ملاپنا جیف

ملاپنا جیف

کس پہ اعتبار کریں

    ترجمہ: انعام اللہ جرال

     

    جہاں نو میں

    جو کچھ ہے، مجھے کیسے ہو اعتبار اس کا

    کہ میں تو دور تک ہر شے کو دیکھوں

    صاف ہی دیکھوں

    مگر یہ کیا؟

    ہر شے مسخ ہے

    کو ئی وعدہ نبھانے کے لیے

    میں سوچ سکتا ہی نہیں

    کیونکہ محبت ایک دھوکا ہے

    جنم دیتا ہے صدموں کو

    اور میرا

    موجودہونا بھی تو اک صدمے کا باعث ہے

    اپنے مفاد کی خاطر

    غلام، زاہد و خان نے بھی

    بڑی اذیتوں میں

    اطاعت شعاری اختیار کر رکھی ہے

    قبیلے کی عصبیت کے ساتھ

    دولت کا پیچھا کرتے ہیں

    ہمارے مشاہدے میں آیا

    ہم نے سنا دیکھا لیکن ہم نے

    انسانی دھوکا دہی کے بنائے ہوئے

    جالوں کے سوا کچھ نہیں پایا

    دنیا والے بھیڑیے کی طرح آوازیں

    کستے اور اشتعال دلاتے ہیں

    آدمی کی چالبازیوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے میں جدوجہد

    کرتے اور جھگڑتے ہیں

    کیونکہ ہم اپنے آس پاس سونا

    جمع کرنے کے لیے ڈراؤنے کھیل کھیلتے ہیں!

    ماتحتوں کو جان لینا چاہیے کہ ان کے

    حاکم بھی سچ پر نہیں کہ

    حاکم بھی اپنے ماتحتوں کے لیے

    کوئی سونا باقی نہیں چھوڑتے

    حاکموں نے ہمیشہ ایسے قانون کی پاسداری

    کی ہے جو

    پاگل پن کے سوا کچھ بھی نہیں

    مفلس آدمی کی مدد کرو

    اسے خوش رکھنے کی کوشش کرو

    وہ تمہارے احسان کا بدلہ برائی میں دے گا

    جس پر تمہیں دکھ اور افسوس ہو گا!

    تم نیکی کرنے کا اشتعال دلاؤ

    لیکن نتیجہ تمہیں برائی میں ملے گا

    جگری یار دشمن بن جاتے ہیں

    وہ لڑتے اور جھگڑتے ہیں اور

    ایک دوسرے سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں

     

    یہاں کوئی علامہ، طالب علم یا بے وقوف

    بھی آزاد نہیں

    وہ سب شاہ کے غلام ہیں اور

    اس حاکم کے محکوم جس نے سچائی

    کو مسخ کر دیا ہے ...... یہ

    یہ گناہ عظیم بھی میں دیکھتا ہوں

     

    شیخ و زاہد، ٹھگ اور وعظ کرنے والے سب

    تم اور   مجھ پر جبری حکمرانی کرتے ہیں

    ہماری محنت، عبادت اور ایمان کو وہ

    شیطانی عمل قرار دیتے ہیں

     

    مجھ جیسے ہر آدمی کی خواہش ہوتی ہے

    بعض عورت کے سخت آرزو مند ہوتے ہیں

    بعض تخت حاصل کرنے کی لالچ کرتے ہیں

    لیکن شاہ کا خواب کہ لوگوں کی زمینوں پر

    کس طرح سے قبضہ جمائے

    ان کی توجہ ہٹاتا ہے اپنی خواہشوں کو پورا کرنے کے لیے

    تاکہ وہ پژمردگی کے بوجھ تلے کراہتے رہیں

    لیکن اس جہان نو میں سکون دل کے لیے

    کوئی کوشش ہی نہیں کرتا

     

    میں نے تمام کیمیا دانوں کے فن کا مطالعہ کیا، عبور حاصل کیا

    لیکن سونا بنانے کے لیے انھوں نے ریت کا استعمال کیا

    سیاہ پتھر یاقوت بن گئے، اتنے سرخ جیسے قلب

    شبنم کے قطروں سے لعل و گوہر بنا کر منڈی میں لے آیا

    لیکن مجھے لعنت و ملامت کے سوا شکریہ تک نہ ملا

     

    کس نے جمشید کے عمدہ محل کو خاکستر کر دیا

    بڑے ایوان جہاں ضیافتیں ہوتیں زمین پر ڈھیر کر دیے

    دنیا میں کوئی ایسا آدمی نہیں جو غمزدہ نہ ہو

    کیونکہ قسمت کی دیوی نے مجھ سے ایک بالشت جگہ بھی چھین لی

    اس کے بدلے میں نے اپنی بدقسمتی کو پایا

    تم اک ایسے آدمی کی مدد کرو

    جو سورج کی طرح چمکدار نظر آئے

    تم نے اس کے ساتھ کیا نیکی کی ہے

    لیکن وہ تمہارا کبھی شکریہ ادا نہیں کرے گا

    اپنی عزت نفس کے لیے کسی سے مت مانگو، پابندی سے کام کرو

    ادھر کچھ بھی نہیں ہوا

    کوئی سچائی نہیں ہے۔ انہوں نے جب سے یہ کہا کہ

    شاید آدمیوں کا اعتماد جیت جائے

    میں نے کام کرنے کی انتہا کر دی، لیکن مجھے

    کچھ بھی نہیں ملا

    ایسی دنیا سے بھاگ جاؤ جہاں ظلم اور سردمہری ہے

    اچھا کیا برا کیا ہے یہ تمہیں بتایا نہیں جاتا

    جب حکمران اپنے دوستوں پر اعتبار کرنا چھوڑ دیتے ہیں

    تونا معقول لوگ بہادر بن کر ابھرتے ہیں

    امیروں کے دل نہیں ہوتے

    نیک لوگوں کے پاس سونا نہیں ہوتا

    لوگ اس کی تعلیم کے خلاف ایسا کام کرتے ہیں

    کہ ہر کوئی یقین کر لیتا   ہے

     

    میں نے یہ دیکھا کہ اس دنیا میں بھاری دولت کیا معنی رکھتی ہے

    میں نےیہ بھی دیکھا کہ عظمت اور شان و شوکت نے بھی کچھ نہیں کمایا

    اور بدصورتی بھی، جبکہ یہی پہلے خوبصورت تھی

    میں نے دیکھا اپنی پیاری محبت کا انجام

    خوبصورت بدن ایسے لگتے ہیں جیسے ان کو سزا ملی ہو

    خوبصوتی دوبارہ عزت پانے کا سوچ بھی نہیں سکتی

     

    اے رب کائنات! تیری حکمرانی سارے جہانوں میں!

    سچے ایمان والے مر گئے ہیں، اب تیری طرف کوئی متوجہ نہیں ہوتا

    ہماری دنیا کو شیطان کی جھولی میں نہ ڈالنا

    تو اپنا جلوہ دکھا، اس گندی برائی کو پھاڑ کر پھینک دے

    غمزدہ دنیا کو جگ مگا دے اور سچے ایمان کی کھوئی ہوئی

    عزت بحال کر دے

    زندگی میری اجیرن ، بال میرے خاکستری رنگ

    اس دن مصیبت کا پہاڑ میری زندگی پر ٹوٹ پڑا

    میرا دل اپنی خوبصورتی کی دھن میں مجھ پر حکمرانی کرنے لگا

    اے میرے پیدا کرنے والے رب! میں نے اپنے دوستوں

    ساتھیوں سے دکھ کے سوا کچھ نہیں پایا

    رحم کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا