بارہ نظمیں
ترجمہ: احمدسلیم
( 1)
جب تم نے میری محبت قبول کرنے سے انکار کر دیا
تو دہلیز پار کیے بغیر
میں نے تیری خوابگاہ کا دروازہ بھیڑ دیا
اور اپنے ہاتھ میں پکڑی شادی کی انگوٹھی کو
باہر سڑک پر کھڑے
بھکاری کے کاسے میں ڈال دیا
اس دن ہماری لسان میں دبے لفظ بھی تڑپ اٹھے
جس دن،
میں نے تجھے الوداع کہی
( 2)
ہماری تاریخ دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے
عیسیٰ کے جنم سے پہلے اور عیسیٰ کے جنم کے بعد
اسی طرح میری زندگی بھی دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے
تجھے دیکھنے سے پہلے، تجھے دیکھنے کے بعد
( 3)
ایک دن میں نے گلی میں موت کو دیکھا تھا
وہ بالکل اسی زندگی جیسی تھی
جیسی زندگی میں تیرے بغیر جی رہا ہوں
( 4)
خدایا! لوگ تیری کرامات کا ذکر کرتے ہیں
کیا تو اتنا نہیں کر سکتا
کہ میرے دل کی خوبصورتی میں سے
ایک چٹکی بھر حسن نکال لے
اور اسے میرے جسم پر ڈال دے؟
(5)
تجھے پلٹ کر دیکھنا یوں ہو گا
جیسے اندھا ہونے کے بعد کوئی پھر سے آنکھیں پالے
( 6)
اگر تو میرے سنگ چلتی
تو میں اپنے من کے کھیتوں میں
عمر بھر تیرا ہاتھ پکڑ کر چلتا رہتا
( 7)
اس عورت کی موجودگی میں
جسے آپ پیار کرتے ہوں
خدا اس دھرتی پر اتر آیا محسوس ہوتا ہے
لیکن اگر وہ عورت بھی آپ کو پیار کرتی ہو
پھر کیا ہوتا ہے، یہ میں نہیں بتا سکتا
کبھی میرے ساتھ ایسا نہیں ہوا
( 8)
شہر کی گلیوں میں ، تنہا گھومتے ہوئے
میں کئی بار ، ان گلیوں کی نکڑ پر
اس عورت کو دیکھتا ہوں جس سے مجھے محبت ہے
وہ بھی تنہا ہوتی ہے، بالکل تنہا
اور اس آدمی کو ڈھونڈ رہی ہوتی ہے
جس سے وہ محبت کرتی ہے
لیکن جو اس سے پیار نہیں کرتا
( 9)
ہم بھرے سمندر میں
ان دو جہازوں کی طرح ہوتے ہیں
جو اپنے ان چاہے دلوں کے پرچم
لمحے بھر کو، ایک دوسرے کے سامنے جھکاتے ہیں
اور پھر ایک دوسرے کے پاس سے گزر جاتے ہیں
یوں ایک دوسرے کے پاس سے گزر تے جہاز
ایک دوسرے کی بندرگاہ نہیں بن سکتے
( 10)
کسی اس سے پیار کرنا
جو آپ سے پیار نہ کرتا ہو
کسی اس ملک کا نمائندہ بننا ہے
جس ملک کا کوئی وجود ہی نہ ہو
( 11)
اگر آپ ایک ایسی عورت سے پیار کرتے ہیں
جسے آپ سے محبت نہ ہو
اس وقت ایک ہی ایماندار بات ہو سکتی ہے
کہ آپ دور چلے جائیں
دوسرے شہر میں، دوسرے دیس میں، دوسری دنیا میں
کہیں بھی چلے جائیں
لیکن زندگی کا واسطہ! چلے جائیں
آپ چاہے بالکل ہی ٹوٹ پھوٹ جائیں
لیکن ’’اسے‘‘ یہ نہ دیکھنے دیں
وہ جو آپ میں، ایک سلطان دیکھ سکتی تھی
آپ کو بھکاری بنا کیوں دیکھے
( 12)
اگر مجھے اپنی تمام زندگی کو
ایک لفظ میں بیان کرنا ہو
تو میں کہوں گا ’’تنہائی‘‘
اور پھر اس لفظ کو دہرا دوں گا