موگن گینی
ترجمہ: شہزاد احمد
مری دھرتی وہ دھرتی ہے جہاں بارش نہیں ہوتی
پسینہ میری پیشانی کا ان فصلوں کا پانی ہے
اسی پھیلی ہوئی دھرتی پہ کچھ کافی کے پودے ہیں
مرا ہی خون ان کی جگمگاتی سرخ رنگت ہے
نمو ان کی ...... مرے ہی خون کا رس ہے
بھنی جائے گی کافی
پھر پسے گی ...... پھر گھلے گی پیالیوں میں
رنگ کالا اس کا ہو گا
یہ سیاہی رنگ ہے میری مشقت کا
مشقت میری قسمت کی سیاہی بن گئی گویا
کبھی پوچھو پرندوں سے جو گاتے ہیں
مچلتی ندیوں سے جو سدا آوارہ پھرتی ہیں
بہت اونچی ہواؤں سے جو کھلیانوں سے آتی ہیں
سحر دم کون اٹھتا ہے!
مشقت کون کرتا ہے!
بہت لمبی مسافت میں
اٹھاتا کون ہے لکڑی کے ہل، دانوں کے بورے اپنے کاندھے پر
پکی فصلوں کے خوشے کاٹتے ہیں ہاتھ کس کے؟
اور کسے ملتی ہے مزدوری میں نفرت،
جو بھوکا ، باسی مچھلی، چند پیسے اور پھٹے کپڑے
یہ میرے جسم پر جو نیل ہیں
سب میں نے مزدوری میں پائے ہیں
مگر یہ تو کہو وہ کون ہے؟
جو کھیت میں فصلیں اگاتا ہے
مگر یہ تو کہو وہ کون ہے؟
جو ٹہنیوں پر پھول لاتا ہے
ذرا یہ تو کہو، صاحب کو پیسے کون دیتا ہے؟
وہ پیسے جو مشینوں ، موٹروں اور عورتوں پر صرف ہوتے ہیں
مگر سچ ہے کہ کالے حبشیوں کا سر کچل دینا ہی بہتر ہے
پرندے جو کہ گاتے ہیں
مچلتی ندیاں جو خاک پر آوارہ پھرتی ہیں
بہت اونچی ہوائیں جو کہ کھلیانوں سے آتی ہیں
جواب اس کا وہی دیں گی
موگن گینی، موگن گینی
مجھے تو پام کے پیڑوں پہ چڑھنے دو