ساحلی پگڈنڈی
ترجمہ: عباس رضوی
نسل انسانی کے علم میں آنے والی
سب سے زیادہ تکلیف دہ پگڈنڈی پر
جتنے بھی سفر کیے گئے
وہ ان میں سب سے زیادہ تکلیف دہ سفر تھا،
گرمیوں کی اک شام
اپنے کرکرے دانتوں
بدبودار تولیوں
نادر الوجود پتھروں سے بھری ہوئی ٹوکریوں
اور ان یگانۂ روزگار گھونگوں سے پر، جوتوں کے ساتھ
جو اس سے پہلے کسی نے نہ دیکھے تھے
ساحل کی ریت سے اٹے ہوئے کانوں
سوزش زدہ جلد
سمندری گھاس پھونس سے مزین زلفوں
ایڑی میں چبھے ہوئے ایک عدد کانچ کے ٹکڑے
ممی کے ریڈیو
عمزاد کی رنگین ساحلی گیند
معدے میں اتری ہوئی ڈھیر ساری آئس کریم
کسی نادیدہ سرزمین سے بہہ کر آئے ہوئے اک ناتراشیدہ چوبی پیکر
مچھروں کی کاٹی ہوئی گردن۔ ٹانگ اور بازو
بھیگے ہوئے اور خارش انگیز غسل کے لباسوں
اور جھنجھلائی ہوئی طبیعتوں کے ساتھ
اس حال میں
کہ ہمارے کھیلوں کے جوتے گم ہو چکے تھے
ہماری کوڑی کوڑی خرچ ہو چکی تھی
ریت میں بنائی ہوئی ہماری سرنگین برباد ہو چکی تھیں
ہمارے گھروندے زمیں بوس ہو چکے تھے
ہمارے قلعے مسمار ہو چکے تھے
ریتیلی جنگیں ہم سے جیتی جا چکی تھی
ہم نے لیفٹ رائٹ کرتے ہوئے
واپسی کے سفر کا آغاز کیا
اپنی جانی پہچانی تہذیب کی جانب