آئزک بشواس سنگر

آئزک بشواس سنگر

معمول

    ترجمہ: خاقان ساجد

    دوسری عالمی جنگ کے دوران بے شمار یہودی اہل قلم نے پولینڈ سے راہ فرار اختیار کی اور کیوبا، مراکش اور دوسرے ممالک کے راستے امریکہ پہنچ گئے۔ ایوان بھی ان میں سے ایک تھا۔ وہ نیویارک کے اخبارات کا مطالعہ باقاعدگی سے نہیں کرتا تھا، اس لیے وہ اس بات سے لاعلم تھا کہ اس کے ساتھیوں میں سے کتنے امریکہ پہنچنے میں کامیاب رہے اور کتنے راستے میں مار ڈالے گئے۔

    ایک دن وہ پانچویں ایونیو کی عوامی لائبریری میں بیٹھا ٹیلی پیتھی اور غائب دانی کے بارے میں مائر کی کتاب کا مطالعہ کر رہا تھا کہ اسے اپنے کندھے پر کسی کے ہاتھ کا دباؤ محسوس ہوا۔ اس نے نظریں اوپر اٹھائیں تو کرسی کے پاس ایک پستہ قد مرد کھڑا نظر آیا۔ اس کی پیشانی کشادہ تھی، بال سفیدی مائل اور آنکھوں پر سنہرے فریم کی عینک تھی۔ رخساروں کی ہڈیاں ابھری ہوئی، خم کھائی ہوئی ناک اور بالائی ہونٹ ضرورت سے زیادہ اوپر کو اٹھا ہوا۔ اس کی قمیص پر بے شمار سلوٹیں تھیں اور ٹائی گلے میں جھول رہی تھی۔ مسکرانے کی کوشش میں اس کے دانت باہر نکلے پڑ رہے تھے۔ اس کا انداز بتا رہا تھا جیسے وہ ایوان کو بہت قریب سے جانتا ہو لیکن ایوان اسے پہچان نہیں سکا۔ اس کا چہرہ اگرچہ کچھ جانا پہچانا سا لگ رہا تھا لیکن ایوان کو یاد نہیں آرہا تھا کہ اسے کب اور کہاں دیکھا ہے۔ دراصل اس کا ذہن اس وقت ٹیلی پیتھی اور غیب دانی میں الجھا ہوا تھا جس پر زیر مطالعہ کتاب میں سیر حاصل بحث کی گئی تھی۔

    ’’تم شاید مجھے بھول چکے ہو!‘‘ اس نے پہلی مرتبہ لب کشائی کی۔ ’’تمہیں شرم آنی چاہیے! شیکن ایسی چیز تو نہیں جسے اس قدر آسانی سے بھلایا جا سکے۔‘‘

    ایوان کے ذہن میں ایک جھماکہ سا ہوا اور اس کے بارے میں ہر چیز واضح ہوتی چلی گئی۔ شیکن وارسا کے ایک اخبار میں کالم نویس تھا۔ دونوں طویل عرصے تک ایک ساتھ رہے تھے۔ وہ عمر میں اگرچہ ایوان سے تقریباً بیس سال چھوٹا تھا لیکن بے تکلفی ہم عمر دوستوں کی طرح تھی۔ آپس کا مذاق بھی چلتا رہتا تھا۔ یہ حالات کی ستم ظریفی تھی کہ وہ پہلی نظر میں اسے پہچان نہیں سکا تھا۔

    ’’اوہ! ‘‘ وہ اس کی طرف دیکھ کر مسکرایا۔ ’’تو تم زندہ ہو۔ میں تو سمجھا تھا کہ مر کھپ گئے ہوگے۔ میں واقعی تمہیں نہیں پہچان سکا تھا۔‘‘

    ’’شاید اس لیے کہ میں وقت سے پہلے بوڑھا ہو گیا ہوں اور میرے چہرے پر کچھ تبدیلیاں آگئی ہیں۔‘‘

    ’’نہیں بالکل نہیں! تم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ لیکن تم یہاں کیسے پہنچے؟‘‘

    ’’لمبی کہانی ہے! میرے بیشتر دوست تمہاری طرح مجھے مردہ تصور کر چکے تھے۔ میرے مرنے میں کوئی کسر رہ بھی نہیں گئی تھی۔ پولینڈ سے فرار ہوتے ہوئے قدم قدم پر موت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ میرا خیال ہے باتوں کا مزہ کافی کے ساتھ آئے گا۔ اس کتاب کا مطالعہ اگر ضروری نہیں تو چلو کسی ریسٹورنٹ میں بیٹھتے ہیں۔ ویسے یہ کون سی کتاب ہے جس میں تم اس قدر ڈوبے ہوئے تھے کہ آس پاس کا ہوش بھی نہیں تھا۔‘‘ شیکن نے کتاب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور جب ایوان نے اسے کتاب کے موضوع کے بارے میں بتایا تو وہ مسکراتے ہوئے بولا: ’’کمال ہے! یہ فضول سی چیزیں ابھی تک تمہارے ذہن پر مسلط ہیں۔‘‘

    ایوان کوئی جواب دیے بغیر اٹھ گیا۔ کتاب کو ریک میں اس کی جگہ پر رکھا اور شیکن کے ساتھ لفٹ کی طرف بڑھ گیا۔ چند منٹ بعد وہ دونوں لائبریری کی عمارت سے نکل کر سڑک پر پہنچ گئے۔ تقریباً نصف فرلانگ آگے ایک کیفے ٹیریا میں داخل ہوتے ہوئے ایوان نے شیکن کی طرف دیکھا۔ وہ خاموشی سے اس کے ساتھ چلا آرہا تھا۔ ایک میز پر قبضہ جمانے کے بعد اس نے شیکن کے لیے کھانے کا آرڈر دینا چاہا لیکن اس نے منع کر دیا اور صرف کافی کی فرمائش کی۔’’ میں کھانا کھا چکا ہوں۔ صرف کافی پیوں گا۔ بلیک کافی، لیکن خوب گرم ہونی چاہیے، نجانے امریکہ والے کافی کو ٹھنڈا کرکے کیوں پیتے ہیں۔ اور سنو! ویٹر کو بتا دینا کہ شکر الگ لے کر آئے۔ کافی میں نہ ملائے۔‘‘

    ’’جنگ کے دوران وارسا سے رخصت ہوتے ہوئے میں نے سنا تھا کہ تم بھی کسی طرف فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہو۔ اتنا عرصہ کہاں رہے!‘‘ ایوان نے اصل موضوع پر آتے ہوئے کہا۔

    شیکن نے ختم ہوتے ہوئے سگریٹ سے ایک نیا سگریٹ سلگایا اور گہرا کش لگاتے ہوئے بولا: ’’میں پولینڈ سے نکل کر کسی نہ کسی طرح ریوڈی جینرو پہنچنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ خوش قسمتی سے مجھے فوراً ہی ایک اخبار میں کام مل گیا۔ اس دوران میں ’’فارورڈ‘‘ میں تمہارے مضامین بھی باقاعدگی سے پڑھتا رہا۔ مافوق الفطرت قصوں اور توہم پرستی سے تمہاری دلچسپی کو میں محض ادبیت کی ایک صنف سمجھتا رہا تھا لیکن جب خود میرے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا تو اس کی توجیہ میری سمجھ میں نہ آ سکی۔‘‘

    ’’اوہو! کہیں تم نے کوئی بھوت تو نہیں دیکھ لیا؟‘‘ ایوان نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔

    ’’کچھ ایسی ہی بات ہے!‘‘

    ’’تو پھر انتظار کس بات کا کر رہے ہو۔ میں تمہاری کہانی سننے کو بے چین ہو رہا ہوں۔ تم ہمیشہ میری باتوں کا مذاق اڑاتے رہے ہو۔ لیکن اب تو تمہارے ساتھ پیش آنے والا واقعہ یقیناً میرے لیے دلچسپ مواد فراہم کرے گا۔ چلو، اب شروع ہو جاؤ۔‘‘

    ’’حقیقت تو یہ ہے کہ ایسی باتوں کو میں ہمیشہ لغو سمجھتا رہا اور میرا خیال تھا کہ ان چیزوں میں الجھ کر تم اپنا قیمتی وقت ضائع کر رہے ہو۔ میں نے تمہیں کئی مرتبہ ٹوکا بھی تھا لیکن تم نے میری بات پر کان نہیں دھرا۔ بہرحال، میرے ساتھ جو واقعہ پیش آیا میں ابھی تک اس کی کوئی توجیہ تلاش نہیں کر سکا۔ ہو سکتا ہے وہ میرا ذہنی فتور رہا ہو لیکن مجھے اپنی ذہنی کیفیت پر کبھی شبہ نہیں رہا۔نہ کبھی مجھے کسی قسم کا دماغی دورہ پڑا ہے۔ تمہیں یاد ہو گا کہ جب جنگ چھڑی تو میں فرانس میں تھا۔ جس کے فوراً ہی بعد میں وارسا چلا آیا۔ میرا خیال تھا کہ پولینڈ میں جنگ کی وہ شدت نہیں ہو گی جو میں فرانس میں دیکھ چکا تھا لیکن وہاں پہنچتے ہی پتا چلا کہ یہودی وہاں سے بھی فرار کی راہیں تلاش کر رہے ہیں چنانچہ میں نے بھی وارسا چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ اور چند افراد کے ایک گروہ کے ساتھ، جس میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے، بھاگ کھڑا ہوا۔ ہم کسی اور سمت میں جانا چاہتے تھے لیکن بدقسمتی سے راستہ بھٹک کر ایک بار پھر فرانس پہنچ گئے۔ فرانس میں جنگ کچھ اور شدت اختیار کر چکی تھی۔ جرمنوں کا تسلط بڑھ رہا تھا۔ نازی درندے خون کی ہولی کھیل رہے تھے۔ یہودیوں کو تو وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر موت کے گھاٹ اتار رہے تھے۔ غرض یہ کہ میں فرانس سے بھی بھاگ نکلا اور کسی طرح کاسابلانکا پہنچنے میں کامیاب ہو گیا، اور پھر نجانے کہاں کہاں بھٹکتا ہوا، برازیل جا نکلا جہاں یہودیوں کی ایک قابل ذکر تعداد پہلے ہی سے آباد تھی۔ ان کا کچھ اثر و رسوخ بھی تھا اور ریوڈی جنیرو سے ان کا ایک چھوٹا سا اخبار بھی نکلتا تھا۔‘‘

    ’’اس اخبار کی انتظامیہ کے لیے میرا نام اجنبی نہیں تھا۔ انہوں نے مجھے اخبار کی ادارت سنبھالنے کی پیش کش کی جسے میں نے بخوشی قبول کر لیا۔ ریواگرچہ خوبصورت شہر ہے لیکن صحافت کے نقطۂ نگاہ سے بالکل مردہ۔ وہاں کوئی ایسا واقعہ رونما نہیں ہوتا جسے خبر کا رنگ دیا جا سکے، نہ کوئی ایسی غیر معمولی بات نظر آتی ہے جسے نمایاں طور پر چھاپا جا سکے۔ بس سست زندگی اور روزمرہ کے معمولات۔ میں نے اخبار کی شکم پری کے لیے تمہارے پرانے مضامین چھاپنے شروع کر دیے۔ میرا زیادہ تر وقت شہر کی آوارہ گردی میں گزرتا۔ میں نے ریوڈی جنیرو کو مردہ شہر کہا ہے لیکن وہاں کی حسین عورتوں کے بارے میں یہ بات نہیں کہی جا سکتی۔ ان سے زیادہ زندہ دل تو شاید ہی کہیں پائی جاتی ہوں۔ اخبار کے سلسلے میں مجھے کبھی کبھار نیویارک آنے کا بھی موقع ملتا۔ ویزے کا حصول میرے لیے کبھی بھی مشکل ثابت نہیں ہوا۔ میں ہمیشہ ارجنٹائن کے بحری جہاز پر سفر کرتا جو بارہ دن میں مجھے نیویارک پہنچا دیتا۔‘‘

    ’’ اس مرتبہ میں نے جہاز کی ٹورسٹ کلاس میں سفر کرنے کا فیصلہ کیا۔ مجھے جو کیبن دیا گیا اس میں ایک یونانی اور دو اطالوی بھی سفر کر رہے تھے۔ یونانی بہت ہی بدتمیز قسم کا آدمی تھا۔ وہ ہر وقت کچھ نہ کچھ بڑبڑاتا رہتا اور زیر لب نہ جانے کس کس کو گالیاں دیتا رہتا۔ میرے خیال میں وہ اپنی جوان بیوی کو چھوڑ کر کہیں جا رہا تھا اور اسے اپنی بیوی کی فکر کھائے جا رہی تھی۔ رات کو جب کیبن کی بتی بجھا دی جاتی تو دیر تک اس کی بڑبڑاہٹ سنائی دیتی رہتی۔ تاریکی میں اس کی آنکھیں بھیڑیے کی طرح چمکتی نظر آتیں جن سے مجھے عجیب سا خوف محسوس ہونے لگتا۔‘‘

    ’’دونوں اطالوی غالباً جڑواں بھائی تھے۔ ان دونوں کی شکلیں ایک دوسرے سے اس قدر مشابہ تھیں کہ کوئی امتیاز کرنا مشکل تھا۔ دونوں کے قد چھوٹے اور جسم غبار ے کی طرح پھولے ہوئے تھے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ وہ دونوں ہمیشہ لباس بھی ایک ہی قسم کا پہنتے۔ جہاز کے اکثر مسافر اور ملازم ان دونوں کے بارے میں اور ان کی شناخت کے سلسلے میں دھوکے میں رہے۔ وہ دونوں دن بھر آپس میں باتیں کرتے رہتے۔ان کی زبان اس وقت بند ہوتی جب آدھی رات کے بعد نیند کی آغوش میں پہنچ جاتے لیکن صبح ہوتے ہی ان کے ٹیپ ریکارڈ پھر چل پڑتے۔ بارہ دن کے سفر کے دوران میں نے نیند کے علاوہ انہیں ایک لمحے کو بھی خاموش ہوتے نہیں دیکھا۔ ستم ظریفی یہ کہ ہر دو چار منٹ بعد وہ وحشیوں کی طرح قہقہے لگانے لگتے۔ یونانی کی طرح اطالوی زبان کا کوئی لفظ بھی کبھی میری سمجھ نہیں آسکا۔ میں ٹوٹی پھوٹی فرانسیسی میں اپنا مافی الضمیر بیان کر لیتا ہوں اور کسی حد تک سمجھ بھی لیتا ہوں لیکن وہاں کس سے باتیں کرتا۔ ان تینوں نے مجھے پوری طرح نظرانداز کر رکھا تھا۔ ظاہر ہے کہ میں دیواروں سے تو باتیں کرنے سے رہا۔ میرے لیے اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ خاموش بیٹھا ان کی بکواس سنتا رہوں۔ بحری سفر میں ایک اور بات میرے لیے بڑی تکلیف دہ ہوتی ہے۔ رات میں کم از کم دس مرتبہ مجھے باتھ روم جانے کے لیے اٹھنا پڑتا ہے۔ بدقسمتی سے اس مرتبہ مجھے اوپر والا برتھ ملا تھا۔ بار بار اترنا اور چڑھنا بھی ایک مسئلہ تھا۔

    سفر کے پہلے روز جب کھانے کا وقت ہوا تو میں یہ سوچ کر پریشان ہونے لگا کہ مجھے کسی ایسی میز پر جگہ نہ دے دی جائے جہاں میں اپنے ہم نشینوں کی زبان نہ سمجھ سکوں۔ آدمی اکیلا ہو تو خاموشی نہیں کھلتی لیکن اگر کوئی قریب بیٹھا ہو اور اس کی زبان سمجھ میں نہ آ سکے تو بڑی الجھن ہوتی ہے۔ خوش قسمتی سے مجھے دروازے کے قریب ایک ایسی میز دی گئی جہاں میرے علاوہ اور کوئی نہیں تھا۔ میں اپنی میز دیکھتے ہی خوش ہو گیا کہ اطمینان و سکون سے کھانا تو کھا سکوں گا۔ لیکن چند سیکنڈ بعد ہی میری یہ خوش فہمی رفع ہو گئی۔ اپنی میز پر سرو کرنے والے ویٹر کو ایک نظر دیکھتے ہی میری   ریڑھ کی ہڈی میں ایک سرد لہر سی دوڑ گئی۔ بعض اوقات کسی سے نفرت کی کوئی وجہ نہیں ہوتی۔ میں پہلی ہی نظر میں اس ویٹر کو نجانے کیوں اپنا بدترین دشمن سمجھنے لگا تھا، اور عجیب سی بات یہ ہے کہ میرے لیے اس کی آنکھوں میں بھی نفرت کی چنگاریاں سی سلگتی ہوئی نظر آرہی تھیں۔

    ارجنٹائن کے باشندے عام طور پر متوسط قد و قامت کے ہوتے ہیں لیکن یہ ویٹر ان سے قطعی مختلف تھا۔ دیو قامت، پھیلے ہوئے کندھے اور آنکھوں میں ایسی چمک جو عام طور پر کسی قاتل ہی کی آنکھوں میں نظر آتی ہے۔ جب وہ میری میز کے قریب پہنچا تو پہلی مرتبہ اس کی طرف دیکھتے ہی مجھے پھریری سی آگئی۔ اس کے چہرے پر درندگی کے تاثرات تھے اور آنکھیں تو گویا نفرت کی شدت سے اپنے حلقوں سے ابلی پڑ رہی تھیں۔ میں نے پہلے تو اس سے ٹوٹی پھوٹی فرانسیسی پھر جرمن زبان میں بات کرنے کی کوشش کی لیکن وہ خاموشی سے نفی میں سر ہلا کر رہ گیا جیسے میری بات نہ سمجھ سکا ہو۔ پھر میں نے اشارے سے اس سے مینو طلب کیا تو وہ بے ڈھنگے انداز میں سر ہلاتا ہوا چلا گیا۔ میرا خیال تھا کہ وہ مینو لینے گیا ہے لیکن اس کی واپسی آدھے گھنٹے بعد ہوئی۔ میں نے اسے کھانے میں اپنی مطلوبہ چیزوں کا آرڈر دیا۔ وہ پہلے تو میری طرف دیکھ کر معنی خیز انداز میں مسکراتا رہا پھر ایسی چیزیں لا کر میرے سامنے رکھ دیں جنہیں میں چکھنا بھی پسند نہیں کرتا۔اس کا انداز بھی ایسا تھا جیسے جہاز کے کسی معزز مسافر کو نہیں کسی بھکاری کو کھانا دے رہا ہو۔ میرا دماغ سلگ اٹھا۔ میری کیفیت دیکھ کر اس کے ہونٹوں پر آنے والی مکروہ سی مسکراہٹ کچھ اور گہری ہوگئی۔ اس نے شوربے کی پلیٹ اس طرح میز پر رکھی کہ شوربے کے چھینٹے اڑ کر میرے لباس پر پڑے۔ میں خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا۔ اس کی یہ حرکت دیکھ کر مجھے یہ سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ وہ میرے خلاف اعلانِ جنگ کر چکا ہے۔

    ’’دن میں تین مرتبہ ، ناشتے اور کھانے کے دوران ، میں اپنے آپ کو اس کے رحم و کرم پر پاتا۔مجھے ذہنی اذیت پہنچانے کے لیے وہ ہر مرتبہ نت نئے ہتھکنڈے آزما رہا تھا۔ میں کھانے میں فرائی گوشت طلب کرتا تو وہ میرے سامنے نمکین پانی میں ابلی ہوئی مچھلی لا کر پٹخ دیتا جس سے مجھے شدید نفرت تھی۔ پہلے تو میں سمجھا کہ وہ کوئی نازی ہے اور یہودی ہونے کی وجہ سے مجھ سے کسی قسم کا انتقام لے رہا ہے۔ لیکن مجھے خود ہی اپنے اس خیال کی نفی کرنی پڑی۔ مجھ   سے چند فٹ کے فاصلے پر دوسری میز پر ایک یہودی فیملی بیٹھا کرتی تھی۔ عورت نے تو بلاؤز پر اسٹار آف ڈیوڈ کا بروچ بھی لگا رکھا تھا جو اس کے یہودی ہونے کا واضح اعلان تھا۔ ان کی میز پر بھی وہی دیوقامت ویٹر تھا۔ انہیں وہ بڑے سلیقے سے سرو کرتا، بعض اوقات مسکراتے ہوئے بڑے شائستہ لہجے میں ان سے باتیں بھی کرتا۔ اس کا یہ نفرت آمیز رویہ تو صرف میرے لیے مخصوص تھا۔ میں اپنی میز چھوڑ کر ہیڈ سٹوارڈ کے پاس پہنچ گیا اور اس سے درخواست کی کہ میری میز تبدیل کر دی جائے لیکن یا تو وہ میری بات سمجھا نہیں یا جان بوجھ کر اس نے ایسا تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ میری زبان نہیں سمجھتا۔ جہاز میں اور بھی لاتعداد یہودی موجود تھے۔ اگر میں چاہتا تو کسی کے ساتھ بھی ہم نشینی اختیار کر سکتا تھا۔ مگر اس دیوقامت ویٹر کے رویے سے میرا موڈ اس قدر خراب ہو چکا تھا کہ کسی سے بات کرنے کو دل نہیں چاہتا تھا لیکن آخر کار جب میں نے ایک اور آدمی سے بات کرنے کی کوشش کی تو وہ میری بات کا جواب دینے کی بجائے عجیب سی نگاہوں سے میری طرف دیکھتا ہوا آگے بڑھ گیا۔ مجھے اس کی بداخلاقی پر بڑا تاؤ آیا۔ لیکن مجھے جلد ہی احساس ہونے لگا کہ بعض نامعلوم طاقتیں میرے گرد کسی قسم کا جال بن رہی ہیں۔‘‘

    ’’اس صورت حال نے میری راتوں کی نیند بھی اڑا دی۔ جب بھی آنکھ لگتی بھیانک خواب دکھائی دینے لگتے اور میں چیختا ہوا اٹھ جاتا اور باقی رات آنکھوں میں بیت جاتی۔ دن کا بیشتر حصہ بھی اسی بے چینی میں گزرتا۔ میرے ذہن میں ایک یہ خیال بھی آیا کہ ممکن ہے یہ سب کچھ میرا وہم ہو یا میں کوئی بھیانک خواب دیکھ رہا ہوں۔ لیکن وہ خواب نہیں، حقیقت تھی۔ ایک بھیانک حقیقت جس کا میں سامنا کر رہا تھا اور اس سے فرار کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔‘‘

    شیکن ایک لمحے کو خاموش ہو گیا۔ اس نے پیکٹ کا آخری سگریٹ نکال کر سلگایا اور بھرپور کش لگا کر بات جاری رکھتے ہوئے بولا: ’’بارہ دن کا یہ بحری سفر میرے لیے جہنم کا سفر بن کر رہ گیا تھا۔ ہر نیا دن گزرے ہوئے دن سے زیادہ بدتر ثابت ہوتا۔ وہ دیو قامت ویٹر میرے لیے ایک عذاب بن گیا تھا۔ میرا کھانا پینا ختم ہو رہا تھا۔ پہلے میں نے صبح کے ناشتے کو الوداع کہا۔ پھر ایک وقت کا کھانا بھی چھوڑ دیا۔ میں اس ویٹر کا سامنا   کرنے سے بچنا چاہتا تھا اور میرے خیال میں زندہ رہنے کے لیے ایک وقت کا کھانا کافی تھا۔ اب میں صرف رات کا کھانا کھانے کے لیے ڈائننگ ہال کا رخ کرتا۔ لیکن وہ چند منٹ بھی میرے لیے کسی عذاب سے کم نہ ہوتے۔ میں انڈے کے آملیٹ کا آرڈر دیتا، اور ویٹر میرے سامنے ابلے ہوئے آلو اس طرح لا کر رکھ دیتا جیسے کتے کے سامنے ہڈی ڈالی جاتی ہے۔‘‘

    ’’مجھے کہیں بھی چین نہیں تھا۔ عرشے پر اطالوی عورتوں کا قبضہ تھا جو دن بھر بے ہنگم انداز میں ناچتی اور گانے گاتی رہتیں۔ راہداریوں میں آدمی بیٹھے تاش اور شطرنج وغیرہ کھیلتے رہتے۔ میں کسی ایسے گوشے کی تلاش میں رہتا جہاں دو گھڑی سکون مل سکے لیکن جہاز پر ایسی کوئی جگہ نہیں تھی۔جب ہمارا جہاز استوائی علاقے میں پہنچا تو یوں محسوس ہوا جیسے ہم جہنم کے کسی خطے میں سفر کر رہے ہوں۔

    ’’اپنے کیبن میں بد دماغ یونانی اور ہمشکل اطالوی بھائیوں کی لایعنی بکواس سے بچنے کے لیے میں اکثر عرشے پر نکل آتا۔ ویٹرکے نفرت آمیز رویے سے بچنے کے لیے میں نے ایک طریقہ نکال لیا تھا۔ رات کے کھانے کے وقت میں ڈائننگ ہال میں جاتا اور پنیر کا ٹکڑا ، ڈبل روٹی یا کوئی پھل وغیرہ جو بھی چیز ہاتھ لگتی جیبوں میں ڈال کر کیبن میں لے آتا۔ لیکن میرے مہربان دشمن کو بھی جلد ہی اس چوری کا پتہ چل گیا، اور وہ بری طرح برس پڑا۔ اس روز میں ایک مالٹا لے کر ڈائننگ روم سے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا کہ دیوقامت ویٹر نے دیکھ لیا۔ ویٹر نے مالٹا میرے ہاتھ سے اس طرح چھینا جس طرح چیل گوشت پر جھپٹتی ہے۔ اس کے تیور دیکھ کر میں تو یہی سمجھا تھا کہ وہ میری پٹائی شروع کر دے گا۔ لیکن خیریت گزری۔ اس روز کے بعد میں نے ہر وہ چیز کھانی چھوڑ دی، جس میں کچھ ملایا جا سکتا ہو۔ مجھے اندیشہ تھا کہ وہ مجھے زہر دے کر ہلاک کرنے کی کوشش کرے گا۔ اب میرا گزارا صرف پھلوں پر تھا۔ کبھی تو میں ڈائننگ روم سے کوئی پھل چرا لانے میں کامیاب ہو جاتا اور کبھی فاقہ کرنا پڑتا۔‘‘

    ’’جہاز کے نیویارک پہنچنے سے پہلے کپتان کی طرف سے مسافروں کو فیئر ویل ڈنر دیا گیا۔ اس روز ڈائننگ روم کو رنگ برنگی جھنڈیوں اور روشنیوں سے سجایا گیا تھا۔ ڈائننگ ہال کا بدلا ہوا نقشہ دیکھ کر ایک لمحے کو تو میں پہچان ہی نہ سکا۔ مسافروں نے اپنے بہترین لباس زیب تن کیے تھے۔ کچھ لوگوں نے ایسا لباس پہنا تھا جیسے کسی فینسی ڈریس شو میں شرکت کے لیے آئے ہوں۔ ہر میز پر خاص طور پر اس موقع کے لیے بنائی گئی خوبصورت ٹوپیاں رکھی ہوئی تھیں۔ مینوکارڈبھی وہ نہیں تھے جو روزانہ استعمال ہوتے تھے۔ ان نئے مینوکارڈوں پر سرخ ڈوریوں کے ساتھ سنہری ربن بندھے ہوئے تھے۔ اس ڈنر کو بہت بڑی تقریب کا رنگ دیا گیا تھا۔ ہر شخص خوش نظر آرہا تھا مگر میرے ازلی دشمن اس دیوقامت ویٹر نے مجھے ذہنی اذیت پہنچانے کے لیے اس موقع سے بھی خوب خوب فائدہ اٹھایا۔ دوسری میزوں پر نظر آنے والی کاغذی ٹوپیاں واقعی خوبصورت تھیں۔ انہیں کوئی بھی شخص بخوشی پہن سکتا تھا۔ لیکن اس کم بخت ویٹر نے میری میز پر جو کروں والی لمبی سی ٹوپی رکھ دی تھی جس کی نوک پر پھندنا لگا ہوا تھا۔‘‘

    کرسی سنبھالتے ہی میں نے وہ ٹوپی اٹھا کر نیچے پھینک دی۔ میرا خیال تھا کہ اس الوداعی ڈنر میں وہ ویٹر اپنی پچھلی حرکتوں کا اعادہ نہیں کرے گا،اور میں پہلی مرتبہ پیٹ بھر کر اپنی پسندکا کھانا کھا سکوں گا، لیکن صورت حال اس کے برعکس نظر آرہی تھی۔ وہ ویٹر دوسری میزوں پر تو سرو کر تا رہا لیکن مجھے مستقل طور پر نظرانداز کیے رکھا۔ چکن سوپ، فرائی فش، بھنے ہوئے گوشت، تلے ہوئے آلو اور کیک وغیرہ کی خوشبو سے میری بھوک میں اضافہ ہوتا رہا لیکن وہ بدبخت ویٹر میری میز کی طرف پھٹکا بھی نہیں۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد اس نے میز کے قریب رک کر مینو کارڈ اس طرح میری طرف پھینکا کہ وہ میرے نرخرے پر لگا۔ موٹے چکنے کارڈ کا کنارہ چھری کی طرح دھاردار تھا۔میں کراہ کر اپنا گلا سہلانے لگا۔ ویٹر نے ٹوپی فرش پر پڑی ہوئی دیکھی تو اس کی آنکھوں میں گویا خون اتر آیا۔ اس نے ٹوپی اٹھا کر اس طرح زبردستی میرے سر پر منڈھ دی کہ میری عینک گرتے گرتے بچی۔ میں نے ٹوپی اٹھا کر ایک بار پھر فرش پر پھینک دی۔ میری یہ حرکت دیکھ کر وہ ہسپانوی میں گالیاں بکنے لگا۔ میں ہسپانوی زبان سے بھی نا بلد تھا۔ اس طرح گالیوں کا مفہوم سمجھنے سے بچا رہا۔ وہ کچھ دیر تک گھونسا تانے کسی قسم کی دھمکیاں دیتا رہا اور میرا آرڈر لیے بغیر پھنکارتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔ اس مرتبہ اس کی واپسی تقریباً بیس منٹ بعد ہوئی ۔ میں نے ابھی تک اگرچہ اسے کوئی آرڈر نہیں دیا تھا لیکن اس نے سوکھی ہوئی ڈبل روٹی اور انتہائی گھٹیا شراب کا پیالہ میری میز پر پٹخ دیا۔‘‘

    ’’میں اس امید پر چاروں طرف دیکھنے لگا کہ شاید جہاز کا کوئی ملازم یا مسافر میرے ساتھ ویٹر کا یہ نازیبا رویہ دیکھ کر مداخلت کرے لیکن ہر شخص اپنے حال میں مست تھا۔ کسی کو دوسرے کی طرف توجہ دینے کی فرصت نہیں تھی۔ اگر کوئی میری طرف دیکھ بھی رہا تھا تو مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ بھی میری بے بسی کا مذاق اڑا رہا ہو۔ یہاں تک کہ اپنے قریب والی میز پر بیٹھے ہوئے یہودی جوڑے کے بارے میں بھی میں نے کچھ ایسا ہی محسوس کیا۔ میں عجب اذیت کے ساتھ سوچ رہا تھا کہ یہ کس عذاب میں مبتلا ہو گیا ہوں۔‘‘

    ’’اب وہاں مزید رکنا میرے لیے ممکن نہیں تھا۔ ظاہر ہے کچھ کھانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ میں اٹھ کر اپنے کیبن میں آگیا۔ یونانی یادونوں ہم شکل اطالوی بھائیوں میں سے کوئی بھی وہاں موجود نہیں تھا، میں لباس تبدیل کیے بغیر اپنی برتھ پر چڑھ کر لیٹ گیا۔ جہاز سمندر کی لہروں کو چیرتا   آگے بڑھتا رہا اور اوپر ہال سے موسیقی ، قہقہوں اور شوروغل کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔ میں اس قدر تھکا ہوا تھا کہ لیٹتے ہی سو گیا۔ اگر اس وقت کوئی آ کر میرا گلا بھی کاٹ دیتا تو مجھے پتا نہ چلتا۔ میں نجانے کتنی دیر سویا تھا کہ یکایک میری آنکھ کھل گئی۔ دوسرے ہی لمحے میں چھلانگ لگا کر اپنے برتھ سے اترا اور میں نےباتھ روم کی طرف دوڑ لگا دی، دروازے سے باہر آتے ہی میرا پیر پھسلا اور میں گرتے گرتے بچا۔ کسی نے راہداری میں قے کر دی تھی۔ میں سنبھلتا ہوا باتھ روم میں گھس گیا۔ چند منٹ بعد باہر نکلا تو میرا رخ کیبن کی بجائے بالائی عرشے کی طرف تھا۔ میرے کیبن کے تینوں ساتھی ابھی تک ڈائننگ ہال میں ہونے والی تقریب سے نہیں لوٹے تھے۔ اگر وہ کیبن میں ہوتے بھی تو میرے لیے ان کی موجودگی نہ ہونے کے برابر تھی۔ میں کچھ وقت تازہ ہوا میں گزارنا چاہتا تھا۔

    ’’عرشہ خالی تھا اور جہاز کے تمام مسافر ہال میں بیٹھے تھے۔ آسمان ابر آلود تھا۔ ہوا کے تیور بھی کچھ اچھے نظر نہیں آرہے تھے۔ تند موجیں جہاز کو اچھالنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ اس وقت اچھی خاصی خنکی ہو گئی تھی۔ دل چاہ رہا تھا کہ فوراً واپس لوٹ جاؤں لیکن کیبن کی گھٹن سے یہ کھلی فضا بدرجہا بہتر تھی۔ میں چند لمحے ایک جگہ کھڑا رہا پھر ٹہلنے کے انداز میں ایک طرف کو چلنے لگا۔ اور پھر وہ واقعہ پیش آیا جس پر مجھے ابھی تک یقین نہیں آسکا۔‘‘

    ’’میں ریلنگ کے ساتھ ساتھ چلتا ہو اجہاز کے پچھلے حصے میں پہنچ گیا اور واپس مڑنا ہی چاہتا تھا کہ یکایک ٹھٹک گیا۔ مجھے بڑی شدت سے احساس ہونے لگا کہ میں وہاں اکیلا نہیں ہوں۔ ہلکی سی آہٹ سن کر میں تیزی سے آوا زکی سمت گھوم گیا۔ دوسرے ہی لمحے اس دیوقامت ویٹر کو اپنے سامنے دیکھ کر مجھے اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہونے لگا۔ پورے جسم پر چیونٹیاں رینگنے لگیں۔ تاریک عرشے پر ہم دونوں کے سوا اور کوئی نہیں تھا۔ میری چھٹی حس کسی انجانے خطرے کا اعلان کر نے لگی۔ اگر کوئی اور شخص ہوتا تو ممکن ہے میں اس سے بھڑ جاتا لیکن اس دیوقامت کا مقابلہ کرنے کی میرے اندر سکت نہیں تھی۔ گزشتہ دس روز کے سفر کے دوران وہ اپنے نفسیاتی حربوں سے مجھے اس قدر کمزور کر چکا تھا کہ اب میرے اندر اس سے   نظریں ملانے کی ہمت بھی نہیں رہی تھی۔‘‘

    وہ مجھ سے تقریباً دس قدم کے فاصلے پر تھا۔ تاریکی ہونے کے باوجود اس کی آنکھوں کی وحشیانہ چمک مجھے صاف نظر آرہی تھی۔ اس نے جیسے ہی میری طرف قدم بڑھایا، میں نے دوڑ لگا دی۔ لیکن اسی لمحے کسی طاقتور لہر نے جہاز کو اچھال دیا۔ میں اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور چکنے فرش پر لڑھکتا ہوا ٹھیک اس کے قدموں میں جا رکا۔ میری اس وقت کی حالت کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا۔ بچپن میں ایک مرتبہ میں نے ایک بلی کو چوہا پکڑتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس واقعے کو اگرچہ چالیس سال گزر چکے ہیں لیکن بلی کے پنجے میں آنے کے بعد چوہے کے منہ سے جو آواز نکلی تھی وہ اب بھی میرے ذہن میں گونج رہی ہے۔ بہرحال، اس وقت میری حالت اس چوہے سے مختلف نہیں تھی جو بلی کے پنجے میں پھنس چکا تھا۔ میں نے اپنے آپ کو کبھی ہیرو ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی۔ بچپن اور لڑکپن میں بھی ہنگاموں سے ہمیشہ دور رہنے کی کوشش کرتا تھا۔ دنگا فساد میری فطرت میں کبھی شامل نہیں رہا۔‘‘

    ’’میرا خیال تھا کہ وہ مجھے اٹھا کر بپھرے ہوئے سمندر میں پھینک دے گا۔ لیکن اس نے جیسے ہی مجھے گریبان سے پکڑ کر اٹھایا میرے اندر نجانے اتنی ہمت کہاں سے آگئی کہ میں نے اچانک ہی اس کے جبڑے پر گھونسا جڑ دیا۔ اس نے بھی مجھے جوابی گھونسا رسید کر دیا اور میں لڑکھڑاتا ہوا کئی قدم دور جا گرا۔ میرے سنبھلنے سے پہلے ہی اس نے   مجھے چھاپ لیا۔ ہم دونوں ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو گئے۔ مجھے اپنے آپ پر حیرت تھی کہ میں اس دیو کا مقابلہ کس طرح کر رہا ہوں۔ اس کے منہ سے ہلکی ہلکی غراہٹیں نکل رہی تھیں۔ لیکن میرے منہ سے کوئی آواز تک نہیں نکل رہی تھی۔ میرا خیال ہے کہ اگر میں مدد کے لیے چیختا بھی تو کسی تک میری آواز نہ پہنچ پاتی۔ پہلی بات تو یہ کہ ان لوگوں نے خود ہی ایک ہنگامہ مچا رکھا تھا پھر سمندر کی بپھری ہوئی لہریں تھیں جن سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔‘‘

    ’’لہروں نے اب طوفانی صورت اختیار کر لی تھی۔ جہاز کبھی دائیں طرف جھکتا کبھی بائیں طرف۔ ایک موقع پر میرا پیر پھسلا اور میں تیزی سے کنارے کی طرف لڑھکنے لگا۔ قریب تھا کہ میں سمندر میں جا گرتا کہ اچانک ہی عرشے میں گڑا ہوا ایک ہک میرے ہاتھ میں آگیا۔ میرے سنبھلتے سنبھلتے دیوقامت ویٹر نے دوبارہ مجھے دبوچ لیا۔ مجھے یاد نہیں کہ ہماری یہ دھینگا مشتی کتنی دیر تک جاری رہی۔ پانچ منٹ، دس منٹ یا شاید اس سے بھی زیادہ۔ مجھے صرف اتنا یاد ہے کہ میں نے مایوس ہوکر ہمت نہیں ہاری تھی۔ میں موت سے پنجہ آزما تھا اور مجھے لڑنا تھا۔ یہ عجیب بات تھی کہ گزرنے والے ہر لمحے کے ساتھ میری ہمت بڑھتی جا رہی تھی، میں اب اس پر حاوی ہو رہا تھا، لیکن دفعتاً اس کے فولادی گھونسے کی ضرب میری کنپٹی پر لگی اور مجھے یوں محسوس ہوا جیسے آنکھوں کے سامنے سیکڑوں سورج بیک وقت طلوع ہو رہے ہوں۔ میں لڑکھڑاتا ہوا ریلنگ سے جا ٹکرایا۔ اس لمحے اس دیوزاد نے میرے اوپر چھلانگ لگا دی لیکن اسے گرفت جمانے کا موقع دیے بغیر میں نے اپنی تمام تر قوت مجتمع کرکے اسے پوری قوت سے اچھال دیا۔ وہ دھپ کی آواز سے کہیں گرا۔ میرا خیال تھا کہ وہ دوبارہ مجھ پر حملہ آور ہو گا لیکن کئی سیکنڈ گزر گئے۔ اس کی طرف سے کوئی جوابی کارروائی نہیں ہوئی۔ میں نے آنکھیں کھول دیں۔ اسی لمحے وہ شخص مجھے لڑھکتا ہوا سمندر میں گرتا ہوا دکھائی دیا۔‘‘

    ’’میری ٹانگوں میں اب جسم کا بوجھ سہارنے کی سکت نہیں رہی تھی۔ میں عرشے پر گر گیا اور صبح تک وہیں پڑا رہا۔ یہ بھی ایک معجزہ ہی تھا کہ مجھے نمونیہ نہیں ہوا۔ میں نہ تو نیند میں تھا نہ پوری طرح جاگ رہا تھا۔ بس عالم رویا کی سی کیفیت تھی۔ صبح صادق کے وقت بارش شروع ہو گئی۔ یہ بارش ہی مجھے حقیقت کی دنیا میں لے آئی اور میں اٹھ کر لڑکھڑاتا ہوا اپنے کیبن میں پہنچ گیا۔ یونانی اور دونوں ہمشکل اطالوی اپنے اپنے بستروں پر گہری نیند سو رہے تھے۔ میں بڑی مشکل سے اپنے برتھ پر چڑھ کرگر سا گیا۔ میرا جسم شل ہو رہا تھا۔ ریشہ ریشہ دکھ رہا تھا۔ بستر پر گرتے ہی گہری نیند سو گیا۔ جب میری آنکھ کھلی تو کیبن خالی تھا اور اس وقت دوپہر کاایک بج چکا تھا۔‘‘

    ’’بہت خوب ! شیکن کے خاموش ہونے پر ایوان نے مسکراتی ہوئی نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا۔ ’’تو گویا تمہارا مقابلہ کسی مافوق الفطرت قوت سے تھا۔‘‘

    ’’کیا؟‘‘ شیکن نے مجھے گھورا۔ ’’مجھے یقین تھا کہ تم اس قسم کی بات ضرور کرو گے۔ لیکن میری کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی!‘‘

    ’’تو ابھی کچھ او ربھی باقی ہے؟‘‘ایوان نے بدستور مسکراتے ہوئے کہا۔

    ’’ہاں! ‘‘ شیکن کہنے لگا۔ ’’جب میں سو کر اٹھا تو اپنے آپ میں بے حد کمزوری محسوس کر رہا تھا لیکن کسی نہ کسی طرح ڈائننگ روم میں پہنچ گیا۔ میں یہ معلوم کرنا چاہتا تھا کہ گزشتہ رات والے واقعے کی کوئی حقیقت بھی تھی یا یہ سب کچھ محض ایک بھیانک خواب تھا۔ کیونکہ مجھ جیسا کمزور و ناتواں شخص اس جیسے دیو قامت شخص کو اٹھا کر پھینکنا تو درکنار اسے اپنی جگہ سے ہلا بھی نہیں سکتا تھا۔اس وقت دوپہر کا کھانا ہو رہا تھا۔ میں اپنی مخصوص میز پر بیٹھ گیا۔ ابھی میں ٹھیک طرح سے کرسی سنبھال بھی نہیں سکا تھا کہ ویٹر پہنچ گیا۔ یہ وہ ویٹر نہیں تھا۔ جہاز کے ریستوران کی مخصوص یونیفارم میں ملبوس یہ ویٹر میری طرح پستہ قامت اور ناتواں سے جسم کا مالک تھا اور ہونٹوں پر دوستانہ مسکراہٹ بھی تھی۔ اس نے مینوکارڈ میری طرف بڑھاتے ہوئے نہایت شائستہ لہجے میں دریافت کیا کہ میں اس وقت کیا کھانا پسند کروں گا۔‘‘

    ’’میں چند لمحے اس کی طرف دیکھتا رہا پھر ٹوٹی پھوٹی فرانسیسی اور جرمن زبان میں دیوقامت ویٹر کے بارے میں دریافت کرنے لگا۔ لیکن وہ ہسپانوی کے علاوہ اور کوئی زبان نہیں سمجھتا تھا۔ میں نے اشاروں میں اپنا مطلب واضح کرنے کی کوشش کی مگر اس طرح بھی کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا۔ بالآخر میں نے ان چیزوں کا آرڈر دے دیا جو میں اس وقت کھانا چاہتا تھا۔ میرے آرڈر کی تعمیل میں چند منٹ سے زیادہ نہیں لگے۔ اس طویل سفر کے دوران میں نے پہلی مرتبہ پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔ اس کے بعد وہی ویٹر مجھے سرو کرتا رہا۔ اس دوران موقع پا کر ...... میں نے ایک اور ویٹر سے اس دیوقامت ویٹر کے بارے میں دریافت کیا۔ وہ چند لمحے تو حیرت سے میری طرف دیکھتا رہا پھر اس نے بتایا کہ اس قدو قامت اور حلیے کا کوئی ویٹر اس جہاز پر کام نہیں کرتا۔ اس ویٹر نے ایک اور دلچسپ انکشاف یہ کیا کہ سفر کے دوران دس دن تک تو میں اپنے کیبن سے باہر ہی نہیں نکلا تھا۔ میری فرمائش پر کھانا وغیرہ کیبن ہی میں پہنچایا جاتا رہا تھا۔‘‘

    ’’کمال ہو گیا!‘‘ شیکن کے خاموش ہونے پر ایوان چونک گیا۔ ’’کیا تم نے کسی اور سے بھی ویٹر کے اس بیان کی تصدیق کی تھی؟‘‘

    ’’ہاں! میں نے پھر اپنے بارے میں باقاعدہ تفتیش شروع کر دی۔ میں نے بہت سے لوگوں سے دریافت کیا۔ ہر شخص کا ایک ہی بیان تھا کہ سفر کے پہلے دس دن تک تو میں نے اپنے کیبن سے قدم تک باہر نہیں نکالا تھا۔ میرے کیبن میں میرے یونانی ساتھی اور دونوں ہم شکل اطالویوں نے بھی اس کی تصدیق کر دی کہ میں ہر وقت اپنے کیبن میں پورٹ ہول کے سامنے بیٹھا سمندر کی لہروں کو گھورتا رہتا تھا۔‘‘

    ’’یہ واقعی بڑی عجیب بات ہے!‘‘ ایوان نے اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’کیا جہاز کے مسافروں میں اس حلیے کا کوئی شخص نظر نہیں آیا؟‘‘

    ’’میں نے بندرگاہ پر اسی قد و قامت کے ایک آدمی کو جہاز سے اترتے   ہوئے دیکھا تو تھا مگر اس کا چہرہ نظر نہیں آسکا تھا۔‘‘ شیکن نے جواب دیا۔

    ’’جہاز بندرگاہ پر کب لنگر انداز ہوا تھا؟‘‘

    ’’آج سہ پہر! ہوٹل میں کچھ دیر آرام کرنے کے بعد میں تمہاری تلاش میں نکل کھڑا ہوا تھا!‘‘

    ’’قیام کہاں ہے! میرا مطلب ہے کس ہوٹل میں ٹھیرے ہو؟‘‘ ایوان نے دریافت کیا۔

    ’’گرینڈ ہوٹل کمرہ نمبر انتیس! یہ ہوٹل تھرڈ ایونیو کی ایک بغلی گلی میں واقع ہے مگر میرے قیام کا اس واقعے سے کیا تعلق؟‘‘ شیکن بولا۔

    ’’کچھ نہیں بولا!‘‘ ایوان نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’اس وقت رات کے دس بجے ہیں۔ میں فی الحال اس کی کوئی توجیہ پیش نہیں کر سکتا ۔ ممکن ہے یہ سب کچھ تمہارا ذہنی فتور ہو بہرحال، صبح پہلی فرصت میں تم سے ملوں گا۔ اس وقت ایک بہت ضروری کام یاد آگیا ہے۔‘‘

    شیکن الجھی ہوئی نگاہوں سے ایوان کی طرف دیکھنے لگا۔ اس نے ویٹرس کو بلا کر کافی کا بل ادا کیا اور ہوٹل سے باہر آ کر اسے خداحافظ کہتا ہوا تیز تیز قدموں سے ایک طرف کو چل دیا۔

    شیکن کی کہانی نے ایوان کے ذہن کو بری طرح الجھا رکھا تھا۔ وہ بحری سفر کے دوران دس دن تک ایک ایسے شخص کا سامنا کرتا رہا جو اسے نت نئے طریقوں سے ذہنی اذیت پہنچاتا رہا اور آخری روز وہ دونوں ایک دوسرے سے دست و گریباں بھی ہوئے جبکہ جہاز کے مسافروں کا بیان تھا کہ شیکن دس روز تک اپنے کیبن سے باہر ہی نہیں نکلا تھا۔ ظاہر ہے کہ تمام مسافروں کو شیکن سے کوئی دشمنی نہیں ہو سکتی تھی جو اس کا بیان جھٹلانے کی کوشش کرتے۔ دوسری طرف شیکن بھی ایسا شخص نہیں تھا جس کے بارے میں یہ سمجھ لیا جاتا کہ اس نے محض مذاق کے طور پر یہ کہانی گھڑی ہو گی۔ صرف یہی بات سمجھ میں آتی تھی کہ یہ سب کچھ شیکن کے ذہنی فتور کا نتیجہ تھا۔ ممکن ہے وہ سفر کے دوران طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے اپنے کیبن سے باہر نہ نکلا ہو اور اس دوران اس کا ذہن اسے وہ تماشے دکھاتا رہا جسے وہ حقیقت سمجھ بیٹھا۔

    ایوان نے دیوار گیر کلاک کی طرف دیکھا۔ رات کے بارہ بج چکے تھے۔ اس نے شیلف میں سے ایک کتاب نکالی اور تقریباً نصف گھنٹے تک اس کا مطالعہ کرتا رہا۔ اس کا خیال تھا کہ اس کتاب سے اسے شیکن کی صورت حال کو سمجھنے میں کچھ مدد ملے گی لیکن کوئی خاطر خواہ نتیجہ ہاتھ نہ آسکا۔ اچانک اس کے ذہن میں ہنٹ کا خیال ابھرا۔ وہ پراسرار علوم کا ماہر تھا۔ ممکن ہے وہ اس کی کوئی توجیہہ کر سکے۔ یہ خیال آتے ہی اس نے فون کا ریسور اٹھایا اور ہنٹ کا نمبر ڈائل کرنے لگا۔ وہ غالباً جاگ رہا تھا اور فون سے زیادہ دور بھی نہیں تھا۔ کیونکہ دوسری ہی گھنٹی پر کال ریسیو کر لی گئی تھی۔ ’’ہیلو ہنٹ! تم زیادہ مصروف تو نہیں۔ ایک مسئلے پر بات کرنی ہے!‘‘

    ’’یقیناً کوئی بہت اہم مسئلہ ہو گا ایوان ! ورنہ تم اس وقت فون نہ کرتے۔ کہو، کیا معاملہ ہے؟‘‘ ہنٹ کی آواز سنائی دی۔

    ایوان نے تفصیل سے اسے شیکن کی کہانی سنائی۔ اس کے خاموش ہونے پر ہنٹ بھی چند لمحے خاموش رہا۔ پھر ریسور پر اس کی آواز ابھری۔ ’’بہتر ہو گا کہ تم فوراً یہاں چلے آؤ۔ میرے خیال میں تمہارا دوست نادانستہ طور پر کسی معاملے میں الجھ چکا ہے جو اس کے لیے جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔‘‘

    مزید کچھ سنے بغیر ایوان نے ریسیور پٹخا اور باہر کی طرف دوڑ لگا دی۔ اس وقت ایک بج کر بیس منٹ ہو چکے تھے۔

    شیکن کا چہرہ خوف کی شدت سے اس طرح سفید ہو رہا تھا جیسے جسم کا سارا خون نچڑ چکا ہو۔ اس کے ہاتھ اور پیر پلنگ کی پٹیوں سے بندھے ہوئے تھے۔ منہ میں کپڑا ٹھنسا ہوا تھا جس کی وجہ سے اسے اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا، وہ خوفزدہ نگاہوں سے اس دیوقامت شخص کی طرف دیکھ رہا تھا جو اس کے چرمی سفری بیگ کے ٹانکے ادھیڑ رہا تھا۔ بیگ میں بھری ہوئی چیزیں اس نے فرش پر پھینک دی تھیں۔

    رات گیارہ بجے کے لگ بھگ شیکن اپنے کمرے میں آتے ہی سو گیا تھا۔ یہ کمرہ گراؤنڈ فلور پر تھا جس کا ایک دروازہ عقبی گلی میں بھی کھلتا تھا۔ سونے سے پہلے اس نے دونوں دروازے مقفل کیے تھے لیکن تین بجے کے قریب ہلکی سی آہٹ سن کر اس کی آنکھ کھل گئی ۔ نائٹ بلب کی روشنی میں اسے وہی دیوقامت ویٹر دکھائی دیا جو بحری جہاز میں اس کا شریک سفر رہا تھا۔ اس نے چیخنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ ویٹر نے جلدی سے آگے بڑھ کر اسے شکنجے میں جکڑ لیا اور پھر اسے مکمل طور پر بے بس کر دیا۔

    ویٹر کو اس کے کمرے میں آئے ہوئے تقریباً پانچ منٹ ہو چکے تھے۔ دفعتاً راہداری کی طرف والا دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا اور ایک شخص اندر داخل ہوا۔ ویٹر نے بھی اس شخص کو دیکھ لیا اور عقبی گلی میں کھلنے والے دروازے کی طرف چھلانگ لگا دی لیکن وہ ابھی دو قدم دور ہی تھا کہ وہ دروازہ بھی کھلا اور اس طرف سے ایک اور شخص اندر داخل ہوا جس نے بلاتکلف ہاتھ میں پکڑی ہوئی آہنی سلاخ ویٹر کے سر پر دے ماری۔ وہ کراہتا ہوا فرش پر ڈھیر ہو گیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے دونوں نوواردوں نے ویٹر کے ہاتھ پیر باندھ دیے۔ ان میں سے ایک نے بتی جلا دی۔ تیز روشنی ہوتے ہی شیکن چونک گیا۔ ان میں ایک تو ایوان تھا اور دوسرا اس کے لیے اجنبی۔ ایوان نے جلدی سے آگے بڑھ کر شیکن کے منہ سے کپڑا نکال کر اس کے ہاتھ پیر کھول دیے۔

    ’’بہت اچھے وقت پر پہنچے، ورنہ یہ کم بخت تو شاید مجھے قتل ہی کر دیتا۔‘‘ شیکن نے کہا پھر یکدم بدحواس سا ہو گیا۔ ’’یہ ...... یہ ویٹر......‘‘

    ’’جہاز پر اس کا وجود سو فیصد تمہارے ذہن کی پیداوار تھا لیکن اس وقت یہ مجسم ہے یعنی حقیقی انسان۔‘‘ ایوان اس کی طرف دیکھ کر مسکرایا۔

    ’’کیا مطلب؟‘‘ شیکن نے اسے گھورا۔ ’’یعنی تم یہ ثابت کرنا چاہتے ہو کہ واقعی میرا دماغ خراب ہو گیا ہے؟ اور یہ صاحب کون ہیں؟‘‘ وہ دوسرے آدمی کی طرف دیکھنے لگا جو ادھڑے ہوئے سفری بیگ میں جھانک رہا تھا۔

    ’’یہ مسٹر ہنٹ ہیں، میرے دوست!‘‘ ایوان نے تعارف کرایا۔’’انہی کی بدولت تم اس وقت اس دیوزاد کے شکنجے سے نجات حاصل کر سکے ہو۔ ورنہ دماغ خراب ہونے والی بات تو کیا وہ ویٹر شاید تمہیں قتل ہی کر ڈالتا۔‘‘

    ’’اب میرا دماغ شاید واقعی خراب ہو جائے۔‘‘ شیکن نے بے بسی کا مظاہرہ کیا۔ ’’یہ شخص دس دن تک جہاز میں مجھ پر کسی عذاب کی طرح مسلط رہا۔ لوگوں نے میرا مذاق اڑایا اور کہا کہ میں دس دن تک اپنے کیبن میں بند رہا۔ اسے میرا ذہنی فتور قرار دیا گیا اور اب حقیقی انسان کے روپ میں   یہاں موجود ہے اور بقول تمہارے مجھے قتل بھی کر سکتا تھا۔ یہ سب کیا ہے؟ میں کچھ نہیں سمجھ سکا۔‘‘

    ’’دیکھو شیکن! ایوان اسے سمجھانے والے لہجے میں بولا۔ ’’بعض پراسرار علوم ایسے ہوتے ہیں جنہیں عام آدمی نہیں سمجھ سکتا۔ ٹیلی پیتھی اور غیب دانی بھی ایسے ہی علوم ہیں۔ اس موضوع پر میں جب بھی بات کرتا تم میرا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ لیکن بحری سفر کے دوران دس دن تک تم جس ذہنی اذیت کا شکار رہے وہ ٹیلی پیتھی کا کمال تھا۔ یہ ایک ایسا علم ہے جس کے بارے میں عامل کسی بھی شخص کے دماغ پر قابض ہو سکتا ہے۔ اس کی حرکات و سکنات اور اس کے خیالات پھر اس عامل کے تابع ہوتے ہیں، معمول وہی سوچے گا جو عامل چاہے گا۔ جہاز کے مسافروں کا یہ بیان درست ہے کہ سفر کے دوران پہلے دس دن تم اپنے کیبن میں بند رہے تھے۔ اور اس دوران تمہیں جو واقعات پیش آتے رہے، وہ بھی اپنی جگہ درست ہیں۔‘‘

    ’’یا تو تمہارا دماغ چل گیا ہے یا مجھے بے وقوف ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہو۔‘‘ شیکن نے اسے گھورا۔

    ’’میں تمہیں سمجھاتا ہوں!‘‘ ایوان مسکراتے ہوئے بولا۔ ’’یہ شخص بہت بڑا سمگلر اور ٹیلی پیتھی کا ماہر ہے۔‘‘ اس نے بے ہوش ویٹر کی طرف اشارہ کیا۔ ’’اس سے پہلے اس نے اپنے علم کی بہت چھوٹی چھوٹی آزمائشیں کی تھیں جن میں بلاشبہ یہ کامیاب رہا پھر ایک بڑے مقصد کے لیے اس نے تم پر اپنا علم آزمانے کا فیصلہ کر لیا۔ اسے کسی طرح علم ہو گیا تھا کہ تم نیویارک جانے والے ہو۔ اس نے کسی کے توسط سے یہ چرمی سفری بیگ کسی نہ کسی طرح سستے داموں تمہارے ہاتھ فروخت کرا دیا۔ ایک اچھی چیز برائے نام قیمت پر ہاتھ آتے دیکھ کر تم لالچ میں آگئے۔ بہرحال، تم جیسے ہی جہاز میں سوار ہوئے اس نے ٹیلی پیتھی کے ذریعے تمہارے دماغ پر قبضہ کر لیا۔ یہ حقیقت ہے کہ جہاز پر سوار ہوتے ہی تمہاری طبیعت خراب ہو گئی تھی اور تم مستقل طور پر اپنے کیبن میں بند رہے جبکہ یہ اپنی ذہنی طاقت کے ذریعے تمہیں ذہنی طور پر وہ تماشے دکھاتا رہا جنہیں تم سچ سمجھتے رہے۔ جہاز پر سوار ہونے کے بعد تمہاری طبیعت خراب کرنے میں بھی اسی کا ہاتھ تھا۔ اس نے تمہارے دماغ میں یہ بات بٹھا دی تھی کہ تم بیمار ہو۔ اور تمہیں کیبن سے باہر نہیں نکلنا چاہیے۔ اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ تم جہاز کے دیگر مسافروں سے الگ تھلگ رہو تاکہ کسی سے برائے نام قیمت پر ملنے والے اس بیگ کا تذکرہ نہ کر سکو۔ ظاہر ہے لوگ اس بیگ کو دیکھنے کی خواہش کرتے اور اس طرح بات آگے بڑھ جاتی۔ بہرحال، سفر کے دسویں دن تم سے اس کا دماغی رابطہ ٹوٹ گیا اور کوشش کے باوجود یہ تم سے دوبارہ رابطہ قائم نہ کر سکا۔ یہ تم سے ایک دن پہلے ہوائی جہاز کے ذریعے یہاں پہنچ گیا تھا تاکہ وہ بیگ وصول کر سکے!‘‘

    ’’لیکن! جب اسے خود یہاں آنا تھا تو بیگ اس پیچیدہ طریقے سے میرے ذریعے بھیجنے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘ شیکن نے الجھی ہوئی   نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا۔

    ’’تم ڈپلومیٹک پاسپورٹ پر سفر کرتے ہو اور کسٹمز والے تمہارے سامان کی تلاشی نہیں لیتے۔ جبکہ یہ ایک بدنام سمگلر ہے اور اس کے جسم کے اندر تک جھانکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔‘‘

    ’’تو کیا بیگ میں کوئی غیر قانونی چیز موجود ہے؟‘‘

    ’’ہیروئن! جس کے پکڑے جانے پر تمہیں عمر قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔‘‘ ایوان نے مسکراتے ہوئے کہا۔

    شیکن کا چہرہ دھواں ہو گیا۔ ’’تت ...... تمہیں ...... یہ سب کچھ کیسے پتہ چلا؟‘‘ وہ ہکلایا۔

    ’’مسٹر ہنٹ ٹیلی پیتھی کے علم میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔‘‘ ایوان نے ہنٹ کی طرف اشارہ کیا۔ ’’تمہیں رخصت کرنے کے بعد میں نے ان سے رابطہ قائم کرکے تمہاری کہانی سنائی تو یہ خیال انہی کے ذہن میں آیا کہ تمہیں ٹیلی پیتھی کے ذریعےآلہ کار بنایا گیا ہے۔ انہیں یقین تھا کہ وہ شخص تم سے دوبارہ دماغی رابطہ قائم کرنے کی کوشش کرے گا۔ یہ اس تاک میں رہے اور پھر اس نے جیسے ہی تم سے ذہنی رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی یہ اس کے دماغ میں پہنچ گئے اور ساری باتیں اس سے معلوم کر لیں۔ مسٹر ہنٹ نے اس سے یہ بھی معلوم کر لیا کہ یہ ٹھیک تین بجے بیگ لینے کے لیے یہاں پہنچے گا۔ چنانچہ اس طرح ہم بھی یہاں پہنچ گئے۔ اب مسٹر ہنٹ نے اس کے ذہن کو اس طرح الجھا دیا ہے کہ یہ آئندہ اس علم سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کرے گا۔‘‘

    ’’کک ...... کیا یہ سچ ہے مسٹر ہنٹ!‘‘ شیکن نے سوالیہ نگاہوں سے ہنٹ کی طرف دیکھا۔

    ہنٹ نے کہا:

    ’’ہاں، مگر تمہیں پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ پولیس کچھ دیر میں پہنچ جائے گی۔ مجھے افسوس ہے کہ تم اپنے بیگ سے محروم ہو جاؤ گے۔‘‘

    ’’علاوہ ازیں، یقین واثق ہے کہ آئندہ تم کوئی اچھی شے سستے داموں خریدنے کی غلطی نہیں کرو گے۔‘‘ ایوان نے شیکن کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔

    ’’سچ کہتے ہو! مگر تم جانتے ہو ہم یہودی جہاں دو سینٹ کا بھی فائدہ دیکھیں، ہماری رال ٹپکنے لگتی ہے!‘‘ شیکن نے بے بسی سے کندھے اچکائے۔ شیکن کی صاف گوئی پر دونوں مسکرائے بغیر نہ رہ سکے۔ اسی لمحے راہداری میں بھاری قدموں کی چاپ سنائی دی تو دونوں کی توجہ اس جانب مبذول ہو گئی۔