ہونٹوں پر ایک شیطانی سی مسکراہٹ کھیل جاتی ہے۔
چند ہی ثانیے بعد سمندر کی سطح پر یکایک خوفناک تلاطم برپا ہوتا ہے اور لہریں مہیب آواز کے ساتھ اٹھنے لگتی ہیں اور وہ یکے بعد دیگرے توپوں کی دھمک سے مشابہ آوازوں کے ساتھ ساحل سے ٹکراتی ہیں۔ پھر خاموشی چھا جاتی ہے۔ کوئی چیخ سنائی نہیں دیتی۔
تھوڑی دیر گزرتی ہے تو ریتلے ٹیلوں اور سمندر کے درمیان موجیں مارتے متلاطم پانی کی سطح جہاز کے ملبے سے بھر جاتی ہے جو اس طرح ادھر سے ادھر گردش کر رہا ہے جیسے ابلتے ہوئے پانی کے دیگچے میں ہو۔ پانی کچھ ملبہ ساحل پر پھینک دیتا ہے اور باقی ماندہ موجوں کے جلو میں، مزیدتھپیڑے سہنے کے لیے گہرے پانیوں میں لوٹ جاتا ہے۔ لگتا ہے جہاز کے مسافروں میں سے کوئی ابھی تک موت سے نبردآزما ہے کیونکہ اسی اثنا میں لہریں رسے سے بندھا مستول کا ایک بڑا سا کڑا ساحل پر لا کر پٹخ دیتی ہے۔ اس کے ساتھ ایک مصیبت زدہ آدمی چمٹا ہوا ہے۔ وہ مدد کے لیے چیختا ہے۔ اس کی چیخ میں تکلیف کے احساس کے ساتھ ساتھ جان بچ جانے کی خوشی بھی شامل ہے۔
دائرے میں بیٹھے ہوئے آدمی چیخ سن کر اس طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ وہ مصیبت زدہ آدمی کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔ جو مدد کے لیے ہاتھ آگے بڑھاتا ہے۔ دائرے سے اٹھ کر جانے والے آدمیوں میں سے ایک، اس کا ہاتھ تھامنے کے بجائے اس کے پہلو میں بڑے پھل کا چھرا گھونپ دیتا ہے۔ دوسرے مرد اس کے گرد جمع ہو جاتے ہیں۔ لالٹین ریت پر، اس اجنبی کے چہرے کے قریب لائی جاتی ہے جہاں وہ آخری سانسیں لیتے ہوئے انہیں پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھتا ہے۔
’’یہ شراب ہے!‘‘ لالٹین بردار شخص اجنبی کے گیلے کوٹ کے ابھار دیکھتے ہوئے کہتا ہے۔ باقی اس کی تائید میں سر ہلاتے ہیں۔ ایک موٹا آدمی جھک کر اس کے کوٹ کی جیب ٹٹولتا ہے اور شراب کی بوتل نکال کر اپنے ایک ساتھی کے حوالے کر دیتا ہے۔ سب کے ہونٹوں پر فاتحانہ مسکراہٹ کھیل جاتی ہے اور وہ آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اسی لمحے موٹے آدمی کی نظر اجنبی کے کانوں میں چمکنے والی بالیوں پر پڑتی ہے۔ یہ یقین کرنے کے لیے کہ وہ پھر اٹھ کھڑا نہ ہو، موٹا آدمی ایک بار پھر اس کے پہلو میں چھرا گھونپ دیتا ہے اور رازداری سے اس کی بالیاں نوچ کر اسے خون ابلتے زخم سمیت ساحل پر تڑپتا چھوڑ کر دوسری طرف نکل جاتا ہے جہاں اس کے ساتھی ہک لگے بانسوں اور رسوں کی مدد سے، جھاگ اڑاتی لہروں میں سے جہاز کا ملبہ اور شکستہ سامان کھینچنے میں مصروف ہوتے ہیں۔
پھر جب سمندر کی سطح پر سرمئی اور ٹھنڈی دھند کے عقب سے سپیدۂ سحر نمودار ہوتا ہے تو ساحل کی ریت پر پنیر کے ڈبے، شراب کے ڈرم، تختے، بانس اور رسے بکھرے نظر آتے ہیں۔ جس تیزی سے لہروں نے انہیں ساحل پر پھینکا ہے، اسی تیزی سے اجنبی مسافروں کی لاشوں کی تلاشی لی جاتی ہے اور قیمتی اشیاء قبضے میں لے لی جاتی ہیں۔ چوبی صندوقوں کو توڑ کر اور چرمی تھیلوں کو چھروں سے پھاڑ کر ان میں سے رنگین ریشمی پیراہن، ظروف اور زیورات سمیٹ لیے جاتے ہیں۔ پھر ناکارہ اشیاء کو واپس لہروں کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔
جس وقت یہ کارروائی عروج پر ہوتی ہے، ماہی گیروں کی چوبی جھونپڑیوں سے نیم برہنہ عورتیں بڑے بڑے برتنوں میں گرم شراب لاتی اور مردوں میں تقسیم کرتی ہیں۔ صبح کی سردی سے ٹھٹھرتی ہوئی وہ ایک دوسرے کے قریب سمٹ آتی ہیں اور ریتلے ٹیلے کے کنارے کھڑے ہو کر للچائی نظروں سے ریت پر ڈھیر قیمتی اشیاء کو دیکھنے لگتی ہیں۔
دوپہر کے وقت جب غارت گری اپنے اختتام کو پہنچتی ہے تو برہنہ لاشوں کو نہایت احتیاط سے ریت میں دفن کر دیا جاتا ہے اور لوٹ کا مال اور شراب کے ڈرم خوشی خوشی جھونپڑیوں میں لائے جاتے ہیں، پھر ریتلی چٹان پر ایک شاندار ضیافت کا اہتمام ہوتا ہے۔ کیا مرد، کیا عورتیں اور کیا بچے سب بھنی ہوئی مچھلی، پنیر اور شراب سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہ سلسلہ شام تک جاری رہتا ہے اور پھر رات کی تاریکی چھانے پر کامیاب لوٹ مار اور شراب کے نشے میں بدمست مرد اپنی مائل بہ کرم عورتوں کو دبوچ لیتے ہیں تاکہ ریتلی چٹان پر آباد ان کی مختصر سی بستی کی آبادی میں اضافہ ہو سکے۔
مگر یہ بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ اس زمانے کی جب انسان نےآج جیسی تہذیبی اور تمدنی ترقی نہیں کی تھی۔ اب لوگ پرانے وقتوں کی یہ وحشت ناک کہانیاں اور قصے بھلا چکے ہیں۔ چوبی جھونپڑیوں والی اس بستی کی جگہ سمندر کی موجوں نے برس ہا برس تک ریت کی اتنی تہیں بچھا ڈالی ہیں کہ ماضی، اپنے تمام تر آثار سمیت ریت میں دفن ہو چکا ہے۔
تاہم یہ ہو سکتا ہے کہ موسم گرما کی کسی خوشگوار شام، جب سورج خون کی طرح سرخ بادلوں کے پیچھے غروب ہو رہا ہو، اور سمندر کی سطح پر شعلوں کی سی لو پھیلی ہو، تو کسی معزز خاندان کا سربراہ، جو ملک کے اس خوبصورت حصے کی سیر پر نکلا ہو، اس جگہ تھوڑی دیر کے لیے ٹھہر جائے اور اردگرد کے دلکش منظر میں کھو کر، بچوں کو طوفانی راتوں کی وہ وحشیانہ اور دہشت ناک حقیقی کہانیاں سنائے جو ماضی میں اس مقام پر واقع بستی میں وقوع پذیر ہوئی تھیں۔
جس وقت وہ انہیں کہانیاں سنا رہا ہو گا، تو یقیناً وہ انہیں بتائے گا کہ اس مقام پر واقع مچھیروں کی بستی کی جگہ اب لائف بوٹ اسٹیشن تعمیر ہو چکا ہے۔ یہ دکھانے کے ساتھ ساتھ، وہ مشرق کی سمت اشارہ کرے گا جہاں روشنی کا ایک مینار جہازوں کی رہنمائی کے لیے سر اٹھائے کھڑا ہے تاکہ وہ زیر آب زمین کی آخری حد تک کا تعین کر سکیں۔ یہ دیکھتے ہوئے پس منظر میں دور تک پھیلا ہوا وہ ساحلی شہر بھی ان کی نگاہوں سے اوجھل نہ رہے گا جہاں کبھی پرانے زمانے میں اجڈ اور وحشی مچھیرے رہا کرتے تھے۔
ریتلے ٹیلے پر، جس نے حیرت انگیز طور پر اپنی سنڈی جیسی شکل برقرار رکھی ہے، ماہی گیروں کی بستی کی جگہ اب پکے مکانوں پر مشتمل ملاحوں، ماہی گیروں، حکومتی کارندوں اور تجارت پیشہ لوگوں کی کالونی آباد ہے، جو عقب میں دور تک خلیج کے کنارے کنارے گھومتی، شہری آبادی سے ناتا جوڑ چکی ہے۔ اس کالونی میں ایک خوبصورت گرجا گھر ہے، تاجروں کے لیے ایک وسیع سرائے، اشیائے ضرورت کا بازار، سیاحوں کا ہوٹل اور تفریحی کشتیوں کا کلب۔ سرسبز پہاڑوں کے پس منظر میں، جن پر حکومتی نگرانی میں خوب شجرکاری کی گئی ہے، مکانوں کی سرخ چھیں عجب بہار دکھاتی ہیں۔
موسم گرما کے خاموش دنوں میں، جب سورج چند پرانی بچی کھچی چوبی جھونپڑیوں کے تختوں کی گوند پگھلانے لگتا ہے اور ساحلی ریت کو اس قدر گرم کر دیتا ہے کہ وہ پاؤں کے نیچے دہکنے اور سلگنے لگتی ہے تو کالونی پھر ویسی ہی اداس و تنہا دکھائی دینے لگتی ہے، جیسی زمانۂ قدیم میں مچھیروں کی مذکورہ بستی دکھائی دیتی تھی۔ یہ تنہائی اور اداسی ان سیاہ بانسوں اور ان پر جھولتے گیلے جالوں تک پھیل جاتی ہے جو دھوپ میں سوکھ رہے ہوتے ہیں۔ دھوپ ڈھلتی ہے تو ساحل ریت پر اسی طرح نیم برہنہ بچے شور مچاتے اور ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے نظر آتے ہیں اور گرمی میں جھلسی ہوئی رنگت والی، سرخ، سیندھوری سکرٹ اور پھول دار بلاؤزر میں ملبوس عورتیں گھروں میں تیل کے چولہوں پر چاول اور مچھلی پکاتی نظر آتی ہیں
ساحل کےکنارے مصور، ایزل جمائے، قطار در قطار، زرد چھتریوں تلے کھمبوں کے نیچے مینڈکوں کی طرح بیٹھے دکھائی دیتے ہیں۔ جگہ جگہ شاعر، ہاتھوں میں کاپیاں پکڑے، کسی گہری سوچ میں گم بیٹھے نظر آتے ہیں اور سیاح اس عجیب منظر نامے کو حیر ت سے دیکھتے ہیں۔
سہ پہر کے وقت دھوپ اور گرمی کی شدت میں کمی آجاتی ہے اور سفید رنگت کا ایک غبار کالونی کے اوپر چھانے لگتا ہے۔ گھروں کے باہر بطخیں، سور اور بچے عالم غنودگی میں ریت پر دراز نظر آتے ہیں۔ نیند کی ماری برہنہ عورتیں بیزاری سے دروازوں سے اندر اور باہر آتی جاتی ہیں۔ کبھی کبھی ان کی نظریں ان جوان لڑکیوں کی طرف اٹھ جاتی ہیں جو ریت کے کنارے بیٹھے سیاحوں کے ساتھ ہنسی مذاق اور پہیلیوں میں مصروف ہوتی ہیں۔
سیاحوں کے ہوٹل کی سیڑھیوں پر چند خوش پوش ادھیڑ عمر سیاح ہاتھوں میں دوربینیں لیے ساحل کی جانب دیکھتے نظر آتے ہیں۔ ان کے عقب میں خوش مزاج عورتیں اپنے ہیٹ سروں پر جمائے، آنکھوں پر چشمے لگائے، اپنے ساتھیوں کی نگاہوں کا تعاقب کر رہی ہوتی ہیں۔
ریتلی چٹان پر چند ماہی گیر، منہ میں پائپ دبائے، اپنے جال مرمت کرنے میں مصروف ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ آنکھوں پر ہیٹ رکھے ریت پر سو رہے ہوتے ہیں جبکہ کچھ سمندر کی طرف سرسری نظروں سے دیکھتے ہوئے آپس میں گپ شپ میں مصروف ہوتے ہیں۔ حد نظر تک پھیلا ہوا ہلکا نیلا سمندر یوں خاموش دکھائی دیتا ہے جیسے وہ بھی اپنی شوریدہ سری سے تھک گیا ہو۔ اس کی پر سکون لہریں یہ پیغام دیتی نظر آتی ہیں کہ ماہی گیروں، کشتی رانوں اور جہاز رانوں کے لیے زندگی اور نقل و حرکت قطعی محفوظ ہے۔
ایسی ہی ایک سہ پہر کا ذکر ہے۔ ایک بہت بڑا سٹیمر دھواں اڑاتا شمال مشرق کی سمت رواں دواں نظر آرہا تھا۔ یہ ’’ٹو برادرز‘‘ نامی برطانوی سٹیمر تھا جو کافی گٹ کی سمت جا رہا تھا اور بظاہر اس کی منزل ناروے یا سویڈن کی کوئی بندرگاہ تھی۔ ڈیک پر سب اچھا کی صورت حال تھی۔ تھوڑی دیر پہلے آواز کی بازگشت سے زیر آب چٹانون کی موجودگی کی خبر دینے والا آلہ استعمال کیا گیا تھا۔ کوئی خطرے کی بات نہیں تھی۔
نچلے عرشے پر سرخ دھاری دار قمیصوں میں ملبوس جرمن، سویڈش اور آئرش ملاحوں پر مشتمل ملاحوں کی ٹولی اوندھے منہ سائے میں لیٹی ہوئی تھی۔ جہاز کا کپتان بذاتِ خود نگرانی کر رہا تھا اور ساحل کا جائزہ لینے میں مصروف تھا۔ وہ ایک اونچی جگہ اپنے کیبن میں بیٹھا تھا۔ وہ درمیانے قد کا بے حد موٹا انگریز تھا۔ اس کی گردن دہری اور چھوٹی تھی، رخسار سرخ اور پھولے ہوئے تھے۔ اور چہرے پر ملائمت تھی۔ وہ اپنی سفیدی مائل نیلی آنکھوں سے شیشے کی کھڑکی سے سمندر کی طرف دیکھ رہا تھا اور آہستگی سے سگار پی رہا تھا۔
وہ اکیلا نہیں تھا۔ ایک دبلی پتلی انگریز لڑکی قریباً اس کی گود میں بیٹھی ہوئی تھی اور گاہے گاہے اپنی انگلیوں میں دبے سینڈوچ پر اپنے دانت گاڑ رہی تھی۔ وہ ایک پرکشش لڑکی تھی۔ دونوں خاموش تھے۔ جب کبھی کپتان بے خیالی میں کچھ آگے جھک جاتا اور اس کے سگار کا دھواں لڑکی کو کھانسنے پر مجبور کر دیتا تو وہ بے ساختہ، لاڈ سے اس کی الجھی ہوئی سنہری داڑھی کو کھینچتی، مگر اس گوشت کے پہاڑ کی طرف سے ناراضی کی ہلکی سی پھنکار اسے متنبہ کرنے کے لیے کافی ثابت ہوتی اور وہ فوراً داڑھی چھوڑ کر بلی کے کسی خوفزدہ بچے کی طرح ملتجی نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگتی۔
یہ ’’لٹل میری‘‘تھی۔ اس نے اپنا یہی نام بتایا تھا۔ مگر کیپٹن چارلس ...... اگر کبھی اسے اس سے با ت کرنے کی ضرور محسوس ہوتی ...... تو اسے ’’میری‘‘ کہہ کر بلاتا تھا۔ عملہ، جسے شاذ ہی اسے دیکھنے کا موقع ملتا، باورچی او رخدمت گار اسے ’’مس‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے۔ اور جب وہ ڈیک پر کسی انگریز لیڈی کی طرح کوٹ پہنے نپے تلے قدموں سے روزانہ چہل قدمی کے لیے نکلتی تو ملاح اس کے لیے نرم روئی سے راستہ چھوڑ دیتے۔ ان کے کسی انداز سے اس بات کا اظہار نہ ہوتا کہ وہ اس کے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں۔
وہ اس جہاز پر دو ماہ پہلے لیور پول سے سوار ہوئی تھی اور اس دوران کیپٹن چارلس نےبارہا اپنی بھاری مٹھی اپنے کیبن کی میز پر مار کر اس سے اس بات کا عہد کیا تھا کہ وہ اسے اگلی برطانوی بندرگاہ پر اتار کر پستی اور مفلسی و بدحالی کی اس گندی بستی میں واپس بھیج دے گا جہاں سے وہ آئی تھی مگر موسم گرما کی سبک ہواؤں اور کئی نفع بخش پھیروں نے اسے نرم کر دیا تھا۔ لڑکی کی نگاہوں میں ہمیشہ ایک التجا ہوتی اور وہ اپنا نازک بازو پیار سے اس کی موٹی گردن میں حمائل کرکے اس طرح اسے دیکھتی کہ اسے چربی بھرے سینے کے نیچے کوئی شے دھڑکتی محسوس ہونے لگتی۔ وہ ہر بار اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور ہو جاتا تھا۔ میری کی عمر بمشکل سولہ سترہ سال تھی۔
کیپٹن نے پانی کی طرف دیکھتے ہوئے اب اپنی گردن کسی کی پشت گاہ سے ٹکا دی تھی۔ میری جس نے سینڈوچ ختم کر لیا تھا، آہستگی سے اس کے قریب کھنچ آئی تھی اور اپنی سبزی مائل نیلی آنکھوں سے اس کے چہرے کی طرف دیکھ رہی تھی۔ کیپٹن نے اسے سرسری نظروں سے دیکھا اور دور افق پر نظریں جما کر کسی خیال میں کھو گیا۔ وہ عجیب سے سپنے دیکھ رہا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ کیوں نہ وہ میری کو گرمیوں کے اختتام ...... بلکہ سردیوں کے آخر تک اپنے پاس رہنے دے؟ بلکہ لڑکی سے شادی ہی کیوں نہ کر لے۔اسے اس کے ساتھ کی عاد ت ہو گئی تھی اور اب یہ خیال کہ وہ میری کو اپنے ساتھ نہ رکھے کچھ عجیب سالگتا تھا۔ بلاشبہ اگر وہ اس سے شادی کر لیتا تو اس کے ساتھی اس پر خوب ہنستے۔ گرینک ماؤتھ میں اس کے گھر والے بھی تضحیک و تعجب کا اظہار کرتے۔ کیوں نہ انہیں ہنسنے دیا جائے، جب تک وہ سمندر میں تھا اسے اس سے کیا فرق پڑتا تھا۔ اس کے ماضی کے بارے میں اس کے پاس کافی عذر موجود تھا۔ وہ ایک گھٹیا، مفلس باپ کی بیٹی تھی۔ اس کی ماں نے جو خوراک کی کمی کے باعث کمزور اور بیمار تھی اسے پیٹ کی خاطر بچپن ہی میں اپنا پیشہ سکھا دیا تھا۔ میری جو بالکل بچی تھی اسے ان باتوں کا کچھ پتہ نہ تھا۔ ہر رات جب سوروں اور بھینسوں جیسے بھاری اور جاندار مرد اسے بھنبھوڑ کر چلے جاتے تو وہ گھنٹوں تکلیف اور درد سے سسکتی رہتی۔ نشے میں دھت باپ ان مردوں سے لی ہوئی رقم چھین لیتا اور جب وہ کھانے کے لیے اس رقم سے کچھ مانگتیں تو انہیں لاتوں،تھپڑوں او رگھونسوں سے دھن کر رکھ دیتا۔ میری ذلت کے معنوں سے آشنا نہیں تھی۔ وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ یہ زندگی جسے وہ گزار رہی ہے ذلت کی زندگی ہے یا نشیبی جگہوں پر کوڑے سے اٹی سیلن زدہ گلیوں اور جھونپڑوں میں رہنا زیادہ باعث ذلت ہے۔ اسے بس یہ پتا تھا کہ یہ زندگی تکلیف دہ ہے جس میں زخم پر زخم لگتا ہے، مار پر مار پڑتی ہے اور ناتواں جسم کے ساتھ بھوک سے لڑنا پڑتا ہے۔
چنانچہ ایک روز وہ گھر سے نکل بھاگی تھی اور روٹی اور سائبان کی تلاش میں اس جہاز پر پہنچ گئی تھی۔ اسی دوران جبکہ کیپٹن اپنے سپنوں میں کھویا ہوا تھا اور نازک میری اس کے سینے سے سر ٹکائے غنودگی کی حالت میں، اس کے سانس زیرو بم کے ساتھ اوپر نیچے ہو رہی تھی، انہیں کئی ہلکے ہلکے جھٹکے محسوس ہوئے اور پھر ایک بڑے جھٹکے کے ساتھ سٹیمر ایک دم رک گیا۔ سٹیمر کے انجن تیز آوازیں نکالنے لگے تھے۔
کیپٹن چارلس کا بھاری جسم ایک لمحے میں چستی کی حالت میں لوٹ آیا۔اس نے میری کو اپنی گود سے پرے دھکیلا اور بھاگتے ہوئے باہر نکلا۔ اس نے انجن بند کرکے ریلنگ سے نیچے جھانکا۔ جہاز کم گہرے پانی میں جا کر ریتلی زمین میں دھنس چکا تھا۔ ریلنگ سے سمندر کے گہرے پانی سے ریت پر چمکتے گھونگھے اور بے شمار کنکریاں دکھائی دے رہی تھیں جن سے سٹیمر آہستگی سے ٹکرایا تھا۔ اس کا چہرہ جو خوف سے بالکل سفید پڑ گیا تھا، یہ یقین کرنے کے بعد کہ جہاز کے ڈھانچے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، دوبارہ سرخی کی طرف لوٹ آیا اور اس نے ان ملاحوں سے جو جہاز کے ہر حصے سے دوڑتے ہوئے اوپر چلے آرہے تھے ایک گہری سانس لے کر کہا: ’’کچھ نہیں ہوا خیر ہے۔‘‘
’’آدھی رفتار! ...... پیچھے کرو، پیچھے کرو ...... آدھی رفتار!‘‘ اس نے چلا کر انجینئر کو ہدایت دی۔ اور جب انجن ٹھیک طرح دوبارہ چلنے لگے تھے اس نے سگار کے کش لیتے ہوئے کئی بار اوپر سے نیچے چکر لگائے۔
مگر جہاز اپنی جگہ سے نہیں ہلا۔ اس نے چیخ کر کہا: ’’پوری رفتار! پوری رفتار!‘‘ مگر جہاز وہیں رہا، جہاں وہ پھنس چکا تھا۔ انجن چیختے رہے، دھواں اگلتے رہے مگر صورت حال میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔
اس دوران یہ ہنگامی صورت حال ایک مصور اور اس کے لیے ماڈل بن کر، کم گہرے پانی میں جال کھینچتے، ملاحوں کی توجہ حاصل کر چکی تھی۔ لمحوں میں یہ خبر پوری کالونی میں اور پھر شہرمیں، جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔
تھوڑی دیر میں ساحل اور ریتلی چٹان پر کالونی کے مرد،عورتیں اور بچے جمع ہو گئے۔ سب کی نگاہیں شمال مشرق کی جانب ریت سے نبردآزما اس آہنی دیوار کو دلچسپی سے دیکھ رہی تھیں جس کی چنگھاڑ انہیں صاف سنائی دے رہی تھی۔ مردوں کے چہرے پر خوشی کے احساسات صاف دیکھے جا سکے تھے۔ وہ بات بات پر ہنس رہے تھے اور آپس میں ٹھٹھہ مذاق کر رہے تھے۔
سیاحوں کی بڑی تعداد جو اس ہجوم میں شامل تھی، اپنے کیمروں کو فوکس کرکے اس جہاز کی تصویریں بنانے لگی تھی۔ سیاحوں کے ہوٹل کی سیڑھیوں پر تل دھرنے کی جگہ باقی نہ بچی تھی۔ کھلی کار میں سوار ایک پولیس آفیسر اور کمشنر بھی تماشائیوں میں شامل ہو گئے تھے۔ لوگ ایک دوسرے سے سوال پوچھ رہے تھے۔ انہیں یہ جاننے کا تجسس تھا کہ جہاز کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا ہے۔ ہر کوئی پوچھ رہا تھا کہیں وہ ڈوب تو نہیں رہا؟ جلد ہی سب کو معلوم ہو گیا کہ جہاز ریت میں پھنس گیا ہے۔ یہ سن کر ایک تاجر جو اپنے دفتر میں بیٹھا تھا، پرجوش انداز میں اپنی کرسی سے اٹھا اور نوکر کو حکم دیا کہ بار سے وہسکی کی ایک بوتل لائے۔ ہمسائے اور دوست خوش خوش ایک دوسرے کے پاس پہنچے اور ہر جگہ کافی کی خوشبو بھری بھاپ اڑتی نظر آنے لگی حتیٰ کہ چلنے پھرنے سے معذور بوڑھے لوگ بھی کسی نہ کسی طرح نزدیکی ٹیلے پر پہنچ گئے اور چیخے چنگھاڑتے سٹیمر کو ریت کی گرفت سے نکلنے کی کوشش میں، مشکل سے د وچار بار دیکھ کر پوپلے منہ سے ہنسنے لگے۔
ادھر ساحل پر لوگوں کا ہجوم تھا ہی، سمندر میں، ساحل سے چند سو گز دور، سٹیمر کے اردگرد سالویج کارپوریشن کی کشتیوں نے گھیرا ڈال رکھا تھا۔ جب بھی کیپٹن نظر آتا، ان کشتیوں سے لوگ چیخ چیخ کر اسے اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کرتے۔ کیپٹن چارلس یوں ظاہر کر رہا تھا جیسے اس کے اردگرد جو لوگ جمع ہیں وہ اس کی موجودگی محسوس نہیں کر رہا۔ اپنے اسسٹنٹ کے ذریعے اس نے تمام اجنبی لوگوں کو جہاز پر آنے سے منع کر دیا تھا۔ اور کسی طرح کی امداد قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس نے اپنی کشتی نیچے اتارنے کا حکم دیا۔ اس نے کچھ ملاحوں کو دو لنگر جہاز سے دور لے جا کر ڈالنے کی ہدایت کی۔ یہ جہاز کی عقبی جانب مضبوط زنجیروں سے بندھے ہوئے تھے۔انجینئر کو اس نے حکم دیا کہ وہ بھاپ آخری حد تک جہاں سرخ نشان تھا، بڑھا دے کیونکہ وہ ہر حال میں یہاں سے نکلنا اور اپنے سفر پر روانہ ہونا چاہتا تھا۔
اس ساری کارروائی کے دوران وہ بے چینی سے کبھی اوپر عرشے پر جاتا اور کبھی نیچے اترتا دکھائی دے رہا تھا۔ وہ وقفے وقفے سے وہسکی کے گھونٹ بھر کر اپنا ذہنی تناؤ کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میری کی بلی جیسی آنکھیں برابر اس کا طواف کر رہی تھیں۔ اس نے ایک دوبار اس سے بات کرنے کی کوشش کی مگر اس نے اسے بری طرح جھڑک دیا۔
آخر کار دونوں لنگر ڈال دیے گئے۔ مشین دوبارہ حرکت میں آئی، زنجیریں اور رسے کھینچ دیے گئے مگر جہاز نے اپنی جگہ سے ایک انچ حرکت بھی نہیں کی بلکہ ہر کوشش کے بعد جہاز ریت میں مزید دھنستا چلا گیا۔
ساحل پر لوگوں کے ہجوم میں اضافہ ہو گیا تھا۔ جہاز کے ارد گرد جمع کشتیوں کی تعداد بھی بڑھ گئی تھی۔ ملاح ایک دوسرے کی کشتیوں کو ٹھوکریں مارتے ہوئے چیخ چیخ کر باتیں کر رہے تھے اور آپس میں ٹھٹھے کر رہے تھے۔ انہیں خصوصی طور پر اس بات میں دلچسپی تھی کہ جہاز میں کس قسم کا مال لدا ہوا تھا۔ کپاس اور لوہا ہوتا تو انہیں اسے محفوظ مقام تک لے جانے کی زیادہ مزدوری ملنے کی امید تھی۔ وہ اندازہ لگا رہے تھے کہ کپاس یا لوہا ہی ہو گا۔ کوئلہ ہرگز نہیں ہو سکتا کیونکہ اسے ساحل پر اتارنے والی کوئی مشین نظر نہیں آرہی تھی۔
ان کشتیوں سے کچھ دور چھ چپوؤں والی ایک کشتی پانی میں کھڑی تھی۔ اس پر کمشنر سوار تھا۔ وہ بھاری جسم کا ایک بارعب شخص تھا۔ وہ پروقار انداز میں کھڑا اس سارے منظر کو بظاہر بے توجہی اور عدم دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔ حقیقت میں اس سے زیادہ کسی شخص کو اس معاملے میں دلچسپی نہیں ہو سکتی تھی کیونکہ ...... محض اپنی وہاں موجودگی کے باوصف...... اسے قانونی طور پر یہ حق تھا کہ وہ اس رقم کا ڈیڑھ فیصد حصہ وصول کرے جو جہاز کو وہاں سے نکالنے کی صورت میں سالویج کمپنی کو حاصل ہونا تھا۔
کسٹم آفیسر، جو درمیانے قد کا فربہ اندام شخص تھا، ایک اور کشتی میں اس کے قریب پہنچا اور اسے سیلوٹ کیا۔ اس نے سنہری فریم کا چشمہ پہن رکھا تھا اور دھوپ میں اس کی سرخ داڑھی چمک رہی تھی۔
’’تمہاری کیا رائے ہو گی آفیسر؟‘‘ اس نے ہنستے ہوئے کہا ’’اگر دن کے درمیانی حصے میں، ایسے موسم میں تمہیں سمندر میں کشتی لے جانی پڑے اور معلوم ہو کہ سب بے فائدہ رہا ......!‘‘
کمشنر نے کچھ ایسے انداز میں کندھے اچکائے جنہیں کوئی معانی بھی پہنائے جا سکتے تھے۔
’’میرا خیال ہے اس میں لوہا لدا ہوا ہے۔ ‘‘ اس نے مزید کہا۔ ’’لوگ یہی کہہ رہے ہیں۔‘‘
’’خدا جانے!‘‘ کمشنر نے مسکنت بھرے لہجے میں کہا اور جہاز کی سمت دیکھتے ہوئے بولا۔’’یہ دیکھنے میں کوئلے کا سٹیمر لگتا ہے ...... برطانوی سٹیمر‘‘۔
کسٹم آفیسر دوبارہ ہنسا۔
’’برطانوی اور ایسا سخت اور بہترین جیسا برطانوی گائے کا گوشت ! ویسے آفیسر تم اس کی کوئی توجیہ پیش کر سکتے ہو کہ وہ کپتان اب تک کیوں اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ اس طرح باہر نکلنے میں کامیاب ہو جائے گا؟‘‘
’’ہو سکتا ہے ......کہ اب بھی وہ کامیاب ہو جائے۔‘‘ کمشنر نے قدرے ہمدردانہ لہجے میں کہا، البتہ اس کے ہونٹوں کے کپکپاتے گوشے اس کی اندرونی بے چینی دکھاتے ہوئے، اس ہمدردی کی نفی کر رہے تھے۔
’’معاف کیجیے گا صاحبان، کیا یہ درست ہے کہ سالویج کمپنی کے کرین والے سٹیمر کو یہاں پہنچنے کے لیے تار بھیجا گیا ہے؟‘‘ ایک شخص نے استفسار کیا۔ وہ ریشمی کپڑے کا گرے ہیٹ پہنے ہوئے تھا۔ اس نے چار تجربہ کار ملاحوں سمیت ایک کشی کرائے پر حاصل کی تھی اور اب جذبا ت سے مغلوب، کپکپاتے جسم کے ساتھ، کشتی میں بیٹھا ہوا تھا۔ ہاتھ میں اس نے جاسوسوں جیسی عینک پکڑ رکھی تھی۔ ’’کیا واقعی، جیسا کہ مجھے کسی نے بتایا ہے،تھوڑی دیر میں سٹیمر یہاں پہنچنے والا ہے؟‘‘
’’ہاں، ہو سکتا ہے چند منٹ بعد سٹیمر یہاں پہنچ جائے۔‘‘ کمشنر نے مشرق کی سمت دیکھتے ہوئے کہا۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ جزیرہ نما کی جنوبی سمت سے چھوٹے سائز کا کرین بردار سٹیمر آتا دکھائی دیا۔ کمشنر نے اپنے ملاحوں کو اشارہ کیا۔ انہوں نے فوراً چپو پانی میں اتارے۔ چند منٹوں بعد کشتی برطانوی جہاز کے قریب پہنچ گئی۔
کمشنر نے نائب سے اپنا تعارف کروایا اور اس سے پوچھا کہ کیا انہیں کسی قسم کی مدد درکار ہے؟ نائب نے اوپر کپتان کی طرف دیکھا جو کیبن میں بیٹھا تھا اور کمشنر کی پیشکش دہرائی۔ کیپٹن چارلس نے اپنے کیبن سے کرین بردار سٹیمر کو کچھ فاصلے پر ٹھہرتے اور لنگرپھینکتے دیکھ لیا تھا، اپنے دانت بھینچ کر جواب دیا:
’’نہیں! ہمیں کسی طرح کی مدد درکار نہیں۔‘‘
نائب کو اس کا جواب قبول کرنے میں قدرے تامل ہوا۔ وہسکی کی ایک بوتل کیپٹن کے سامنے پڑی تھی اور وہ تیسرا گلاس خالی کر چکا تھا۔ کمشنر نے اس کا جواب پا کر کشتی موڑنے کا حکم دیا اور ساحل کی طرف روانہ ہوا۔ چند گھنٹے اسی طرح گزر گئے۔ ہجوم بڑھتا گیا۔ عورتیں اپنے خاوندوں کے لیے کھانا لے کر ریت کے ٹیلے پر پہنچ گئیں۔ وہسکی کی بوتلیں لنڈھائی جا رہی تھیں یوں لگ رہا تھا جیسے سب جشن کے موڈ میں ہیں۔
غروب آفتاب سے کچھ دیر پہلے سمندر کی سطح میں یکایک تلاطم محسوس ہونے لگا اور وہ کشتیاں جو ہنوز جہاز کے گرد کھڑی تھیں آپس میں ٹکرانے لگیں۔ اگرچہ بادلوں کا کہیں نشاں تک نہ تھامگر سورج عجیب انداز میں دھندلا ہو گیا تھاا ور افق کی جانب سمندر کی سطح بلند نظر آرہی تھی۔
آدھے گھنٹے بعد سمندر اتنا شوریدہ سر ہو گیا کہ بپھری ہوئی لہروں کے غضب سے بچنے کے لیے ملاحوں کو اپنی کشتیاں ساحل پر لے جانا پڑیں۔ انہوں نے کشتیاں ساحل پر لے جا کر محفوظ طریقے سے باندھ دیں۔ اب آسمان بادلوں سے ڈھک چکا تھا اور طوفانی ہوا کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ جہاز کی پوزیشن خطرناک ہو گئی۔ ریت میں پھنسے پھنسے اس کی چوڑی سمت سمندر کی جانب ہو گئی تھی اور لہریں مہیب تھپیڑوں کے ساتھ اس کی آہنی دیوار سے وحشیانہ انداز میں ٹکرا رہی تھیں۔ انہوں نے دفعتاً نوٹ کیا کہ جہاز کے عرشے پر افراتفری کا سماں ہے۔ ملاح ادھر سے ادھر بھاگتے نظر آرہے تھے۔ ایک کشتی نیچے لٹکائی جا رہی تھی اور لنگر کی زنجیر گرنے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ صاف دکھائی دے رہا تھا کہ جہاز کو اس مصیبت سے نکالنے کے لیے آخری فیصلہ کن کوشش کی جانے والی ہے۔ جہاز کی چمنی سے سیاہ دھوئیں کے بادل مرغولوں کی صورت میں برآمد ہو رہے تھے اور عملے نے تندہی سے کام شروع کر دیاتھا۔ انجن شور مچا رہے تھے۔
اور پھر جہاز کے انجن ایک دم بند ہو گئے۔ کئی منٹ کے وقفے کے بعد جب اندھیرا تیزی سے پھیلتا دکھائی دے رہا تھا، مایوسی کی علامت زرد جھنڈا آہستہ آہستہ چڑھایا گیا جس نے تیز ہوا کے دوش پر لہراتے ہوئے گویا عملے کی شکست کا اعلان کیا۔ ساتھ ہی بھاپ کے وسل نے بیٹھی ہوئی، بلند آواز میں مدد مانگنے کا سگنل دیا۔
’’اب وہ مدد کے لیے پکار رہا ہے!‘‘ وہ سب ہنستے ہوئے ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے۔ ضلع کی آٹھ ملاحوں والی کشتی ساحل پر پہنچ چکی تھی۔ اسے سمندر میں اتارا گیا۔ کمشنر اور ضلع اٹارنی جنہوں نے ہنگامی مدد کی شرائط طے کرنا تھیں، کشتی میں سوار ہو گئے۔ ان کے ساتھ سیاہ کوٹ میں ملبوس ایک پستہ قد شخص بھی تھا جس نے اپنا سرخ ہیٹ بائیں ہاتھ میں تھام رکھا تھا۔ یہ سالویج کمپنی کا ایجنٹ تھا جو اس وقت سٹیمر سے ساحل پر اتر گیا تھا جب کمشنر نے پہلے پہل جہاز کے کیپٹن سے مدد فراہم کرنے کی بات کی تھی اور اس یقین کے ساتھ ساحل پر رہا تھا کہ آخر کار مصیبت زدہ جہاز کا کیپٹن مدد کا طلب گار ضرور ہو گا۔
اگرچہ سمندر بپھرا ہوا تھا مگر کشتی کے مشاق عملے نے انہیں با سہولت جہاز کے پاس پہنچا دیا۔نائب نے تینوں افراد کا جہاز پر استقبال کیا اور انہیں عرشے کے نیچے بنی آفیسرز میس میں لے گیا۔ وہاں کیپٹن چارلس پہلے سے موجود تھا۔ وہ نشے کے زیر اثر نظر آرہا تھا اور اس نے لمبی میز کے پیچھے کرسی سے ٹیک لگا رکھی تھی۔ میز پر ایک لالٹین روشن تھی، جس کی روشنی، ٹین کی، پالش شدہ دیوار سے ٹکرا کر منعکس ہو رہی تھی اور میز کے اردگرد ساری جگہ کو روشنی بخش رہی تھی۔ باقی کمرے میں سبزی مائل اندھیرا تھا۔
کیپٹن نے تینوں اجنبی افراد سے بغیر کسی خیرمقدمی جملے کے سیدھے سبھاؤ سوال کیا:
’’کتنا خرچ آئے گا؟‘‘
سالویج کمپنی کے ایجنٹ نے جہاز کے مال برداری کے کاغذات دیکھنے کی اجازت طلب کی۔ جب کاغذات لائے گئے تو اس نے کارگو کی قیمت، جہاز کی گنجائش اور اس کی حالت کا تعین کرنے کے بعد کچھ حساب لگایا اور بولا:
’’چھ ہزار پونڈ۔‘‘
کیپٹن چارلس کا منہ حیرت سے کھل گیا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے حیرت کے دھچکے نے اس کا سارا نشہ ہرن کر دیا ہو، مگر اگلے ہی لمحے اس نے خود کو سنبھال لیا اور اس کے نیلاہٹ زدہ سفید ہونٹوں پر، مایوسی سے آلودہ، ایک پروقار مسکراہٹ ابھری۔
’’اچھا تو یوں ہے۔‘‘ اس نے جیسے ان سے نہیں، اپنے آپ سے کہا۔
ماحول پر چند منٹوں کے لیے خاموشی طاری ہو گئی۔ سمندر کی لہریں جہاز کی آہنی دیوار سے ٹکرا رہی تھیں۔ کیپٹن کے عین عقب میں ان کے ٹکراؤ سے اس تنگ کمرے میں مہیب اور عجیب ڈراؤنی آوازیں آرہی تھیں۔ نوجوان اٹارنی جو ایسے بھیانک مناظر دیکھنے کا عادی نہیں تھا، سہما ہوا بیٹھا تھا۔ اس کے چہرے کا رنگ زرد سے زرد تر ہوتا جا رہا تھا اور وہ مسلسل دروازے کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ان کے سروں پر، عرشے پر چلنے والے ملاحوں کے بھاری بوٹوں کی دھمک سنائی دے رہی تھی۔
’’چار ہزار پونڈ‘‘ بالآخر کیپٹن نے زبان کھولی۔
ایجنٹ نے انکار میں کندھے اچکائے ’’ناممکن‘‘۔
کمشنر نے جس کے فرائض میں یہ بات شامل تھی کہ وہ کیپٹن کی معاونت کرے اور جہاز کے مفادات کا خیال رکھے، معاملہ طے کرانے کی کوشش کی مگر چونکہ اسے علم تھا کہ سالویج کمپنی کبھی بھی اپنے تخمینے کو بدلنے پر تیار نہیں ہوتی، اور یہ با ت بھی اہم اور اس کے اپنے مفاد میں تھی کہ معاوضے کی رقم زیادہ سے زیادہ رہے اس لیے اس نے ہمدردانہ لہجے میں سادہ ترین انگریزی میں کیپٹن کو سمجھانے کی کوشش کی:
’’جہاز کو درپیش خطرہ لمحہ بہ لمحہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اس لیے آپ کے پاس سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں کہ آپ سالویج کمپنی کا تخمینہ قبول کر لیں۔‘‘
ایجنٹ نے سر ہلا کر کمشنر کی تائید کی اور مزید کہا کہ اگر ایک گھنٹے کے اندر اندر اس کے لگائے ہوئے تخمینے کے مطابق رضامندی کا اظہار نہ کیا گیا تو اس کے لیے رات کے وقت بپھرے ہوئے سمندر میں اپنا سٹیمر روکے رکھنا ممکن نہ ہو گا۔ وہ اپنا سٹیمر واپس لے جائے گا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اس نے جو ہمدردانہ رعایتی پیشکش کی ہے وہ بہت محدود مدت کے لیے ہے۔
کیپٹن چارلس اب بھی خاموش تھا۔ اس نے اپنا بھاری بازو میز پر رکھا ہوا تھا اور معاملہ فہم نگاہوں سے آہستگی سے باری باری سر ہلاتے ہوئے تینوں افراد کو دیکھ رہا تھا۔ پھر اس نے ایک گہری سانس لی اور اپنے نائب کی طرف دیکھاجو اس کی طرف سے بطور گواہ اس جگہ موجود تھا۔
’’کاغذ قلم لاؤ‘‘۔ کیپٹن نے بالآخر اسے ہدایت کی اور یک لخت تھکا تھکا دکھائی دینے لگا۔
چندگھنٹوں بعد ’’ٹو برادرز‘‘ ریت سے نکل کر آرام دہ حالت میں گہرے سمندر میں کھڑا تھا۔ سیاہ طوفانی رات میں، جب ابھی ساحل کے کنارے آباد کالونی کی ہر کھڑکی سے روشنی پھوٹ رہی تھی اور لوگ سالویج سے حاصل ہونے والی مزدوری کے پیسوں سے ریستورانوں میں مزے اڑا رہے تھے اور شراب خانے خوشی سے مغلوب لوگوں سے بھرے ہوئے تھے، غیر ملکی جہاز مشرق کی سمت اپنے سفر پر روانہ ہو چکا تھا۔