ٹی ایس ایلیٹ

ٹی ایس ایلیٹ

جے ایلفرڈ پروفروک کا محبت کا گیت

    ترجمہ: احسان اکبر

     

    اس گھڑی آؤ ہم تم چلیں

    (ہاتھ پاؤں پسارے ہوئے)

    آسمانوں کی میزوں پہ بیمار سی شام

    بے ہوش حالت میں جب چت پڑی ہو

    چلیں نیم ویران گلیوں کو

    اور غیر آسودہ راتوں کی ان شب پناہوں کو

    ہم بڑبڑاتے ہوئے بھی

    جنہیں، حد سے حد

    رات بھر کے لیے ہی

    فقط جھیل پائیں

    بہت ہلکے درجے کے فرشی نشستوں کے ہوٹل

    جہاں صرف کستورہ مچھلی ہی توفیق مہمانداری ہو

    ان راستوں پر

    جو مکروہ باطن سے ابھرے ہوئے

    ٹیڑھے میڑھے دلائل کے مانند بڑھتے رہیں

    اور پھر آپ کو

    بے اماں، بے جہت سے بڑے مسئلے کی

    حضوری میں رکھ آئیں

    مت پوچھیے، آئیں چلتے ہیں ملنے چلیں، مسئلہ

    ٭

    خواتین کمرے میں آ جا رہی ہیں

    فقط ایک اسم ان کی تکرار میں ہے

    (ئخل......ان ...... جلو ...... ما .....

    ارے ! پناوہ) ’’مائخل اینجلو‘‘

    (مری آنکھ میں پیار کو سونگھتی) زرد کہر

    اپنی پشت بدن کانچ کی کھڑکیوں سے

    رگڑتی ہے

    اور پیلی رنگت کا مارا دھواں

    تھوتھنی کھڑکیوں سے رگڑتے ہوئے

    شام کے سارے گوشوں میں

    اپنی زباں پھیرتا ہے

    یہ کہراکہ جو نالیوں کے رکے پانیوں پر

    ٹھہر سا گیا ہے

    (کہاں جائے گا)

    چمنیوں والی کالک نے یوں اس کی گردن دبوچی ہے

    پیلا دھواں سر کے بل جو کہ ڈھلوان

    چھت سے گرا

    نرم اکتوبری شب کی آغوش کی حدتوں

    ہی کا بس ہو رہا

    گھر کے چاروں طرف پھر گیا

    سو گیا

    ٭

    ابھی وقت ہے

    (پالتو بلیوں کی طرح) پشت کو کھڑکیوں

    سے رگڑتے ہوئے

    کوچہ بازار کے بیچ مڑتے ہوئے

    ایسے بھورے دھوئیں کے لیے

    اور بھی وقت ہوں گے

    ابھی اور اوقات ممکن ہیں

    اس روپ کو اوڑھنے کے لیے

    اوٹ میں جس کی ہم

    روبرو ہونے والوں کا بھی سامنا کر سکیں

    (وقت ہوں گے ابھی توڑنے جوڑنے کے لیے)

    وقت تعدیم کا

    وقت تقویم کا

    کام کے وقت آئیں گے

    کام آزمانے کے وقت آئیں گے

    وقت، جو آپ کے نام کے کچھ سوال

    آپ کے سامنے کی رکابی میں

    رکھتے اٹھاتے رہیں گے

    (کبابوں میں ٹیڑھے سوالوں کی ہڈی)

    ابھی وقت تو آپ کے اور مرے واسطے بھی ہے

    خود گومگو کی صلیبوں پہ لٹکی ہوئی

    سینکڑوں ساعتوں کا بھی ہے

    ناشتے اور صبوحی سے بھی قبل آجائیں گے

    سینکڑوں وقت

    تشہید، تجدید کے

    پھر سے تردید کے

    خواتین کمرے میں آ جا رہی ہیں

    وہی ’’مائخل اینجلو‘‘

    ٭

    وقت اس سوچ کا بھی تو آئے گا

    کیوں اب نہ جرأت کے زینے پہ کوئی

    قدم آزماؤں

    کہ پل لوٹ آنے، اترنے کا آجائے گا

    حرفِ جذبات کیسا لگے گا

    (مری کھوپڑی پر چمکتی ہوئی) چاند کو

    دیکھ لیں گے وہ جب

    اور کہیں گے کہ

    ’لو، یہ تو سر سے گیا‘‘

    میرا باقاعدہ صبح کا وہ لباس اور ٹھوڑی

    تک اٹھی ہوی کالریں،

    ان میں اک سادہ سے پن سے اڑسی ہوئی

    قیمتی اور قرینے سے باندھی گئی

    میری نیکٹائی کی بات ان کی نظر میں نہ ہو گی

    وہ جب کہہ رہے ہوں گے

    ’’دیکھو ارے اس کے مریل سے بازو،

    ذرا اس کی ٹانگیں تو دیکھو‘‘

    تو پھر کیا میں دنیا میں ہل چل مچانے کی جرأت کروں؟

    جبکہ لمحے میں عزم مصمم بھی ہے

    اس پر ترمیم بھی

    جس کی تعدیم بھی

    دوسرے پل میں ہے

    مگر میں انہیں ان کے سب سلسلوں

    ساتھ پہلے ہی سے جانتا ہوں

    سحر شام کے عصر کو

    عصر کے وقت کوآپ اپنی حیات اور اوقات کو

    میں نے کافی کے چمچے سے ناپا ہوا ہے

    صدا گیت کی دور کمرے سے جو آ رہی ہے

    میں اس کے تلے

    یک قلم ختم ہوتی ہوئی سن رہا ہوں

    جو آواز مرنے کو ہے

    فرض اب کیا کریں؟

    کیا کہیں؟

    ٭

    دیکھی بھالی ہیں آنکھیں

    مری دیکھی بھالی ہیں آنکھیں

    تمہاری جو تجرید اصولوں میں کرکے

    اصولوں کو زنجیر کر لیں

    سو جب پن کے ساتھ ایک دیوار میں

    جڑ دیا جاؤں

    آزاد ہونے کو تڑپوں

    شب و روز اور اپنے جینے کے اسلوب

    کے پن کا چبھتا ہوا کند سر

    جسم و جاں میں سے کیسے اگل پاؤں گا

    ابتدا کیا ہو؟

    کیا فرض کیجیے؟

    ٭

    یہ نسوانی بازو... میں ان سب کو پہلے ہی

    سے جانتا ہوں

    یہ چوڑی چڑھی آستینیں، یہ بلور بازو یہ خالی سی باہیں

    (دیے کی مگر روشنی میں رو پہلے چمکتے روؤں بھری بانہیں)

    آخر بہک کیوں رہا ہوں؟

    مہکتے ہوئے دامنوں کے سبب سے؟

    یہ بازو ہیں جو میز پر سو گئے ہیں

    وہ بازو بھی جو شال اوڑھے ہوئے ہیں

    (یہ حالات ہیں ان میں)

    اب فرض کیا کیجیے

    ابتدا کیا کریں؟

    ٭

    کیا مجھے صرف اتنا سا کہنے کا بھی حق ہے

    جو کہہ سکوں

    ’’نارسا کھڑکیوں میں سے باہر کی دلچسپیوں،

    رونقوں میں

    فقط اک نظر کی شراکت ہے جن کا کمال

    ان اداسی کے مارے ہوئے،

    جبروتنہائی دیدہ مکینوں کے سب تنگ

    کوچوں ہی کو اک سحر کے سمے دیکھ آیا تھا؟

    جن کی سبھی حسرتوں کا غبار

    ان کی چلموں میں

    سینوں میں ہے

    (ایسا ہوتا مری آدمی والی آنکھیں نہ ہوتیں)

    کسی کیکڑے کا جنم لے کے آتا

    کہ جو(سردیوں والے ویراں،

    اداس اور۔) خاموش سے پانیوں پر

    (عذابوں سے آلود سوچوں سے بچ کر)

    یہاں سے وہاں تک تھرکتا ، سرکتا ، پھیلتا

    ٭

    وہ دن کے ڈھلے مطمئن نیند سوئی ہوئی

    لمبی مخروط شکل انگلیوں سے سنورتی

    ہوئی کوئی ہموار (معمول کی) شام

    (اس شام میں)

    ان نگاہوں کی پھر خوابگیں حالتیں

    یا تھکاوٹ کا اظہار

    یا کسلمندی کا کوئی تاثر

    (تم ان سے تاثر نہ لو گے؟‘‘

    کبھی نیند دیوی کو دیکھا ہے؟

    جو آپ کے اور مرے سامنے فرش پر

    خواب میں کھو گئی ہے

    وہی ہے

    اب آئس کریم اور چائے کے سارے

    لزومات

    پھر

    وقت کے عیش و نعمت سے بھرپور

    مصرف کے بعد

    ابتدا کیسے ممکن ہے اس کی

    کہ لمحے کو لمحے کے بحران تک کھینچ کر

    لے چلوں

    اگرچہ میں تائب ہوا

    اور (گناہوں پہ) رویا ادا بھی کیے فرض روزوں، نمازوں کے

    لیکن

    پلیٹیں (بہت روبرو ) ہیں

    اور ان میں (سبھی کی نگاہیں ہیں)

    خود میرا سر ہے

    مگر میں پیمبر نہیں ہوں (سلومی کے وقتوں کا

    جو میرا سر آج اک تھال میں ہو،

    عجب صورت حال ہے جو نگہ تو کجا

    اپنا سر تھال میں ہے)

    (بزرگی زدہ سر جو گنجا بھی ہے)

    اب جو کہنا تھا

    (اتنی پلیٹوں کے ماحول میں شاید)

    اتنا اہم بھی نہیں

    میز پر

    (غیر ارادی سہی پھر بھی اک)

    غیر محتاط سی میری حرکت پہ پھر

    با ادب سرزنش خان سامان کی

    الاماں!

    اپنی عظمت کے لمحے کو

    (کھانے کی اس میز پر

    ان گنہ گار آنکھوں سے)

    دم توڑتے اس طرح دیکھ آیا

    کہ المختصر ڈر گیا ہوں

    یہ خود آپ کہیے

    بھلا کیسا لگتا

    اگر چائے ، چٹنی ، شراب اور دونوں کے

    ان باہمی انفرادی مراسم

    کی نازک سی باتوں کے اس شیشہ خانے کے اندر

    جہاں ٹوٹنے والے برتن تھے

    تن تازہ ہو کے

    میں جب (روح اور جسم کے کرب کی)

    بات کرتا

    (جو موضوع و آداب محفل سے کوئی تعلق نہ رکھتی

    خصوصی کرم اور رعایت یہ ہوتی کہ

    سب کا پسندیدہ موضوع چننے کی خاطر)

    کوئی مسکرا کر

    اسے ٹال دیتا

    یہ دنیا تو خود ایک عالم ہے

    عالم کا تم کس طرح ایک گولہ بنا لو گے؟

    تاکہ لڑھکنے میں بھی اس تمہارے بڑے

    عالمی مسئلہ کی ڈھلانوں سے

    اترے

    اب ایسے میں (اس دوست لڑکی سے)

    کہنا

    کہ میں ہوں لزارس

    وہی داستانوں کا بوڑھا بھکاری

    جو عیسیٰ کے ’’قم‘‘ تک فنا کے مراحل میں تھا

    موت کے بعد کی زندگی جو ہے جیسی نہیں ہے

    میں اس کا وحید زماں رازداں ہوں)

    سو مجھ کو سنانی ہیں (کچھ تلخ سچائیاں......)

    اس پہ نرمی سے تکیہ پہ سر ٹیک کر جو وہ کہہ دے

    ’’یہ، خیر اپنا مطلب نہ تھا

    میں تو قطعاً یہ سب کچھ نہیں چاہتی تھی‘‘

    ٭

    کہ پھر شام کے اس سہانے سمے

    جب گلی صحن میں آبی چھڑکاؤ کے بعد

    چائے کی چسکی، کتابوں کے چسکے بھری

    بحث سے ہم زباں ہو

    گھسٹتے غراروں کے سب ریشمی مرحلے

    سامنے ہوں

    کوئی کس طرح کہہ سکے

    کچھ جو کہنا ہے

    فانوس جادو کے مانند کس طرح سے

    نقش ڈھالے

    کہ نقشہ رگوں تک کا پردے پہ آجائے

    کہنے کی گنجائشیں کیا رہیں؟

    شال کو پھینک کر جسم کو جب وہ آزاد

    کرتی ہو

    کھڑکی (بڑھانے) کو جاتے ہوئے

    میری تقریر کے اس محل پر یہی کہہ دے

    ’’میرا یہ مطلب نہ تھا‘‘

    ٭

    کوئی شہزادہ ہمیلٹ نہیں ہوں

    مجھے ویسا بننا بھی لازم نہیں تھا

    کہ میں تو فقط چھوٹے درجے کا ایسا ندیم

    اور مصاحب ہوں،

    جو آبرو مند او روضع دار آدمی ہے،

    جو اوروں کی خدمت میں جینے کو اک

    فخر جانے،

    وہ کردار جو داستان کو کہیں باب دو

    باب آگے چلا دے،

    جسے مشورہ نذر کرنا ہو شاید

    وہ محتاط سادہ مزاج اور مؤدب معاون ہوں،

    جس کی سیاست متانت کا کردار ہے

    اپنا کردار غازی ہے گفتار کا

    شستہ بحثیں مرا ذوق ہیں

    بعض اوقات تو اس قدر بولنا میرے

    حصے میں آیا

    کہ لفظوں کا اسراف اک مضحکہ بن گیا

    خود مجھے احمقانہ لگا

    ٭

    برف سر پر مرے اب اتر آئی ہے

    اپنی چندیا پہ اب جس قدر بال باقی ہیں

    ان کا تقاضا ہے اب مانگ سیدھی نکالا کروں

    اب تو پتلون کے پائنچے ’’ٹرن‘‘ کروا ہی لوں

    (نرم پھل بھی غذاؤں میں ہوں)

    اشتہا آڑوؤں کی(جواں نرم گولائیوں کی بھی) ہے

    (پچھلا دن ہے)

    فلالین کے برف رنگت کا پاجامہ پہنوں

    ٹہلنے بھی جایا کروں ساحلوں تک

    یہ پانی کی پریاں

    جو نغمے سناتی ہیں اک دوسرے کو

    وہ سب سن چکا ہوں

    مجھے تو گماں تک نہیں ہے کہ میرے لیے

    بھی وہ گائیں گی

    لہروں کے کاندھے پہ بہتے ہوئے

    دور ہوتے ہوئے

    میں انہیں دیکھتا ہوں

    ہوا اک تھپیڑا لگاتے ہوئے جب سمندر

    کا پانی بلوئے

    تو پیچھے کو پھینکے گئے، لہر کے ملگجی رنگتوں

    والے پٹوں کی بھی مانگ سیدھی نکلتی ہے

    (میری طرح)

    ہم سمندر کے ایوان میں بے سبب دیر تک

    رک گئے ہیں

    سمندر کی ان بیٹیوں کے لیے

    جو کہ نرسل میں گوندھی ہوئی، سرخ بھوری سی

    مالائیں پہنے

    ان ساعتوں تک، یہاں ہم رکیں گے

    کہ پھر آدمی کی صدائیں

    ہمیں آجگائیں

    (جگائیں) کہ ہم ڈوب جائیں